بساط عالم پر اسلام کے تیزی سے بڑھتے قدم

Share Article

ابو رفقہ محمد افروز قادری،چریاکوٹی
اسلام دین الٰہی ہے جو دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیاہے، اور غالب ہوکر رہے گا۔ وہ وقت بہت دور نہیں جب چہار سو اسلام کی بہاریں ہوں گی اور ہرطرف مسلمانوں ہی مسلمانوں کا غلغلہ ہوگا۔ یہ میری اپنی شہادت نہیں بلکہ آپ کو دشمنانِ اسلام کااعتراف حقیقت سنارہاہوں اورقرآن نے اس کی پیش گوئی تو صدیوں پہلے فرمادی تھی :
یہ (منکر ین حق) چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ(کی پھونکوں)سے بجھادیں، جب کہ اللہ اپنے نور کو پورا فرمانے والاہے اگرچہ کافر کتناہی ناپسند کریں۔وہی ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے سب ادیان پرغالب وسربلند کردے خواہ مشرک کتناہی ناپسند کریں۔ (سورۂ صف:61؍8تا9)
قارئین کرام! گویا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس بات کو مقدر فرما دیاہے کہ اسلام دنیا کے سارے خود ساختہ مذاہب (Man-mad ism) پرچھاجائے اور غلبۂ اسلام کاپھریرا چہاردانگ عالم میں لہرجائے۔ آپ اندازہ فرمائیں کہ اسلام کے غلبہ و تسلط کی یہ باتیں ایسے دور میں ہو رہی تھیں جب کہ اقوام عالم کے مقابلے میں اہل اسلام کی تعداد مٹھی برابر بھی نہیں تھی اورپھر مسلمانوں پر گوناگوں قسم کی اِبتلا و آزمائش اس پرمستزاد۔گویااُن حالات کے تناظرمیںمستقبل کے اندر اسلام کی حالت مایوس کن نظر آرہی تھی لیکن آپ دیکھیں کہ آج قریباً ساڑھے چودہ صدی بیت جانے کے بعد وہ باتیں کس طرح حرف بہ حرف سچ ثابت ہورہی ہیں،اور آج دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب تیس کروڑکے قریب بتائی جاتی ہے۔
یہ خصوصیت صرف اسلام کو حاصل ہے کہ وہ نصف صدی سے بھی کم میں نہ صرف ساری دنیا پر چھاگیا بلکہ اس کے پیروئوں نے بڑی عظیم الشان حکومتیں بھی قائم کرلیں۔ مفکرین عالم‘ اسلام کی اس زود مقبولیت پر انگشت بدنداں رہ گئے حالاں کہ اسلام کی مقبولیت عین فطرتِ انسانی کے مطابق ہے۔مغرب کے ایک مفکر نے اس بات پر بڑی حیرت کا اظہار کیاہے کہ آخر اسلام میں وہ کون سی خصوصیت ہے جس نے اتنی مختصر سی مدت میں اسے ایک عالمگیر طاقت میں تبدیل کردیا، اور یہ بات اس کے لیے اور بھی حیران کن ہے کہ چودہ سو سال گزرجانے کے باوجود اِس دین کی مقبولیت اور ہر دلعزیزی میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی بلکہ یہ دنیا کے دور دراز خطوں میں تیزی کے ساتھ پھیلتاچلاجارہاہے۔
اسلام کی اس تیزرفتاری سے بڑھتی ہوئی مقبولیت و ترقی کے باعث دشمنانِ اسلام کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہیں،وہ اپنے غیظ وغضب میں آپ پھٹے جارہے ہیں اور اسلام کے بڑھتے ہوئے اس کاروانِ نور کو گل کردینے کی ہر ممکنہ کوششوں میں جٹے ہوئے ہیں۔اس تیز تراضافے کا سبب صرف مسلم ممالک میں آبادی کا بڑھتاہواگراف ہی نہیں بلکہ قبولِ اسلام کرنے والوں کی شرح میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہورہاہے۔خصوصاً نائن الیون کے حملہ کے بعد(وہ ایک الگ موضوع ہے کہ اس حملے کا ہیروکون تھا)تاہم اِس واقعہ نے ساری دنیا خاص طورپر امریکیوں کی توجہ اسلام کی طرف مبذول کروادی اور اب مغرب میں لوگوں نے اس بارے میں سوچنا شروع کردیاہے کہ اسلام کس قسم کا مذہب ہے۔قرآن کی بنیادی تعلیمات کیاہیں۔ایک مسلمان کی کیاذمہ داریاں ہیں اور مسلمانوں کو کس طرح اپنے معاملات طے کرناہوتے ہیں، اسی دلچسپی نے فطری طور پر ساری دنیا میں قبولیت اسلام کادروازہ پھٹ کھول دیاہے۔گویا گیارہ ستمبرکے بعد باربارکیاجانے والایہ دعویٰ کہ ’’یہ حملہ دنیا کی تاریخ تبدیل کردے گا‘‘ایک لحاظ سے سچ ہوتانظر آرہاہے۔یہ تفصیلات ذیل کے مضامین میں شرح وبسط کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہیں  :
(The Place of Muslims in Europe)
(Dialogue between European society and Muslims)
اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق 1989 سے1998 کے درمیان یوروپ کی مسلم آبادی سو فیصد سے زیادہ بڑھی ہے۔تحقیق سے یہ بھی پتاچلاہے کہ نہ صرف یوروپ میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے بلکہ مسلمانوں میں دین کی فہم وبصیرت بھی گہری ہوتی جارہی ہے۔ ایک فرانسیسی اخبارLeMondeکے مطابق پہلے سے کہیں زیادہ مسلمانوں نے نمازیں پڑھنی شروع کردی ہیں،مسجدیں بھری بھری ہوتی ہیں،روزوں کا خاص اہتمام ہونے لگا ہے اور یہ شعور وسمجھ جامعات کے طلبہ میں زیادہ نظرآتی ہے۔
اس معاشرتی اور مطالعاتی تحقیق کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھناچاہیے کہ اسلام کے اثرات یوروپ پر کوئی آج کل مرتب ہونا شروع نہیں ہوئے بلکہ اسلام کو تو یوروپ سے جداہی نہیں کیاجاسکتا، کیوں کہ یوروپ اور اسلامی دنیا کے درمیان صدیوں سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔پہلے سلطنت اندلسیہ(1492۔756) پھر صلیبی جنگیں(1291۔1095) اور پھر عثمانیوں کی فتح بلقان(1389) یہ سب دونوں معاشروں کے مسلسل باہمی تعلق کی وجہ بنتی رہی ہیں۔بہت سے تاریخ داں اور عمرانیات کے ماہرین کا کہناہے کہ اسلام ہی اُس تحریک کی بنیادی وجہ تھا جس کے نتیجے میں یوروپ قرونِ وسطیٰ کی تاریکیوں سے نکل کر نشاطِ ثانیہ کی چکاچوندتک پہنچا۔ایک وقت تھا جب یوروپ طب، فلکیات، ریاضی اور کئی دوسرے میدانوں میں بہت پیچھے تھاجب کہ اہل اسلام کے پاس علم کے عظیم خزانے اور ترقی کے لامحدود وسائل ومواقع بہت پہلے سے موجود تھے۔
اس تحریر کی وجودپذیری کا پس منظر یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں  You Tube  پر سات آٹھ منٹ کا ایک بڑا ہی دلچسپ ویڈیو نشرہوا ہے، تومیں نے چاہاکہ اس کا خلاصہ اپنے احباب کے دائرۂ معلومات تک پہنچانے کی دینی ذمہ داری پوری کردوں۔اس ویڈیو کا پروڈیوسرکوئی غیرمسلم ہے اور اس نے ویڈیوکا عنوان یہ دیاہے  :
Muslim Demographics
جس میں بتایاگیاہے کہ دنیا کانقشہ تیزی کے ساتھ بدل رہاہے۔ یوروپ جیسا ہم سمجھتے رہے اب ایسا نہیں رہا، اسے خود اپناوجودبچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔آج اسلام کل بساطِ عالم پرچھاتاچلاجارہاہے۔۔۔۔آج دنیا کا سب سے زیادہ قبول کیاجانے والامذہب اسلام ہے۔
ویڈیوساز نے یہ باتیں دومقاصد کے پیش نظربیان کی ہیں : عیسائیوں کی تیزی کے ساتھ دامن اسلام سے وابستگی، اور دنیا کے مختلف خطوںسے مسلمانوں کی ازجانب یوروپ ہجرت وروانگی۔اس ویڈیوکے خاص الخاص تجزیے یہ ہیں  :
٭سردست ملک فرانس کے اندر مسجدوں کی تعداد گرجاگھروں سے کہیں زیادہ ہے…2027 تک فرانس کا ہر پانچواں شخص مسلمان ہوگا…پیش آمدہ اُنتالیس سالوں میں فرانس کے اندر اسلامی جمہوریت کی داغ بیل پڑ جائے گی …
