کیمپا قانون آدیواسیوں کو جنگل سے بے دخل کرنے کا وارنٹ ہے

Share Article

شفیق عالم
p-7اڑیسہ کے کندھمال ضلع کے جنگلوں میں بسا ہوا ایک چھوٹا سا گائوں ہے بولوبرو۔ بولوبرو کے لوگ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے زمین کے جس ٹکڑے پر قند، پھل ،باجرا وغیرہ اگاتے تھے، اب وہاں محکمہ جنگلات نے ساگوان کے پیڑ لگا دیئے ہیں۔ یہ علاقہ کوٹیا کوندھ قبائلیوں کا علاقہ ہے۔ جن کی زندگی بہت حد تک جنگلاتی علاقے کی زمین کے ایسے ہی خالی ٹکڑوں پر منحصر ہے۔ دراصل محکمہ جنگلات کے افسر یہ کہتے ہیں کہ مذکورہ پلانٹیشن کوندھ قبائلیوں کی شراکت اور رضامندی سے کی گئی ہے، جبکہ کوندھ قبائلیوں کا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلات نے پیڑ لگانے کے لئے انہیں صرف 70 روپے یومیہ کے حساب سے مزدوری دی تھی، جسے بہت سارے کوندھوں نے مسترد کردیا تھا۔ لہٰذا اپنی زمین پر ایسے پیڑ اگانے سے جس سے کوئی پھل نہیں ملتا کوندھ قبائل کے لوگ ناراض ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی گزرانے کا ذریعہ چھن جانے کے خلاف محکمہ جنگلات کے خلاف ریاستی سرکار کو ایک عرضی دی ہے اور احتجاج کررہے ہیں۔ ادھرجنگلات کی افزائش سے متعلق بل کیمپا(کمپلسری فاریسٹیشن فنڈ) بل کو لوک سبھا کے بعد اب راجیہ سبھا نے بھی اپنی منظور دے دی ہے۔ بولو رو کے واقعہ نے کیمپابل کی منظوری کو اور اہم بنا دیا ہے۔
فوریسٹ (پروٹیکشن) ایکٹ 1980 کے ایک قانون کے مطابق صنعت و حرفت اور غیر جنگلاتی کام کے لئے کاٹے گئے جنگلوں کے بدلے نئے پیڑ لگانے اور کمزور یا لاغر ہو رہے جنگل کو گھنا بنانے کے لئے جنگلاتی زمین کا استعمال کرنے والی کمپنیاں اور اداروں کو معاوضہ دینا پڑتا ہے۔ سال 2002 میں فوریسٹ(پروٹیکشن) ایکٹ 1980 کو لاگو کرنے کے سلسلے میں ٹی این گوڈا ورمن تھیروملپاد کی عرضی پر سنوائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ ریمارکس دیا تھا کہ اس مد میں جمع فنڈ یا تو خرچ نہیں ہو رہا ہے یا پھر بہت کم خرچ ہو رہاہے۔ اسی ریمارکس کے مد نظر اس وقت کی یو پی اے سرکار نے 2008 میں کیمپا بل پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ بل بھی موجودہ کیمپا بل سے ملتا جلتا تھا، جسے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے نامنظور کر دیاتھا۔ اس بل کو نامنظور کرتے ہوئے اسٹینڈنگ کمیٹی نے فوریسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) 2006 کے تحت قبائلی علاقوں کے گرام سبھائوں کو دیئے گئے اختیارات کا بھی حوالہ دیا تھا۔ بہر حال کسی قانون کے فقدان میں یہ فنڈ ریاستوں کو جاری نہیں ہو سکا اور اب اس فنڈ کی رقم 40ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ غور طلب ہے کہ اس فنڈ کا 90فیصد حصہ ریاستوں اور 10فیصد حصہ مرکز کے پاس رہے گا اور اس کا استعمال نئے جنگل لگانے اور دیگر جانداروں کو بسانے، فوریسٹ ایکوسسٹم کو سدھارنے کے علاوہ انفراسٹرکچر بنانے کے لئے ہوگا۔
موجودہ مرکزی سرکار نے کیمپا بل 2015 میں پیش کیا تھا، جسے لوک سبھانے پہلے ہی منظور کردیا تھا، لیکن چونکہ راجیہ سبھا میں این ڈی اے سرکار کے پاس اکثریت نہیں ہے اور کانگریس کے ساتھ ساتھ دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی اس بل میں ایف آر اے کے تحت گرام سبھا کو دیئے گئے اختیارات کے مطابق گرام سبھا کی رضامندی کے کلاز کو شامل کرانا چاہتی تھیں، اس لیے یہ بل راجیہ سبھا میں پیش نہیں ہو سکا تھا۔ اس سلسلے میں کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ جے رام رمیش نے ترمیمی تجویز پیش کی تھی، لیکن وزیر برائے ماحولیات انیل مادھو دوے کی اس یقین دہانی کے بعد کہ اپوزیشن کی طرف سے کئے گئے اعتراضات کو اس ایکٹ کے تحت بنانے والے قانون میں شامل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا تھا کہ اگر اس قانون سے مطلوبہ نتائج نہیں برآمد ہوتے توایک سال بعد اس پر پھر سے غور کے لئے پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔ اس کے بعد جے رام رمیش نے اپنی ترمیمی تجویز واپس لے لی اور پھر راجیہ سبھانے بھی اس بل کو صوتی ووٹ سے پاس کر دیا۔
اس اس بل کی منظوری کے ضمن میں غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ گزشتہ دنوں ملک میں فورسیٹ رائٹس کے شعبے میں کام کرنے والے 45 سول سوسائٹی کے اداروں نے راجیہ سبھا کو ایک میمو دے کر کیمپا بل 2016 پر اپنی مخالفت درج کرائی تھی تھی اور اپوزیشن پارٹیوں سے راجیہ سبھا میں اس بل کو اس کے موجودہ شکل میں مخالفت کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان تنظیموں کا کہنا تھا کہ کیمپا بل کے تحت کمپنسٹری ریفاریسٹیشن پروگرام میں گرام سبھا کی رضامندی کے کلاز شامل نہ کر کے فوریسٹ رائٹس ایکٹ 2006 کے اس پروویژن کو بے اثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں قبائلیوں اور روایتی طور سے جنگلات میں رہنے والے لوگوں کا جنگل کے اوپر اختیار کو یقینی بنایا گیا ہے اور کانگریس کی طرف سے اسی مدعے کو لے کر اس بل کی مخالفت ہورہی تھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سرکار اس بل میں گرام سبھا کی منظوری کے کلاز کو شامل نہیں کرنے پر کیوں بضد تھی؟ دراصل اس کے جواب کے لئے پچھلے دنوں رونما ہونے والے چند واقعات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ خاص طور پر ایف آر اے (2006)کے تحت اس پروویژن پر نظر ڈالنا ضروری ہے جس میں جنگلاتی علاقے میں رہنے والے قبائلی اور روایتی طور سے جنگل میں رہنے والے لوگوں کا جنگل کے اوپر حق طے کیا گیا ہے۔ اس کلاز کا استعمال کرکے نیام گیری کی گرام سبھا نے ویدانتا کو نیام گیری میں باکسائٹ کی کان کنی کرنے سے روک دیاتھا۔ حالانکہ افسروں نے اس کلاز کو نظر انداز کرکے کئی منصوبوں کو ہری جھنڈی دکھائی ہے ،جس میں سے کئی پر کئی عدالتوں نے روک لگا رکھی ہے۔ اس لئے سرکار کو لگتا ہے کہ یہ کالز ترقیکی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ سرکار کی طرف اسے ختم کرنے کی کوشش بھی ہوچکی ہے۔
’’ چوتھی دنیا‘‘ نے اپنے 20جون کے شمارہ میں ایک تفصیلی رپورٹ ( جنگل کاٹوگے تو دنیا رہنے لائق نہیں ہوگی) شائع کیا تھا جس میں این ڈی اے سرکار کے دو وزیروں کے بیچ ہوئی خط و کتابت کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ کیسے سرکار ایف آر کے تحت آدیواسیوں اور جنگل میں رہنے والے لوگوں کے حقوق کو چھیننا چاہتی ہے۔ یہ خط وکتابت جون 2015 اور دسمبر 2015 کے درمیان قبائلی معاملوں کی وزارت اور وزارت برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے افسروں کے بیچ ہوئی تھی۔ ان خط و کتابت میں قبائلی امور کی وزارت نے اپنا رخ صاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگلات کی زمین کو کسی منصوبے کے لئے الاٹ کرنے سے پہلے ایف آر اے کے تحت اس علاقے کے گرام سبھا کی رضامندی ضروری ہے۔ جبکہ ماحولیات کی وزارت اس گرام سبھا کی رضامندی کے کلاز ہٹانے کی بات کررہی تھی۔ ایف آر اے کی رضامندی والے کلاز کو لے کر ان دو وزارتوں کے بیچ کی رسہ کشی کے دوران مرکزی سرکار نے کیمپا بل پیش کیا تھا اور اس بل میں گرام سبھا کی رضامندی کا کلاز شامل نہیں تھا۔ اس لئے مذکورہ خط و کتابت کے پس منظر میں سرکار کی نیت پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
بہر حال جنگلات کی اندھا دھند کٹائی اور صنعت کاری کی وجہ سے موسمیات میں جس طرح سے بدلائو آرہے ہیں اور جس طرح سے آلودگی بڑھ رہی ہے ،اسے دیکھتے ہوئے کمزور جنگلاتی علاقوں کو گھنا بنانا، کٹے ہوئے جنگل کی برابر کی زمین پر پھر سے جنگل لگانا اور بے گھر ہوئے جنگلی جانوروں کو پھر سے آباد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن بولوبرو گائوں میں ہوئی ساگوان کی شجر کاری اور ماضی میں سرکار کی وزارتوں کے بیچ ایف آر اے سے گرام سبھا کی رضامندی کے کلاز ہٹانے کے سلسلے میں ہوئی خط و کتابت کے سیاق و سباق میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ کیمپا بل محکمہ جنگات کے افسروں کو اپنی من مانی کرنے کا پورا اختیار دے دے گا اور کیمپا کے ذریعہ ایف آر اے کے تحت دیئے گئے اس اختیار کو لاغر کردیاجائے گا اور بولو برو کی کہانی با ر بار دوہرائی جائے گی۔ کیمپا بل کے منظور ہونے کے عمل میں اگر مین اپوزیشن پارٹی کانگریس کے رول کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاست سے الگ جل ،جنگل، زمین کی لڑائی میں وہ بھی برسراقتدار پارٹی کی طرح صنعت کاروں کے ساتھ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *