بہار میں بے مثال ترقی مگر کس کی؟

Share Article

اشرف استھانوی
لوک پال بل کی 40 سال پرانی لڑائی کو محض 4 دنوں میں جیت کر راتوں رات قومی ہیرو کا درجہ حاصل کر لینے والے معمر سماجی رہنما انا ہزارے کی طرف سے ترقی کے معاملے میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی تعریف و توصیف کے بعد بہار میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور ہر خاص و عام یہ جاننے کے لئے مضطرب نظر آرہا ہے کہ بہار میں آخر ایسا کیا ہو گیا ہے کہ جس کی مثال انا ہزارے بھی دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔یہ سوال نتیش کمار کے دوسری بار ریکارڈ توڑ اکثریت کے ساتھ اقتدار سنبھالنے کے بعد ہی سر اٹھانے لگا تھا ، لیکن اس وقت تو اسے میڈیا کے ذریعہ بنایا گیا مایا جال مانا جا رہا تھا مگر اب جب کہ انا ہزارے کی طرف سے بھی و زیر اعلیٰ نتیش کمار کو سند مل گئی ہے تو لوگ اسے نہیں پچا پا رہے ہیں۔ کچھ لوگ تو انا ہزارے کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھانے لگے ہیں اور کانگریس کے اس الزام میں صداقت کا پہلو تلاش کرنے میں جٹ گئے ہیں کہ انا ہزارے بی جے پی کے یو پی اے مخالف مشن کا حصہ ہیں او ران کی تحریک پوری طرح سیاست سے متاثر ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بہار میں ترقی کے نام پر چند سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ پینے کا صاف و شفاف پانی ہر آدمی تک پہنچانا آج بھی دیوانے کا خواب بنا ہوا ہے۔ راجدھانی پٹنہ کو چھوڑ کر ریاست کے کسی حصہ میں بجلی کی حسب ضرورت سپلائی بھی ممکن نہیں ہو سکی ہے اور ہو بھی کیسے نتیش حکومت میں بجلی کا ایک چھوٹا سا کارخانہ بھی نہیں لگ سکا ہے۔ گرمی شروع ہوتے ہی راجدھانی میں پانی کی قلت شروع ہو جاتی ہے۔ دیگر اضلاع کے دور ردراز علاقوں کی تو بات ہی کیا ہے اور جب پٹنہ کے علاوہ کہیں بھی نہیں ہے تو پھر پانی کی سپلائی بھی کہاں ممکن ہے؟ گویا پی ایس پی یعنی کچی سڑک اور پانی جیسی بنیادی ضرورتوں میں سے صرف ایک کسی حد تک پوری ہوتی ہے اور بقیہ دو چیزوں کا دور دور تک پتہ نہیں ہے تو کیا صرف سڑکوں کی تعمیر کو ہی ترقی کی مثال مان لیا جائے؟ کچھ لوگ اس سوال کا جواب ہاں میں دے سکتے ہیں مگر خود وزیر اعلیٰ نتیش کمار ایسا نہیں مانتے۔ان کا ماننا ہے کہ ترقی کے سلسلہ میں لوگوں کی الگ الگ رائے ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگ صنعت کاری اور سرمایہ کاری کو ترقی کا پیمانہ مانتے ہیں تو کچھ لوگ جی ایس ڈی پی او رجی ڈی پی کو،لیکن میرے حساب سے انسانی ترقی ہی اصل ترقی ہے۔ یعنی وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی سڑکوں کی تعمیر کو ترقی کا پیمانہ نہیں مانتے ہیں۔ انسانی ترقی اور انسانی وسائل کی ترقی کو ہی اصلی ترقی مانتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق انسان صحت مند رہے، تعلیم یافتہ رہے، اسے ملازمت و روز گار کے مواقع حاصل ہوں گے تو ریاست خود بخود ترقی یافتہ بن جائے گی۔ یعنی نتیش کمار ترقی کا پیمانہ انسان اور انسانی وسائل کی ترقی کو مانتے ہیں اور اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ حکومت بالکل ناکام ہے۔ طبی خدمات ناکارہ ہیں عام آدمی آج بھی سرکاری اسپتالوں سے طبی خدمات حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ آئے دن ڈاکٹروں کی لا پروائی سے مریضوں کی اموات او راس پر عوامی احتجاج کے واقعات اس کا واضح ثبوت ہیں۔ اب آتا ہے نمبر تعلیمی خدمات کا تو ریاست میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ تو پہلے ہی سے نظر انداز تھا اب ابتدائی و ثانوی تعلیم کا شعبہ بھی پوری طرح نظر انداز ہے۔حکومت نے ٹھیکہ پر اساتذہ کی بحالی کرکے خوب واہ واہی لوٹی مگربعد میں اس کی خوب کرکری بھی ہوئی۔ کیوں کہ بیشتر نا اہل لوگ بحال کر لئے گئے اور کچھ تو فرضی اسناد پر بھی بحال ہو گئے۔ بعد میں ان کے اہلیتی ٹسٹ کا ڈرامہ کیا گیا۔ یعنی پہلے ان کی بحالی ہوئی او ربعد میں ٹسٹ اور پھر اچھے نمبروں سے اہلیتی ٹسٹ پاس کرنے والے اساتذہ کیسے نکلے اس کا اندازہ ایک حالیہ سروے رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس میں نتیش حکومت سے منتخب اساتذہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کا نام تو جانتے ہیں کیوں کہ ان کے ہی دور میں انہیں نااہل ہوتے ہوئے بھی ملازمت ملی مگر وہ ریاست کے آئینی سربراہ یعنی گورنر کا نام نہیں جانتے اور ایک صاحب گورنر کا نام بتاتے ہیں تو ملک کے نائب صدر جمہوریہ کا نام بتاتے ہیں ان کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں۔ سمجھا جا سکتا ہے کہ تعلیم کے معاملے میں انسانی ترقی یا ریاست کے انسانی وسائل کی ترقی کا کیا حال ہے؟
پرائمری سے یونیورسٹی کی سطح تک ہزاروں اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ خصوصاً اعلیٰ تعلیم اور تکنیکی تعلیم کا شعبہ اساتذہ کی کمی کی مار بری طرح جھیل رہا ہے۔ نصاب کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پٹنہ یونیورسٹی کو چھوڑ کر کسی یونیورسٹی میں تعلیمی کلینڈر کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ وقت پر امتحانات نہیں ہوتے۔ سیشن لیٹ ہونے کے سبب تکنیکی اداروں میں IIT اور این آئی ٹی کو چھوڑ کر کہیں بھی کیمپس سلیکشن نہیں ہو پاتا ہے۔ یعنی خود وزیر اعلیٰ کے پیمانہ کے مطابق نہ بہترطبی خدمات، نہ بہتر تعلیم اور نہ ہی روز گار اور ملازمت کے بہتر مواقع ۔ ایسے میں ریاست کی ترقی کا معاملہ محض جاری یعنی محض اعداد و شمار کا کھیل بن کر رہ جاتا ہے۔ ریاست کے ان ہی لوگوں کو بہتر خدمات میسر نہیں جو بہار میں یا اس سے باہر پرائیوٹ سطح پر منہ مانگی رقم دے کر علاج کرانے کے اہل ہیں۔ اسی طرح بہتر تعلیم اور روز گار کے مواقع صرف ان بہاریوں کو حاصل نہیں ہو رہے ہیں جو بہار سے باہر تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ بہار میں تو حوصلہ افزائی وظیفہ بھی امید واروں کو نہیں مل پاتا ہے۔ سالوں دوڑ لگانے کے بعد لوگ ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو تو اپنی مادری زبان اردو میں تعلیم حاصل کرنے کا بھی موقع حاصل نہیں ہے، کیوں کہ ریاست میں اسکولی سطح پر اردو زبان کی لازمیت ایک سازش کے تحت ختم کرائی گئی ہے اور جب اسکولی سطح پر اردو کی تعلیم کا نظم نہ ہوگا یا و زیر اعلیٰ کے بارہا اعلان کے بعد بھی اسکول میں اردو ٹیچر کا تقرر نہیں ہوگا تو پھر کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اردو طلبا کہاں سے آئیں گے؟ مسلمانوں پر روز گار اور ملازمت کے دروازے ویسے بھی بند ہیں۔ یعنی تقریباً 2 کروڑ بہاری مسلمانوں کی ترقی کا کوئی انتظام نہیں ہے اور حکومت کے انصاف کے ساتھ ترقی کے دعوے کے باوجود مسلمانوں تک ترقی کا فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔
بہار کے عوام افسر شاہی ، بد عنوانی اور رشوت خوری سے پریشان ہیں۔ نتیش حکومت نے بد عنوانی پر نکیل کسنے کے لئے رائٹ ٹو سروس ایکٹ لاگو کیا ہے، لیکن اس سے صرف سپر وائزری اسٹاف ہی پر نکیل کسنے کی تیاری کی گئی ہے۔ ترقیاتی اور فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں ضلع کلکٹر وں کی تساہلی اور عدم دلچسپی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ محکمہ کے سنیئر آئی اے ایس افسران پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ صرف چھوٹی مچھلیاں پکڑی جا رہی ہیں بڑی مچھلیاں گرفت سے اب بھی باہر ہیں۔
نتیش حکومت تقریباً ہر ماہ میڈیکل یا انجینئرنگ کالج اور تقریباً ہر سال ٹیکنیکل یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ مگر جو کالج، یونیورسٹی یا ٹیکنیکل ادارے پہلے سے کام کر رہے ہیں ان کا حال چال درست کرکے بہتر تعلیم مہیا کرانے کی کوشش نہیں کرتی ہے۔ ایسے میں بہار میں کیسی ترقی ہو رہی ہے اور کون لوگ کن لوگوں کی ترقی پر خوشیاں منا رہے ہیں یا تالیاں پیٹ رہے ہیں یہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے؟ بہار میں فی الوقت صرف نوکر شاہوں، افسر شاہوں اور خوشامدی لوگوں کی چاندی ہے اور وہی لوگ ترقی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ یا پھر حکمراں این ڈی اے کے رہنما اور ان کے حامی بہار کی ترقی کا راگ الاپ رہے ہیں اور میڈیا کے توسط سے درخشاں بہار کی ایسی طلسماتی تصویر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں کہ لوگ عش عش کرنے پر مجبور ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *