الزامات کا کھیل

Share Article

میگھناد دیسائی
لیور پول فٹ بال کلب کے مشہور منیجر رہے بل سینکلی سے ایک بار یہ پوچھا گیا کہ جب مخالف ٹیم کے کھلاڑی بہت زیادہ فاؤل کرتے ہیں، تو ایسے میں اپنے کھلاڑیوں کے لیے ان کی صلاح کیا ہوتی ہے؟ اس کے جواب میں سینکلی نے کہا کہ میں انہیں صلاح دیتا ہوں کہ اپنے اوپر فاؤل ہونے سے پہلے ہی تم اپنے بالمقابل کھلاڑیوں پر حملے شروع کر دو۔
کانگریس کا حالیہ موڈ کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ یہ بات واضح ہونے کے باوجود کہ سبھی اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ پارٹی الیکشن میں ہار جائے گی، کانگریس نے الزامات لگانے شروع کر دیے ہیں کہ آخر وہ الیکشن کیوں ہار رہی ہے؟ سونیا گاندھی اور راہل پر کانگریس کی ہار کے الزام نہیں لگ سکتے ہیں۔ یہ سارے الزام منموہن پر لگ رہے ہیں، جب کہ پارٹی میں کچھ بھی اچھا ہوتا ہے، تو اس کا کریڈٹ راہل اور سونیا کو ملتا ہے۔ نئی کہانی یہ ہے کہ منموہن سنگھ کی خاموش مزاجی کو نریندر مودی بھنا رہے ہیں۔ وہ پارٹی کی ایک پریشانی کی طرح ہیں، جو ملک بھر میں پھیل گئے ہیں۔ وہیں مودی کو بی جے پی کے لیے مضبوطی مانا جا رہا ہے۔ مودی کیا کریں گے، یہ کوئی بہت اہم بات نہیں ہے، لیکن ان کا مقرر ہونا اور سرگرم ہونا، انہیں منموہن سنگھ کے خاموش رہنے والے طریقے سے آگے لے جاتا ہے۔
یہاں پر کوئی بھی یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ کیا منموہن سنگھ کو ان کی خاموشی کے لیے لگاتار ان کے کانگریسی ساتھیوں کے ذریعے نہیں دھکیلا گیا۔ انہیں اسی وجہ سے منتخب ہی کیا گیا تھا، کیوں کہ وہ ایک خاموش طبع شخص تھے اور پریوار سے کوئی بھی کریڈٹ چھیننے کے خواہش مند نہیں تھے۔ انہیں وزیر اعظم بنایا ہی اس لیے گیا تھا، کیوں کہ وہ خاموش طبع تھے۔2004 کے حالات کے مطابق، پارٹی کے لیے وہ سب سے زیادہ مفید آدمی تھے۔ پارٹی میں اچھے مقررین اور سیاسی لیڈروں کی کمی نہیں تھی، جنہیں چُنا جا سکتا ہے۔ پرنب مکھرجی اور ارجن سنگھ دونوں ہی لیڈر اس وقت موجود تھے۔ اگر اس وقت کی پسند موجودہ وقت کی پریشانی بن گئی ہے، تو اس کی بنیادی وجہ پریوار ہے۔ پریوار نے ہی ان کا نام پیش کیا تھا اور پریوار ہی انہیں تکلیف دہ طور پر تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال رہا ہے۔
یہی بتاتا ہے کہ مودی کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ موجودہ وقت کے مطابق، کانگریس اور دوسری پارٹیوں کو چھوڑ کر اس بات کی امید کئی لوگوں میں ہے کہ مودی ایک کرشمائی کارکن ہیں۔ چونکہ صرف منموہن سنگھ کو افراطِ زر اور اقتصادی ترقی کی رفتار کم ہونے کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، اس لیے مودی سے یہ امیدیں ہیں کہ وہ تیزی سے اقتصادی ترقی کو یقینی بنائیں گے اور افراطِ زر میں کمی لائیں گے۔ لیکن ہم حقیقت میں نہیں جانتے کہ آخر مودی کریں گے کیا؟ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ فیصلہ کن شخصیت کے مالک ہیں اور اپنے فیصلوں کو لاگو کروانا جانتے ہیں۔
اس کے باوجود بھی کیا یہ مانا جا سکتا ہے کہ ریاستی سطح کا تجربہ قومی سطح پر بھی بامعنی ثابت ہوگا؟ اگر ایسی بات ہے، تو ہمیں ان کے وژن اور پروگراموں کے بارے میں تفصیل سے جاننا ہوگا، جس کی ہر آدمی ان سے امید کر رہا ہے۔ آئندہ 16 مئی کو جب بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے سرکار بنانے کی حالت میں ہوگا، تو اسے اقتدار کی سچائی کا پتہ چلے گا۔ یہاں صرف دلیلوں سے کام نہیں چلے گا۔ کرنسی کی حالت خراب ہے۔ چدمبرم نے لوک سبھا میں جو پیش کیا تھا، وہ انتخابی بجٹ تھا۔ جو بات ہم پہلے سے جانتے ہیں، وہ یہ ہے کہ 2013-14 کے خسارے کا نتیجہ 4.6 فیصد سے زیادہ ہے۔ آنے والے سال تباہی والے ہوں گے، کیوں کہ غیر منصوبہ بند خرچ زیادہ ہے اور آمدنی بھی کم ہے۔
ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ 2014-15 کا بجٹ خسارہ غیر معمولی طور پر کم ہوگا۔ حالانکہ ابھی ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ اگلا وزیر خزانہ کون ہوگا؟ کچھ ناموں کا ذکر تو ہو رہا ہے، جیسے کہ ارون جیٹلی اور منوہر پریکر۔ چاہے جو بھی وزیر خزانہ بنے، لیکن ابھی بجٹ سے پہلے اس کے پاس اقتصادی ترقی کے کم ہی راستے ہوں گے۔ جو بھی وزیر خزانہ بنے، اس کے لیے سب سے اچھی صلاح یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے الزام لگانا شروع کر دے۔ اس کی حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ پبلک فائننس پر وہ خطرے کی گھنٹی بجا دے، پوری دنیا کو یہ بتائے کہ یہ سب پچھلی سرکار کی کارستانیاں ہیں۔ ایسا کرنے سے لوگوں کی اس سے امیدیں کم ہو جائیں گی۔ حقیقت میں یہی طریقہ اپنانا چاہیے۔ اگر ہم پچھلے دو سالوں پر سنجیدگی سے نگاہ دوڑائیں، تو دیکھیں گے کہ خطرے کی گھنٹیاں بجائی جا رہی ہیں۔
خسارے کو قابو میں کرنے کے لیے نئے وزیر خزانہ کو کچھ الزام اپنے سر لینے ہوں گے۔ غیر منصوبہ بند خرچوں کو کم کرنا ہوگا، جس میں منریگا، تیل اور کھادوں پر رعایت کو بھی کم کرنا چاہیے۔ سست بجٹ بنانے کے دن لد گئے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جلدی کی جائے۔ اس سے پہلے کہ مکے پڑنا شروع ہو جائیں، کمر کس کر تیار ہو جائیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *