سی اے جی پر حملہ جائز نہیں ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
کوئلہ گھوٹالہ اب صرف پارلیمنٹ کے درمیان بحث کا موضوع نہیں رہ گیا ہے، بلکہ پورے ملک میں بحث کا موضوع ہو گیا ہے، کیوں کہ ملک کے عوام کوئلہ گھوٹالہ کو لے کر فکرمند ہیں اور فکر مند اس لیے ہیں، کیوں کہ اس میں پہلی بار ملک کے سب سے طاقتور عہدہ پر بیٹھے ہوئے شخص کا نام سامنے آیا ہے۔ منموہن سنگھ وزیر کوئلہ تھے اور یہ فیصلہ چاہے اسکریننگ کمیٹی کا رہا ہو یا سکریٹریز کا، بغیر منموہن سنگھ کے دستخط کے یہ عمل میں آ ہی نہیں سکتا تھا۔ منموہن سنگھ جی کہتے ہیں کہ وہ پاک صاف ہیں۔ اپنی نظر میں ہر آدمی پاک صاف ہوتا ہے۔ آج تک کسی مجرم نے ،نہ عدالت کے باہر نہ عدالت کے اندر یہ کہا کہ وہ مجرم ہے۔ ہم منموہن سنگھ کو مجرم نہیں کہہ رہے ہیں، بلکہ مجرموں کے ہجوم کا شہنشاہ کہہ رہے ہیں۔ منموہن سنگھ نے سارے جمہوری طریقوں کو ختم کرنے کا شاید فیصلہ لے لیا ہے، اس لیے ان کی پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ آئینی ادارہ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ پہلے منموہن سنگھ کی پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے سی اے جی کا مذاق اڑایا اور کہا کہ سی اے جی کو صفر میں اضافہ کرنے کی عادت ہو گئی ہے اور اب کانگریس کے جنرل سکریٹری شری دگ وجے سنگھ کہتے ہیں کہ سی اے جی کے عہدہ پر فائز ونود رائے کی تمنا پرانے سی اے جی شری ٹی این چترویدی کے جیسی ہو گئی ہے۔ اگر کانگریس پارٹی کی بات مانیں تو دگ وجے سنگھ کی سر عام بے عزتی کانگریس پارٹی کے ذریعے ہی ہوئی ۔ ان سے کہا گیا کہ وہ کوئی بیان نہیں دیں گے۔ اور اب اگر انہوں نے کوئی بیان دیا ہے تو یہ ماننا چاہیے کہ انہوں نے کانگریسی صدر کے کہنے سے بیان دیا ہے۔

یہ سچ ہے کہ دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو زندہ رہتے ہوئے بھی اپنا نام کرنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی تاریخ انہیں اچھے آدمی کی طرح یاد کرے۔ اور دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں، جو زندہ رہتے ہوئے اچھا برا کرتے ہیں اور انہیں تاریخ کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ کانگریس پارٹی لگ بھگ ایسی ہی پارٹی ہے، جسے تاریخ میں کیا درجہ ملے گا، اس کی اسے پرواہ نہیں ہے۔ جب تک اندرا گاندھی زندہ تھیں، تب تک کانگریس پارٹی کو یہ پروا ہ تھی کہ کانگریس پارٹی ملک میں جمہوریت کی علم بردار کے روپ میں جانی جائے۔

اس کا مطلب،کانگریس پارٹی نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل یعنی آڈیٹر جنرل نامی ادارہ کو بربادکرنے کی تیاری کرلی ہے ۔برباد اس معنی میںکہ اس پر حملہ کر کے اس کی ساکھ اتنی گرا دو کہ آگے آنے والی اس کی کسی بھی رپورٹ پر بھروسہ نہ کریں۔ اگر دگ وجے سنگھ نے سونیا گاندھی کے کہنے پر بیان دیا ہے تو پوری کانگریس پارٹی، سی اے جی کے خلاف متحد ہو گئی ہے۔ کانگریس پارٹی کی ایک عادت ہے کہ جب وہ کسی سے سیاسی طور پر نہیں لڑ سکتی،یاثبوت کی بنیاد پر نہیں لڑ سکتی، تو وہ اس کی ذاتی شبیہ کو داغدار کرتی ہے۔ ذاتی شبیہ کا مطلب، جس طرح موجودہ سی اے جی شری ونود رائے کے اوپر یہ الزام لگا دیا گیا کہ ان کی تمنا ٹی این چترویدی کی طرح لوک سبھا میں آنے یا پھر گورنر بننے کی ہے۔
کانگریس پارٹی آج تک کسی کے ساتھ سیاسی طور سے نہیں لڑ پائی ہے۔ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کا سامنا بھی کانگریس پارٹی نے سینٹ کٹس بینک میں ایک فرضی اکاؤنٹ کھول کر کیا تھا۔ ہر معاملے میں کانگریس نے ہمیشہ منھ کی کھائی اور اب بھی کانگریس منھ کی کھانے والی ہے۔ مجھے تو خوشی یہ ہے کہ اندرا گاندھی کے زمانے تک کانگریس پارٹی سیاسی لڑائی لڑتی تھی۔ اندرا جی نے، مجھے نہیں یاد کہ کبھی کسی شخص کے اوپر ذاتی الزام لگائے ہوں، لیکن اندرا گاندھی کے بعد راجیو گاندھی کے زمانے میں پہلی بار وی پی سنگھ کے اوپر گھناؤنے الزام لگائے گئے، ذاتی الزام لگائے گئے اور اب کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری اور ترجمان سی اے جی کے اوپر گھناؤنے الزام لگا رہے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے، بلکہ جس طرح گاؤں میںلکھتے ہیںکہ امید ہی نہیں بلکہ پورا یقین ہے کہ اب جنرل وی کے سنگھ پر بھی ذاتی الزام لگائے جائیں گے ۔ بابا رام دیو اور انا ہزارے اس کی مثال بن چکے ہیں۔ انا ہزارے کے اوپر کس طرح کے اور کیسے الزام لگتے ہیں، اس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
کانگریس پارٹی سو روپے کی چوک کو گھوٹالہ اور 26 لاکھ کروڑ کے گھوٹالے کو چوک بتانے میں ماہر ہے۔ جس طرح کانگریس پارٹی کے سارے وزیر کوئلہ گھوٹالے میں ’زیرو لاس‘ کی بات کر رہے ہیں، یہ ویسا ہی ہے جیسا ٹو جی گھوٹالہ میں کپل سبل نے ’زیرو لاس‘ بتایا تھا۔
کانگریس یہ کیوں نہیں سمجھتی کہ ملک کے لوگ اس کے ان بیانوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے کانگریس پارٹی کو کیوں نہیں سبق دے رہے ہیں۔ کیا سونیا گاندھی کا دماغ صحیح معنوں میں بند ہو گیا ہے، کیا انہوں نے سوچنا سمجھنا بند کر دیا ہے؟ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں، کیوں کہ اپنی ہار سے کوئی پارٹی سبق نہ لے، ایسا دنیا میں بہت کم ہوتا ہے، لیکن ہمارے ملک میں کانگریس پارٹی لگاتار یہ کمال کر تی جا رہی ہے۔ کانگریس پارٹی سوچتی ہے کہ عوام غلط ہیں اوروہ صحیح۔ لیکن جب میں کانگریس پارٹی کہتا ہوں تو اس میں کانگریس پارٹی کے کارکنوں کو شامل نہیں کرتا، کیوں کہ کانگریس پارٹی کا مطلب آج کی تاریخ میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور کچھ حد تک پرینکا گاندھی ہیں۔ اس کے بعد اگر نام جوڑیں تو احمد پٹیل، موتی لال ووہرا، جناردن دویدی اور ان کے لیے شوٹر کا کام کرنے والے دگ وجے سنگھ ہیں۔ کچھ آئی اے ایس افسر ہیں، جو انہیں رائے دیتے ہیں، لیکن ان کا پارٹی کے فیصلوں میں ان جگہوں پر دخل ہوتا ہے، جن فیصلوں کا سیدھا رشتہ سونیا گاندھی یا راہل گاندھی سے ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر میں پلک چٹرجی ایک ایسا ہی نام ہے۔
اگرسونیا گاندھی نے یہ سوچ لیا ہے کہ اس بار کے الیکشن کو ہارنا ہے اور اس الیکشن میں ہار کے بعد اگلا الیکشن کانگریس پوری اکثریت کے ساتھ جیت جائے گی، تو سونیا گاندھی کا سوچنا شاید صحیح ہو سکتا ہے، لیکن کانگریس کے لیے یہ سوچنا بہت خطرناک ہے۔ پچھلی بار بھی کانگریس پارٹی نے جس طرح سے الیکشن لڑا تھا، اس کا سیدھا مطلب تھا کہ وہ الیکشن ہارنی چاہتی ہے۔ چونکہ اس کا پورا اندازہ تھا کہ ملک کی اقتصادی حالت بگڑے گی، کیوں کہ اس نے یو پی اے – 1 میں ملک کی اقتصادی حالت کو سنبھالنے کے لیے کچھ نہیں کیا تھا۔ لیکن وہ الیکشن بھارتیہ جنتا پارٹی اور لال کرشن اڈوانی کی عظیم دانش مندی کی وجی سے کانگریس پارٹی الیکشن جیت گئی اور بی جے پی کی حالت ’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ والی ہوگئی۔کیا کانگریس پارٹی کو ملک کا، ملک میں رہنے والوں کا، غریبوں کا، جو لوگ اسے ووٹ دیتے ہیں، ان کا کچھ بھی خیال نہیں۔ اگر خیال ہے، تو کم سے کم جو گھوٹالے ثابت ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں، ان کے اوپر تو ایمانداری سے جانچ کرانے کی بات کرنی چاہیے۔ اگر آڈیٹر جنرل کے دفتر نے 26 لاکھ کروڑ کو پہلے 10 لاکھ کروڑ میں اور پھر ایک 1.86 لاکھ کروڑ میں تبدیل کیا، تواسے سی اے جی کا احسان ماننا چاہیے کہ سی اے جی نے کوئلہ گھوٹالے کو بہت کم بتا کر لکھا۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ یہ گھوٹالہ 26 لاکھ کروڑ کا ہے اور سی اے جی سرکار کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، اور سرکار ہے کہ وہ سی اے جی کے اوپر ہی جوتا اٹھا کر کھڑی ہو گئی ہے۔
یہ سچ ہے کہ دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو زندہ رہتے ہوئے بھی اپنا نام کرنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی تاریخ انہیں اچھے آدمی کی طرح یاد کرے۔ اور دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں، جو زندہ رہتے ہوئے اچھا برا کرتے ہیں اور انہیں تاریخ کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ کانگریس پارٹی لگ بھگ ایسی ہی پارٹی ہے، جسے تاریخ میں کیا درجہ ملے گا، اس کی اسے پرواہ نہیں ہے۔ جب تک اندرا گاندھی زندہ تھیں، تب تک کانگریس پارٹی کو یہ پروا ہ تھی کہ کانگریس پارٹی ملک میں جمہوریت کی علم بردار کے روپ میں جانی جائے۔ اندرا گاندھی نے کم از کم سوچا، لوگوں کو خواب دکھائے۔ غریبی ہٹاؤ کا نعرہ ان ہی کا تھا، جس نے انہیں الیکشن میں جیت دلائی، لیکن آج کی کانگریس پارٹی تو کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی۔ کانگریس کو لے کر دکھ اس لیے ہے کہ ملک کا بہت بڑا طبقہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ خود کو نہیں جوڑ پاتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا رہن سہن، چال ڈھال، بول چال اور ملک میں غریبوں کے ساتھ اس کا رشتہ کچھ اتنا جاگیردارانہ ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہچکچاتے ہیں۔ اس نفسیاتی دیوار کو نہ بھارتیہ جنتا پارٹی توڑنا چاہتی ہے اور نہ کانگریس پارٹی ایک نئی دیوار بننے دینا چاہتی ہے۔
