بی جے پی ممبر اسمبلی وجے ورگیہ کی نگرنگم افسر کے ساتھ مارپیٹ

Share Article

بارش سے پہلے ایک خستہ حالعمارت گرانے پہنچے نگرنگم کے عملے کو بھاری مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی لوگوں کے ساتھ رکن اسمبلی آکاش وجے ورگیہ نے بھی میونسپل ملازمین کو کارروائی کرنے سے روکا۔ کارپوریشن کے اہلکاروں کے نہیں ماننے پر ممبر اسمبلی آپا کھو بیٹھے اور بیٹ اٹھا کر میونسپل کے ایک افسر کی پٹائی کر دی۔ فی الحال اس واقعہ کے خلاف میونسپل ملازمین نے جہاں ایم جی روڈ تھانے کا گھیراؤ کیا، وہیں بی جے پی کے کارکن بھی تھانے پہنچ گئے اور ممبر اسمبلی کی حمایت میں نعرے بازی کرنے لگے۔

 

Image result for BJP MLA Vijay beatings

اندور میونسپل کا عملہ بدھ کی صبح گنجی کمپاؤنڈ واقع ایکخستہ حال عمارت کو گرانے کے لییجے سی بی اور پورکلین مشینوں کے ساتھ پہنچا تھا لیکن کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی مقامی لوگوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی ۔ جیسے ہی اس کی اطلاع ممبر اسمبلی آکاش وجے ورگیہ کو لگی، وہ بھی گنجی کمپاؤنڈ پہنچ گئے۔ انہوں نے میونسپل حکام سے عمارت میں رہ رہے لوگوں کو کچھ دنوں کی مہلت دیے جانے کی بات کہی لیکن جب میونسپل آفیسر بلڈنگ گرانے کے اپنے رویہ پر قائم رہے تو ممبر اسمبلی وجے ورگیہ سے ان کی بحث ہو گئی۔ ممبر اسمبلی وجے ورگیہ اپنا آپا کھو بیٹھے اور ہاتھ میں بیٹ لے کر نگرنگم افسر کی پٹائی کر دی۔ اس کے بعد مقامی لوگوں نے میونسپل عملے کو وہاں سے نکال دیا۔ اس سے مشتعل کارپوریشن اہلکاروں نے ملزمین کے خلاف کارروائی کئے جانے کو لے کر ایم جی روڈ تھانے کا گھیراؤ شروع کر دیا۔

Image result for BJP MLA Vijay beatings

ا اس واقعہ کے بارے میں رکن اسمبلی آکاش وجے ورگیہ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ نگرنگم کے عملے میں کوئی خاتون اہلکارنہیں تھی۔ ٹیم میں شامل مرد افسر بلڈنگ میں رہنے والی خواتین کو گھسیٹ کر باہر کر رہے تھے۔ اسی لیے بھیڑ بے قابو ہو گئی تھی۔ وہیںریاستی کانگریس نے اس واقعہ کو لے کر بی جے پی پر تیکھے حملے کئے ہیں۔ ریاستی کانگریس کے میڈیا انچارج کے کے مشرا نے کہا ہے کہ اس واقعہ کے بعدریاستی بی جے پی صدر راکیشسنگھ کو یہ بتانا چاہیے کہ مدھیہ پردیش کو بنگال کون بنا رہا ہے؟ افراتفری کمل ناتھ حکومت پیدا کر رہی ہے یا بی جے پی کے کارکن اور رکن اسمبلی کر رہے ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *