روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ سوڈان میں مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے تا کہ بات چیت اور مکالمے کو ممکن بنایا جا سکے۔ جمعرات کے روز جاری بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ روسی وزارت خارجہ سوڈان میں بین الاقوامی مداخلت کو مسترد کرتی ہے۔ وزارت نے شدت پسندوں کو کچلنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تا کہ سوڈان میں انتخابات کا اجرا یقینی ہو۔سوڈان میں فریڈم اینڈ چینج فورسز نے بدھ کے روز ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا۔ اجلاس میں عسکری کونسل کے ساتھ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے پیپلز کانگریس کی جانب سے وساطت کی پیش کش کا جائزہ لیا گیا۔ سوڈان پروفیشنلز ایسوسی ایشن کے ارکان نے اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ دھرنے کو منتشر کرنے کے واقعات کے بعد وہ موجودہ حالات میں عسکری کونسل کے ساتھ بات چیت کے لیے کسی وساطت کو قبول نہیں کریں گے۔ ارکان کے مطابق انہیں دھرنا ختم کرانے کے واقعات کی تحقیقات کے سلسلے میں عسکری کونسل کی کمیٹی پر اعتماد نہیں۔دوسری جانب سرکاری طور پر مذاکرات ختم ہو جانے اور وساطت کی کوششوں کے ناکام ہو جانے کے بعد دارالحکومت خرطوم میں زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو گئی ہے۔اس سے قبل سوڈان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بدھ کی شام وزارت صحت کے سکریٹری ڈاکٹر سلیمان عبدالجبار کے حوالے سے بتایا کہ ملک میں پرتشدد واقعات کی آخری لہر میں ہلاکتوں کی تعداد 46 سے زیادہ نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here