2014 میں بی جے پی نے کئے تھے 346 وعدے، 229 وعدے نہیں ہوئے پورے، صرف 117 وعدوں پر ہوا ہے کام

Share Article
bjp

لوک سبھا انتخابات کے بعد دوبارہ اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ رہی بی جے پی نے اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا ہے۔ جس میں بی جے پی 75 بڑے قراردادوں کے ساتھ انتخابات میں جا رہی ہے۔ لیکن اگر بی جے پی کے 2014 کے منشور کو دیکھیں اور 2014 میں اقتدار میں آنے سے پہلے بی جے پی کی طرف سے کئے گئے وعدوں کی فہرست پر اگر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت بی جے پی نے اپنے منشور میں 346 وعدے باشندگان وطن سے کئے تھے۔جن میں سے صرف 117 وعدے ہی پورے کئے گئے ہیں یعنی 229 وعدے اب تک پورے نہیں کئے گئے۔
BJP-Leaders

انہی 346 وعدوں کے بل پر نریندر مودی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) نے 2014 کے عام انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائی تھی۔ چند ماہ پہلے حکومت اپنے پانچ سال پورے کئے، ایسے میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے منشور میں جو وعدے کئے تھے، اس پر نظر دوڑاتے ہیں۔

2014 کی انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی نے اپنے منشور میں 346 وعدے کئے تھے۔ منشور کے کچھ وعدے صورتحال میں سدھارکئے تھے جن کااندازہ مشکل ہے اور کچھ میں ٹھوس تعداد بتائی گئی تھی جس کا اندازہ آسان ہے۔ ہم نے اس سال ہونے والے عام انتخابات سے پہلے ان تمام وعدوں کی پڑتال کی اور پیش رفت یا اس کی کمی کو انداز کرنے کی کوشش کی ہے۔ 2014 کے بی جے پی کے منشور میں کئے گئے وعدوں کو لے کر ہوئی ترقی کو اندازہ کرنے کے لئے ہم نے تین کیٹیگری بنائی ہے۔جس میں کام پورا: یعنی منشور کے وہ وعدے جو پورے ہو گئے ہیں۔ دوسرا کام جاری: یعنی وہ وعدے جن کولے کر حکومت نے کچھ کام کیا ہے، لیکن ابھی کام مکمل نہیں ہوا ہے اور تیسرا کوئی کام نہیں: یعنی وہ وعدے جن کولے کر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس میں وہ وعدے بھی شامل ہیں جن میں حکومت نے تجویز پیش کی لیکن سپریم کورٹ اور دیگر اعلی اداروں کی وجہ سے حکومت کو قدم پیچھے ہٹانے پڑے۔
bjp2019

کام پورا۔ 117
کام جاری 190
کوئی کام نہیں۔ 39

یعنی مجموعی طور جن وعدوں پر بالکل کام نہیں ہوا ایسے کل 39 وعدے ہیں، لیکن یہاں آپ کو یہ بتانا ضروری ہے کہ جن 190 وعدوں پر کام جاری ہے وہ بھی ابتدائی دور میں ہیں یعنی صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے تو بی جے پی کے کل 346 وعدوں میں سے صرف 117 وعدے ہی پورے کئے گئے ہیں۔

BJP-Manifesto
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *