بی جے پی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے

Share Article

کمل مرارکا
بی جے پی نے دہلی میں وہ کام کیا ہے، جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ دہلی میں ایک ایسے چہرے کو سامنے لائی ہے، جن کا کسی بھی سیاسی پارٹی میں کوئی تجربہ نہیں رہا ہے، لیکن آج وہ بی جے پی کا چہرہ ہیں۔ یہ سچ ہے کہ کرن بیدی کے خلاف بدعنوانی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، لیکن ان کا ایک بہترین پولس افسر والا ریکارڈ بھی نہیں رہا ہے۔ لیکن آر ایس ایس کے کچھ لوگوں سے میری بات کے بعد میں ان کی حکمت عملی میں شامل دروں بینی کو بتا سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں ان کے پاس ایک معروف چہرہ تک نہیں ہے، ایسے میں جب تک ان کے پاس کوئی جانا پہچانا چہرہ نہ ہو، تب تک وہ کوئی طاقت نہیں بن سکتے۔ وہ بنگال میں ایک اچھے ریکارڈ والے لیڈر کی تلاش میں ہیں، جو ان کی پارٹی کی قیادت کر سکے۔ وہ اپنی تنظیم اور کارکنوں کو لے کر پر اعتماد ہیں کہ وہ ان کی مدد کریں گے، لیکن پھر بھی انہیں ایک چہرے کی ضرورت ہے۔
اس لیے، میں نے ان سے دہلی کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ دہلی میں وہ ایک مضبوط پارٹی ہونے کے ساتھ اقتدار میں بھی رہے ہیں، کارکن بھی ہیں، پھر ایسے فیصلے کی ضرورت کیوں آ پڑی؟ ان کا جواب تھا کہ ان کے اسٹیبلشڈ لیڈر بہت پرانے ہو گئے ہیں اور نئے لوگوں میں سے ایسا کوئی چہرہ نہیں ہے، جن سے امید کی جا سکے کہ وہ الیکشن جتوا دیں گے۔ اس لیے انہوں نے الیکشن میں جیت کے لیے کرن بیدی کو چنا۔ یہ وضاحت سنگھ پریوار کی سوچ میں پوشیدہ دروں بینی کو سامنے لاتی ہے۔ وہ اب جلدی میں ہیں۔ وہ محسوس کر رہے ہیں کہ مودی کے بلندی پر ہونے کے ساتھ ہی ان کے پاس ایک کل ہند پارٹی بننے اور ملک کے ذہن سے کانگریس کو ہٹانے کا موقع مل گیا ہے۔ ان کے ساتھ میری اس چھوٹی سی بات چیت سے یہی مقصد سامنے نکل کر آیا۔ کانگریس کو ہٹانے کو لے کر وہ سیدھے سیدھے کچھ نہیں بول رہے تھے، لیکن اس کا مطلب یہی تھا۔ اسی طرح جموں و کشمیر میں مفتی محمد سعید کے ساتھ مل کر سرکار بنانا سب سے برا کام ہو سکتا ہے، جسے بی جے پی کر سکتی ہے۔ کم از کم نیشنل کانفرنس، جب بات علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی آتی ہے، تو وہ پی ڈی پی سے بہتر ہے۔ پی ڈی پی پر نرم علیحدگی پسندی کا الزام ہے، لیکن بی جے پی ان کے ساتھ سرکار بنانے کو تیار ہے، کیوں کہ وہ ملک کے ہر کونے میں اپنی موجودگی چاہتے ہیں، جیسے کانگریس سالوں تک ملک کے ہر کونے میں موجود رہی تھی۔ یہ بی جے پی کی نئی حکمت عملی ہے۔
یہ اچھا بھی ہے اور برا بھی۔ برا اس لیے، کیوں کہ بی جے پی ہمیشہ کہتی رہی ہے کہ وہ اوروں سے الگ ہے، لیکن اب جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بھی دوسری پارٹیوں کی ہی طرح ہے۔ وہ کانگریس کی طرح ہی باہری لوگوں کو لیں گے۔ دھیرے دھیرے ان کا سخت ڈسپلن کمزور ہوگا اور پھر وہ بھی دوسری پارٹیوں کی طرح ہو جائیں گے۔ یہ ان کے لیے اچھا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے جو سنگھ پریوار کا حصہ نہیں ہیں، ایسے سیاسی تجزیہ کاروں، سیاسی کارکنوں، جو فرقہ پرستی، فرقہ پرست ملک کے بارے میں فکر مند ہیں، ایسے لوگوں کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ اگر بی جے پی بھی دوسری پارٹیوں کی طرح ہی اپنا کام کرتی رہی، تو یہ سارے خطرے اپنے آپ دور ہو جائیں گے۔ وہ ایک مضبوط آر ایس ایس پر مبنی پارٹی بنانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ یہ لبرل بیک گراؤنڈ والے لوگوں کے ساتھ ایک وسیع پارٹی ہوگی، جو مضبوطی سے سنگھ کی آئڈیالوجی کو نہیں اپنائیں گے۔ وہ زبردستی کسی کے اوپر ہندو مذہب نہیں تھوپ پائیں گے۔
بے شک وفاقی حکومت کے ہاتھ میں جو بھی ہوگا، جیسا انہوں نے سنسر بورڈ کے ساتھ کیا، ویسا کریں گے۔ سنسر بورڈ کے ساتھ جو بھی ہوا، بہت برا ہوا۔ پرانے لوگوں کو استعفیٰ دینے کے لیے مجبور کر دیا گیا اور اس کے بعد اپنے لوگوں کو بھر دیا گیا۔ خطرناک بات یہ ہے کہ مذہبی رہنماؤں کے ناپاک کارناموں کا مذاق اڑاتی فلم ’پی کے‘ کی مذمت سنگھ پریوار نے کی اور ’ایم ایس جی‘ جیسی فلم، جو توہم پرستی کو بڑھاوا دیتی ہے، اسے سرٹیفکیٹ دینے کی بات کہی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا، تو مجھے لگتا ہے کہ مجھے مہیش بھٹ جیسے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، جو کہتے ہیں کہ فلموں میں کوئی سنسر شپ نہیں ہونی چاہیے۔ میں ہمیشہ اس کا حمایتی رہا ہوں کہ ہندوستان جیسے ملک میں کچھ نہ کچھ سنسرشپ ضرور ہونی چاہیے۔ ہم اسکینڈے نیویائی ملکوں کی طرح سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ لوگ بہتر فیصلے کرنے کے قابل ہیں۔ لیکن اگر اسی طرح سب کچھ چلتا رہا، تو سنسربورڈ مدلل، غیر جانبدار اور معروضی حصوں پر قینچی چلائے گی اور توہم پرستی، جادو اور دیومالائی کہانیوں کو مدلل ٹھہرائے گی۔ ایسے میں مجھے نہیں لگتا ہے کہ سنسر بورڈ کی کوئی ضرورت ہے۔
ہم لوگ ایک بہت ہی دلچسپ دور میں جی رہے ہیں۔ بی جے پی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ اب ہم کرن بیدی جیسی شخصیت کو ہی دیکھیں۔ انہیں پارٹی میں لینا ٹھیک ہے، ٹکٹ دینا بھی ٹھیک ہے، لیکن وزیر اعلیٰ کے طو رپر ان کا پروجیکشن کرنا تو حد ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جن اعلیٰ معیاروں پر بی جے پی خود کو بتا رہی تھی، اس کا زوال ہوا ہے۔ لیکن جیسا کہ میرے ان دوست نے مجھ سے کہا کہ اقتدار میں آنے کے لیے یہی ایک راستہ بچا تھا۔ اگر وہ اپنی آئڈیالوجی سے بہکتے رہے اور ایسے چہرے کو پروجیکٹ کرتے رہے، جو عوام کو قبول نہ ہو، تو پھر ان کے لیے ان ریاستوں میں آنا مشکل ہو جائے گا، جہاں وہ ابھی نہیں ہیں۔ اگلے کچھ ہفتوں میں معلوم ہو جائے گا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔
ایک اور بات انہوں نے کہی کہ کجریوال ابھی بھی مضبوط ہیں اور بی جے پی کو دہلی میں سرکار بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں (جن سے میں نے بات کی)، جو سرگرم سیاست میں نہیں ہیں اور نہ ہی یہ بی جے پی کا حصہ ہیں، بلکہ یہ سنگھ سے جڑے لوگ ہیں اور اس لیے ایک غیر جانبدارانہ رائے دے سکتے ہیں۔

Share Article

One thought on “بی جے پی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *