بی جے پی کا متبادل جنتا پریوار ہے

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
mastآزادی سے پہلے اور آزادی کے 45 سالوں بعد تک ملک میں ایک ہی پارٹی کا غلبہ رہا۔ کانگریس اکیلی پارٹی تھی، جس کا دبدبہ ریاستوں اور مرکز میں رہا۔ استثنیٰ کے طور پر درمیان میں ایک بار 70 کی دہائی میں جنتا پارٹی اور پھر وی پی سنگھ کی قیادت والی نیشنل فرنٹ کی سرکار آئی، لیکن وہ اپنی مدتِ کار پوری نہیں کر سکی۔ سماجی ترقی اور خود مختاری حاصل کرنے کی جدوجہد کے بعد، ہندوستان کی سیاست بڑی مشکل سے ایک پارٹی کے غلبہ سے باہر نکلی۔ کسی ایک پارٹی کا غلبہ کسی بھی جمہوریت کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ صحت مند جمہوریت کے لیے یہ ضروری ہے کہ مستحکم سرکار کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط اپوزیشن بھی ہو، جو برسر اقتدار پارٹی کو الیکشن میں پٹخنی دینے کی قوت رکھتی ہو۔ جمہوریت میں برسر اقتدار پارٹی کا متبادل عوام کے پاس ہمیشہ موجود رہنا چاہیے۔ عوام کو اپوزیشن پر لازمی طور سے یہ بھروسہ ہونا چاہیے کہ اگر برسر اقتدار پارٹی سرکار چلانے میں فیل ہو جائے، تو دوسری پارٹی اور لیڈر اس ذمہ داری کو اٹھا سکتے ہیں۔ اگر برسر اقتدار پارٹی اور اپوزیشن میں نظریاتی اختلاف ہو اور پالیسیوں کو لے کر اصولی بنیاد پر مخالفت ہو، تو جمہوریت نہ صرف مضبوط ہوتی ہے، بلکہ سماجی اور سیاسی ترقی کے لیے امرت بن جاتی ہے۔ سیاسی و سماجی ترقی کا راستہ اصول و نظریات سے طے ہوتا ہے، جس پر میٹریل ازم چہل قدمی کرتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ مستحکم سرکار اور مضبوط قیادت کے ساتھ ساتھ با صلاحیت اپوزیشن، بڑی پارٹیوں میں نظریاتی اختلاف، پالیسیوں کی اصول کی بنیاد پر مخالفت، اقتدار کی تبدیلی کا موقع، بیدار میڈیا، متحرک سول سوسائٹی، اور اقتدار کے باہر قابل اعتبار لیڈروں کی موجودگی صحت مند جمہوریت کی نشانی ہے۔ ہندوستان میں جمہوریت کے ان بنیادی عناصر میں سے کچھ موجود ہیں اور کچھ ندارد۔ ملک میں جمہوریت کو دائم و قائم رکھنے کی ذمہ داری سیاسی پارٹیوں کی ہے، اس لیے جو بنیادی عناصر موجود نہیں ہیں، ان کی ذمہ داری بھی سیاسی پارٹیوں کی ہی ہے۔
2014 میں نریندر مودی کو اکثریت دے کر ملک کے عوام نے مرکز میں ایک مضبوط اور مستحکم سرکار قائم کی۔ رائے عامہ ایسی تھی کہ کسی بھی پارٹی کو اتنی سیٹیں نہیں ملیں، جس سے اسے اپوزیشن پارٹی یا حزبِ مخالف قرار دیا جاسکے۔ اس کے بعد چند ریاستوں میں انتخابات ہوئے۔ ان ریاستوں میں جو نتیجے آئے، وہ بھی لوک سبھا کی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کے کھاتے میں چلے گئے۔ اس سے ایک خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ہندوستان کی سیاست پھر سے اسی ایک پارٹی کے غلبہ والی راہ پر مڑ گئی ہے، جس سے کافی مشقت کے بعد پیچھا چھوٹا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جس طرح سے ہر ریاست میں پھیل رہی ہے، اس سے ایک پارٹی کے غلبہ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ خطرہ اس لیے بھی پیدا ہوگیا، کیوں کہ دس سالوں کی یو پی اے حکومت کے دوران جس طرح سے بدعنوانی اور گھوٹالے ہوئے، اداروں کی ساکھ ختم کی گئی، اس سے کانگریس پارٹی عوام کی نظروں میں گر گئی۔ لوگوں میں اس قدر ناراضگی ہے کہ نہ صرف لوک سبھا میں، بلکہ ہر ریاست میں وہ کانگریس پارٹی کو سزا دینے لگے۔ آج کانگریس کی حالت یہ ہے کہ کرناٹک کو چھوڑ کر وہ ہر بڑی ریاست میں اقتدار سے باہر ہو گئی۔ ہندی ہارٹ لینڈ میں کانگریس تقریباً ختم ہو گئی۔ کانگریس کا مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ رائے عامہ اس کے خلاف ہو گئی ہے، اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ راہل گاندھی کچھ ہی دنوں میں کانگریس کے صدر بننے والے ہیں اور ان کی شبیہ ایک کمزور اور غیر مطلوبہ لیڈر کی ہو گئی ہے۔ ویسے بھی جو شخص بجٹ اجلاس جیسے اہم وقت میں ملک سے غائب ہو جائے، اس پر لوگ کیسے بھروسہ کریں گے۔ جب ملک میں تحویل اراضی بل کے خلاف کسان تحریکیں چلا رہے ہوں، بے موسم بارش کی وجہ سے کسان خود کشی کر رہے ہوں اور تب ایک لیڈر چھٹیاں منا رہا ہو، تو پھر لوگوں کا بھروسہ اٹھنا لازمی ہے۔ کانگریس کا جتنا نقصان الیکشن ہارنے سے نہیں ہوا، اس سے زیادہ بڑا جھٹکا راہل گاندھی کے غائب ہو جانے سے لگا ہے۔ اسی طرح کے برتاؤ کی وجہ سے لوگوں کا بھروسہ کانگریس اور راہل گاندھی سے اٹھ چکا ہے۔ حال تو یہ ہے کہ کانگریس کے لیڈروں اور کارکنوں کو ہی وہ ایک بوجھ لگنے لگے ہیں۔ کانگریس کے اندر اب پرینکا واڈرا کو میدان میں اتارنے کی مانگ اٹھنے لگی ہے۔ انھیں وجوہات سے لوگوں کو لگنے لگا ہے کہ راہل گاندھی کسی بھی حالت میں وزیر اعظم نریندر مودی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لوگوں نے اب یہ مان لیا ہے کہ راہل گاندھی میں نریندر مودی کا متبادل بننے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اس لیے اپوزیشن کے نام پر ملک میں خلاء اور خالی پن محسوس ہونے لگا ہے۔
دہلی کے اسمبلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کی جیت کے بعد کئی لوگوں کو یہ لگا کہ اروِند کجریوال 2019 میں ایک متبادل کی شکل میں کھڑے ہو سکتے ہیں، لیکن پچھلے ایک مہینہ سے جس طرح سے خبریں آ رہی ہیں اور عام آدمی پارٹی کے اندر جو خانہ جنگی چل رہی ہے، اس سے یہ امید بھی ختم ہو گئی۔ کجریوال نہ ڈھنگ سے پارٹی چلا پا رہے ہیں اور نہ سرکار چلا پا رہے ہیں۔ بدعنوانی مخالف تحریک اور لوک پال کے مدعے پر وجود میں آئی عام آدمی پارٹی ایک آئڈیالوجی اور اصولوں سے عاری پارٹی بن کر سیاست کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کجریوال دہلی جیسی چھوٹی اور کم ذمہ داری والی ریاست کو ایک اچھی سرکار دینے میں الجھ گئے ہیں۔ پوری پارٹی کا دل، دماغ اور طاقت دہلی پر مرکوز ہے، پھر بھی کوئی نتیجہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اروِند کجریوال کے کام کرنے کا انداز ایک علاقائی خاندانی پارٹی کے لیڈر جیسا ہے، اس لیے دو سالوں کے اندر ہی پارٹی کے اندر ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی ہے۔ زیادہ تر بانی رکن پارٹی سے باہر جا چکے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے اُمیش سنگھ کے اسٹنگ آپریشن سے کجریوال کی شبیہ کو کافی نقصان ہوا ہے۔ ہر ریاست میں پارٹی دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔ اس لیے عام آدمی پارٹی کے پورے ملک میں بی جے پی سے مقابلہ کرنے کی حالت میں آنے کا امکان نہ کے برابر ہے۔ کجریوال زیادہ سے زیادہ دہلی کو اچھی سرکار دے سکیں، یہی ان کی کامیابی مانی جائے گی۔
موجودہ صورتِ حال میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کانگریس پارٹی یا عام آدمی پارٹی نہ تو بھارتیہ جنتا پارٹی کا متبادل بن سکتی ہے اور نہ راہل – اروِند اس حالت میں ہیں کہ وہ مودی کو چنوتی دے سکیں۔ اِن دونوں ہی پارٹیوں کے اپنے اپنے مسائل ہیں اور حدود ہیں۔ لیکن، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان پارٹیوں میں نظریاتی طور پر یکسانیت ہے۔ یہ سبھی پارٹیاں فری مارکیٹ ایکانومی کی حامی ہیں اور لبرلائزیشن و پرائیویٹائزیشن پر مبنی اقتصادیات کے ذریعے ہی ترقی کا ماڈل پیش کرتی ہیں۔ جو فرق ہے، وہ صرف کچھ مدعوں کو لے کر الگ الگ خیالات کی وجہ سے ہے۔ اس لیے نظریاتی اور اصولی طور پر یہ متبادل پیش کرنے میں ناکام ہیں۔ ہندوستان جیسا ترقی پذیر ملک، جس کی آبادی کا اکثریتی حصہ غریب ہے، میں اقتصادی پالیسیوں اور ترقی کے ماڈل پر نظریاتی بحث نہایت ضروری ہے۔ بحث وہیں ممکن ہے، جہاں اصول و نظریات میں باہم مقابلہ آرائی ہو۔ اس لحاظ سے ملک کی سماجوادی پارٹیوں کا ایک ساتھ آنا تاریخی ٹرننگ پوائنٹ ہے اور یہ ملک کی جمہوریت کو نئی توانائی بخشنے والا واقعہ ہے۔
جنتا پریوار کے انضمام کو لے کر مہینوں سے بات چیت چل رہی تھی۔ اس انضمام میں ملائم سنگھ یادو، نتیش کمار، لالو یادو، شرد یادو، ایچ ڈی دیوے گوڑا اور کے سی تیاگی کا رول اہم ہے۔ کئی تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین نے جنتا پریوار کے انضمام کو خارج کر دیا۔ کئی لوگوں نے اسے تھرڈ فرنٹ کا ایک نیا تجربہ بتایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس انضمام کو فرنٹ کہنا ہی غلط ہے۔ ان لیڈروں نے ایک فرنٹ نہیں بنایا ہے، بلکہ ایک پارٹی بنائی ہے۔ یہ ماضی کی طرح کوئی انتخاب سے پہلے کا اتحاد نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ہندوستانی سیاست میں ایک متبادل کی شکل میں ابھرنا ہے۔ اس انضمام کے ساتھ ہی سماجوادی تحریک کو ایک قوت ملی ہے۔ دو بڑی ریاست، یعنی اتر پردیش اور بہار میں اس کی سرکاریں ہیں۔ ایچ ڈی دیوے گوڑا کے ساتھ آنے کی وجہ سے جنوبی ہندوستان میں پارٹی کی ایک مضبوط موجودگی نظر آئے گی اور انڈین نیشنل لوک دَل نے اس پارٹی کو ہریانہ کے ساتھ ساتھ دہلی اور راجستھان کے کئی علاقوں میں پہنچا دیا۔ کہنے کا مطلب یہ کہ انضمام کے پہلے دن سے ہی یہ ایک قومی پارٹی ہے۔
کچھ لوگ اس انضمام کا موازنہ تھرڈ فرنٹ سے کرتے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ملک میں تیسرا محاذ (تھرڈ فرنٹ) مرکزی اقتدار کو حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا، جب کہ یہ انضمام ملک کی کئی ریاستوں میں ایک متبادل کی شکل میں ابھر رہا ہے۔ اگلے لوک سبھا انتخابات 2019 میں ہوں گے، اس لیے یہ صاف ہے کہ سماجوادیوں کی یہ نئی پارٹی ملک میں ایک متبادل سیاست کی زمین تیار کرنے میدان میں اتری ہے۔

یہ صرف لوک سبھا میں الیکشن سے پہلے کا غیر کانگریس اور غیر بی جے پی اتحاد نہیں ہے، بلکہ کانگریس پارٹی کے کمزور ہونے کی وجہ سے جو سیاسی خلاء پیدا ہوا ہے، یہ اس پر قبضہ کرنے کی قواعد ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کی اقتصادی پالیسیوں اور سماجی ترقی کے نظریہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ نریندر مودی اور منموہن سنگھ کے ترقی کے ماڈل ایک جیسے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، وہ کانگریس کی پالیسیوں کو ہی آگے بڑھا رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بی جے پی کے کام کرنے کا طریقہ زیادہ شفاف اور تیز رفتار ہے۔ مثال کے طور پر کول بلاک الاٹمنٹ کو دیکھئے۔ کانگریس اور بی جے پی میں فرق صرف الاٹمنٹ کے طریقے کو لے کر ہے۔ کانگریس پارٹی نے وزارت میں کول بلاکس پرائیویٹ کمپنیوں کو دے دیے، وہیں بی جے پی نے نیلامی کے ذریعے کول بلاکس پرائیویٹ کمپنیوں کو دیے۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ قومی اثاثہ کو نجی ہاتھوں میں دے کر ہم پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ کیوں پہنچا رہے ہیں؟ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نیو – لبرل اقتصادی پالیسیوں سے صرف امیروں کا فائدہ ہوتا ہے، بڑی بڑی کمپنیو ںکو فائدہ ہوتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں نیو – لبرل اقتصادی پالیسیوں سے غریبوں کو فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ ملک میں لڑائی نیو – لبرل نظام کو لے کر ہونی چاہیے۔ ایک طرف وہ پارٹیاں ہیں، جو نیو- لبرل ازم کی حمایت کرتی ہیں اور دوسری طرف اسے غریب مخالف اور عوام مخالف نظام ماننے والی پارٹیاں ہیں۔ دونوں کے درمیان مقابلہ آرائی کی ضرورت ہے۔ جب تک اِن مدعوں پر باہم مخالف نظریات کے درمیان بحث نہیں ہوگی، تب تک عام لوگوں اور غریبوں کا بھلا نہیں ہوگا۔
جہاں تک بات انتخابی سیاست کی ہے، تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظر بہار اور اتر پردیش پر لگی ہوئی ہے۔ بی جے پی اِن دونوں ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات جیت کر غیر مفتوحہ بننے کے لیے بے تاب ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں جیت کا مطلب ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کا پورے ہندی ہارٹ لینڈ پر قبضہ۔ اس سے ایک بار پھر سے ملک کی سیاست کے ایک پارٹی کے غلبہ کے دور میں پھسلنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ جنتا پریوار کی پہلی چنوتی یہی ہوگی کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا ’وِجے رتھ‘ بہار میں روکے۔ بہار میں حال میں ہی ہوئے ضمنی انتخاب کے نتیجوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر جنتا پریوار متحد ہو کر لڑے، تو بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے مشکلیں کھڑی ہو جائیں گی۔ بہار میں ہوا ضمنی انتخاب لالو یادو اور نتیش کمار نے متحد ہو کر بی جے پی کے خلاف لڑا تھا اور وہ 10 میں سے 6 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ مطلب یہ کہ جنتا پریوار کی پہلی چنوتی بہار الیکشن ہے۔ اس میں اگر نتیش کمار کامیاب ہو جاتے ہیں، تو اس سے نہ صرف بی جے پی کا ’وِجے رتھ‘ رکے گا، بلکہ جنتا پریوار ملک کے سامنے ایک متبادل کی شکل میں ابھر جائے گا۔
بہار جیتنے کے لیے جنتا پریوار کے لیڈروں کو کافی مشقت کرنی پڑے گی۔ بہار میں جنتا پریوار کے سامنے کئی چنوتیاں ہیں، جو انضمام سے پیدا ہوئے تضادات سے پیدا ہوئی ہیں۔ اِن تضادات کو ختم کرنا پہلی ذمہ داری ہوگی۔ اس کے لیے جنتا پریوار کے لیڈروں کو اپنے غرور پر قابو پانا ہوگا۔ وہ اس لیے، کیوں کہ جنتا پریوار کا مستقبل پوری طرح سے بہار اسمبلی الیکشن پر ٹکا ہوا ہے۔ بہار میں اگر جنتا پریوار ہار جاتا ہے، تو یہ انضمام بے معنی ہو جائے گا۔ جنتا پریوار کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ بہار میں نتیش کمار کے پھر سے وزیر اعلیٰ بننے سے سرکار کی ساکھ بڑھی ہے۔ مانجھی سرکار کے دوران ہوئی غلطیاں سدھارنا اور لاء اینڈ آرڈر کو درست کرنا نتیش کمار کی ترجیح ہونی چاہیے۔ اسمبلی الیکشن میں ابھی قریب چھ مہینے باقی ہیں۔ اس دوران نتیش کمار کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ گڈ گورننس کے ساتھ ساتھ بہار کو ترقی کی راہ پر آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ بہار کے عوام نے لوک سبھا الیکشن میں ذات پات سے اوپر اٹھ کر ووٹ دیا تھا۔ بہار میں جیت کی کنجی اس بار بھی یہی ہے۔ بہار میں اِس بار وہی پارٹی انتخاب جیتے گی، جو نوجوانوں اور نیوٹرل ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *