11اموات کے پیچھے خاندان کے چھوٹے بیٹے للت پرشک

Share Article
burari
گذشتہ روز بڑاری کے سنت نگرعلاقہ میں ایک گھرسے ملنے والی 11لوگوں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کے بعدپیرکے روزنگم بودھ گھاٹ پرآخری رسومات اداکردی گئیں۔بہرکیف دہلی کے براڑی علاقے کے ایک ہی خاندان کے 11لوگوں کے اموات کامعاملہ حل ہونے کے آثارنظرآرہے ہیں۔ایک ہی خاندان کے 11لوگوں کی موت کے معاملے میں گذشتہ روزپورسٹ مارٹم رپورٹ بھی آگئی ہے جس سے انکشاف ہواہے کہ سبھی کی موت لٹکنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔77سالہ بزرگ خاتون نارائن دیوی کی موت بھی پھانسی سے ہوئی ہے جبکہ پہلے بتایاگیاتھاکہ اس کی موت گلاگھونٹنے سے ہوئی ہے۔خاندان کے کچھ لوگوں نے دوسرے لوگوں کوکٹکانے میں مددکی۔کسی کے جسم پرمخالفت وچوٹ کے کوئی ثبوت نہیں ہے۔کسی کے جسم پرگلے کے علاوہ چوٹ کا کوئی نشان نہیں ہے۔کچھ لوگوں کے پیٹ خالی ملے توکچھ نے کھاناکھایاتھا۔پولس نے ابھی تک کی جانچ میں کسی بابا یاتانترک کا نام سامنے نہیں آیاہے۔ذرائع کے مطابق، پولس نے بیٹے للت کواس اجتماعی خودکشی کاماسٹرمائنڈ سمجھ رہی ہے ۔وہ خواب میں اپنے والدگوپال داس سے بات کرتاتھا۔جبکہ گوپال داس کی موت دس سال پہلے ہوچکی ہے۔والدکے جیسابولتے تھے وہ ساری باتیں رجسٹرمیں لکھتاتھا۔
اس معاملہ میں ایک کے بعد ایک متعدد چیزیں سامنے آرہی ہیں۔ دراصل پولیس نے دو رجسٹر برآمد کئے ہیں، جس میں 11 لوگوں کے موت کی اسکرپٹ لکھی گئی تھی۔ خاندان کے سربراہ کے چھوٹے بھائی للت نے رجسٹر میں کچھ نوٹ لکھے تھے۔کرائم برانچ کے مطابق، دونوں رجسٹروں میں چھوٹے بھائی للت کی رائٹنگ لگ رہی ہے، جس کی فرنیچر کی دکان تھی۔ دونوں رجسٹروں میں کچھ ایسی چیزیں لکھی ہیں، جو کئی طرح کے سوالات کھڑے کرتی ہیں۔ رجسٹر میں لکھی ایک ایک بات واقعہ سے مل رہی ہے۔
للت نے رجسٹر کے نوٹس میں لکھا تھا۔جیسے ’میں کل یاپرسوں آؤں گا، نہیں آیاپایا توپھربعدمیں آؤں گا۔للت کی فکرمت کروتم لوگ، میں جب آتاہوں یہ تھوڑاپریشان ہوجاتاہے،ماں سب کوروٹی -روٹی کھلائے گی۔’ آخری وقت خواہش جب پوری ہوگی تو آسمان ہلے گا، زمین کانپے گی۔ اس وقت تم ڈرنا نہیں۔ منتروں کو اور بڑھا دینا۔ میں آکر تمہیں اتار لوں گا۔ دوسروں کو بھی اتارنے میں مدد کروں گا۔’للت 2015میں رجسٹرمیں لکھاتھا۔ سپنے اسے ہرروزنہیں بلکہ اسے کبھی کبھی آتے تھے۔ دورجسٹرمیں ایک پورابھراہواہے،جبکہ دوسراآدھالکھاگیاہے۔موت کی تاریخ پہلے سے طے ہوگئی تھی۔موت کے پہلے 20روٹیاں باہرسے منگائی گئی تھی۔وہیں بزرگ خاتون کے پاس ایک چننی اوربیلٹ ملی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ للت کو خواب میں اس کے والد نظر آتے تھے۔ رجسٹر میں لکھی تمام باتوں کا یہ مطلب نکالا جا رہا ہے کہ یہ میسج للت کو اس کے والد نے دیا اورللت نے خاندان کے دیگر ارکان کو ویسا ہی کرنے کو کہا۔
پولس پورے گھروالوں کے فون ڈیٹیلس اورخاص کرللت کے بارے میں چھان بین کررہی ہے۔پولس للت کے دوستوں کے علاوہ فون پرکس کس سے بات کرتا تھا؟ کن لوگوں سے ملتاتھا؟ کیابھائی بہن سے کوئی ناراضگی تھی؟بھائی بہنوں اورخاندان کے بچوں سے للت کا سلوک کیساتھا؟ پولس ان باتوں کے جواب تلاش رہی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *