سدھارتھ رائے
گزشتہ کچھ دہائیوں میں امریکہ کو اسی تیسری دنیا کے ممالک نے چیلنج دینے کا کام کیا۔ ان ممالک کی بڑی آبادی ان کی لعنت نہ رہ کر ان کی طاقت بن گئی اور اسی گلوبلائزیشن نے، جس نے امریکہ کو افق پر پہنچایا تھا، ان ممالک کو وہ دیا، جس کی تلاش مغربی ممالک کو تھی، یعنی مارکیٹ یا بازار۔ ساتھ ہی اقتصادی ترقی کے سبب یہ ملک دنیا کے کارخانے بن کر ابھر گئے اور اپنے بین الاقوامی استحصال کے خلاف کمربستہ ہونے لگے۔ تیسری دنیا کے سب سے پیشوا ممالک کی ایسی ہی تنظیم ہے برکس (برازیل، انڈیا، چائنا، روس اور جنوبی افریقہ) جس کی تیسری چوٹی کانفرنس چین کے سانیہ شہر میں ہوئی۔ برکس اس سے پہلے برک کے نام سے جانی جاتی تھی،جنوبی افریقہ یعنی سائوتھ افریقہ اس بار سے اس کا ممبر بنا ہے۔ برکس ممالک کی اس موبلائزیشن کی اہم وجوہات ہیں امریکہ کی یک طرفہ اور متعصبانہ اقتصادی پالیسیاں، کیونکہ یہ ممالک بھی اب باقی مغربی ممالک کی شرح ترقی کے نزدیک پہنچ گئے ہیں۔
اس بار کی برکس کانفرنس خاص کر جنوبی افریقہ پر مرکوز تھی۔ گزشتہ کئی سالوں سے چین اور ہندوستان افریقی بازار میں بڑھ چڑھ کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ چین اس دوڑ میں کہیں آگے ہے، لیکن ہندوستان بھی اس موضوع کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ ایسا اس لیے ہے، کیونکہ افریقی ممالک غریب ضرور ہیں، لیکن اس لیے نہیں کہ وہاں قدرتی وسائل کا فقدان ہے، بلکہ اس لیے ، کیونکہ وہاں سیاسی عدم استحکام اور غریبی کے سبب ان قدرتی وسائل کے استعمال کا بنیادی ڈھانچہ ہی نہیں ہے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ معدنی وسائل میں افریقہ کا کوئی ثانی ہی نہیں ہے۔ اس بار جنوبی افریقہ کو شامل کرنے پر مغربی دانشوروں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ شاید جنوبی افریقہ برک کا ممبر بننے لائق ہی نہیں ہے۔ایسا اس لیے کہا گیا، کیونکہ اس کی آبادی بہت کم ہے اور اس کا معاشی نظام بھی روس، جو اس تنظیم کاا قتصادی طور پر سب سے کمزور ممبر ہے، کے معاشی نظام کا صرف ایک چوتھائی حصہ ہی ہے۔ لیکن جنوبی افریقہ کا شامل ہونا برک ممالک کے لیے ایک بہت بڑی فتح ہے۔ ایسا اس لیے، کیونکہ یہ پورے افریقی بر اعظم میں سب سے منظم اور اہم معاشی نظام ہے اور افریقی ممالک کا نیا لیڈر بھی۔ اس وجہ سے جنوبی افریقہ کو پورے افریقہ کی چابی کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی سبب چین نے افریقہ میں2005تک 1.6بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ 2005سے 2010کے درمیان چین نے سب سہارا افریقہ میں 43.6بلین ڈالر اور وسط اور شمالی افریقہ میں52.4بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ چین کی یہ دنیا میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔
مغربی ممالک ایسا بھی سوچتے ہیں کہ برکس تنظیم بہت کچھ کرنے کی اہل نہیں ہے۔ ایسا اس لیے، کیونکہ اس کے ممبران ممالک میں باہمی مسابقت اور تلخیاں ہیں۔ یہ ممالک قدرتی دوست نہیں ہیں اور ان میں اقتصادی ہی نہیں، بلکہ ثقافتی اختلافات بھی ہیں۔ ایک چین ہے، جس کے ساتھ بقیہ تمام ممالک رشتہ بنانے میں مصروف ہیں اور ایک دوسرے سے آگے نکلنا چاہتے ہیں۔ چین اور ہندوستان کے درمیان اور چین اور روس کے درمیان سرحدی تنازعہ ہے، جو وقتاً فوقتاً پیچیدگی اختیار کر لیتا ہے۔برازیل دنیا کے دوسرے کنارے پر ہے اور بقیہ تمام ممالک سے زیادہ مغربی ثقافت والا ہے۔ ان ممالک کے درمیان اختلافات اس بات سے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ گزشتہ اجلاس میں، جو برازیل میں ہوا تھا، چین نے ممبران کو اپنی مانیٹری کے بارے میں غور وخوض کرنے سے منع کر دیا تھا۔ جنوبی افریقہ کو بھلے ہی شامل کر لیا گیا ہو، لیکن لیبیا کی بات پر جنوبی افریقہ نے ناٹو کا ساتھ دیتے ہوئے نو فلائی زون کی حمایت کی تھی، جبکہ باقی تمام ممبران ممالک نے اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے جرمنی کے ساتھ ووٹنگ میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔
ویسے یہ تنظیم مغربی ممالک اور امریکہ کے لیے سردرد بن چکی ہے۔ اوبامہ کی گزشتہ تقاریر پر غور کیا جائے تو انھوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ یہ ملک امریکہ کے کاروبار اور روزگار کو کھا رہے ہیں، کیونکہ ان ممالک میں محنتانہ کی شرح کم ہے۔ وہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اب فورڈ ماڈل کے معاشی نظام سے نکل کر گوگل اور اینڈرویڈ ماڈل پر چلا گیا ہے، جہاں بھلے ہی یہ فون ایپلی کیشن سستے ممالک میں بنتے ہیں، لیکن برانڈ امریکی ہی رہتا ہے اور امریکہ کو موٹی آمدنی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ان ممالک کے بڑے اور بڑھتے ہوئے بازار امریکہ کے لیے نت نئے آیام پیش کر رہے ہیں۔ امریکہ میں ان ممالک کی کمپنیوں نے انویسٹ بھی کیا ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ امریکہ میں روزگار چھنے تو صرف وہاں کے فرضی بینکوں کی وجہ سے، جو بحران کا سبب بھی بنے اور شکار بھی۔
امریکی بادشاہت کو چیلنج کرنے میں یہ ممالک پیچھے نہیں رہتے ہیں۔ اصل میں یہ چیلنج امریکہ کو نہیں ہے، بلکہ غلط اور یکطرفہ معاشی نظام کو ہے۔ ان ممالک نے قسم کھائی ہے کہ ڈالر کو بین الاقوامی مانیٹری کے رتبے سے اتارا جائے۔ اسی وجہ سے ان ممالک نے آپس میں تمام اقتصادی مسودوں کو اپنی ہی مانیٹری کے سلسلہ میں پاس کیا ہے۔ساتھ ہی جی-20 کو تعاون اور آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) اور اقوام متحدہ میں عالمی معاشی نظام کی بدلی تصویر کو دیکھتے ہوئے بھاری تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ مغربی ممالک کی بادشاہت کو کم کیا جائے اور سبھی کو مساوی درجہ حاصل ہو۔ تبدیلی کی لہر نکل پڑی ہے اور اب شاید امریکی کنٹرول اور یک قطبی دنیاجلد ہی تاریخ کے اوراق میں چلے جائیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here