اسمبلی الیکشن کے نتائج کانگریس پارٹی کو ڈرا نہیں رہے۔ کانگریسی کارکنوں میں بری طرح سے غصہ ہے اور غصہ اس لیے ہے، کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ ان کی قیادت کے غلط فیصلہ لینے سے یا فیصلہ لینے میں احتیاط نہ برتنے سے کانگریس پارٹی کو نقصان ہونے والا ہے۔ زمین پر، گاؤں کی سطح پر، بوتھ کی سطح پر دہلی میں بیٹھے لیڈر نہیں لڑتے۔ لوگوں کی عزت، لوگوں کی بے عزتی، لوگوں کے پیچھے باتیں، لوگوں کا غصہ، لوگوں کی گالیاں کارکنوں کو ملتی ہیں، اس کارکن کو جو کانگریس کو جیت دلانے کے لیے جی جان ایک کیے رہتا ہے۔ وہ کارکن کانگریس سے دور ہو رہا ہے۔ اس کی شاید نہ راہل گاندھی کو فکر ہے اور نہ سونیا گاندھی کو فکر ہے کہ ان کا کارکن ان سے دور ہو رہا ہے اور اسے دور جانے سے انہیں روکنا چاہیے۔ ان کی فکر نہ کرنے کی وجہ سے کارکن بھاگ رہا ہے، دوسری پارٹیوں میں جگہ تلاش کر رہا ہے، وہاں اسے جگہ نہیں ملتی اس کے بعد بھی وہ دوسری پارٹیوں کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے۔
دوسری طرف اپوزیشن ہے اور اپوزیشن کا مطلب اگر بھارتیہ جنتا پارٹی ہے تو بھارتیہ جنتا پارٹی بھی سی اے جی کی عزت بچانے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے اور باقی جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں، انہوں نے پتہ نہیں کیوں خود کو گنتی سے باہر کر لیا ہے۔ اگر میں نام لوں تو، میں نام شرد یادو کا لے سکتا ہوں، ملائم سنگھ یادو کا لے سکتا ہوں، رام ولاس پاسوان اس میں آتے ہیں، بھلے ہی وہ اکیلے راجیہ سبھا کے ممبر ہوں، مایاوتی ہیں، نتیش کمار ہیں۔ یہ سارے لیڈر خود کو اپوزیشن کے دائرے سے باہر کیوں ماننے لگے ہیں۔ یہ لوگ ایک کامپلیکس میں کیوں جی رہے ہیں، احساسِ کمتری میں کیوں جی رہے ہیں کہ جب کوئی ری ایکشن دینا ہوگا تو اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کا ترجمان ہوگا تو ٹھیک اور اگر نہیں ہوگا تو ہم خاموش رہیں گے۔ جمہوری اداروں کی، جمہوری عمل کی یا جمہوریت میں لوگوں کے دکھ اور تکلیف کی باتیں ان لوگوں کو سمجھ میں نہیں آئیں گی تو ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ اتنی سمجھ ان سارے لیڈروں میں ہے کہ وہ یہ سمجھ لیں کہ عوام ان کو سبق سکھانے والے ہیں۔ لوگوں کی نظروں میں کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی ایک طرح کی سیاست کرتی ہے، پر وہ باقی اپوزیشن پارٹیوں کو وہ سیاست کرتے نہیں دیکھنا چاہتی۔ لوگ انہیں ووٹ نہیں دیتے ہیں، اسی طرح جس طرح ایک سادھو کو اپنا سرپنچ نہیں بناتے یا اپنا ایم ایل اے نہیں بناتے، لیکن ایک سادھو سے یہ توقع کرتے ہیں کہ سادھو جب کہے گا صحیح بات کہے گا، جب کہے گا دھرم کی بات کہے گا اور جب کہے گا لوگوں کو، زندگی کو روحانی طور پر اونچا اٹھانے کی بات کرے گا۔ اگر سادھو کوئی دوسری بات کرتا ہے تو لوگ اس سادھو کو اپنے یہاں سے بھگا دیتے ہیں۔ جو غیر کانگریسی اور غیر بھاجپائی اپوزیشن ہے، یہ اسی سادھو کی طرح ہے۔ ان سے لوگ اپنے مفاد کی باتیں سننا چاہتے ہیں، وہ ان سے اپنی ترقی کی، اپنی اچھائی کی باتیں سننا چاہتے ہیں۔ ووٹ لینے میں کبھی ان کی طرفداری کرتے ہیں اور کبھی انہیں اندیکھا کر دیتے ہیں۔ پر اس کے باوجود لوگوں کو ان کا خاموش رہنا پسند نہیں ہے۔ یہ بات اپوزیشن کے لوگ نہیں سمجھتے۔ ہوسکتا ہے آج کی قیادت کے بعد جو قیادت آئے گی، کبھی تو آئے گی ،وہ اس بات کو سمجھے اور اگر یہ لوگ اس بات کو نہیں سمجھیں گے تو اس ملک میں لوگوں کا جمہوریت کے تئیں بھروسہ دھیرے دھیرے اٹھنا فطری ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *