بوفورس گھوٹالہ: اب تک کا سب سے بڑا انکشاف

Share Article

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان میں بین الاقوامی سطح پر سب سے مشہور رہے گھوٹالہ کا نام بوفورس  ہے۔اس گھوٹالہ نے راجیو گاندھی کو دوبارہ اقتدار میں نہیں آنے دیا۔ وی پی سنگھ کی حکومت اس کیس کو جلدی نہیں سلجھا پائی اور لوگوں کو محسوس ہوا کہ انھوں نے انتخابات میں بوفورس کا نام صرف جیتنے کے لئے لیا تھا۔کانگریس نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا اور ملک سے کہا کہ بوفورس کچھ تھا ہی نہیں۔ اگر ہوتا تو وی پی سنگھ کی حکومت اسے عوام کے سامنے ضرور لاتی۔سی بی آئی کی فائلوں میں اس کیس کا نمبر ہے  ’’آر سی1(اے)؍90اے سی یو، آئی وی ایس پی ای،سی بی آئی، نئی دہلی۔ سی بی آئی نے 22جنوری 1990کو اس کیس کو درج کیا تھا، تاکہ وہ اس کی تفتیش کر کے حقیقت کا پتہ لگا سکے۔
اس کیس کو درج کرنے کے لئے سی بی آئی کی بنیادی ذرائع تھے، کچھ حقائق، صورتحال کے گواہ، میڈیا رپورٹس، سویڈش نیشنل بیورو کی آڈٹ رپورٹ، مشترکہ پالیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں آئے کچھ حقائق اور کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کی رپورٹ۔گرچہ 1987کے بعد سے ہی ملک میں بورفوس سودے کو لے کر کافی بحثیں اور خدشات کھڑے کر دئے گئے تھے اور اس سوال کو سیاسی سوال بھی بنا دیا گیا تھا۔ معاملہ اتنا سنگین بن گیا تھا کہ پارلیمنٹ کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنانی پڑی، لیکن حکومت نے اپنی تفتیشی ایجنسی کو اس کی تفتیش نہیں سونپی۔جب 1989میں حکومت بدلی، تب یہ فیصلہ ہوا کہ اس کی تفتیش کرائی جائے، تبھی سی بی آئی نے اس کی ایف آئی آر درج کی۔
سی بی آئی نے جب مذکورہ رپورٹ کا مطالعہ کیا ، تب اسے لگا کہ سن 1982سے 1987کے درمیان کچھ پبلک سروینٹسنے (اردو میں انہیں عوامی خدمتگارکہتے ہیں، لیکن ہم پبلک سروینٹس لکھیں گے)کچھ خاص بااثر لوگوں کے ساتھ مل کر مجرمانہ سازش رچی گئی اور رشوت لینے اور دینے کا جرم کیا گیا۔ یہ لوگ ملک و بیرون ملک سے تعلق رکھتے تھے۔ سی بی آئی نے یہ بھی نتیجہ نکالا کہ یہ تمام لوگ دھوکہ دہی، چیٹنگ اور فورجری کے بھی مجرم ہیں۔ یہ سب اسی کنٹریکٹ کے سلسلہ میں ہوا، جو 24مارچ 1986کو حکومت ہند اور سویڈن کی کمپنی اے بی بوفورس کے درمیان اختتام کو پہنچا تھا۔ ایک متعین رقم بوفورس کمپنی کے ذریعہ پر اسرار طریقہ سے سوئٹزر لینڈ کے پبلک بینک اکائونٹس میں جمع کرائی گئی اور حکومت ہند کے  پبلک سروینٹس کو اور ان کے نام درج لوگوں کو دی گئی، جبکہ حکومت ہند نے تمام درخواست دہندگان کو مطلع کر دیا تھا کہ اس سودے میں کوئی ثالث نہیں رہے گا۔
حکومت ہند اچھی توپیں خریدنے کی خواہشمند تھی، تاکہ وہ سرحدوں کو اور زیادہ محفوظ کر سکے۔اس نے جب اس کے لئے اچھی تکنیک کی تلاش کی تو تین ملک سامنے آئے، فرانس ، آسٹریا اور سویڈن۔ اس میں بھی آخر میں فرانس اور سویڈن ہی رہ گے، کیونکہ سویڈن اور آسٹریا نے مل کر ایک گروپ بنا لیا تھا۔ سویڈن کی کمپنی نے آسٹریا کی کمپنی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ توپ وہ دے گی اور گولا بارود آسٹریا دے گا۔ آسٹریا اس یقین دہانی کے بعد پیچھے ہٹ گیا اور سویڈن کی بوفورس کمپنی فرانس کی سوفما کمپنی کے مقابلہ میں باقی رہ گئی۔
تفتیش میں سی بی آئی کے سامنے یہ بات آئی کہ اے بی بوفورس کمپنی نے یہ سودہ ہندوستان میں کچھ پبلک سروینٹس کے ساتھ ملک کر مجرمانہ سازش کر کے حاصل کیا ہے۔ یہ تمام فیصلے لینے والے ذمہ دار اشخاص تھے، جبکہ انہیں معلوم تھا کہ جس گن سسٹم (توپ) کے حق میںوہ فیصلہ دے رہے ہیں، وہ دوسرے گن سسٹم کے مقابلہ تکنیکی طور سے کمزور ہے۔
فروری 1990میں حکومت ہند نے اس گھوٹالہ کی مکمل تفتیش کی درخواست سوئس افسران سے کی۔ اس کے لئے حکومت ہند نے سوئس افسران کو لیٹر روگیٹری بھیجا، جسے دہلی کے اسپیشل کورٹ نے جاری کیا۔ اس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ سوئس افسران یہ بتائیں کہ اے بی بوفورس نے اے ای سروسیزکو کب اور کتنا پیسہ دیا ہے؟
تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا کہ اے بی بوفورس نے اوٹاویو قطروچی کے علاوہ کچھ اور لوگوں کے ساتھ بھی ساز باز کر کے اے ای سروسیز کو اپنا ایک ایجنٹ بنا دیا ہے، جس کا معاہدہ اس نے 15نومبر 1985کو کیا، تاکہ اسے کنٹریکٹ مل سکے ۔ جبکہ حکومت ہند کی پالیسی تھی کہ کوئی بچولیہ نہیں رہے گا۔قطروچی اس معاہدے کو کرنے والے اہم شخص کی شکل میں سامنے آئے۔ اے بی بوفورس نے انہیں73,43,941امریکی ڈالر دئے، جو ان کے اس امریکی اکائونٹ میں جمع کئے گئے، جو صرف اسی کام کے لئے کھولا گیا تھا۔ جمع کرانے کی تاریخ 8ستمبر 1986تھی۔
سوئس افسران نے لیٹر ریگوٹری کے اس حصہ پر کارروائی کی اور حکومت ہندکو سرکاری معلومات فراہم کی، جس کے مطابق، اے ای سروسیز کے اکائونٹ میں جو رقم بوفورس کمپنی نے جمع کرائی تھی، وہ پھر آگے جا کر ٹرانسفر کی گئی۔ آٹھ دن کے وقفہ کے بعد اس رقم سے 17,23,900امریکی ڈالر دو قسطوں میں سوئٹزر لینڈ کے ایک بینک میں ٹرانسفر کئے گئے۔تاریخ 17نومبر 1986کو 7لاکھ ڈالر اور 29نومبر 1986کو ایک لاکھ 23ہزار 900ڈالر ٹرانسفر ہوئے۔یہ ساری رقم جنیوا میں یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ میں کھولے گئے میسرز کولمبر انویسٹمنٹ لمیٹڈ انک نام کی کمپنی کے کھاتے میں جمع ہوئی۔اس اکائونٹ کو آپریٹ اور کنٹرول کرنے کا اختیار اوٹاویو قطروچی اور اس کی بیوی کو تھا۔
جب یہ اکائونٹ کھولے گئے، تب اوٹاویو قطروچی دہلی میں کام کرتا تھا اور اطالوی کمپنی’’اسنیم پروگیتی ‘‘ کے ریجنل ڈائریکٹر کے عہدہ پر تعینات تھا۔وہ دہلی میں رہتاتھا، مگر اس نے اکائونٹ کھولتے وقت جو پتہ لکھوایا تھا، وہ پتہ کہیں تھا ہی نہیں۔اس رقم کو اوٹاویو قطروچی کی ہدایت پر پھر ٹرانسفر کیا گیا۔ میسرز ویٹلسن اوورسیز ، ایس اے آف پناما کے اکائونٹ میں اسی بینک میں یہ رقم ٹرانسفر ہوئی۔ٹرانسفر کرنے کی تاریخ تھی 25جولائی1998۔ یہ کمپنی پناما میں6اگست 1987کو بنائی گئی اور 7اگست 1988کو برخاست کر دی گئی۔دراصل یہ کمپنی صرف اس لئے ہی بنائی گئی تھی کہ بینک اکائونٹ کے ذریعہ رقم کے ناجائز لین دین کے لئے اسے استعمال کیا جا سکے۔ اس کھاتے کو بھی قطروچی اور ان کی بیوی ذاتی طور پر آپریٹ کیا کرتے تھے۔
اس سازش میں شامل لوگوں کو کسی طرح کا خوف نہیں تھا، کیونکہ جب سوئس افسر لیٹر روگیٹر پر کام کررہے تھے، اسی وقت 2لاکھ امریکی ڈالر پھر سے ویٹلسین اوورسیز ، ایس اے اکائونٹ سے (جو یو بی ایس جنیوا میں ہے)نکال کر انٹر انویسٹ منٹ ڈیولپمنٹ کمپنی کے اکائونٹ میں اینس باشیر لمیٹڈ کے حق میں سینٹ پیٹر پورٹ گویرنسے میں ٹرانسفر کئے گئے۔ ٹرانسفر کی تاریخ 21مئی 1990۔ اس کے بعد کس کس اکائونٹ میں یہ پیسہ کن ممالک میں گیا اس کی تفتیش ابھی جاری ہے، کیونکہ تفتیش کرنے والوں کا اندازہ ہے کہ یہ کئی ممالک میں ٹرانسفر کی گئی ہوگی۔ اوٹاویو قطروچی اطالوی پاسپورٹ پر ہندوستان میں1967سے رہ رہا تھا۔ اس نے اچانک جولائی 1993میں ہندوستان کو چھوڑ دیا۔ایسا اس نے تب کیا جب اس کا نام کھلا کہ وہ سوئس کورٹ میں ان اپیل دہندگان میں سے ایک ہے، جو چاہتے تھے کہ لیٹر روگیٹری پر کارروائی رک جائے اور سویس افسران تفتیش کا کام بند کر دیں۔تفتیش میں یہ بات صاف ہو گئی کہ اوٹاویو قطروچی اس دلالی میں حصہ دار ہے،جس کاحصہ اسے بوفورس توپ سودے کے بعد ملا۔ اس نے اس کا استعمال ہندوستان کے اعلیٰ عہدیداروں اور سول سروینٹس اور اپنے لئے کیا۔
مگر مزے دار بات یہ ہے کہ سی بی آئی کو اوٹاویو قطروچی کا پتہ کیسے چلا کہ وہ بوفورس توپ سودے میں اہم کردار ادا کر چکا ہے، اور اے ای سروسیز نام کی کمپنی کا مالک بھی وہی ہے اور اس کے نام سے کھلے بینک اکائونٹ کو بھی وہی آپریٹ کرتا ہے۔
یہ کہانی مجرم کی ہڑبڑی اور جرم چھپانے کی کوشش کی دھما چوکڑی کے درمیان اجاگر ہوئی ہے۔جب سوئس افسران نے حکومت ہند کے لیٹر روگیٹری پر کام شروع کیا اور سویڈن میں نیشنل آڈٹ بیورو نے الگ تفتیش شروع کی تب بوفورس کمپنی سے موصولہ رقم کو قابو کرنے والے سات اکائونٹ ہولڈرس کو لگا کہ کہیں ان کا نام نہ کھل جائے، انھوں نے سوئس عدالتوں میں اپیل دائر کی کہ یہ تفتیش روک دی جائے۔ مختلف عدالتوں سے ہوتی ہوئی اپیل سوئس سپریم کورٹ میں پہنچی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سی بی آئی کو اس وقت تک پتہ نہیں چل پایا تھا کہ یہ سات اکائونٹ ہولڈر کون ہیں۔ اتنا ہی نہیں، سی بی آئی کو یہ بھی نہیں پتہ چل پایا کہ اے ای سروسیز کا اکائونٹ کون آپریٹ کر رہا ہے۔
جب سوئس سپریم کورٹ نے ان ساتوں کی اپیل خارج کر دی تب پہلی بار سی بی آئی کو تفتیشی افسران نے مطلع کیا کہ سات اپیل دہندگان میں اوٹاویو قطروچی کا نام شامل ہے۔ جس دن سی بی آئی کو قطروچی کا نام پتہ چلا اس دن تاریخ تھی 23جولائی 1993لیکن اس کے بعد بھی سی بی آئی کو سپریم کورٹ کی کارروائی کے کاغذات نہیں ملے۔ یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ کاغذات کیوں نہیںملے؟ان دنوں وزیر اعظم نرسمہا رائو تھے۔ یہ بھی تفتیش کا موضوع ہے کہ کیا سی بی آئی نے کوشش نہیں کی،یا انہیں کوشش نہیں کرنے نہیں دی گئی؟ یہ بھی اتفاق ہی کہا جائے گا کہ جب نرسمہا رائو کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور دیوگوڑا کی حکومت بنی تبھی سی بی آئی کو سوئس سپریم کورٹ کی کارروائی مل پائی۔
جنوری 1997میں سی بی آئی کو سوئس افسران نے دستاویز سونپے ۔ ان دستاویزوں کے مطالعہ سے پہلی بار پتہ چلا کہ اے ای سروسیز کے اکائونٹ کا اہم فائدہ اٹھانے والا اور آپریٹر اوٹایو قطروچی اور اس کی بیوی ماریا قطروچی ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا کہ وہ اس سودے کو کرانے میں بوفورس کی جانب سے اہم ایجنٹ یا بچولیہ تھا، جس نے ہندوستانی سیاستدانوں اور نوکر شاہوں پر دبائو ڈالا اور سودہ بوفورس کے حق میں کرایا۔ اس اکائونٹ سے اس نے پیسہ کہاں، کیسے، کن تاریخوں میں اور کن کھاتوں میں ٹرانسفر کیا یہ ایک الگ کہانی ہے؟ اتنا ہی نہیں، اس کے ہندوستان کی اعلیٰ سیاسی طاقتوں اور اعلیٰ نوکرشاہوں سے کیسے تعلق تھے اور ان پرکیسا دبائو، یہ بھی پر اسرار داستان ہے؟

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *