چوتھی دنیا بیورو
p-5سماج وادی پارٹی کی گھبراہٹ اب عام ہونے لگی ہے۔ بہو جن سماج پارٹی چھوڑ کر الگ ہوئے آر کے چودھری کے ذریعہ منعقد اجلاس کو اجازت دینے کے سوال کو لے کر جس طرح سماج وادی سرکار نے ضد دکھائی ،اس سے پارٹی کی فضیحت ہی ہوئی۔ اجلاس کو منظوری نہیں دینے کے بعد اسے واپس لے کر پھر منظوری دینے کے فیصلے سے پارٹی کو جتنا نقصان ہوا اتنا نقصان بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی گیسٹ شپ میں اجلاس ہونے دینے سے نہیں ہوتا۔ ’بہو جن سماج سوابھیمان سنگھرش سمیتی‘ کی سرپرستی میں آر کے چودھری نے چھتر پتی شاہو جی مہاراج جینتی کے موقع پر لکھنو کے بجلی پاسی کلا احاطے میں اجلاس منعقد کیا تھا۔ اکھلیش سرکار نے اجلاس کی اجازت نہیں دی، جبکہ چودھری اور ان کے حامی وہیں پر اجلاس کرنے پر آمادہ تھے۔ آخر کار سرکار جھکی اور اجلاس کی اجازت دینی پڑی۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پھر لکھنو آکر سماج وادی پارٹی کے لوگوں کو خوب للکارا ۔ نتیش نے کہا کہ لوہیا کے نظریہ پر چلنے کا دعویٰ کرنے والی سماج وادی پارٹی سرکار، لوہیا وادی نتیش کمار کو اجلاس کرنے سے روک دیتی ہے۔
نتیش کمار نے بہار میں لاگو مکمل شراب بندی کا حوالہ دیتے ہوئے پھر اکھلیش یادو کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ یو پی میں شراب بندی لاگو ہونی چاہئے۔نتیش نے شراب بندی سے ہونے والے مالی فائدے کا حساب بھی اکھلیش کو سمجھایا۔انہوں نے کہا کہ لوگ جب شراب نہیں پئیں گے تو پیسہ اچھے کام میں لگے گا اور یو پی کی اقتصادیات اچھی ہوگی۔ نتیش نے بہار میں کئے گئے کام کا ذکر کرتے ہوئے وہاں پر لاگو عورتوں کے ریزرویشن کی بھی یاد دلائی ۔اس طرح نتیش نے مایا وتی پر بھی حملہ کیا اور کہا کہ صرف بہو جن سماج بولنے سے نہیں ہوتا، اس کا درد بھی سمجھنا چاہئے ۔ نتیش کمار نے کہاکہ وہ آر کے چودھری کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر اتر پردیش میں چلنے کے لئے تیار ہیں۔
آر کے چودھری نے بھی مایا وتی پر جم کر نشانہ لگایا اور انہیں پیسوں کا لالچی بتایا۔ چودھری نے کہا کہ مایا وتی کی قیادت میں بہو جن سماج کا فائدہ ممکن نہیں ہے۔ وہ پیسے کے لئے ٹکٹ بیچتی ہیں۔ آر کے چودھری نے مایا وتی کے ساتھ ہی بہو جن سماج پارٹی لیڈر ستیش چندر مشرا پر بھی الزام لگایا کہ لکھنو میں اجلاس نہ ہو، اس سازش میں مشرا بھی لگے ہوئے تھے،لیکن ان کی ضد تھی کہ وہ ریلی کریں گے اور انہوں نے ریلی کرکے دکھایا۔ چودھری نے ضلع انتظامیہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایک مہینہ پہلے سے ہی اجلاس کی اجازت کے لئے وہ عرضی دے چکے تھے، لیکن انتظامیہ کی لا پرواہی کی وجہ سے انہیں اتنی مشقت کرنی پڑی ۔ اجلاس میں بہار جنتا دل (یو) کے لیڈر اودے نارائن چودھری اور اتر پردیش جنتا دل یو کے صدر سریش نرنجن بھیا بھی شریک تھے۔
چودھری آگے نکلے، موریہ بھی ریلی کی تیاری میں
بہو جن سماج پارٹی سے بغاوت کرکے نکلے آر کے چودھری ریلی منعقد کرکے اپنی طاقت دکھانے میں سوامی پرساد موریہ سے آگے نکل گئے۔ جبکہ پارٹی چھوڑ کر موریہ پہلے نکلے تھے، چودھری بعد میں۔ بہو جن سماج پارٹی چھوڑ کر نکلے باغی لیڈر سوامی پرساد موریہ رما بائی امبیڈکر اسٹیدیم میں 22 ستمبر کو زور دار ریلی منعقد کرنے کی تیاری میں لگے ہیں۔ موریہ اپنی عوامی طاقت کو اسی جگہ پر اکٹھا کرنا چاہتے ہیں جس جگہ کی تعمیر مایاوتی نے ہی ریلی کے لئے کرائی تھی۔
مایاوتی ہوں یا دیا شنکر عورتوں کی عزت دونوں نے کی نیلام
آشیش وششٹھ
اتر پردیش اسمبلی انتخاب کے دن جیسے جیسے قریب آرہے ہیں، ویسے ویسے ریاست کی سیاست کی سطح بد تر ہوتی جارہی ہے۔بی جے پی کے ریاستی صدر دیا شنکر سنگھ کے ذریعہ بہو جن سماج پارٹی سپریمو مایاوتی پر متنازع ریمارکس سے سیاسی حرارت بڑھ گئی ہے۔ بی جے پی نے متنازع بول بولنے والے لیڈر کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیاہے۔ بہو جن سماج پارٹی لیڈروں اور کارکنوں نے نازیبا لفظ کا جواب نازیبا لفظ سے دے کر ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہونے کو ثابت کردیا ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کی اکلوتی لیڈر مایا وتی کو آخر اس بات کا احساس ہو ہی گیا کہ نازیبا الفاظ کے زخم کتنے گہرے ہوتے ہیں۔
سیاسست کے اکھاڑے میں بیان بازی کے سہارے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا لیڈروں کی فطرت بن گئی ہے۔اس بار بی جے پی پھنسی اور اس نے خستہ حالت کا سامنا کررہی بہو جن سماج پارٹی کو بھنانے کا موقع دے دیا۔ دھرنا ،احتجاج اور ناراضگی کے ماحول میں مایاوتی نے خود کو دیوی کی ڈگری بھی دے ڈالی ۔اپنے جنم دن پر ہیروں کے زیورات کا تحفہ لینے والی اس دلت لیڈر کے پاس آج بیشمار دولت ہے۔ تلک ،ترازو اور تلوار ،ان کو مارو جوتے چار‘ کا نعرہ دینے والے کانشی رام کی جانشیں مایاوتی نے اپنے گرو کا نعرہ، ہاتھی نہیں گنیش ہے، برہمن ، وشنو مہیش ہے، میں بدل کر سوشل انجینئرنگ کا دائوں کھیلا تھا اور 2007 کے اسمبلی انتخاب میں مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار حاصل کیا تھا۔ مایاوتی نے پانچ سال کے دور حکومت میں پارک، مجسمے بنانے اور دلت ہستیوں کے ساتھ اپنی مورتی لگانے میںساری سرکاری مشینری جھونک دی تھی اور سرکاری خزانے کی لوٹ اور بد عنوانی کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔عوام نے مایاوتی کو ٹھکرا دیااور سماج وادی پارٹی کو موقع دیا۔ بہو جن سماج پارٹی بالکل خارج ہوگئی تھی۔لوگ یہ مانتے ہیں کہ بہو جن سماج پارٹی میں روایتوں اور آدرشوں کی کوئی جگہ نہیں ہے،لیکن بی جے پی لیڈر دیا شنکر سنگھ کے بیان نے مرتی پارٹی کو تریاق دے دیا۔
حالانکہ مایاوتی اور ان کی پارٹی کے کئی دیگر لیڈر اعلیٰ برادریوں کے خلاف ماضی میں جس طرح کی باتیں کیا کرتے تھے وہ بھی مریادا کی توہین ہی تھی۔کانگریس میں کچھ برس گزار کر سماج وادی پارٹی میں لوٹے بینی پرساد ورما کی زبان کس طرح بے لگام ہے، یہ سب کو معلوم ہے۔ اکھلیش سرکار کے سینئر وزیر، اعظم خاں کو بھی بے لگام زبان کی بیماری ہے۔ سیاست میں نظریات کے اختلافات کے باوجود رومانس کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونا چاہئے۔ بہر حال جس بہو جن سماج پارٹی کو پوری طرح حوصلہ شکن سمجھا جارہا تھا،وہی پارٹی نازیبا لفظ سن کر اچانک متحرک ہوگئی ۔اتر پردیش میں دلتوں کے بیچ اپنی جگہ بنانے کے قریب ہو رہی بی جے پی کو اچانک کلہاڑی لگ گئی،معطل لیڈر دیا شنکر سنگھ کی بیوی سواتی سنگھ کے میدان میں کود پڑنے سے بی جے پی کو تھوڑی راحت ضرور ملی اور بہو جن سماج پارٹی کو اپنے نازیبا لفظوں کی وجہ سے بیک فٹ پر جاناپڑا۔
گالی کے فائدے، مرتیو جے دیکشت
جب سے پارلیمنٹ کا مانسون سیشن منعقد ہوا ہے، تب سے بہو جن سماج پارٹی کی لیڈر مایا وتی گجرات، ہریانہ اور مہاراشٹر وغیرہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں دلتوں پر ہو رہی بربریت کے ایشو اٹھا کر بی جے پی کو گھیرنے کی ناکام کوشش کررہی تھیں۔ لیکن اتر پردیش بی جے پی کے نائب صدر دیا شنکر سنگھ نے مایا وتی کے خلاف متنازع لفظوں کا استعمال کر کے انہیں یہ موقع دے دیا۔
اس حادثے کا پہلا مرحلہ یقینی طور سے بی جے پی کے لئے بہت بھاری پڑ گیا، مرکزی وزیر ارون جیٹلی کو راجیہ سبھا میں معافی مانگنی پڑی اور بی جے پی ہائی کمان کو دیا شنکر سنگھ کو6 سال کے لئے پارٹی سے نکالنا پڑا۔ یقینی طور پر مایا وتی اس معاملے کو انتخاب میں بھنانے کی کوشش کریں گی۔ بہار انتخاب کے وقت مودی کے نتیش کے لئے ڈی این اے والے بیان اور سنگھ چیف موہن بھاگوت کے ریزرویشن والے بیان کو جس طرح مخالفوں نے بھنایا تھا۔ راجدھانی لکھنو میں بہو جن سماج پارٹی کارکنوں نے سڑک پر اتر کر جس طرح دیا شنکر سنگھ کے خاندان کی عورتوں کے خلاف نازیبا الفاظ کی بوچھار کی،وہ جمہوریت کا اور بھی زیادہ شرمناک منظر پیش کررہاتھا۔ ایک نازیبا لفظ کے مقابلے بہو جن سماج پارٹی کارکنوں نے سبھی وقار کو بالائے طاق رکھ کر اسٹیج سے ہزاروں گالیاں اچھالیں۔ مایا وتی کو یہ یاد نہیں رہا کہ سماج وادی سرکار کے دور حکومت میں گیسٹ ہائوس حادثے کے وقت بی جے پی نے ہی ان کا وقار بچایا تھا۔ اس معاملے کے بعد تمام ووٹرس بہو جن سماج پارٹی سے دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔جبکہ دلتوں کا ایک خاص طبقہ مایاوتی کے تئیں تذبذب میں ہے۔
کیا عزت و وقار صرف مایا وتی کے لئے ہے؟
شیام کمار
امید کی جارہی ہے کہ لکھنو کے احتجاج میں بہو جن سماج پارٹی کے لوگوں کے ذریعہ کی گئی بدکلامی پر مایاوتی اپنی پریس کانفرنس میں شرمندگی کا اظہار کریںگی اور ایک سینئر اور زمینی لیڈر کی طرح پورے افراتفری کے معاملے کو پُرامن کر دیںگی۔ اس سے انکا قد اونچا اٹھ جاتا ،لیکن مایاوتی نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے الٹی دلیل دی کہ بہو جن سماج پارٹی کے احتجاج میں جو بات کہی گئی ، ان کا غلط مطلب نکالا گیا۔ نسیم الدین صدیقی نے بھی اسی طرح کے نہ سمجھ میں آنے والے دلیل دیئے۔
دوسری طرف دیا شنکر سنگھ نے خود معافی مانگ لی تھی۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی نے پارلیمنٹ میں معافی مانگی تھی۔ دیا شنکر کو فوری طور پر نہ صرف پارٹی کے نائب صدر عہدہ سے ہٹایا گیا، بلکہ پارٹی سے بھی منعطل کردیا گیا۔ ان سب کے باوجود مایا وتی اور ان کے سپہ سالاروں کو دیاشنکر سنگھ کے خاندان کی عورتوں اور بچی کے تئیں نازیبا لفظ اچھالنے سے ہی تسلی ملی،یہ بات ریاست کے لوگوں کو ہضم نہیں ہوئی۔ عام لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ غلطی دیاشنگر سنگھ نے کی تو ان کے گھر کی عورتوں اور بچی کو اس میں کیوں گھیسٹا گیا؟مایاوتی نے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے کہا کہ وہ انہیں بوا کہتے ہیں تو دیاشنکر سنگھ کو گرفتا ر کرائیں۔ اس پر لوگوں کا کہنا ہے کہ دیاشنکر سنگھ کی بیوی سواتی سنگھ نے بھی نسیم الدین کے خلاف رپورٹ درج کرائی ہے، ان کی بھی بلا تاخیر گرفتاری ہونی چاہئے۔ سواتی سنگھ نے ریاست کے گورنر رام نائک سے مل کر مانگ کی ہے کہ ان کی بچی کے بارے میں نازیبا لفظوں کا استعمال کرنے والے بہو جن سماج پارٹی کے لیڈروں کے خلاف بچوں کے جنسی جرائم تحفظ ایکٹ (POCSO Act)) کے تحت کارروائی کی جائے۔ گورنر نے بہو جن سماج پارٹی کے احتجاج کی سی ڈی طلب کی ہے۔ انہوں نے پولیس ڈائریکٹر جاوید احمد سے سی ڈی دستیاب کرانے کو کو کہا ہے۔
دیگر عورتوں کے وقار بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
ڈاکٹر دلیپ اگنی ہوتری
کسی پارٹی کو یہ خوش فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے یہاں متنازع بیان دینے والے لوگوں کا فقدان ہے۔بہو جن سماج پارٹی کے ذریعہ منعقد احتجاج میں دیا شنکر سنگھ کی بیوی، بیٹی اور بہن وغیرہ کے سلسلے میں گندی باتیں کہہ کر بہو جن سماج پارٹی کے لوگوں نے دیاشنکر سنگھ کے بیانوں کے تئیں لوگوں کے اشتعال اور مایاوتی کے لیے بن رہی ہمدردی کے اثر کو دھو کر رکھ دیا۔ یہ ثابت ہو گیا کہ دیا شنکر سنگھ کے ذریعہ استعمال میں لائے گئے الفاظ پر بہو جن سماج پارٹی لیڈروں اور کارکنوں کے نازیبا لفظ بھاری تھے۔ بی جے پی نے دیا شنکر سنگھ کے بیان کو بے حد قابل مذمت بتایا۔ سوال مایاوتی سے ہے کہ دیاشنکر سنگھ کے گھر کی عورتوں کے لئے توہین آمیز باتیں کرنے والے بہو جن سماج پارٹی لیڈروں کو انہوں نے معطل کیوں نہیں کیا؟ مایاوتی نے خود کو دیوی بتایا، لیکن یہ نہیں سمجھا کہ بے قصور عورتوں کی توہین کرنا بھی اتنا ہی نفرت آمیز ہے۔ مرکزی وزیر اوما بھارتی نے گیسٹ ہائوس کانڈ کی یاد دلائی کہ گیسٹ ہائوس کانڈ میں کیسے بی جے پی لیڈر برہما دت دریویدی نے مایاوتی کو بچایا تھا۔ مایاوتی کو اس دن کا حادثہ بھولنا نہیں چاہئے، یہ بھی کہ بی جے پی کی ہی مدد سے مایاوتی دو بار ہ اترپردیش کی وزیر اعلیٰ بنی تھیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here