٭گزشتہ تیس سالوں میں برطانیہ کے اندر مسلمانوں کی تعداد بیاسی ہزار سے بڑھ کر پچیس لاکھ تک جاپہنچی ہے … ہر سو مسجد کے منارے ہی نظر آتے ہیں…اندازہ لگائیں کہ اس وقت وہاں ہزار سے زیادہ مسجدیں موجودہیں اور ان میں بیشتر وہ ہیں جوپہلے گرجاگھرتھیں پھر تبدیل کرکے مسجدکی شکل دی گئیں۔
٭ نیدرلینڈ میں جس طرح اسلام بڑھ رہاہے اس سے اندازہ ہوتاہے کہ آج سے پندرہ سال بعد وہاں کی نصف سے زیادہ آبادی مسلمان ہوگی۔
٭ روس کے اندر دوکروڑ تیس لاکھ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور وہ وقت بہت قریب آگیا ہے کہ روس کی چالیس فیصد عسکری قوت اسلام کی چھائونی میں آکر آبادہوجائے گی۔
٭ جرمنی کی حکومت نے اپنے شدیدقلق واضطراب کے ساتھ اس حقیقت کا انکشاف کیاہے کہ2050 آتے آتے ملک جرمنی ‘ اسلامی ریاست میں تبدیل ہوجائے گا۔
٭ پورے یوروپ میں مسلمانوں کی تعداد پانچ کروڑ بیس لاکھ سے متجاوز ہے… پانچ سے دس سال کے اندر اسلام دنیا کا غالب ترین دین بن جائے گا۔
٭ امریکہ کے اندر 1970میں مسلمانوں کی تعداد کوئی ایک لاکھ تھی اور 2008 آتے آتے بڑھ کر نوے لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
٭  کیتھولک گرجاگھروں نے کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کر لیاہے کہ اسلام کی صداقت ان کے شیدائیوں کے دل پر اپناسکہ بٹھائے جارہی ہے۔
ویڈیوکا اختتام نہایت سردمہر ی کے عالم میں اِن الفاط پر ہوتاہے  :
دنیا کا نقشہ بدل رہاہے… اب وقت آگیاہے کہ ہم خواب غفلت سے بیدارہوں… ہوش کے ناخن لیں… اور مسلم اُمہ کو جس طرح بھی بن پڑے اپناہم خیال کریں اور ان کے ایمان وعقیدہ کی دیواریں متزلزل کردیں۔وقت کی یہ بہت بڑی ضرورت ہے اور اب یہ وقت عمل ہے۔You Tubeپر یہ ویڈیو کبھی بھی دیکھا جاسکتاہے۔
قارئین کرام!  اب شاید آپ کو کچھ اندازہ ہوسکے کہ پورا عالم استشراق اور مغربی مفکرین ہاتھ دھوکر اسلام، اہل اسلام ،داعیانِ اسلام اور پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں اور وہ ہر دن ایک نیا فتنہ کیوں جگا رہے ہیں۔ان کی بے تکان جدوجہد یوں ہی تو نہیں۔کچھ توہے جس کی پردہ داری ہے۔وہ اپنی علمی و فکری اور جانی و مالی غرض یہ کہ جملہ اقسام کی توانائیوں سمیت اسلام کے برق رفتاری سے بڑھتے ہوئے قدم کو پابندسلاسل کرنے کی ٹوہ میں مسلسل لگے ہوئے ہیں۔بدنام زمانہ ٹیلی ویژن ساز کمپنیاں صیہونیت کازہرپھیلانے میں کرارا رول اَدا کررہی ہیں۔ عالم مغرب کروڑوں ڈالرز اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے بے بنیاد پروپیگنڈوں کی تشہیرمیں بے دریغ بہائے جارہاہے۔ اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے ساتھ مذاق کیا جارہاہے،اور اس کے پر ِپرواز کو کترنے کی سعی نامحمود ہو رہی ہے، مسلمانوں کے خون سے ہولیاں کھیلی جارہی ہیں،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون بناکر(معاذ اللہ) ان کی عظمت کے ساتھ کھلواڑکیاجارہاہے۔یہ سب کیاہے؟عالم مغرب کی شاطرانہ چال اور اس کے ابلیسی فتنے ہی توہیں۔
دونہایت متحرک وفعال اور سرکردہ عیسائی مشنریزHarry Morinاور Phil Parshall نے حال ہی میں ایک سمینار منعقد کیاتھاجس کے مقاصدیہ تھے کہ عیسائیوں کا تعاون کیسے ہو،فروغِ عیسائیت کی راہ کے روڑوں کو کیسے ہٹایا جائے، اورخصوصاً اُمت مسلمہ کو اُن کے دین سے برگشتہ کرکے اپنے دام ہمرنگ زمیں میں کیسے پھنسایاجائے ۔دورانِ سمینار ایک دلچسپ سوال اُٹھا کہ ’’ خداوند جب آسمان سے مسلمانوں پر نظر کرتاہوگاتواسے کیادیکھنے کوملتاہوگا؟‘‘
(خود جواب دیتے ہیں) ’’دہشت گردی… مذہبی جوشیلاپن… بنیاد پرستی… خود کش حملے… سیاہ پوش خواتین… مقدس جنگیں … عربی عباپوش شیوخ،اور بس۔ یہی وہ الفاظ ہیں جو رہ رہ کے مغربی مفکرین کے ذہنوں میں ڈوبتے اُبھرتے رہتے ہیں۔ اپنے سامعین کی حمایت کرتے ہوئے انھوںنے مزیدکہا  :
دوراندیش تاریخ دانوںکاکہناہے کہ اسلام کے متعلق فکرمندہونے کی چنداں ضرورت نہیں… ان کا کہناہے کہ اسلام بربروںاورسخت گیرقسم کے لوگوں کا مذہب ہے جس نے اپنے سفرکاآغازبھی بیابان سے کیاہے اور وہ مرے گابھی کسی صحرا ہی میں۔ عیسائیت کے بارے میں انھوں نے سامعین کو یہ باورکرایا کہ ایک وقت آئے گا کہ اسلام‘ مغرب کی تہذیب وثقافت اوراس کی شان وشوکت کے آگے گھٹنے ٹیک دے گا۔لیکن سمینار کے اختتام پراسلام کے خلاف ایسی زہرآلودآراء رکھنے والے دانش ور حقیقت کااعتراف یوں کرتے نظر آتے ہیں  :
ہاں ! اب شب جہالت کی سحرطلوع ہوچکی ہے اور ہم پریہ حقیقت آفتاب نیم روز کی طرح عیاں ہوگئی کہ اس وقت اسلام دنیا کے مختلف خطوں میں سب سے تیزپھیلنے والامذہب بن چکاہے اورجس کے ماننے والوں کی تعداد پوری دنیا میں ایک ارب بیس کروڑ سے بھی متجاوز ہے۔اب تک ہم اندھیرے میں تھے، حال ہی میں ہمارامغالطہ دور ہوااوراب ہمیں کہنا پڑرہاہے کہ اسلام ایک ناقابل تسخیرقوت ہے جولوگوں کے دلوں پر اپنی فتح کا جھنڈالہراکے رہے گا۔ اسلام کی خوشبوئوں کو نہ مٹھی میں بند کیاجاسکتاہے اور نہ تلوار سے کاٹا جاسکتاہے۔ عزیزانِ ملت اسلامیہ!  ہمارے دشمن تو بیدار ہوگئے اور انھوںنے عظمت اسلام کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔ مگرہم تاہنوز خواب غفلت میں پڑے ہیں، اور نہ معلوم کب تک پڑے رہیںگے۔ عالمی نقشہ پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا صحیح تعلیم سے بے بہرہ ہونے کے باعث وادیِ جہالت میں ڈوبی ہوئی ہے ، لوگ مغربی ثقافت وتہذیب کے اندھیروں میں گھرے ہوئے ہیں، انھیں خدابیزاری کا سبق دیاجارہاہے، اور الحاد وبے دینی کی فضا پیدا کی جارہی ہے ۔آج دنیا کو صحیح معنوں میں اسلام کی تلاش ہے۔اسلام کے جیالے کہاں ہیں؟اُٹھیں اور اپنادینی فریضہ سرانجام دے کراسلام سے اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کریں۔
اخیر میں ایک تجربے کی بات عرض کردوں کہ آج پوری دنیا میں جو لوگ اسلام کے دامن سے وابستہ ہورہے ہیں،  میں یہ نہیں کہتاکہ  اُس میں ہماری تبلیغ کا ایک ذرا دخل نہیں، تاہم یہ اسلام کی اپنی کشش ہے جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچے جارہی ہے اورچوں کہ اسلام دین فطرت ہے اس لیے جواسے قبول کررہاہے وہ صحیح معنوں میں اپنی فطرت کا تقاضہ پوراکررہاہے۔اب وقت آگیاہے کہ آپ زبان کھولیں، قلم کو حرکت دیں اور دنیا کو بتائیں کہ اسلام امن کا دین ہے، سلامتی کا مذہب ہے، اخلاق ورواداری کا پیامبرہے۔ دہشت گردی، خونخواریت، بربریت، خودکش حملے اورظلم و تعدی کا اسلام سے دور کابھی کوئی واسطہ نہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہواور توفیق خیرسے نوازے۔

Share Article

One thought on “بساط عالم پر اسلام کے تیزی سے بڑھتے قدم

  • August 4, 2010 at 7:43 pm
    Permalink

    Subhanallah
    Aap ne urdu ki taraqi ke liye jo kam kia hai mai is ke liye mubarakbad pash karta hon umeed ki iss hafta roza ko aap roznama banaeege

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *