اتر پردیش اسمبلی کے ضمنی انتخاب: بی جے پی نے جھونکی طاقت

Share Article

عام طور پر ضمنی انتخابات میں اپوزیشن زیادہ حملہ آور رہتا ہے کیونکہ اس کے پاس اقتدار پارٹی کی ناکامیوں کو گنانے کے لئے بہت کچھ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی تعداد بڑھانے کے لئے جی جان سے مصروف رہتاہے لیکن ریاست میں اسمبلی ضمنی انتخابات کو لے کر نظارہ کچھ اور ہے۔ یہاں پر بر سر اقتدار پارٹی مضبوطی سے بوتھ سطح تک کی تیاری کر کے اپنی طاقت جھونک رہی ہے، وہیں اپوزیشن کاہلی کے ساتھ الیکشن لڑتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف بی جے پی نے ریاستی سطح کے تمام رہنماؤں کو 11 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لئے اتار دیا ہے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ بھی اس کے لئے لگ گئے ہیں، وہیں اپوزیشن خاص طور سے ایس پی اور بی ایس پی کے سینئر لیڈروں کا ابھی تک کوئی پروگرام طے نہیں ہوا ہے۔

Image result for mayawati rally
بی ایس پی کی بات کریں تو وہ پہلی بار کسی ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ جب مایاوتی نے ضمنی انتخابات لڑنے کا اعلان کیا تھا تو ان کے حامیوں کو ایسا لگا تھا کہ اس بار ضمنی انتخابات میں پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ بی ایس پی سپریمو خود ضمنی انتخاب کے بہانے ہی پردیش کا دورہ کریں گی لیکن ان کا دورہ تو دور سٹار کمپینروں کی فہرست میں شامل آکاش آنندو ستیش مشرا جیسے لیڈروں کی بھی کہیں سرگرمی نہیں دیکھ رہی ۔اس سے پارٹی کے مقامی رہنماؤں میں مایوسی ہے۔

اس سلسلے میں سینئر صحافی ادے بھان ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ ایسا لگ رہا تھا کہ اپنی زمین کھو چکی ایس پی اور بی ایس پی اس ضمنی انتخاب میں پوری طاقت جھونک دیں گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس سے بی جے پی کے حوصلے بلند ہیں اور ایک ایک بوتھ پر پارٹی اپنی حکمت عملی بنا چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن نے بی جے پی کو واک اوور دے دیا ہے۔ بی جے پی کے لوگ خود ہی کبڈی-کبڈی کر رہے ہیں اور خود ہی ریفری کا بھی کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں اس انتخاب کا نتیجہ تو پہلے ہی سب کے سامنے دکھائی دے رہا ہے۔

Image result for akhilesh yadav rally
اگر سماج وادی پارٹی کی بات کریںتو پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے جھانسی پولیس انکاؤنٹر معاملے میں تو اپنی سرگرمی دکھائی لیکن کسی بھی ضمنی انتخابات والے علاقے میں ابھی تک نہیں گئے۔ اس سے ان کے کارکنوں میں جوش نہ کے برابر ہے۔ کارکن پرچار تو کر رہے ہیں لیکن بجھے دل سے۔ اس انتخابی مہم میں مخالف پارٹی لیڈر رام گووند چودھری کی طرح کچھ لیڈر ہی مہم میں لگے ہیں لیکن ان کی بھی سرگرمی بہت زیادہ نہیں نظر آتی۔

Image result for priyanka gandhi rally
کانگریس کی تو پردیش میں صورتحال پہلے ہی واضح ہے ۔ ایسے میں ابھی تک پرینکا گاندھی یا راہل گاندھی کے کسی علاقے میں نہ جانے سے ان امیدواروں کی حالت قابل رحم ہو گئی ہے۔ ریاستی صدر اجے کمار للو ضرور ریاستی حکومت پر نشانہ سادھ رہے ہوں، لیکن زمین پر تنظیم نہ ہونے کی حقیقت اور اس نقصان سے وہ خود واقف ہیں۔ ایسے میں اس بار بر سر اقتدار بی جے پی پوری طرح سے الیکشن کے موڈ میں ہے اورجم کر مہم شروع ہوچکی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *