رافیل پرسی اے جی رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش،یوپی اے کی ڈیل سے بتایاسستا

رافیل ڈیل پرمرکزکی مودی سرکاراوراپوزیشن کے بیچ سیاسی کشیدگی جاری ہے۔اس بیچ رافیل ڈیل معاملے سے متعلق رپورٹ بدھ کوراجیہ سبھا میں پیش کئی گئی ۔اپوزیشن کے ہنگامے کے بیچ سرکارنے راجیہ سبھا میں( کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل) سی اے جی رپورٹ کوپیش کیاہے۔سرکارنے بجٹ سیشن کے آخری دن یہ رپورٹ پیش کی ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی رافیل ڈیل یو پی اے سرکار میں مجوزہ ڈیل سے سستی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے سودے سے 2.86 فیصد کی بچت ہوئی ہے۔ ہندوستانی فضائیہ میں سرمایہ کے حصول کے بارے میں پارلیمنٹ میں رکھی گئی یہ پورٹ دو حصوں میں ہے۔ پہلے حصہ میں اس بات کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ یو پی اے حکومت کے وقت شروع کئے گئے خریداری کے عمل میں حتمی سمجھوتہ کیوں نہیں ہوسکا۔ دوسرے حصہ میں موجودہ سودے کے عمل اور دیگر باتوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرانے مجوزہ سودے کے مقابلے میں نئے سودے میں 2.8 فیصد کی بچت ہوئی ہے۔ اس میں حالانکہ، اس میں طیارے کی قیمت نہیں بتائی گئی ہے۔ سی اے جی کے مطابق پرانے سودے کے مکمل نہ ہونے کے دو اسباب رہے۔پہلا یہ کافی بڑا آڈر تھا اور تکنالوجی کی منتقلی بھی ہونی تھی اس لئے اس میں زیادہ لیبر فورس کی ضرورت تھی۔ دوسری وجہ بتائی گئی کہ پرانے سودے میں جو 108طیارے ہندستان میں تیار ہونے تھے اس کے لئے رافیل طیارہ بنانے والی کمپنی داسو ایوی ایشن ’کارکردگی کی گارنٹی‘ دینے کے لئے تیار نہیں تھی۔
وہیں سی اے جی رپورٹ پیش ہونے کے بعد مرکزی وزیرارون جیٹلی نے کئی ٹویٹ کئے۔انہوں نے کہاکہ ’ ایسا نہیں ہوسکتاکہ سپریم کورٹ بھی غلط ہو، سی اے جی بھی غلط ہو، صرف پریوارہی صحیح ہو۔ستیہ میوجیتے ۔سچائی کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے‘ وہیں بدھ کوکانگریس نے پارلیمنٹ کے باہررافیل ڈیل کولیکرمظاہرہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *