fire-meerut
نئی دہلی؍میرٹھ:میرٹھ شہر میں غریب لوگوں کی بستی بھوسا منڈی (کینٹ بورڈ) میں آتش زنی کا ذمہ دار کوئی بھی ہو ، فی الحال اس نے وہاں رہنے والے ایک سو پچاسی خاندان کے ایک ہزار سے زائد لوگوں کو بے گھر کردیا ہے۔جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر تنظیم کا ایک وفدگذشتہ روز متاثرہ علاقہ پہنچا تو لوگ جہاں راکھ اور چنگاری کے درمیان بچا ہوا سامان چن رہے تھے، وہیں ان کی آنکھوں سے آنسو کا سیلاب جاری تھا ، پچاس سے زائد خاندان کا درد تو اور بڑھا ہوا تھا کیوں کہ بچیوں کی شادی کا سامان جو انھوں انھوں نے تنکا تنکا کرکے جمع کیا تھا ، آگ کی نذر ہو گیا۔ یہ افراد گزشتہ شب ٹھنڈ میں کھلے میدان میں رہنے پر مجبور ہوئے ۔ ایسی حالت کو دیکھتے ہوئے جمعےۃ علماء ہند نے سردست سبھی 185 خاندانوں کو نقد پانچ پانچ ہزار روپے دیے تاکہ وہ خود سے ضروری چیزوں کا انتظام کرسکیں ،ان میں پندرہ غیر مسلم خاندان بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے وہاں موجود رہ کر سروے کا کام بھی شروع کردیا ہے تا کہ نقصانات کا صحیح اندازہ لگایا جاسکے ۔
fire-in-meerut
وفد میں شریک مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃعلماء ہند نے بتایا کہ یہ آگ اس وقت لگی جب بدھ کی شام پولس کا عملہ یہاں مبینہ طور سے غاصبانہ قبضہ ختم کرنے کے مقصد سے آیا تھا ، جس کے بعد مقامی لوگوں اور پولس میں جھڑپ بھی ہوئی ۔جھڑپ کے درمیان آگ لگنے کی وجہ سے مقامی لوگوں کا دعوی ہے کہ یہ آگ پولس نے ہی لگائی ہے ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مسلم اکثریتی اس بستی میں جہاں لوگوں کے گھر جل گئے اور ان کا سارا سامان خاک ہو گیا ، پولس نے الٹے ہی جھڑ پ کے نام پر پچیس لوگوں پر ایف آئی آر درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے ۔ ایسے حالات میں جمعیۃ علماء ہند نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان حضرات کی ہر ممکن قانونی مدد کی جائے گی ۔
جمعیۃ علماء ہند کے وفد میں مولاناحکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعےۃ علما ء ہند ، مولانا ابراہیم قاسمی ، مولانا جمال الدین قاسمی ، مولانا محمود الرحمن بستوی ، قاری سلیم اور مقامی یونٹ سے حاجی حنیف قریشی اور قاضی زین الراشدین شامل تھے۔درین اثناء جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے درپیش سانحہ پر دکھ اور صدمہ کا اظہار کیا ہے اورکہا کہ جمعیۃ علماء ہند ہر طرح سے قانونی اور راحتی امداد کے لیے پرعزم ہے ۔ مولانا مدنی نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کے مجرموں کی شناخت کرکے ان کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ انھوں نے اہل خیر حضرات کو متوجہ کیا کہ وہ ان مظلوم اور بے گھر لوگوں کی مدد کے لیے آگے آئیں ،مولانا مدنی نے مقامی وریاستی یونٹس کو بھی تلقین کی کہ وہ ان کی امداد کا نظم کریں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here