تبصرۂ کتب

Share Article

شاہد نعیم

’’پروفیسر محمد حسن کی ڈراما نگاری‘‘ دراصل خالدہ خاتون کا تحقیقی مقالہ ہے، جو کتابی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اس تحقیقی مقالے پر خالدہ خاتون صاحبہ نے پٹنہ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔
ڈراما عالمی ادب کی قدیم ترین صنف ہے اور ادب کی تمام اصناف میں ڈرامے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور یہ صنف غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ خالدہ خاتون نے تحقیق کے لیے پروفیسر محمد حسن کی ڈراما نگاری کا ہی انتخاب کیوں کیا، اس بارے میں وہ رقم طراز ہیں:
’’مجھے طالب علمی کے زمانے میں پروفیسر محمد حسن کا مشہور و معروف ڈراما ’’ضحاک‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا اور ان ہی دنوں اردو کے مشہور و مقبول نقاد پروفیسر قمر اعظم ہاشمی، استاد شعبہ اردو بہار یونیورسٹی سے بھی شرف نیاز حاصل کرنے کا موقع میسر آیا۔ انہوں نے مجھ سے تحقیق، صنف ڈراما اور پروفیسر محمد حسن سے متعلق کچھ کارآمد باتیں کہیں۔ ان کے سمجھانے کے دلکش انداز سے میرے دل میں صنف ڈراما سے رغبت اور دلچسپی پیدا ہونے لگی۔ تب سے میرے دل میں یہ خواہش گھر کر گئی کہ میں جب بھی تحقیقی کام کروںگی تو پروفیسر محمد حسن کی ڈراما نگاری پر کام کروںگی۔ اسے میری خوش نصیبی کہیے کہ میرے تحقیقی مقالے ’’ڈاکٹر محمد حسن کی ڈراما نگاری‘‘ کو پٹنہ یونیورسٹی تحقیقی کونسل نے تحقیق کے لیے منظور کرلیا۔ تحقیق کے کانٹوں بھرے راستے پر خالدہ خاتون کے کئی بار پائے ذوق لہولہان ہوئے، لیکن ان کے حوصلوںنے دم نہیں توڑا، چونکہ انہوں نے ہر حال میں تحقیق کی منزل تک  پہنچنے کا عزم مصمم کرلیا تھا، لہٰذا تحقیق کی تمام مصائب کو جھیلتے ہوئے وہ آگے بڑھتی ہی گئیں جس کے نتیجے میں  منزل نے ان کے قدم چومے۔ انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا گیا۔
عام طور پر نصابی مقالے تحقیق کے معیار پر کھرے نہیں اترتے، لیکن ڈاکٹر خالدہ خاتون کے مقالے ’’پروفیسر محمد حسن کی ڈراما نگاری‘‘ کا معاملہ مختلف ہے۔ انہوں نے پروفیسر محمد حسن کی ڈراما نگاری پر تحقیق کرتے ہوئے ان کے ڈراموں کو تنقید کی کسوٹی پر پرکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈرامے کے فن اور اس کے ارتقائی سفر کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ موضوع سے متعلق امور پر بھی بھرپور روشنی ڈالی ہے، حالانکہ تحقیق و تنقید کو ایک ساتھ لے کر آگے بڑھنا بڑا مشکل کام ہے، لیکن قدرت نے انہیں مشکل کو سہل بنانے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ انہوں نے پروفیسر محمد حسن کے مختلف ڈراموں کے تجزیاتی جائزے کے ساتھ ساتھ اردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں پروفیسر محمد حسن کے مرتبے کی دریافت اور نشاندہی بھی خوش اسلوبی کے ساتھ کی ہے۔
’’پروفیسر محمد حسن کی ڈراما نگاری‘‘ پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں پروفیسر محمد حسن صاحب کی سوانح اور شخصیت، ان کی حیات و ادبی خدمات کا تفصیل کے ساتھ تعارف کرایا گیا ہے۔ دوسرے باب میں ڈرامے کے فن اور ارتقا سے روشناس کرایا ہے۔ باب سوم محمد حسن کی ڈراما نگاری پر محیط ہے۔ باب چہارم میں اردو ڈراما نگاری میں محمد حسن کا مقام بتایا گیا ہے، جب کہ باب پنجم میں محمد حسن کے ڈرامے کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
تحقیقی مقالوں کا مزاج عمومی کتابوں سے الگ ہوتا ہے۔ عام طور پر اس کے ابواب مربوط نہیں ہوتے، لیکن ڈاکٹر خالدہ خاتون کے مختلف ابواب ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ یقینی طور پر کتابی شکل میں تحقیقی مقالہ ’’پروفیسر محمد حسن کی ڈراما نگاری‘‘ ڈاکٹر خالدہ خاتون کی نہایت لگن محنت اور جانفشانی کا بہترین ثمرہ ہے۔ ان کی یہ تحقیق قابل ستائش ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اردو ڈراما کے شائقین کے لیے ’’پروفیسر محمد حسن کی ڈراما نگاری‘‘ ایک بہترین علمی کاوش ثابت ہوگی اور یقینی طور پر اس تصنیف کی پذیرائی ہوگی۔

نام کتاب    :    پروفیسر محمد حسن کی ڈراما نگاری
مولفہ    :    ڈاکٹر خالدہ خاتون
سن اشاعت:    2010
صفحات    :    160
قیمت    :    300روپے
مبصر    :    شاہد نعیم

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *