مغربی بنگال کے آئی پی ایس راجیو کمار نے سی بی آئی کی جانب سے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرنے کی عرضی پر سپریم کورٹ میں جواب داخل کیا ہے۔ راجیو کمار نے کہا ہے کہ بی جے پی لیڈروں مکل رائے اور کیلاش وجے ورگیہ کے اشارے پر ان کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ راجیو کمار نے اپنے دعویٰ کی حمایت میں آڈیو کلپس بھی سپریم کورٹ کو سونپی ہے۔ کورٹ اس معاملے پر اگلی سماعت 22 اپریل کو کرے گا۔15 اپریل کو سماعت کے دوران راجیو کمار کی جانب سے سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا تھا کہ ہفتہ کو عدالت کی رجسٹری بند تھی، جس کی وجہ سے جوابی حلف نامہ داخل نہیں ہو پایا۔ اس کے بعد کورٹ نے 22 اپریل کو سماعت کرنے کا حکم دیا۔آٹھ اپریل کوعدالت نے راجیو کمار کو نوٹس جاری کیا تھا۔ سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا تھا کہ اگر ہمیں ضروری لگا تو ہم گرفتاری پر لگی روک ہٹا دیں گے۔
 
Image result for BJP leaders are indicators of the action, the Supreme Court Rajiv Kumar debut
 
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے راجیو کمار کی اس عرضی کو مسترد کر دیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سی بی آئی کے تمام دستاویزات پر سی بی آئی ڈائریکٹر خود دستخط کریں۔ دراصل سی بی آئی نے عرضی دائر کر کے کہا ہے کہ راجیو کمار نے ایس آئی ٹی سربراہ رہتے ہوئے بڑے لوگوں کو بچایا اور ثبوت تباہ کئے۔ سی بی آئی نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ راجیو کمار نے شیلانگ میں ہوئی تفتیش میں تعاون نہیں کیا۔سی بی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ راجیو کمار کو گرفتار کرنے پر لگائی گئی عبوری روک کو ہٹا لے۔
 
26 مارچ کو مغربی بنگال کے آئی پی ایس راجیو کمار سے پوچھ گچھ پر سی بی آئی کی سیل بند رپورٹ دیکھ کر چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا تھا کہ اس میں درج باتیں انتہائی سنجیدہ ہیں۔عدالت نے کہا تھا کہ رپورٹ سیل بند ہے، تو اب کوئی حکم نہیں دے رہے ہیں۔ سی بی آئی چاہے تو 10 دن میں مناسب درخواست داخل کرے۔اس کے بعد راجیو کمار 10 دن میں جواب داخل کر سکتے ہیں۔ عدالت کے اسی فیصلے کے بعد سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here