بی جے پی وَن مین شو بن گئی ہے

Share Article

آخر کار این ڈی اے اور بی جے پی نے اس طرح کی سیاست کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا جسے ہم ہندوستان میں دیکھتے آئے ہیں۔ فی الحال انہوں نے اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے مخالف خیمے کے اراکین اسمبلی کو توڑنے کا کھیل شروع کر دیا ہے۔ یہ کھیل اروناچل پردیش میں کامیابی کے ساتھ کھیلا گیا۔ اب اتراکھنڈ پر نظر ہے۔ دراصل، اس میں دو مسئلے ہیں۔ پہلا، اگر بی جے پی نے یہ سمجھ لیاہے کہ ہندوستانی جمہوریت کے کام کرنے کا یہی طریقہ ہے، تو اس نے دلی میں ایسا کیوں نہیں کیا؟ جبکہ وہاں اس کے پاس 31ایم ایل اے تھے اور حکومت سازی کے لئے صرف پانچ ایم ایل اے کی ضرورت تھی۔ اگر بی جے پی دلی میں ایسا کرکے سرکار بنا لی ہوتی، تو کجریوال کا کہیں نام و نشان نہیں ہوتا۔ ایسا کرنے کے بجائے اس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ ہم سب سے الگ (اچھی) پارٹی ہیں۔ ہم کسی دوسری پارٹی میں توڑ پھوڑ نہیں کریںگے۔ ہم چنائو لڑیں گے۔ دراصل انہوں نے اعلیٰ مثال پیش کرنے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کجریوال نے ان کا صفایا کر دیا۔ بہار میں بیشک چنائو اپنے وقت پر ہورہے تھے، جو ٹھیک ہے۔

انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اپوزیشن سے لوگوں کو توڑ کر حکومت بنانا عوام کو پسند نہیں ہے۔ بہرحال ، نارتھ ایسٹ کی ریاستیں کمزور ہیںاور انہیں مرکزی سرکار پر منحصر رہنا پڑتا ہے، خواہ جو بھی پارٹی برسراقتدار ہو۔ لہٰذا، جب این ڈی اے /بی جے پی مرکز میںبرسراقتدار ہیں تو نارتھ ایسٹ کی تمام ریاستیں ان کی جھولی میں آجائیں گی۔ آپ آسانی سے وہاں حکومت گرا سکتے ہیں اور اپنی حکومت بنا سکتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے سے آپ کی پارٹی مضبوط نہیں ہوگی ۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ تعداد میں ریاستوں میں آپ کی حکومت آپ کو مضبوط کرے گی، تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ کیونکہ بڑی ریاستوں میں عوام کے درمیان مقبولیت اہم ہوتی ہے۔
اترا کھنڈ میں کچھ بہت ہی برا ہوا ہے۔ کیونکہ اگرپیر کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنی ہے، تو آپ اتوار کو صدر راج نافذ کر دیتے ہیں،تو اسے اخلاقی، قانونی، اور آئینی طور پر ایکبھونڈا فیصلہ تصور کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کا سیشن جاری تھا۔ یہ سیشن کے درمیان کا وقت تھا۔ آپ نے صدر راج نافذ کر کے ان کا بجٹ پاس کرنے کے لیے پارلیمنٹ ملتوی (پروروگ) کر دیا تاکہ آرڈیننس جاری کیا جاسکے۔ یہ بھونڈے پن کی انتہا ہے۔ ہندوستان پر حکومت کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہو سکتا۔ مجھے وزیراعظم کے صلاح کار پر افسوس ہورہا ہے کہ وہ اچھی صلا ح نہیں دے سکتے۔
ہر پارٹی، دوسری پارٹی کو توڑتی ہے، اس لیے آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ کام آپ ابھی کر رہے ہیں تو آپ نے دلی میں حکومت کیوں نہیں بنائی۔دلی الیکشن میں آپ نے کرن بیدی ، جو ایک آؤٹ سائڈر تھیں، کو وزیراعلیٰ کے امیدوار کے طورپر پروجیکٹ کیا۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ بی جے پی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ ایسا لگتا ہے وہاںکوئی فیصلہ لینے سے پہلے اس پر زیادہ غور فکر نہیں ہور ہی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اڈوانی، واجپائی، جسونت سنگھ، مرلی منوہر جوشی جیسے لوگوں کے پاس مسائل سے نمٹنے کا اپنا ایک طریقہ تھا۔ اب تو لگتا ہے کہ یہ وَن مین شو بن گیا ہے ، اگر آپ چاہیں تو اس میں امت شاہ کا نا م بھی شامل کر سکتے ہیں۔
وہ بی جے پی کی آگے کی حکمت عملی تیار کرنے سے قاصر ہیں۔ امت شاہ خطاب میں کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کو بی جے پی کو پچیس سالوں تک منتخب کرنے کے لئے اپنا من بنا لینا چاہیے۔وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہندوستان کوئی ایسا ملک نہیں ہے جو کل پیدا ہوا ہو۔ اس کی تاریخ قدیم ہے، اس کی تہذیب پرانی ہے۔ اسے سمجھے بغیر ہندوستان پر حکومت کرنا ناممکن ہے۔ آپ الیکشن جیت کر حکومت بنا سکتے ہیں، جیسا کہ آپ نے کیا۔ اس کے بعد دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے ، جو بہت حوصلہ افزا نہیں ہے۔ اس لیے پہلی بات جس پر انہیں نظر ثانی کرنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ان کی آئندہ کی حکمت عملی کیا ہو۔ جب ان کی تنقید ہوتی ہے تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ کانگریس نے بھی ایسا کیا ہے۔ تو سوال یہ اٹھ سکتا ہے کہ کیا وہ کانگریس کی خراب نقل ہیں۔ او راس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کانگریس کی عزت افزائی کر رہے ہیں۔
دوسرا مدعا۔ کشمیرمیں کیا ہورہاہے؟ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ جو بھارت ماتا کی جے نہیں بولے گا وہ ملک کا غدرار ہے۔ یہ بے معنی بات ہے۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس جے ہند بولا کرتے تھے۔ نیتاجی بوس ان کے بھی پسندیدہ رہنما ہیں۔ انڈین نیشنل آرمی کو انہوں نے آزاد ہند فوج کا نام دیا تھا۔ انہوں نے اردو کا استعمال کیا تھا۔ ہندی میں سوتنتر بھارت سینا نہیں کہا تھا۔ جے ہند کا نعرہ بھی انہوں نے ہی دیا تھا، جسے کانگریس نے اپنایا ہے۔ اگر بی جے پی بھارت ماتا کی جے کہتی ہے تو اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ لیکن چونکہ آج آپ اقتدار میں ہیں،تو آپ یہ نہیںکہہ سکتے کہ ہر ایک شخص کو بھارت ماتا کی جے کہنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ کل کو کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو وہ بھی کہنے لگے کہ سب کو جے ہند کہنا ہی پڑے گا۔ یہ کیسی بچکانی منطق ہے۔ یہ ا حمقانہ عمل ہے۔
ایک دوسری انتہا پسند پارٹی پی ڈی پی کے ساتھ مل کر کشمیر میں سرکار بنانا بھی احمقانہ فیصلہ تھا۔ دراصل یہ خود غرضی کی سیاست ہے۔ کیونکہ پی ڈی پی نے اپنے انتخابی منشور میں کہا تھا کہ افضل گرو کی پھانسی غلط تھی۔ آپ ایسی پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ آپ وہاں پیسے کی لوٹ میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ آپ اپنی قلعی ایسے کھول رہے ہیں، جیسی کانگریس نے بھی نہیں کھولی تھی۔ آپ کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ چند وزارتیں لے کر یا محبوبہ مفتی کو وزیر اعلیٰ بنا کر آپ کشمیر یا کشمیری عوام کے لیے کچھ اچھا نہیں کر سکتے۔ یہ اقتدار کا کھیل ہے۔ انتخابی نتیجوں نے معلق اسمبلی کا فیصلہ دیا اور آپ نے پی ڈی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔ لیکن نتیجے آپ کے سامنے ہیں۔ کشمیر میں طالب علمو ں کے مسئلے کو سلجھا نے کے لیے آپ کیوں نہیںگئے؟ آپ نے پولیس کو کیوں بھیجا؟ اگر پولیس اور فوج ہندوستان میں گورننس کے لیے ذمہ دار ہیں تو انتخاب اور سیاست کی کیا ضرورت ہے؟ جمہوریت ختم ہوگئی ! ملک کے ہر کونے میں پولیس اپنا کام کر رہی ہے۔ اچھی، بری، لا تعلق، چاہے جیسی بھی ہو۔ پولیس مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی، فوج مسئلے کا حل نہیں ہوسکتی، مسئلے کا حل وہ رہنما ہوگا جسے عوام منتخب کریںگے۔
کشمیر میں وہ خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، جس کی وجہ سے کشمیریوں میں علیحدگی کے جذبے میں اضافہ ہوگا۔ دراصل کشمیر مسئلہ کا مثالی حل یہ ہوگا کہ کشمیر اسمبلی انتخابات میں صرف کشمیری پارٹیوں کو یا آزاد امیدواروں کوالیکشنلڑنے دیا جائے۔ نہ کانگر یس لڑے اور نہ بی جے پی۔ اگر کشمیرسے باہر کی پارٹیاں یہاں الیکشن نہیں لڑتی ہیں تو کیا نقصان ہو جائے گا؟کچھ بھی نہیں۔وہیں کی پارٹیوں میں جو بھی جیتے گا اس کا وزیراعلیٰ ہوگا۔ یہ آئین کے مطابق ہوگا اور اس وجہ سے کشمیریوں کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوگی کہ وہ اپنے رہنما کا انتخاب وہ خود کر رہے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ یہا ں وہ اپنا رہنما منتخب کرتے ہیںلیکن حکومت دلی میں بنتی ہے۔ جیسا کہ شریمتی اندرا گاندھی نے 1983-84میں کیا، جس کا خمیازہ ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ گزشتہ 30-32سالوں سے کشمیر کو پاکستان کی وجہ سے تکلیف نہیں اٹھانی پڑی ہے، بلکہ فاروق عبداللہ کی حکومت کو ہم نے چلنے نہیں دیا۔ آدھی رات کو ان کی حکومت برطرف کر دی گئی اور جی ایم شاہ کی کٹھ پتلی حکومت بٹھا دی گئی ۔ کشمیر کے عوام کو یہ پیغام دیا گیا کہ دلی انہیں اپنا رہنما منتخب کرنے نہیں دے گی۔یہ سب بند ہونا چاہیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ سرکار کے صلاح کار کون ہیں۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ میں ایسا کچھ بھی نہیں کہہ رہا ہوں جو بہت انوکھا ہو۔ یہ باتیں ہر شخص کو معلوم ہیں۔ لیکن جو لوگ بی جے پی کو چلا رہے ہیںیا جن کے پاس اقتدار ہے انہیںتحمل سے کام لینا چاہیے۔
جب ایسی بظاہر معمولی چیزیں صحیح طریقے سے عمل میں نہیں لائی جا سکتیں تو آپ حکومت سے چین یا پاکستان یا سفارت کاری یا بین الاقوامی تعلقات میں کسی معجزہ کی امید کیسے کر سکتے ہیں؟ یہاں میں یہ ضرور کہوںگا کہ وہ اپنی صلاحیت کے لحاظ سے صحیح کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم سعودی عرب اور ایران سے رشتے سدھارنے کی پہل کر رہے ہیں، جو ٹھیک ہے۔ لیکن پاکستان ایک مسئلہ ہے اور وہ مسئلہ ہی رہے گا۔ ابھی اس نے اپنی جوائنٹ انوسٹی گیٹیو ٹیم یہاں بھیجی ہے، اور وہ ایسا ظاہر کر رہے ہیں کہ جیسے انہیں یہاں کوئی ثبوت ہی نہیں ملا۔وہ یہ بھی شکایت کر رہے ہیںکہ انہیں تفیش کے لیے صرف 55 منٹ کا وقت دیا گیا۔ اس سے کچھ بھی حل نہیں ہوگا۔ یشونت سنہا اور دوسرے لوگوں کی طرف سے یہ مشورہ آیا ہے کہ ہمیں پاکستان سے بات چیت بند کر دینی چاہیے، جو مجھے ٹھیک لگتا ہے۔ چیزوں کو ٹھنڈا ہونے دیا جائے تھوڑا انتظار کیا جائے۔ کیوں کہ اس معاملے میں بہت سارے متبادل نہیں ہیں۔ اگر دو پڑوسی ملک خوشحال ہونا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے رشتے اچھے کرنے ہوںگے۔ لیکن جس طرح وہ آگے بڑھ رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے۔
ہمیں امید کرنی چاہیے کہ حکومت کچھ ٹھوس حکمت عملی لے کر سامنے آئے گی۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ ایک نئی طرح کی گورننس دے پاتی ہے یا صر ف کانگریس کی نقل کرنا چاہتی ہے۔ ایسے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ ہر پانچ سال کے بعدانتخابات ہوںگے۔ کوئی جیتے گا کوئی ہارے گا۔ اس میں ملک کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔ اگر ہاف پینٹ پہننے یا بھارت ماتا کی جے بولنے سے آر ایس ایس یہ سوچ رہا ہے کہ وہ ملک میں ایک نیا رجحان قائم کر رہا ہے ، تو اس سے بہت امید نہیں کی جا سکتی ، کیونکہ اس سے مسئلے کا حل نہیں ہو گا۔ جے این یو کے طالب علم۔ طالب علم تو آخر طالب علم ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی آئی اے ایس بنتا ہے، کوئی ریسرچ اسکالر بنتا ہے کوئی پروفیسر بنتا ہے، لیکن وہاں پولیس بھیج کر آپ ایک اسٹوڈنٹ لیڈر کو بڑا لیڈر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کس لیے؟ اس سے کون سا مقصد پورا ہوجائے گا؟ مجھے لگتا ہے کہ ان سبھی باتوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پر جتنا جلد غورو فکر ہوگا اتنا ہی بہتر ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *