طالبان اور افغان حکام کے درمیان قطر میں ہونے والے مذاکرات منسوخ

Share Article

 

طالبان اور افغان نمائندوں کے درمیان قطر میں ہونے والے مذاکرات منسوخ کردیے گئے ہیں۔

 

 

افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے نمائندوں اور طالبان کے درمیان قطر میں مذاکرات ہونا تھے جس کے لیے افغان حکومت نے 250 رکنی فہرست تیارکی تھی تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ افغان حکام اور طالبان کے درمیان مذاکرات منسوخ کردیے گئے ہیں جب کہ مذاکرات کے لیے افغان حکومت کی تیار کردہ فہرست پر طالبان کی جانب سے بھی تنقید سامنے آئی تھی۔
افغان صدارتی حکام نے مذاکرات منسوخی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قطری حکومت نے افغان نمائندوں کی فہرست کو مسترد کرکے نئی فہرست بھیجی ہے، نئی فہرست میں افغانستان کے تمام شعبوں کی نمائندگی نہ ہونے پرافغان حکومت نے فہرست مسترد کردی۔ افغان صدارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان حکومت کے مطالبات تسلیم کرنے تک دوحہ مذاکرات منسوخ کیے ہیں۔

 

Image result for Cancel talks in Qatar between the Taliban and Afghan officials

 

دریں اثناء افغان نمائندوں اور طالبان کے درمیان مذاکرات منسوخ ہونے پر امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افسوس کا اظہا ر کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اگر میری ضرورت ہے تو میں فریقین کی مدد کے لیے تیار ہوں۔افغان امن عمل کے امریکی نمائندہ خصوصی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ قطر کے انٹرا افغان مذاکرات کی تاخیر پر مجھے افسوس ہے اور میں اس صورت حال پر تمام فریقین سے رابطے میں ہوں۔زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا ہے کہ تمام فریقین جو اب بھی افغانستان میں امن کے لیے پر عزم ہیں، وہ میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈائیلاگ سیاسی روڈ میپ اور دیر پا امن کے لیے ہمیشہ سب سے اہم ہوتے ہیں، ڈائیلاگ کا کوئی متبادل نہیں۔اس سے قبل امریکہ، افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے دوحا مذاکرات آخری لمحات پر منسوخ کردیئے گئے جس سے افغانستان میں امن کی امریکی کوشش کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

 

 

واضح رہے کہ افغان طالبان اور افغان حکام پہلی بار ایک میز پر بیٹھنے جارہے تھے مگر افغانستان حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کرنے والے وفد کی فہرست میں 250 افراد شامل کیے گئے۔طالبان نے قطر میں مذاکرات کے لیے افغان حکومت کی طرف سے ملنے والی طویل فہرست کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کانفرنس ہے شادی کا ولیمہ نہیں ہو رہا اور وفد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا۔واضح رہے کہ مذاکرات 19 سے 21 اپریل تک قطر میں کیے جانے تھے جن میں افغانستان میں قیام امن سے متعلق امور پر بات کی جانی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *