ہندی فلموں میں رضامندی سے سیکس دکھانا آسان نہیں، صرف آبروریزی اور استحصال دکھایا جاتا ہے: زویا اختر

Share Article

zoya-akhtar

ممبئی :بالی ووڈ کی مشہور فلم ڈائریکٹر زویا اختر اپنی بے باک سوچ اور زبردست فلموں کی وجہ سے فلم انڈسٹری میں ایک الگ شناخت بناچکی ہیں۔ ان کی فلموں سے ہر شخص خود کو جوڑ کر دیکھتا ہے۔ وہ اپنی فلموں میں خواتین کی مضبوط شبیہ پیش کرنے کیلئے جانی جاتی ہیں۔ وہیں حال ہی میں انہوں نے بالی ووڈ فلموں میں سیکس اور خواتین کے جسمانی استحصال کو لے کر بات کی ہے۔

یہ باتیں زویا اختر نے وومین اشیپنگ دی نیریٹو ان میڈیا اینڈ انٹرٹینمنٹ کے موضوع پر ایک سیشن کے دوران کہیں۔ انہوں نے یہاں کہا :’ہندی فلموں کی بات کریں تو یہاں سیکس کو دکھانا آسان نہیں ہوتا ہے ، کافی پریشانیاں آتی رہی ہیں، ایسی کئی فلمیں مل جائیں گی جہاں آپسی رضامندی سے قائم جنسی تعلقات کی بجائے جسمانی استحصال، آبروریزی اور استحصال پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، ایسے میں کئی مرتبہ ناظرین پر عجیب اثر ہوتا ہے۔‘

زویا نے کہا :’جب چھوٹی عمر میں لوگ ایسے مواد دیکھتے ہیں ، تو اس کا ان پر اثر بعد میں نظر آتا ہے۔‘ انہوں نے کہا :’میں جب بڑی ہورہی تھی تب یہ محسوس کیا کہ میں نے ہندی فلموں میں صرف جنسی استحصال دیکھا ہے ، یہ بات بہت عجیب تھی، کیونکہ ہمیں فلموں میں آبروریزی کے مناظر اور استحصال دیکھنے کو دیا جاتا تھا ، لیکن ہمیں رضامندی سے قائم تعلقات سے وابستہ سین دیکھنے نہیں دئے جاتے تھے ۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ فلموں میں اس طرح کے سین سے لوگوں کے دماغ پر بہت اثر پڑتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسا ہونا لازمی ہے ، کیونکہ لوگوں نے پردے پر آرام سے چھونا اور رضامندی سے بوسہ لینا نہیں دیکھا ہوتا ہے۔ آپ پردے پر دکھا رہے ہیں کہ خواتین تو ہمیشہ نا ہی کہیں گی ، اس لئے بس ان پر ٹوٹ پڑو۔ جب آپ بچے ہوتے ہیں ، آپ اس پر توجہ نہیں دیتے ہیں ، لیکن بڑے ہونے پر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ عجیب ہے اور اس کو بدلنا چاہئے۔

فلم میکر زویا اختر نے آخر میں کہا کہ میں آج جو شخصیت بن پائی ہوں ، وہ میری زندگی میں موجود مضبوط خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کی وجہ سے بھی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *