اندھی عقیدت پر مبنی ہے ہائی کورٹ کا فیصلہ

Share Article

ایل ایس ہردینیا
ہندوستان کا آئین نافذ ہونے کے بعد سے آج تک عدالت کے کسی فیصلے پر شاید ہی اتنا زبردست ردعمل سامنے آیا ہو، جتنا کہ حال میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ کے ذریعہ اجودھیا معاملے میں دئے گئے فیصلے پر آیا۔ جہاں متعدد لوگ فیصلے کا استقبال کررہے ہیں وہیں ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے، جو اسے غلط ٹھہرارہے ہیں۔ پورا ملک بے چینی کے ساتھ اس فیصلے کا انتظار کررہا تھا۔ پہلے الٰہ آباد ہائی کورٹ اس فیصلہ کا اعلان 24ستمبر کو کرنے والا تھا، لیکن اس درمیان سپریم کورٹ نے فیصلے کے اعلان پر روک لگادی اور بالآخر 30ستمبر کو فیصلہ سنایا گیا۔24اور30ستمبر کو پورے ملک میں جس بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کئے گئے، وہ اپنی مثال آپ تھے۔ کیا ہم اتنے غیر مہذب ہیں کہ ہم عدالت کے فیصلے کو بھی ہضم نہیں کرسکتے۔؟ آئینی طور پر ہم پارلیمنٹ کے فیصلوں سے عدم اتفاق کرسکتے ہیں۔ ہم عاملہ کے فیصلوں سے ہٹ کر اپنا موقف اختیار کرسکتے ہیں، لیکن عدلیہ کے کسی فیصلے سے،اگرچہ ہم اس سے متفق نہ ہوں، لیکن ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔ ایک قاتل کو موت کی سزا سنائی جاتی ہے، وہ بھلے ہی اس فیصلے سے اتفاق نہ رکھتا ہو،لیکن اسے فیصلے کو ہر حال میں تسلیم کرنا ہوگا۔
جس بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اس کی ایک وجہ یہ خدشہ تھاکہ شاید سماج کا ایک طبقہ نہ صرف فیصلہ کو تسلیم نہیں کرے گا بلکہ اپنے غصہ اور ناراضگی کے اظہار کے لئے تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ اگر ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو اس پر قابو پانے کے لئے سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔  مطلب بالکل واضح ہے، وہ یہ کہ جہاں ایک شخص فیصلے سے اتفاق نہ رکھتے ہوئے بھی عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرلیتا ہے، وہیں سماج کا ایک طبقہ ایسا نہیں کرتا۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ آزادی کے 63سال بعد بھی ہم ایک سیکولر قوم نہیں بن سکے ہیں۔
فیصلے کے دن سیکورٹی کے اتنے زبردست انتظامات تھے کہ یہ امید کرنا فطری تھا کہ شہری بلاخوف وخطر اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں جاری رکھیںگے، لیکن ایسا نہیں ہوا اور 30ستمبر کو تاجروں نے دکانیں بند کرلیں، دوپہر بعد سرکاری دفاتر ویران ہوگئے، بیشتر اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کردیا گیا، سڑکیں سنسان ہوگئیں، لوگوں کی اکثریت نے گھروں میں رہنے کو ہی ترجیح دی۔ سڑکوں پر بچے کرکٹ کھیلتے اور پتنگ اڑاتے نظر آئے۔ یہاں تک کہ اسپتالوں میں بھی مریضوں کی تعداد میں کمی درج کی گئی اور ڈاکٹر و نرس کی بھی موجودگی بہت کم رہی۔ عدالتیں بھی سونی رہیں۔ یہ ساری باتیں کیا اس بات کی غماز نہیں ہیں کہ عام آدمی کو حکومت اور اس کے ذریعہ کئے گئے حفاظتی انتظامات پر بھروسہ نہیں ہے۔انہیں بھروسہ نہیں ہے کہ کوئی حادثہ پیش آنے کی صورت میں پولس ان کی حفاظت کرپائے گی۔ عام لوگوں کو اس بات کا خدشہ تھا کہ اگر کہیں بھیڑ اکٹھی ہوگئی تو پولس اس کے سامنے خود سپردگی کردے گی۔ عوام اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد ویقین کا فقدان افسوس ناک بات ہے۔
جہاں تک عدلیہ کا سوال ہے، گزشتہ سالوں میں اس کی ساکھ میں زبردست گراوٹ آئی ہے۔ آئے دن عدلیہ پر جانبداری اور بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ چند ججوں کو بدعنوانی میں ملوث ہونے کی وجہ سے برخاست بھی کیا گیا ہے۔
اس فیصلہ کے تعلق سے کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ یہ منصفانہ فیصلہ نہیں ہے، کیونکہ یہ عدلیہ کے ذریعہ تمام فریقوں کو مطمئن کرنے کی کوشش ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ فیصلہ کرتے وقت آئین کے بنیادی اصولوں سے انحراف کیا گیا ہے۔ آئین میں درج ضابطوں کے مطابق لوگوں میں سائنٹفک سوچ کو فروغ دینے کی ذمہ داری ریاست کو سونپی گئی ہے اور عدلیہ بھی ریاست کا حصہ ہے۔ آج بھی گاؤں میں کسی بھی عورت کو ڈائن بتاکر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے گاؤں پر کوئی آفت نازل ہوسکتی تھی۔
یہ افسوسناک بات ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے یہ کہا کہ متنازع مقام ہی رام کی جائے پیدائش ہے۔ عدالت نے یہ بات اس بنیاد پر کہی کہ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق  رام کی پیدائش ٹھیک اسی جگہ پر ہوئی تھی، جہاں پر مسجد کا مرکزی گنبد تھا۔ پہلی بات تو یہ کہ سبھی ہندو یہ نہیں مانتے کہ رام وہیں پیدا ہوئے تھے، اس لئے عدالت زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتی تھی کہ کچھ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق رام وہیں پیداہوئے تھے۔ علاوہ ازیں عدالت کو یہ بھی بتانا تھا کہ یہ محض عقیدہ ہے، اس کی کوئی منطقی بنیاد یا تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ صدیوں قبل پیش آئے کسی واقعہ کے تعلق سے کوئی بھی بات پورے وثوق کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی۔پھر یہ بھی طے کیا جانا ہے کہ رام بھگوان تھے یا انسان۔ اگر وہ بھگوان تھے تو بھگوان نہ تو پیدا ہوتے ہیں اور نہ ہی مرتے ہیں۔ اگر آر ایس ایس یا کوئی ہندو تنظیم رام کو بھگوان مانتی ہے تو ان کی پیدائش کا سوال ہی نہیں اٹھتا اور اگر انہیں انسان ماناجاتا ہے تو وہ صدیوں پہلے پیدا ہوئے ہوں گے۔ ہم نے یہ مانا ہے کہ وہ کل یُگ میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ ہندو عقیدے کے مطابق کل یُگ کو شروع ہوئے ہزاروں برس بیت چکے ہیں۔ گزشتہ چند ہزار سالوں میں زمین پربے شمارجغرافیائی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں بے شمار محل، متعدد قلعے بلکہ پورے کے پورے شہر زمین کے بطن میں سماچکے ہوں گے۔ اس لئے یہ کہنا کہ رام کسی مخصوص جگہ پر پیدا ہوئے تھے، بالکل غیر سائنٹفک اور غیر منطقی ہے۔ ایک بات اور، وہ یہ کہ رام یا تو گھرمیں پیدا ہوئے ہوں گے یا محل میں، کیونکہ اس زمانے میں اسپتال تو تھے نہیں کہ وہ اسپتال میں پیدا ہوتے۔ اس طرح رام کی جائے پیدائش پر محل ہونا چاہئے تھا نہ کہ مندر۔ ویسے بھی اجودھیا کے تمام مندروں کے پجاری یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ رام انہیں کے مندر میں پیدا ہوئے تھے۔ جب اجودھیا کے ہمارے صحافی ساتھی شیلتا سنگھ’ رام جنم بھومی ‘کے صدر سے جاننا چاہا کہ آپ کس بنیاد پر دعویٰ کرتے ہیں کہ رام یہیں پیدا ہوئے تھے،تو انہوں نے فرمایا کہ اگر رام خود بھی ظاہر ہوکر کہیں کہ وہ یہاں پیدا نہیں ہوئے تھے تب بھی ہم ان کی بات نہیں مانیں گے اور یہ دعویٰ کرتے رہیں گے کہ رام کی جائے پیدائش یہی ہے۔ اس طرح کے بے تکے دعووں سے ہی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ رام کی جائے پیدائش کا دعویٰ کس حد تک غیر سائنٹفک بنیادوں پر قائم ہے۔ کسی بھی باشعور شخص کے لئے یہ تسلیم کرنا بڑا دشوار ہے کہ رام کی جائے پیدائش متنازع مقام ہی ہے۔
اب قابل غور سوال یہ ہے کہ کیا وہاں کبھی رام مندر تھا۔ ہائی کورٹ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ وہاں رام مندر تھا اور یہ بھی کہ بابری مسجد ، رام مندر کے اوپر بنی تھی۔ عدالت کے استدلال کی بنیاد آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹ ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ کھدائی کے دوران مندرکے آثار یا باقیات پائے گئے ہیں۔ عدالت کے اس استدلال کو متعدد مؤرخین نے چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھدائی کے دوران وہاں مویشیوں کی ہڈیاں پائی گئیں، اس کے علاوہ وہاں سرخی اور چونے کا ملنا وہاں مسجد کی موجودگی کا پتہ دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھدائی میں دیگر جوچیزیں ملی تھیں، ان کا معائنہ مؤرخین اور فورنسک ماہرین سے کرانا چاہئے، تاکہ صحیح نتائج سامنے آسکیں۔جن مؤرخین نے اس طرح کا بیان جاری کیا ہے وہ ہیں محترمہ رومیلا تھاپر، کے ایم شریمالی، کے این پنیر کر، عرفان حبیب، اتس پٹنائک اور سی پی چندر شیکھر۔ یہ تمام شخصیات اپنے اپنے شعبے کی ماہر ہیں، اس لئے ان کی آراء سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے مختلف اخبارات نے فیصلہ پر مختلف تبصرے کئے ہیں، تاہم اکانومی ٹائمز نے اسے ’غیر منصفانہ فیصلہ‘ قرار دیا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ فیصلہ سے متنازع مقام کی نہ تو قانونی صورت حال صاف ہوئی ہے اور نہ ہی سمجھوتے کا راستہ کھل سکا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ اس فیصلہ سے تناؤ کی صورت حال پیدانہیں ہوئی، بس یہی ایک بات اطمینان کی ہے، لیکن کیا یہ امن وسکون آئندہ بھی برقرار رہے گا، اس سوال کا جواب دینا فی الحال ممکن نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *