نام کتاب : گلہائے سخن بر زمین غالب
مصنف : متین امروہوی
قیمت : 250روپے
پبلشر : اسکائی لائن پبلی کیشنز (پرائیویٹ ) لمیٹڈ نئی دہلی
تبصرہ نگار : شاہد نعیم

جیسا کہ کتاب کے عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ متین امروہوی کا یہ مجموعہ کلام ان کے مرزا غالب کی زمین پر کہے ہوئے کلام پر مشتمل ہے۔ متین امروہوی کومرزا غالب سے اتنی عقیدت ومحبت ہے یا یوں کہا جائے کہ انھیںمرزاغالب کی شاعری پر اتنا عبور حاصل ہے کہ انھوں نے غالب کی غزلوں کی زمین پر غزلیں کہہ کرایک پورا مجموعہ ہی ترتیب کر ڈالا، اس کا اندازہ’گلہائیسخنبر زمین غالب‘کا مطالعہ کرنے کے بعدآسانی کے ساتھ ہو جاتا ہے۔
متین امروہوی کی ابتدائی تعلیم امروہہ میں ہوئی ۔اس کے بعد دہلی چلے آئے ،یہاں مزیدتعلیم حاصل کرکے سرکاری ملازم ہوگئے ،لیکن اب اپنا کاروبار کر تے ہیں۔ شعروشاعری کا شوق بچپن سے تھا۔ آپ کا کلام اخبارو رسائل میں شائع ہوتا ہی رہتا ہے ، حالات حاضرہ پر ان کا قطعہ روز انہ اخبار میں پڑھنے کو ملتاہے۔ مرزاغالب کی زمین میں غزل کہنے کی تحریک انھیں کیسے ملی، اس بارے میں متین امروہوی فرماتے ہیں :
حضرات !غالب کی زمین میں کچھ کہنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، لیکن مجھے یہ تحریک و ترغیب غالب کے ہی ایک شعر سے ملی ہے۔ غالب کا شعرہے :
غالب مرے کلام میںکیوں کر مزا نہ ہو
پیتا ہوں دھوکے خسرو شیریں سخن کے پاؤں
یہ بات غالب نے چاہے بہادر شاہ ظفر کے لیے کہی ہو ،یا حضرت امیر خسروؒ کے لیے،یہ وہ جانیں۔ میں اپنی عقیدت کے اعتبار سے اسے حضرت امیر خسروؒکے لیے ہی سمجھتا ہوں کیونکہ میرے آشیانے کے تنکے بھی حضرت امیر خسروؒکے پیروں پر ہی رکھے ہوئے ہیں۔ میں جس مکان میں رہتاہوں اس کا حدوداربعہ حضرت امیر خسروؒکی آرام گاہ سے ملتاہے، اس لیے مجھے حضرت امیر خسروؒکے پاؤں دھوکے پینے اور دبانے کا شرف حاصل ہے، اور یہ’ گلہائے سخن بر زمین غالب‘ اسی کا ثمرہ ہے۔
کتاب کے مقدمے میں خواجہ حسن ثانی نظامی فرماتے ہیں:
گستاخی معاف !یہ بات اب ایک واہمے کی شکل اختیار کر گئی ہے کہ بڑے شعراء کی زمینوں میں شعرکہنا گویا سورج کو چراغ دکھاناہی نہیں ،کسی قدر گستاخی بھی ہے۔ متین صاحب نے جس جگہ سے اپنا ادبی اور شعری سفر شرع کیا تھا اگر آدمی صرف اسی کو دیکھتا رہے تو اس بات کو پوری طرح مانا جا سکتا ہے، مگر متین صاحب نے اس میدان میں جس طرح ترقی کی ہے اسکی نظیر شاید اردو شعر و ادب کی دنیا میں مشکل سے ہی پائی جائے۔
متین امروہوی کے کلام کے بارے میں مخمور سعیدی لکھتے ہیں :
متین صاحب کی یہ غزلیں پڑھ کر اندازہ ہوتاہے کہ انھوں نے غالب کے کلام کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور حیات و کائنات کی طرف غالب کے رویے کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔متین صاحب کے کئی اشعار ہیں جن میں مطالعہ غالب کا فیضان صاف دیکھا جا سکتا ہے لیکن متین صاحب نے بات اپنے ہی لہجے میں کہی ہے اور اپنے ہی مشاہدا ت و محسوسات کو اظہار کا پیرایہ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک بڑا شاعر اپنے رنگ وآہنگ کے تمام امکانات کو خودہی برت لیتا ہے اور اس کی آواز میں آواز ملانے کی ہر کوشش ناکامی پر منتج ہوتی ہے ۔ متین صاحب نے غالب کی زمینوں میں غزلیں کہیں مگر ان کی آواز میںآواز ملانے کی کوشش نہیں کی، یہی ان کی ان غزلوں کی سند جواز ہے۔
متین امروہوی بنیادی طور پر ایک پر گو اور قادر الکلام شاعر ہیں ۔اخبارات ورسائل میں ان کا کلام اکثر شائع ہوتا ہے ، مشاعروں میں بھی انھیں قدر و منزلت حاصل ہے ۔’گلہائے سخن بر زمین غالب‘میںان کی غزلیں اپنی چھاپ چھوڑتی ہیں ۔ان کا انداز بیاں ،احساسات ومحسوسات اثردار ہیں۔’گلہائے سخن بر زمین غالب ‘میں متین امروہوی نے انتساب، تعارف ،تاثرات اور یادگار مشاعروں کی تصاویر کے بعدمجموعہ کلام کا آغاز حمد باری تعالیٰ اور نعت پاک سے کیا ہے۔ اس کے بعد غالب کی غزلوںکو سامنے رکھ کر ان کی زمین میںاپنی غزلیات کہی ہیں، جو ندرت فکر اور خوبی اظہار کے سبب اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ امید ہے کہ متین امرہوی کی غالب کی زمین میں کی گئی کاشت خوب پھلے پھولے گی اور اردو والوں میں اس کی خوب پذیرائی ہو گی ۔ نمونہ کلام پیش خدمت ہے۔
فرش کاغذپر خوشی سے رقص کرتا ہے قلم
معجزہ یہ بھی ہے اس کی شوخی تحریر کا
………
کر چکا جب وہ مرا ہاتھ قلم
تب اسے میرا ہنر یاد آیا
………
دنیا سے بچھڑنے کا ہمیںغم نہیںہوگا
اک اس کے علاوہ بھی ہمارا ہے جہاں اور

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here