ملک کو کہاں جانا ہے فیصلہ کیجئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
الہ آباد  ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج دیا جائے گا، لیکن اہم یہ ہے کہ ملک میں دانستہ طور پر تناؤ کا ماحول بننے دیا گیا، جو لوگ روزانہ ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں اور اخبار پڑھتے ہیں، انہیں بھی یہ شک ہے کہ فیصلہ رام مندر تھا یا بابری مسجد، اس پر آنے والا ہے۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ فیصلہ ٹائٹل سوٹ یعنی زمین کس کی ہے، اس پر آنے والا ہے۔ اگر حکومت اور ٹیلی ویژن نیز اخبارات اس بات کو واضح کردیتے تو ماحول میں تناؤ پیدا نہیں ہوتا۔ فرقہپرست طاقتیں تناؤ بڑھانے میں کامیاب تو نہیں ہوپائیں، لیکن جتنی کوشش وہ کرسکتی تھیں، انہوں نے کی۔ 10ہزار میں کم سے کم ایک کے ذہن میں خدشہ پیدا ہوگیا کہ اگر فیصلہ آتا ہے تو فسادات لازمی طور پر ہوںگے۔ یہی فرقہ پرست طاقتوں کی کامیابی ہے اور یہی غیرفرقہپرست طاقتوں اور حکومت کی ناکامی ہے۔
فرقہ پرست طاقتوں نے اس بات کو پھیلانے کی کوشش کی ہے کہ فیصلہ اگر وقف بورڈ کی حمایت میں آتا ہے تو ہندو فساد کریںگے اور اگر وقف بورڈ کے خلاف آتا ہے تو فتح کا جلوس نکال کر ایسے حالات پیدا کردیںگے، جن سے فسادات ہوجائیں۔ ان کا عدالت میں یقین نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہیں تو ان کا آئین میں ہی یقین نہیں ہے۔ جو بھی عقیدت کا سوال اٹھاتا ہے، اس سے سوال پوچھنا چاہیے کہ ملک کے بیشتر مندر اور مٹھوں میں گدی کے جانشینوں میں مقدمہ چل رہا ہے۔ ملک کے بیشتر لوگ کسی نہ کسی مسئلے پر عدالتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اپنے ذاتی معاملات میں یہ لوگ عدالت کا فیصلہ مانتے ہیں، لیکن رام جنم بھومی کے مسئلے پر یہ عقیدت کا سوال اٹھاتے ہیں۔ اجودھیا میں ہر دسواں گھر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ رام وہیں پیدا ہوئے تھے۔ ان بیچاروں کی عقیدت کمزور ہے، کیوں کہ ان کے ساتھ اقتدار کی خواہش رکھنے والوں کی سیاسی جماعت نہیں ہے۔
آپ کو ایک خاص بات بتانا چاہیںگے۔ فیض آباد اور اجودھیا دیئرا ریاست کے تحت آتے ہیں۔ جب زمینداری کا خاتمہ ہوا تو شہری ملکیت کو اس سے الگ رکھا گیا۔ دیئرا ریاست کو آج بھی اجودھیا اور فیض آباد کے سرکاری محکمے چار آنا اور دو آنا کے حساب سے کرایا دیتے ہیں۔ اسی دیئرا ریاست کے راجا لال شیویندر پرتاپ سنگھ کو ایک بڑی گٹھری میں فارسی میں لکھے کافی کاغذ ملے۔ انہوں نے کسی جانکار کو تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ یہ زمین جہاں بابری مسجد تھی، انہیں شیر شاہ سوری نے خیرات میں دی تھی۔ ان کے آبائو اجداد میں سے ایک مذہب بدل کر مسلمان ہوگئے تھے، اس لیے کنبہ نے مسجد کو ویسا ہی رہنے دیا اور اس کی دیکھ بھال کی۔
لال شیویندر پرتاپ سنگھ نے عدالت میں ان حقائق کی بنیاد پر مداخلت کی گزارش کی اور کہا کہ یہ زمین تو ان کی ہے اور ثبوت کے طور پر شیر شاہ سوری کے دستخط شدہ کاغذات بھی دیے۔ عدالت نے انہیں مداخلت کی اجازت بھی دے دی۔ عدالت میں یہ فریق بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے زمین ایکوائر نہیں کی ہے، اس لیے زمین پر مالکانہ حق ان کا ہے۔ اتفاق سے راجا لال شیویندرپرتاپ سنگھ کی مو ت لیور کی بیماری کی وجہ سے سال بھر پہلے ہوگئی، لیکن مقدمہ کے وہ ایک فریق ہیں۔ یہاں ہم مقدمہ میں کیا ہوگا اور سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کیا فیصلہ سنائے گا، اس پر بات نہیں کر رہے ہیں۔ ہم صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس ملک کا ہندو کہاجانے والا شخص سناتن دھرم کو ماننے والا ہے اور وہ فرقہ واریت میں یقین نہیں رکھتا ہے۔ بابری مسجد کے شہید ہونے کے بعد چار ریاستوں میں انتخابات ہوئے تھے۔ ان چاروں ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت تھی۔ انتخابات میں بی جے پی اترپردیش، مدھیہ پردیش اور ہماچل پردیش میں الیکشن ہار گئی تھی اور راجستھان میں وہ بھیروں سنگھ شیخاوت کی وجہ سے اقتدار میں واپس آگئی تھی۔ اترپردیش، مدھیہ پردیش اور ہماچل پردیش میں انتخابات رام مندر بنانے کے نام پر ہوئے تھے اور اکثریت نے اسے ایشو ماننے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد لوک سبھا کے الیکشن ہوئے، جس میں بی جے پی نے پھر رام مندر کا ایشو اٹھایا تھا، لیکن عوام نے اسے نہیں مانا۔ نرسمہاراؤ اور بی جے پی کا نہیں، جنتا دل کا وزیر اعظم دو بار بنا۔ پہلے ایچ ڈی دیوگوڑا اور بعد میں اندر کمار گجرال۔ وی پی سنگھ نے جیوتی بسو کو وزیراعظم بنانے کی تجویز رکھی تھی، اگر پرکاش کرات مخالفت نہ کرتے تو آج ملک کی تاریخ دوسری ہوتی۔
دیو گوڑا اور گجرال کے ناکام ہونے کے بعد ملک نے بی جے پی کو اکیلے منتخب نہیں کیا۔ بی جے پی کو جارج فرنانڈیز اور نتیش کمار کی مدد لینی پڑی اور متحدہ حکومت بنی۔ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ رام جنم بھومی کے نام پر اقتدار کی خواہش رکھنے والوں کو مسلمانوں سے زیادہ ہندؤوں نے روکا۔ ہندو فطری طور پر فرقہ پرست نہیں ہیں اور نہ ہی وہ فرقہ پرست طاقتوں کا ساتھ دیتے ہیں،ا س لیے تمام تر کوششوں کے بعد بھی ہمیں عوام کے اندر تناؤ دیکھنے کو نہیں ملا۔ اس سے بڑی فرقہ پرست طاقتوں کی شکست اور کیا ہوسکتی ہے۔ افسوس تب ہوتا ہے،جب فرقہ پرست طاقتوں کو ہندؤوں کا نمائندہ مان کر بیان بازی شروع ہوجاتی ہے۔ اگر یہ غلطی نہ ہوتو صاف طور پر شمار کیا جاسکتا ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں کتنی کم تعداد میں ہیں۔ یہ فساد کرانے کی کوشش کرسکتی ہیںا ور چھوٹی موٹی جگہوں پر کرابھی سکتی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے حکومت کی کاہلی اور بے وقوفی ہوتی ہے، لیکن اقتدار ان کے ہاتھوں میں نہیں جاسکتا۔
ملک کا ہر سوچنے اور سمجھنے والا شخص آئین میں یقین رکھتا ہے اور عدالتیں آئین کی حفاظت اور تشریح کرتی ہیں، اس لیے ان کا فیصلہ ماننا اس کا فرض ہوتا ہے۔ عدالت کا حکم نہ ماننا اور عقیدت کی دہائی دینا جنگل راج کی طرف لے جاتا ہے اور بتاتا ہے کہ آئین کا راج کچھ لوگوں کو پسند نہیں ہے، لیکن ملک کا ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ عدالت کا فیصلہ حتمی ہے اور اسے سبھی کو ماننا چاہیے۔
آپ سب جو اخبار پڑھتے ہیں، ملک و دنیا اور سماج پر نظر رکھتے ہیں، ایک سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ حقیقتاً بابری مسجد-رام مندر ایک ایسا ایشو ہے، جس کے لیے بے کاری، مہنگائی، بدعنوانی، بھوک، موت اور یکسانیت کی حصہ داری کی لڑائی کو چھوڑ دیا جائے۔ اگر جان دینی ہے تو بابری مسجد اور رام جنم بھومی کی تجریدی لڑائی کے لیے دینی چاہیے یا غیر برابری، برابری کی حصہ داری، ترقی، بھوک سے لڑنے اور بیماری کو شکست دینے کے لیے دینی چاہیے۔ فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے کہ ملک کو کہاں جانا ہے فیصلہ کیجئے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *