عبدالرحمن چغتائی کی تصنیف’ مرقع چغتائی‘( دیوان غالب)کی رسم رونمائی 

Share Article
book-release
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عبدالرحمن چغتائی کی اہم ترین تصنیف مرقع چغتائی کی رسم رونمائی کے موقع پرجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر،سید شاہد مہدی نے اپنی خصوصی تقریر میں کہا کہ اشعار پر تصاویر بنانے کا رواج اردو میں حمزہ نامہ سے شروع ہوتا ہے۔ فن مصوری میں ہندوستانی مصوروں نے اپنے فن سے ہمیشہ شیرینی پیدا کی۔عبدالرحمن چغتائی کی تربیت نقاشی سے شروع ہوئی تھی اور انہوں نے یہ نقاشی مسجدوں کے نقش و نگار سے سیکھی۔چغتائی نے اسلامی مصوری کے ساتھ کرشن اور رادھا کی بھی تصاویر بنائیں۔ فنکار کاکوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ وہ اپنے فن کو مذہبی دائروں کا پابند بناتا ہے۔اس کی فکر میں تمام مذاہب کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں اور یہ تمام باتیں عبدالرحمن چغتائی کے فن میں ہمیں دکھائی دیتی ہیں۔ہمیں کسی کے بھی فن کوسرحدوں میں محدود نہیں کرنا چاہئے۔ عبدالرحمن چغتائی کے بارے میں یہ کہناکہ وہ مسلم فنکار تھے اور پاکستانی تھے یہ ان کے فن کے ساتھ زیادتی ہوگی۔میں غالب انسٹی ٹیو ٹ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے اس عظیم فنکارکے وہ تمام مرقعے شائع کردیے جن کا تعلق کلامِ غالب سے ہے۔
اس موقع پر پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ عبدالرحمن چغتائی کو عالمی سطح پر فن مصوری میں شہرت ملی، ہمیں یہ کہتے ہوئے بھی افسوس ہورہاہے کہ جتنی شہرت آپ کو ملنی چاہئے وہ نہیں ملی۔ہم میں سے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ عبدالرحمن چغتائی ایک بڑے مصور کے ساتھ ساتھ افسانہ نگار بھی تھے۔ فنونِ لطیفہ میں صرف چغتائی ہی نے نہیں بلکہ کئی مسلمانوں نے بہت اہم خدمات انجام دی ہیں۔ لیکن ہم نے ان کے فنون کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔قرۃ العین حیدر بھی عبدالرحمن چغتائی کی بہت قدردان تھیں اور اکثر اور بیشتر اپنی تحریروں میں اور گفتگو میں ان کے فن کی خوبیوں کااظہار کرتی تھیں۔چغتائی نے علامہ اقبال کے اشعار پر بھی کئی تصاویر بنائی ہیں جوپاکستان میں کلام اقبال کے ساتھ شائع ہوتی رہی ہیں ۔ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے اس اہم کام کی تعریف کرتا ہوں اور مبارک باد پیش کرتاہوں۔
جلسہ کی صدارت فرماتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ فائن آرٹس کے سابق ڈین پروفیسر سیدغضنفر حسین زیدی نے کہا کہ مصوری کی دنیا میں عبدالرحمن چغتائی کی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔فن مصوری میں چغتائی نے بڑا اہم کام کیا ہے۔اس فن میں چغتائی کی لائنس بہت مستحکم ہوتی تھیں، مشرق میں سارا کام ٹو ڈائمنشن میں ہواہے اور اس میدان میں چغتائی کے بڑے کارنامے ہیں ۔ چغتائی نے رام، سیتا،گرونانک اور شیو پر بھی بہت اچھا کام کیاہے۔ موجودہ دور میں ہمیں فن مصوری کی روایتوں کوآگے بڑھانا چاہئے تاکہ نئی نسل اس فن سے واقف ہوسکے اور اس میں دلچسپی لے سکے۔اس سے اس فن کی بازیافت بھی ہوگی اور موجودہ نسل اس فن کے کلاسکس سے بھی واقف ہوگی۔غالب انسٹی ٹیوٹ نے اس مرقع کو جس خوبصورتی اور شاندار، طباعت،ٹائٹل اور گٹ اپ کے ساتھ شائع کیا ہے اس کی مثال اردو میں بہت کم ملتی ہے۔میں مبارک باد دیتا ہوں کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے اس کارنامے کو انجام دینے میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کارلایا ہے ۔ غالب انسٹی کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا کہ غالب ایک عظیم شاعر تھے اورپوری دنیا میں برصغیر کی شعری روایت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ہم جتنی بار غالب کو دیکھیں اورسوچیں ہمیں محسوس ہوگاکہ کلامِ غالب میں کچھ نئی باتیں ہمارے سامنے آرہی ہیں۔ہر دور میں غالب کولوگوں نے نئے انداز سے سمجھنے کی کوشش کی ہے اور آج بھی ہم ہر طرح سے غالب کی تخلیقات کو اپنے تجربوں میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ اس کتاب کو پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کر رہاہے۔ ایک تخلیق کار جب دوسرے تخلیق کار کو دیکھتاہے تو کیاسوچتا ہے اس کتاب میں آپ اس کو بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جہاں ایک طرف غالب کے اشعار ہیں تو دوسری جانب چغتائی کی مصوری کے شاہ کار بھی موجود ہیں ۔مجھے پوری امید ہے کہ مرقع چغتائی دیوان غالب کا اردو دنیا میں شاندار استقبال کیا جائے گا ۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدر نے اپنی افتتاحی گفتگو میں کہا کہ عبدالرحمن چغتائی دنیا کے ممتاز مصوروں میں شمار ہوتے ہیں۔چغتائی کی شہرت میں بین الاقوامی سطح پر اس وقت اضافہ ہوا جب انہوں نے اپنی فن مصوری سے کلام غالب کو سمجھنے کی کوشش کی اور کلامِ غالب پر بنائی ہوئی اپنی تصاویر کو دیوان غالب کی شکل میں دنیائے ادب کے سامنے پیش کیا۔مرقع چغتائی کو پاکستان میں متعدد بار شائع کیاجاچکا ہے۔ اقبال، فیض اور متعدد دانش وروں نے چغتائی کے فن پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ہندوستان میں پہلی بار اس کتاب کی اشاعت غالب انسٹی ٹیوٹ نے کی ہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ نے اس کی اشاعت میں مشرق وسطیٰ اورایرانی طرزِ طباعت کی خوبصورتی کا بھرپور خیال رکھا ہے۔ اس خصوصی تقریب میں اساتذہ وطلبہ اور دیگرشعبہ ہائے زندگی کے افراد کے علاوہ پروفیسر خالد محمود، پروفیسر شریف حسین قاسمی،ڈاکٹر علی جاوید،ایڈوکیٹ اے رحمان،ڈاکٹر ابوبکر عباد، ڈاکٹر عمیر منظر، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر شاذیہ عمیر،جاویدرحمانی،ڈاکٹر ادریس احمد،یاسمین فاطمہ،محمد عمر،عبدالتوفیق،ڈاکٹر سہیل انور کے علاوہ بڑی تعداد میں اہل علم موجود تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *