nand-kishore-gurjar
گوروگرام کے بعد اب دہلی سے ملحق غازی آباد میں بھی بی جے پی ممبر اسمبلی نے نوراتری کے دوران گوشت کی دکانوں کو بند کرنے کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔یہ فرمان غازی آباد کے لونی سے بی جے پی ممبر اسمبلی نند کشور گوجر نے جاری کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے جو اپنی دکانیں بند نہیں کریں گے وہ ان پر غداری (ملک مخالف)کا مقدمہ درج کرائیں گے اور ان کے کارکنان ایسے لوگوں سے اپنے اسٹائل میں نپٹیں گے۔ BJP ممبر اسمبلی نے ہفتہ کی رات کو مندروں کے پاس موجود گوشت کی دکانیں بند کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ نوراتری کے دوران اس طرح گوشت کی دکانیں کھولنا ’ملک سے بغاوت‘ ہے۔
لونی سے بی جے پی ممبر اسمبلی نند کشور گوجر نے کہا، ’’ لونی میں مندروں کے قریب گوشت کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ یہ غیر قانونی ہے اورملک مخالف کے زمرے میں آتا ہے۔ مقامی حکام کی ملی بھگت کے بغیر یہ ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔‘‘ وہیں، غازی آباد کے ایس ایس پی ،یوکے اگروال کا کہنا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں کوئی شکایت نہیں ملی ہے۔
اس سے پہلے بی جے پی حکومت ہریانہ کے گوروگرام میں بھی ہندو سینا کے مبینہ کارکنوں نے تلواروں کے زور پر قریب 12 گوشت کی دکانیں بند کروا دی تھیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں ہندو سینا کے کارکنان ہاتھو ں میں تلوار، لاٹھی ڈنڈے سے لیس ہوکر نوراتری پر گوشت کی فروخت کی مخالفت کر رہے تھے۔ کارکنوں نے ڈونڈاہیڑا، سرہول، مولاہیڑا، گڑگاؤں گاؤں، راجندرا پارک، بیہرام پور، کادی پور وغیرہ جگہوں پر گوشت کی دکانوں کو بند کروایا۔ اس کی وجہ سے کچھ مقامات پر ان کی خریداروں سے جھڑپ بھی ہوئی تھی۔
معاملہ سامنے آنے کے بعد گروگرام کے ڈپٹی کمشنر امت کھتری نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جن لوگوں نے قانون توڑا، پولیس ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here