تبصرۂ کتب

Share Article

شاہد نعیم
سرزمین امروہہ نے ایسے ایسے عظیم سپوت پیدا کئے، جنہوںنے بین الاقوامی سطح پر اپنے وطن کا نام روشن کیا۔ رئیس امروہوی، جون ایلیا، کمال امروہوی اور عظیم امروہوی جیسے عظیم شاعر، ادیب، نقاد اور فن کار امروہہ کی سرزمین نے ہی پیدا کیے۔ سلیم امروہوی بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں، وہ بھی اسی باکمال سرزمین امروہہ کے سپوت ہیں اور قلیل مدت میں ہی ملک اور بیرون ملک کے مشاعروں میں کامیابی کے ساتھ اپنی سرزمین کا نام روشن کر دیا ہے۔ سلیم امروہوی کے تعارف کے لیے بس اتنا ہی بتانا کافی ہے کہ وہ عظیم امروہوی کے بھائی ہیں۔ سلیم صاحب  کے بارے میں احمد فراز صاحب(پاکستان) نے لکھا کہ ان کی شاعری ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جب کہ کیف بھوپالی صاحب نے انہیں ’’روشن دیا‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔
سلیم امروہوی کا پہلا شعری مجموعہ ’’سرمایۂ نجات‘‘ جو کہ نعت، حمد اور منقبت پر مشتمل تھا۔ بہت پہلے منظر عام پر آچکا ہے اور اب یہ دوسرا شعری مجموعہ ’’گہوارۂ خوشبو‘‘ منظر عام پر آیا ہے۔ جسے انہوں نے ڈاکٹر عظیم امروہوی (دہلی) اور جناب احمد فراز(پاکستان) کے نام منسوب کیا ہے۔ ادبی روایات کا احترام کرتے ہوئے سلیم صاحب نے اس شعری مجموعے میں حمد و نعت کو اولیت دی ہے، اس کے بعد غزلیں، گیت، نظمیں اور قطعات شامل اشاعت کئے ہیں۔
سلیم امروہوی نے تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے اور فنی اعتبار سے ہر صنف سخن کے ساتھ پورا انصاف کیا ہے۔ اپنے مذہب اور اسلاف کے تئیں عقیدت و محبت ان کے کلام میں پنہاں ہے۔ سلیم صاحب روایت کی پاسداری کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ موضوعات کے اعتبار سے انہوں نے حسن و عشق اور ہجر و وصل کے لمحات خوب تر محسوس کیے ہیں، لیکن ان کی شاعری خالصتاً محبوب کی زلفوں کی اسیر نہیں، بلکہ ان کی نگاہیں اپنے اسلاف کی خستہ حویلی بھی دیکھتی ہیں اور مردم خیز شہر میں اپنی پہچان بنانے کی بھی خواہش مند ہیں۔ اردو زبان کی شیرینی اور اس کی زبوں حالی بھی ان کے یہاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ارباب سیاست کے ہتھکنڈوں کو بھی ان کی شاعری اجاگر کر رہی ہے۔ غرض یہ کہ سلیم امروہوی کا کلام صرف محبوب کی کج ادائیوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں زمانے کے پورے حالات شعری لباس میں نظر آتے ہیں۔ اپنی بات کو بہت آسان اور عام و فہم زبان میں کہنے کا ہنر انہیں بخوبی آتا ہے۔ ان کے احساسات و محسوسات اور اصطلاحات کا اندازہ درج ذیل اشعار سے لگاسکتے ہیں:
عزت نہیں کروگے اگر والدین کی
اولاد سے پھر اپنی ہمیشہ ڈروگے تم
رہے خیال کہ ہم صرف خاکی بندے ہیں
پسند کرتا نہیں ہے خدا غرور اتنا
پیار کرنے لگے گا دشمن بھی
آپ اردو تو بول کر دیکھیں
جب بھی مشکل میں خود کو پاتا ہوں
ہے کوئی جو مجھے  بچاتا ہے
حالات بدل جائیں یہ امکان نہیں ہے
جب تک امیر شہر سے پہچان نہیں ہے
کرسی کو بچانے کی فقط فکر ہے اس کو
جنتا کی طرف اس کا مگر دھیان نہیں ہے
نفرتوں کا جلتا ہو جن میں تیل اے یارو
ہم کو ان چراغوں کی روشنی سے خطرہ ہے
اب آسماں پر مری نگاہوں کو ہے تلاش
پھر امن و آشتی کا کبوتر دکھائی دے
مندرجہ بالا کلام سے سلیم امروہوی صاحب کی فکر کا بآسانی اندازہ ہوجاتا ہے۔ مجھے امید ہی نہیں پورا یقین ہے کہ سلیم امروہوی کا مرصع کلام سے مزین ’’گہوارۂ خوشبو‘‘ شائقین اردو کے دل و دماغ کو اپنی خوشبو سے معطر کرے گا اور ان کے ادبی ذوق کی بھر پور تسکین کرے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *