بالی ووڈ: کچھ اس طرح رلا گی2012

Share Article

سال 2012 رخصت ہو چکا ہے اور ہم نئے سال، یعنی 2013 میں داخل ہو چکے ہیں۔ سال 2012 گزشتہ کئی سالوں کی طرح ہمارے لیے تھوڑی خوشی تھوڑا غم والا رہا، لیکن بالی ووڈ کے لیے تو بالکل اچھا نہیں رہا۔ ہاں، کچھ ہٹ فلمیں ضرور اس نے بالی ووڈ کو دی ہیں۔ بالی ووڈ آج ایک نئی کروٹ لے رہا ہے اور اس کا پس منظر بالکل بدلتا جا رہا ہے، خواہ وہ مصنفوں کا شعبہ ہو، نغمہ نگاری کا شعبہ ہو، موسیقی کا شعبہ ہو یا پھر اداکاری کا۔ آج فلموں کی کہانیوں بدل چکی ہیں، مکالموں کا انداز بدل چکا ہے، نغموں کے بول بدل چکے ہیں، موسیقی کی طرز بدل چکی ہے۔ ہر شعبہ نے آج ایک نیا روپ دھارن کر لیا ہے اور اس کے ساتھ ہی بالی ووڈ ایک الگ ہی شکل وصورت میں نظر آتا ہے، جہاں نئی نوجوان نسل قسمت آزمائی کر رہی ہے، نئی توانائی جو فلموں میں نئی جان ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آج بالی ووڈ میں اداکاری کے لیے لوگوں کے انتخاب کے ضابطوں کا معیار پوری طرح بدل چکا ہے۔ کس کو کس طرح کی اداکاری کے زمرے میں رکھنا ہے، کس عمر کے لوگوں کو کیا رول دینا ہے، یہ سب باتیں آج زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پا رہی ہیں۔ آج ہندی سنیما میں صرف ایک ہی چیز کا بول بالا ہے اور وہ ہے گلیمر۔
سال 2012 میں ہندی فلم انڈسٹری کے لیجینڈری اداکاروں کا جانا بھی ایک افسوسناک پہلو ہے۔ سال 2012 نے ہم سے ہمارے ان چہیتے اداکاروں کو چھین لیا، جنہیں ہم دل سے چاہتے تھے، دل سے پسند کرتے تھے، ان کا احترام کرتے تھے، جن کے لیے آج بھی ہمارے دلوں میں ایک گوشہ موجود ہے۔ رفتہ رفتہ ہم بالی ووڈ کے ان چہیتے اورہر دل عزیز لوگوں کو کھوتے جا رہے ہیں، جنھوں نے ہندی فلم انڈسٹری کو نئی بلندیاں عطا کیں اور ایک نئی اصطلاح سے نوازا۔ سال 2012 نے بالی ووڈ کو اس کے کئی معماروں سے محروم کر دیا۔ آیئے نظر ڈالتے ہیں ان ہستیوں پر، جو 2012 میں ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئیں۔
راج کنور: ایک تجربہ کار ہدایت کار، اسکرپٹ رائٹر اور فلمساز، جنھوں نے بالی ووڈ میں شاہ رخ خان اور پرینکا چوپڑا جیسے اداکاروں کو اپنی جگہ بنانے میں ایک ستون کا کام کیا۔ فلم ’دیوانہ‘ سے انھوں نے شاہ رخ کو پہچان دلائی تو وہیں ’انداز‘ سے انھوں نے پرینکا چوپڑا کو راتوں رات مشہور بنا دیا۔ کنور صاحب نے جیت، جدائی، لاڈلا اور بادل جیسی ہٹ فلموں کی ہدایت کاری کی۔ 13 فروری، 2012 کو سنگا پور میں کڈنی ٹرانس پلانٹ کے دوران وہ اس دنیا کو خیر آباد کہہ گئے۔
جوئے مکھرجی:’بنگالی کینڈی‘ کے نام سے مشہور جوئے مکھرجی 1960 میں آئی فلم ’لو اِن ٹوکیو‘ اور ’لو اِن شملہ‘ سے مشہور ہوئے اور اس کے بعد ’پھر وہی دل لایا ہوں‘ سے انھوں نے خود کو اپنے وقت کے بہترین اداکار کے طور پر قائم کیا۔ 9 مارچ، 2012 کو تھیلی سیمیا ہونے کی وجہ سے انھوں نے ممبئی میں اپنی آخری سانس لی۔ وہ 73 سال کے تھے۔
اچالا سچدیو : پردۂ سیمیں پر ماں اور دادی جیسے کرداروں میں نئی جان ڈالنے والی بزرگ اداکارہ اچالا سچدیو بھی تقریباً 6 مہینے کی علالت کے بعد 30 اپریل، 2012 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔ بہت سے لوگ شاید اچالا سچدیو سے واقف نہ ہوں، لیکن جیسے ہی آپ 1965 میں آئی فلم ’’ وقت‘‘ کا گانا ’اے میری زہرہ جبیں‘ سنیں گے آپ کو فوراً اچالا سچدیو یاد آجائیں گی۔ آخری بار اچالا سچدیو فلم ’کبھی خوشی کبھی غم میں‘ امیتابھ کی والدہ کے کردار میں نظر آئی تھیں اور یہی ان کی آخری فلم تھی۔
ترونی سچدیو: محض 14 سال کی عمر میں ہی لوگوں کی چہیتی ترونی سچدیو نے اپنی ایک منفرد پہچان بنائی تھی۔ رسنا گرل کے نام سے مشہور اس چائلڈ آرٹسٹ نے 14 مئی، 2012 کو ایک جہاز حادثہ میں اپنی جان گنوا دی۔ ترونی نے فلم ’’پا‘‘ میں امیتابھ بچن کی کلاس میٹ کا کردار بھی ادا کیا ہے۔
دارا سنگھ :دنیا میں اپنی پہلوانی کا لوہا منوانے والے رستم ہند، یعنی دارا سنگھ کے لیے 2012 آخری سال ثابت ہوا۔ پہلوانی کا اپنا کریئر پورا کرنے کے بعد انھوں نے فلموں میں قدم رکھا اور فلموں میں بھی اپنی کڑکدار آواز اور قد و قامت کی بدولت ایک منفرد شناخت حاصل کی۔ انھوں نے کئی دہائیوں تک ہندی فلموں میں سبھی طرح کے رول ادا کیے اور تقریباً 140 فلموں میں کام کیا۔ 2007 میں آئی ’جب وی میٹ‘ ان کی آخری فلم تھی۔ 84 سالہ دارا سنگھ 12 جولائی کو مختصر علالت کے بعد چل بسے۔
راجیش کھنہ: 18 جولائی، 2012 کی دوپہر کو ہندوستان کے پہلے سپر اسٹار راجیش کھنہ نے ہم کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا۔ اپنے دور میں دو شیزائوں کے لیے رومانس کی علامت کہے جانے والے راجیش کھنہ طویل عرصے سے بیمار چل رہے تھے اور لیور انفیکشن کا شکار تھے۔ ’کا کا‘ کے نام سے مشہور 69 سالہ راجیش کھنہ نے جب اپنی آخری سانس لی، تو ان کے آخر الفاظ تھے ’’پیک اَپ‘‘۔ 80-90 کی دہائی کے اداکار ہونے کے باوجود ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہ آئی،جس کا ایک نادر نمونہ ان کی آخری رسومات میں بھی دیکھنے کو ملا، جہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے پہنچ کر انہیں آخری سلام کہا ۔
اشوک مہتا: ہندی فلم انڈسٹری کے بہترین سنیمیٹو گرافر مانے جانے والے اشوک مہتا بالی ووڈ کی معزز ہستیوں میں شمار ہوتے تھے۔ بینڈٹ کوین، چورنگی لیکن، پروما اور اتسو جیسی فلموں کواپنی سنیمیٹو گرافی سے آراستہ کرنے والے اشوک مہتا 15 اگست کو ایڈوانس لنگ کینسر کے سبب انتقال کر گئے۔ وہ 65 سال کے تھے۔
اے کے ہنگل :26 اگست، 2012 کو بالی ووڈ کے بزرگ اداکار اوتار کشن ہنگل کے لیے 2012 ان کی زندگی کا آخری سال رہا۔ 96 سال کی عمر میں بھی ہنگل صاحب کی اداکاری کے تئیں محبت میں کوئی کمی نہ آئی تھی اور اپنی موت سے کچھ دن قبل تک وہ اداکاری میں سرگرم تھے۔ اداکاری اور فلموں سے لگائو کا یہی جذبہ ہنگل صاحب کو عظیم اور ہر دل عزیز بناتا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ہنگل صاحب کا انتقال راجیش کھنہ کے انتقال سے کچھ ہی دن بعد ہوا تھا، لیکن ایک طرف جہاں راجیش کھنہ کی آخری رسومات میں پورا بالی ووڈ امڈ پڑا تھا، وہیں ہنگل صاحب کی آخری رسومات میں بالی ووڈ کے ڈرامہ آرٹسٹوں نے اپنی موجودگی درج کرائی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک عظیم فنکار ہونے کے باوجود ہنگل صاحب کو اپنی بیماری کے دنوں میں علاج کے لیے مالی تنگی سے دو چار ہونا پڑا۔ ان کی مدد کے لیے کچھ ہاتھ تو اٹھے، لیکن وہ صرف زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے۔
یش چوپڑا: 21 اکتوبر، 2012 کو ہندی فلموں کے کنگ آف رومانس کہے جانے والے ڈائریکٹر یش چوپڑا ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئے۔ وہ 80 سال کے تھے اور اچانک ڈینگو ہو جانے کے سبب انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور وہیں انھوں نے اپنی آخری سانس لی۔ اپنی فلموں کے ذریعہ ہر خاص و عام کے دل میں رومانس کی شمع روشن کرنے والے یش صاحب نے داغ، چاندنی، کبھی کبھی، لمحے، دھول کے پھول اور وقت جیسی فلموں میں خوب جگہ دی اور کنگ آف رومانس کہے جانے لگے۔ یش صاحب ان ہدایت کاروں میں سے تھے، جو کئی دہائیوں سے نوجوان نسل کو اپنی فلموں سے محظوظ کر رہے تھے۔ شاید ہی اب کوئی کنگ آف رومانس ہمیں دیکھنے کو ملے۔
جسپال بھٹی: کئی دہائیوں تک اپنی کامیڈی سے لوگوں کو ہنسانے والے مزاحیہ اداکار جسپال بھٹی 25 اکتوبر، 2012 کو ہوئے ایک کار حادثہ کا شکار ہوئے اور سب کو رلا گئے۔ اپنے کالج کے دنوں سے طنز و مزاح کو انھوں نے اپنا کریئر بنا لیا تھا اور طویل عرصے تک انھوں نے اپنے اسی فن سے ہندوستانی عوام کو محظوظ کیا۔ اسٹینڈ اپ کامیڈی کے علاوہ ان کے دو شو ’’الٹا پلٹا‘‘ اور ’’فلاپ شو‘‘ بھی نشر ہو چکے تھے اور انھوں نے کچھ ہٹ فلموں میں بھی اپنے مختصر رول ادا کیے، جن میں ’فنا‘ اور ’کچھ نہ کہو‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ ان کی عمر 57 سال تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *