بی جے پی اور آر ایس ایس کا کانٹوں بھرا سفر

Share Article

سنتوش بھارتیہ
یہ کہانی نہ ہی تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہے اور نہ ہی اسے اپنا سیاسی چہرہ ماننے والے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس)کی ہے۔ یہ کہانی اس درد کی ہے، جسے آر ایس ایس کا سچا کارکن اور بی جے پی کا سچا کارکن گزشتہ 15سالوں سے جھیل رہاہے۔ وہ آپس میں بات کرتا ہے، افسوس ظاہر کرتا ہے، آنسو بہاتا ہے اور پھر خدا سے دعا کرتا ہے کہ کب گھڑا بھرے گا اور بی جے پی پھر سے ایک بار آرایس ایس کے نظریات پر چلے گی۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ موہن بھاگوت شاید بیدار ہوں اور کچھ کرشمہ ہو۔ آرایس ایس اور بی جے پی کے ساتھ جینے مرنے کے جذبے سے وابستہ کارکنان سے بات کرنے کے بعد بی جے پی کے زوال پذیر ہونے کی جو کہانی سامنے آئی ہے اس کی شروعات لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا سے ہوتی ہے۔
آرایس ایس کو لگا کہ وی  پی سنگھ کی پالیسیوں کے نتیجہ کے طور پر ہندوستانی معاشرہ ٹوٹ کر بکھر گیا ہے، اس لیے کچھ ایسا ہو کہ معاشرہ جڑے، آرایس ایس کی اس خواہش کو اٹل بہاری واجپئی نہیں پہچان پائے۔ پہچانا تو لال کرشن اڈوانی نے،اور انہوں نے آر ایس ایس کے سربراہ سمیت آر ایس ایس کے اہم لوگوں کے سامنے تجویز رکھی کہ وہ رام کے حوالے سے رام مندر بنانے کے ہدف کا اعلان کر کے ملک بھر کا دورہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ رام نے شبری کے بیر کھائے۔ عام آدمی کے تئیں وانر بھالوؤں کو ساتھ لے کر (جو اس وقت کے آدیواسی تھے) دہشت گردی کی علامت راون پر حملہ کیا۔ رام کا اثر لنکا، انڈونیشیا، نیپال اور ملیشیا سمیت کئی ممالک میں پایا جاتا ہے۔ آر ایس ایس کو لگا کہ اس سے ہندوستانی معاشرہ جڑے گا اور اس نے رتھ یاترا کی نہ صرف اجازت دی، بلکہ اس کی تیاری بھی کی۔ لال کرشن اڈوانی کا مقصد شاید کچھ اور تھا اور اعلان کردہ مقصد کے برعکس یاترا کچھ ہی دنوں میں مسلمانوں کے خلاف جہاد میں بدل گیا۔ پورے ملک میں ایسا ماحول بنایا جانے لگا کہ بابری مسجد شہید بھی کی جائے گی اور مسلمانوں کو سبق بھی سکھایا جائے گا۔ اس رتھ یاترانے  1947کے بعد دوسری مرتبہ ملک میں بھیانک فرقہ ورانہ تقسیم کی کوشش کی۔ وی پی سنگھ کی حکومت گری، چندر شیکھر کی حکومت بنی۔ 7مہینے کے بعد وہ بھی گری اور انتخابات ہوئے۔ راجیو گاندھی کا قتل ہوا۔ انتخابات میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور نرسمہاراؤ وزیر اعظم بنے۔ بی جے پی نے الیکشن رام مندر بنانے کے نام پر لڑا، لیکن اسے عوام نے منتخب نہیں کیا۔ نرسمہاراؤ کے دور اقتدار میں ہی بی جے پی کارکنان وشوہندو پریشد کے نام پر رام مندر بنانے کی تحریک گاؤں گاؤں چلاتے رہے۔ آخر میں اجودھیا میں کارسیوا کا اعلان کیا گیا۔ اس درمیان اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے اور اترپردیش میں کلیان سنگھ کی قیادت میں حکومت بنی۔ نرسمہاراؤ نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ سپریم کورٹ کے حکم پرعدالت میں حلف نامہ دینے کے باوجود کلیان سنگھ نے بابری مسجد کی شہادت میں پورا رول ادا کیا۔ جب بابری مسجد شہید ہوگئی تب نرسمہاراؤ نیند سے جاگے اور انہوں نے بی جے پی کی 4ریاستی حکومتوں کو برخاست کرا دیا۔ اس کے بعد بھی لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو عوام نے منتخب نہیں کیا، بلکہ دیوگوڑا اور پھر گجرال کی قیادت میں حکومت بنی۔
بی جے پی اور آرایس ایس کا کارکن مایوس نہیں ہوا، بلکہ آئندہ انتخابات کا انتظار کرنے لگا۔ پھر عام انتخابات ہوئے اور بی جے پی نے حکومت بنائی۔ ایک بار حکومت 13دن چلی اور دوسری بار 13مہینے۔ اس کے بعد تقریباً 4سال تک چلی۔ شائننگ انڈیا کے نعرے کے ساتھ الیکشن میں اتری بی جے پی خود اپنی چمک کھو بیٹھی۔ اب یہاں سے آپ کو اصلی کہانی بتاتے ہیں۔ بی جے پی کا عوامی اور مقبول چہرہ ہمیشہ اٹل بہاری واجپئی رہے۔ ان کی بات پارٹی کے لیڈر اور آر ایس ایس کے لوگ کم مانتے تھے، لیکن عوام صرف اٹل بہاری واجپئی کو ہی پہلے آر ایس ایس اور بعد میں بی جے پی کا چہرہ مانتی رہی۔ بلراج مدھوک کو پارٹی سے نکالنے کے بعد دین دیال اپادھیائے صدر بنے۔ ان کے پراسرار قتل یا موت کے بعد پارٹی کو نئی زندگی دینے کے لیے اٹل بہاری واجپئی کو پارٹی کا نیا صدر بنایا گیا تھا، کیوںکہ وہ عوام میںخاصے مقبول تھے۔
پارٹی کا حال تو صرف اس واقعے سے جانا جاسکتا ہے کہ 1989میں اترپردیش کے بی جے پی رکن اسمبلی راج ناتھ نے اٹل بہاری واجپئی کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ کرڈالا۔ وجہ صرف اتنی تھی کہ اٹل بہاری واجپئی سخت رخ نہیں اپنا رہے تھے۔ اٹل بہاری واجپئی کا قد بڑھانے میں گجرات کے اس واقعے نے خاصا تعاون دیا، جس میں شنکر سنگھ واگھیلا نے بی جے پی سے پہلی بغاوت کی تھی۔ شنکر سنگھ واگھیلا بی جے پی کے برتاؤ سے پریشان تھے، خاص کر نریندر مودی سے۔ وہ گاندھی نگر سے دور ایک گاؤں میں اپنے حامیوں کے ساتھ چلے گئے اور بی جے پی کو توڑنے کا منصوبہ بنانے لگے۔ اٹل بہاری واجپئی گاندھی نگر گئے اور وی وی آئی پی گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے۔ انہوں نے بھیروں سنگھ شیخاوت کو شنکر سنگھ واگھیلا سے ملاقات کے لیے بھیجا۔ شیخاوت نے شنکر سنگھ واگھیلا سے جا کر ملاقات کی اور انہیں واجپئی سے ملنے کے لیے تیار کیا۔ واگھیلا گاندھی نگر آئے اور واجپئی سے ملے۔ انہوں نے واجپئی سے کہا کہ نریندر مودی کو دہلی لے جائیے۔ بی جے پی میں تفرقہ بازی انہی کی وجہ سے ہے۔ واجپئی نے واگھیلا سے پارٹی میں برقرار رہنے کے لیے کہا، جسے شنکر سنگھ واگھیلا نے مان لیا۔ گیسٹ ہاؤس سے ہوائی اڈے جاتے ہوئے اٹل بہاری واجپئی کی کار کو گھیرا گیا۔ حملے کی کوشش ہوئی اور نعرے لگے کہ 7کروڑ میں اٹل کی دھوتی بکی۔ یہ تمام لوگ نریندر اور وشو ہندو پریشد کے تھے۔ شنکر سنگھ واگھیلا کی بغاوت کو روکنا واجپئی کا پہلی بار بڑا قدم مانا گیا۔جب بی جے پی نے این ڈی اے تشکیل دی اور محسوس ہوا کہ حکومت بن سکتی ہے تو سوال آیا کہ وزیر اعظم کون بنے گا؟ جارج فرنانڈیز جیسے لوگوں کا موڈ بھانپ کر اڈوانی نے بیان دیا کہ اٹل جی ہی وزیر اعظم بنیںگے۔ اڈوانی بھی چاہتے تھے اور پارٹی کے لیڈر بھی چاہتےتھے کہ اڈوانی وزیر اعظم بنیں، لیکن ان کا چہرہ سخت گیر کا چہرہ تھا، جسے بی جے پیکے علاوہ این ڈی اے میں شامل دوسری جماعتیں کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کرنے والی تھیں۔ اڈوانی کے ہاتھ سے وزیراعظم کا عہدہ پھسل کر اٹل جی کے پا س چلا گیا، کیوںکہ وہ چہرہ نہ صرف عوامی تھا، بلکہ مقبول بھی تھا۔ اٹل جی کے وزیر اعظم بننے کے ساتھ انہیں برجیش مشر، پرمود مہاجن اور رنجن بھٹاچاریہ نے گھیر لیا، شاید یہ اڈوانی جی کو اچھا نہیں لگا۔ آر ایس ایس کے بہت سے بھروسے مند کارکنان مانتے ہیں کہ یہی وہ وقت تھا جب اڈوانی جی نے اٹل جی اور پارٹی کے ساتھ آر ایس ایس سے بھی بدلہ لینے کی جانی یا انجانی کوشش شروع کردی۔ اٹل جی اگر حکومت اڈوانی جی کو چلانے دیتے تو شاید یہ نہیں ہوتا، لیکن حکومت تو برجیش مشر، پرمود مہاجن اور رنجن بھٹاچاریہ کے قبضہ میں چلی گئی تھی۔
آر ایس ایس کے وفادار لیڈروں کا کہنا ہے کہ اڈوانی جی نے وزیرداخلہ رہتے ہوئے این ڈی اے کے کامن منیمم پروگرام کو قبول کیا اور پارٹی کا پروگرام چھوڑ دیا۔ سالوں سے رام مندر بنانے کا اعلان کرنے والی پارٹی کا اڈوانی جیسا لیڈر کہنے لگا کہ جب اکیلے دم پر بی جے پی اکثریت میں ہوگی تبھی مندر بنایا جاسکتا ہے۔ آرایس ایس کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اڈوانی مایوس تھے۔ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ سب بنایا انہوں نے ہی ہے اور انہیں ہی موقع نہیں ملا۔ اس لیے کسی دوسری جماعت نے اپنی جماعت کا ایجنڈا نہیں چھوڑا، لیکن بی جے پی نے چھوڑ دیا، جس کے پیچھے صرف اڈوانی کا دماغ تھا۔ اس میں انہیں پرمود مہاجن کا ساتھ ملا۔ آر ایس ایس کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اڈوانی چاہتے تو اٹل جی لال قلعہ سے اعلان کرسکتے تھے کہ میں متحدہ محاذ کا وزیر اعظم ہوں، لیکن پارٹی الگ ہے۔ اس سے پارٹی پر لوگوں کا بھروسہ ختم نہیں ہوتاا ورنہ کارکنان ناراض ہوتے کہ بی جے پی نے مندر کا ایشو چھوڑ ہی دیا ہے۔
اڈوانی جی نے اپنی ٹیم بنائی جس کے لیفٹیننٹ ارون جیٹلی، اننت کمار، وینکیانائیڈو، سشما سوراج، یشونت سنہا اور نریندر مودی تھے۔ ارون جیٹلی اور نریندر مودی حکمت عملی بنانے لگے اور پارٹی کے اندر کے اقتدار اور نظریاتی اعداد و شمار تبدیل ہونے لگے۔ آر ایس ایس کے لوگوں کا غصہ ارون جیٹلی پر ہے، جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سب سے زیادہ پارٹی کا نقصان پہنچایا ہے۔ مثال کے طور پر ان وفادار لوگوں کا کہنا ہے کہ ارون جیٹلی نے اجودھیا میں غیرمتنازع اراضی کو متنازع اراضی سے جوڑ دیا، جہاں مندر بنایا جا سکتا تھا۔ ارون جیٹلی کے لڑے گئے مقدموں کو بھی آرا یس ایس کے لوگ نفرت سے دیکھتے ہیں۔ یہاں بھی ایک مثال دی جاتی ہے اسٹین لی مورگن کی، جسے جیٹلی نے بچایا۔ وہ جانتے تھے کہ اس سے ملک کو نقصان ہے۔ پھر بھی انہوں نے مورگن کا مقدمہ لڑا۔ جیٹلی نے ایک بار کہا کہ یہ ان کا پیشہ ہے، اس لیے اس کا نظریہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آج آر ایس ایس کے لوگ کہتے ہیں کہ پارٹی کی خستہ حالت کی اہم وجہ ارون جیٹلی ہیں، جو نظریہ کو زندگی سے الگ مانتے ہیں۔ آرایس ایس کے لوگوں کو افسوس ہے کہ ایک اور دین دیال اپادھیائے جیسا شخص ان کی پارٹی بنا رہا تھا، جس کا اخلاق و نظریہ اور برتاؤ ایک تھا۔ آج ارون جیٹلی پارٹی بنا رہے ہیں، جن کے اخلاق و نظریات اور برتاؤ میں کوئی یکسانیت نہیں ہے۔
آر ایس ایس کے لیے اپنی زندگی وقف کردینے والے وفادار کارکنان کا کہنا ہے کہ ارون جیٹلی کی حکمت عملی کے نتیجے کے طور پر مفکر اور آر ایس ایس کے تئیں وفادار لوگ پارٹی کے حاشیے پر چلے گئے یا پارٹی سے باہر جانے کے لیے مجبور ہوگئے، وہیں پارٹی میں عوامی مقبولیت سے مبرا  Aristocrat   مغربی طرز پر زندگی بسر کرنے والے لیڈر آگئے ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو عیش و آرام میں پل رہے ہیں اور نظریات سے دور ہیں۔ اڈوانی، نریندر مودی اور ارون جیٹلی کی وجہ سے جو لوگ بی جے پی کے حاشیے سے غائب ہوگئے، ان میں پہلا نام ہماچل کے سابق وزیر اعلیٰ شانتا کمار کا ہے، جن کا شمار  ہندوستان کے سب سے ایماندار وزرائے اعلیٰ میں ہوتا ہے۔ جموں و کشمیر میں چمن گپت حاشیے پر چلے گئے ہیں۔ اترپردیش میں کلیان سنگھ کو پارٹی چھوڑنی پڑی اور لال جی ٹنڈن خاموش ہوگئے ہیں۔ جھارکھنڈ میں بابو لال مرانڈی نے پارٹی چھوڑ دی اور کریا منڈا نے پارٹی کے معاملات میں دلچسپی لینی بند کردی ہے۔ مدھیہ پردیش میں پہلے اوما بھارتی کے ذریعہ سندر لال پٹوا کو کنارے کرایا، پھر اوما بھارتی کو ہی پارٹی سے نکال دیا گیا۔ اب شیوراج سنگھ چوہان ان کے اپنے آدمی ہیں۔ مہاراشٹر میں تو سارے گراس روٹ لیڈر پرمود مہاجن کے لیے حاشیے پر پھینک دیے گئے۔ صرف گوپی ناتھ منڈے ہی باقی ہیں، کیوںکہ وہ پرمود مہاجن کے رشتہ دارتھے۔ گجرات میں پہلے شنکر سنگھ واگھیلا کو نکالنے کے لیے حالات تیار کیے گئے۔ بعد میں ہیرین پنڈیا کا نمبر آیا۔ راجستھان میں بھیروں سنگھ شیخاوت کو دہلی بلا کر وسندھرا راجے کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا گیا۔ آندھرپردیش میں وینکیا نائیڈو کے لیے پوری پارٹی کی بلی چڑھائی دی گئی۔ آج وسندھرا راجے، راج ناتھ سنگھ، وینکیا نائیڈو، اننت کمار ان تینوں کے اہم ہتھیار بنے ہوئے ہیں۔
بی جے پی میں لال کرشن اڈوانی، نریندر مودی، ارون جیٹلی کا ڈیڈلی کامبینیشن ہے۔ لال کرشن اڈوانی کا ماننا تھا کہ اگر انہیں وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بتا کر الیکشن لڑا جائے گا تو پورا ملک بی جے پی کو ووٹ دے گا۔ اس خیال کو ارون جیٹلی نے دلائل سے ثابت کر کے اڈوانی کے ذہن کی یہ غلط فہمی دور کردی، لیکن عوام نے اڈوانی کے چہرے کو اٹل بہاری کے چہرے سے بہتر نہیں مانا۔ نریندر مودی کے بارے میں آر ایس ایس کے وفادار لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ہائی پروفائل شخص ہیں۔ بدلہ چکانے کی ان کی ذہنیت ہے۔ وہ کسی کی مخالفت بھول نہیں پاتے۔ ان کے لیے صرف نظریہ اہم ہے، وسائل نہیں۔کسی بھی طرح سے ہو، مقصد حاصل ہونا چاہیے۔ بے حد تشہیر کر کے اپنی شخصیت کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا اور سب کو ایک ساتھ چلنے کی جگہ اپنی خواہش لادنا ان کی عادت ہے۔ اپنے لیے لابی بنوانا اور اپنے کو سب سے خاص ماننا نریندر مودی کا مزاج ہے۔ اس تکڑی کے تیسرے شخص ارون جیٹلی بڑے وکیل ہیں۔ وہ ودیارتھی پریشد میں تھے اور طلبا سیاست میں انہوں نے بڑی حیثیت پائی، لیکن جیسے ہی انہوں نے وکالت کی زندگی شروع کی، وہ آر ایس ایس کے قومی مفاد اور حب الوطنی کے بنیادی اصول بھول گئے۔ ملک کا لیڈر بننے کے لیے جس بنیادی خوبی کو آر ایس ایس اہم مانتا ہے، ارون جیٹلی کے لیے وہ بے معنی ہے۔ آر ایس ایس کے پاس ارون جیٹلی کے ذریعہ لڑے گئے مقدموں کی لمبی فہرست ہے۔ آر ایس ایس کے لوگ اس نتیجے پر پہنچنے ہیں کہ ارون جیٹلی بڑے وکیل تو بن گئے، لیکن بڑے لیڈر بننے کی تمام خوبیاں بھول گئے۔ آج ارون جیٹلی تنہا ہیں، جن سے ملک کے صنعت کاروں کے تعلقات ہیں۔ نوے کی دہائی میں جب اڈوانی نے اٹل بہار واجپئی کی جگہ لینے کے لیے اپنے لوگوں کی ٹیم بنائی تھی، تب ان کا درجہ لیفٹیننٹ کا تھا۔ آج جب اڈوانی بوڑھے ہو گئے ہیں تو ان کے سارے لیفٹیننٹ جنرل ہوگئے ہیں اور اڈوانی ان کی بات کہنے والے صرف لیڈر رہ گئے ہیں۔ اس تگڑی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بی جے پی کے رشتے کی کڑیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
آر ایس ایس کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی اصلی طاقت وہ ہی ہیں اور الیکشن کے وقت بوتھ تک کا انتظام وہی کرتے ہیں،اسی لئے بی جے پی کے ڈھانچہ میں تنظیم کے سکریٹری کی بڑی اہمیت ہے۔
جو آر ایس ایس کے ذریعہ بھیجا گیا شخص ہوتاہے۔ اس عہدہ پر سندر سنگھ بھنڈاری،گوونداچاریہ،نریندر مودی، سنجے جوشی جیسے لوگ رہ چکے ہیں اور آج رام لال تنظیم کے سکریٹری ہیں۔اس عہدہ کو برباد کرنے کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔آج تو تنظیم کا سکریٹری ڈرا ہوا ہے، کیونکہ وہ اپنے سے پہلے کے دو تنظیمی سکریٹریوں کا حشر دیکھ چکے ہیں۔بی جے پی کے مرکزی دفتر میں ڈھائی کروڑ روپے کی چوری ہوئی۔ اس کی جانچ کا مطالبہ نہ بی جے پی میں کسی نے کیا اور نہ ہی بی جے پی کے تنظیمی سکریٹری رام لال نے، جو بنیادی طور پر آر ایس ایس کے نمائندے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پورا نظام ہی سڑنے لگا ہے۔
گووند اچاریہ کو آر ایس ایس نے اپنا نمائندہ بنا کر بی جے پی میں تنظیم کے سکریٹری کے طور پر بھیجا۔گووند اچاریہ کے اوپر آر ایس ایس کو پورا بھروسہ تھا کہ وہ بی جے پی کو گمراہ نہیں ہونے دیں گے۔گووند اچاریہ بی جے پی کو ہمیشہ آر ایس ایس کے نظریہ پر چلنے کی ترغیب بھی دیتے تھے اور دبائو بھی ڈالتے تھے۔ مضبوط ہوتی تگڑی کو گووند اچاریہ کا طریقہ پسند نہیں آیا اور انھوں نے اٹل بہاری جی کا ویسے ہی استعمال کیا، جیسے بعد میں اوما بھارتی کا کیا تھا۔گووند اچاریہ آر ایس ایس کے آدمی تھے، مگر بی جے پی میں رہتے ہوئے ان کا چہرہ مقبول عام ہو گیا اور وہ کارکنان میں سب سے زیادہ مقبول ہو گئے۔چنانچہ گووند اچاریہ کو ہٹانے کی حکمت عملی بنائی گئی اور ان پر ایک خاتون لیڈر سے قربت کا الزام عائد کیا گیا۔اچانک اخباروں میں گووند اچاریہ اور اس خاتون لیڈر کے تعلقات کی خبروں کا سیلاب آ گیا۔ گووند اچاریہ اس گھٹیا سیاسی حملہ سے اتنے دلبرداشتہ ہو گئے کہ انھوں نے بی جے پی سے اپنے آپ کو دور کر لیا۔یہ واقعہ 1999کا ہے۔
آر ایس ایس نے نریندر مودی کو بی جے پی تنظیم کا سکریٹری بنا کر بھیجا۔ نریندر مودی کا مقصد گجرات تھا اور کیشو بھائی پٹیل تھے۔وہ ہمیشہ سے گجرات کے وزیر اعلیٰ بننا چاہتے تھے۔انھوں نے آر ایس ایس کو راضی کیا کہ انہیں گجرات بھیجا جائے۔آر ایس ایس  اس کے لئے راضی ہو گیا اور اس نے نریندر مودی کو واپس گجرات اور سنجے جوشی کو بی جے پی کا تنظیمی سکریٹری بنا دیا، جو اب تک گجرات سنبھال رہے تھے۔
سنجے جوشی میکینکل انجینئر ہیں اور انجینئرنگ کالج میں ہی وہ آر ایس ایس کے رابطہ میں آئے۔بھائو رائو دیورس کی صلاح پر انھوں نے انجینئرنگ کی لیکچررشپ سے استعفیٰ دے دیا اور آر ایس ایس کے فل ٹائم پرچارک بن گئے۔بھائو رائو دیورس نے پایا کہ سنجے جوشی جلدی فیصلہ لے لیتے ہیں اور وہ گراس روٹ ورکر ہیں۔ وہ لو پروفائل ہیں ۔ بالآخر انھوں نے سنجے جوشی کو بی جے پی کا احمد آباد نگر کا تنظیمی سکریٹری بنوا دیا۔ پانچ سال بعد انہیں بی جے پی گجرات یونٹ کا ریاستی سکریٹری بنا دیا گیا۔جب نریندر مودی گجرات واپس گئے تو سنجے جوشی کو 2001میں بی جے پی تنظیم کا قومی سکریٹری بنا دیا گیا۔ بس یہیں سے سنجے جوشی سے نریندر کے حسد کی شروعات ہوئی ۔ وہ یہ ہضم نہیں کر پائے کہ گجرات کا ہی کوئی شخص ان کی جگہ کیسے لے سکتا ہے کہ وہ ان سے زیادہ قابل مانا گیا اور تنظیم کا سکریٹری بنا دیا گیا ۔
سنجے جوشی مزاج میں نریندرمودی سے الگ تھے۔وہ لو پروفائل ، معمولی رہن سہن میں یقین کرنے والے، جیسا پرچارک کرتے ہیں یا سوشلسٹ اور کمیونسٹ رہتے ہیں، عمل کے ساتھ وسیلہ کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں۔تشہیر سے دور رہنے والے، سب سے ملنے والے اور سب کی سننے والے،لابی بنانے کے خلاف اور گراس روٹ کام میں یقین کرنے والے شخص ہیں۔ انھوں نے تنظیم کے سکریٹری  رہتے ہوئے بی جے پی پر آر ایس ایس کے نظریات پر چلنے کے لئے ہمیشہ دبائو بنائے رکھا۔ بی جے پی کارکن صدر کے یہاں کم، سنجے جوشی کے یہاں زیادہ جاتے تھے۔اسی درمیان اڈوانی پاکستان گئے اور انھوں نے لاہور میں جناح کو لے کر مشہور لائن لکھی۔ آر ایس ایس نے جوشی سے کہا کہ وہ اڈوانی سے استعفیٰ لے لیں۔ سنجے جوشی نے بے تکلف ہو کر اڈوانی سے عہدۂ صدارت سے استعفیٰ لے لیا۔ سنجے جوشی نے آر ایس ایس کی بات مان کر اپنے لئے سیاسی قبر کھود لی۔اچانک بی جے پی کے ممبئی کنونشن میں ایک سی ڈی تقسیم ہوئی، اس سی ڈی میں ایک شخص ایک خاتون کے ساتھ تھا اور افواہ پھیلی کہ وہ شخص بی جے پی تنظیم کے سکریٹری سنجے جوشی ہیں۔سنجے جوشی نے بھی گووند اچاریہ کی طرح فوراً اپنا استعفیٰ دے دیا۔اب جا کر حقائق سامنے آ رہے ہیں اور سی ڈی کی حقیقت بھی سامنے آ رہی ہے۔
سہراب الدین انکائونٹر معاملہ کی تفتیش جب سپریم کورٹ کے حکم سے سی بی آئی نے شروع کی، تب اچانک اسے بال کرشن چوبے نے بتایا کہ سنجے جوشی کے خلاف مبینہ سیکس سی ڈی اسی نے دیگر افسران کے ساتھ بی جے پی کے کنونشن میں تقسیم کی تھی۔بال کرشن چوبے گجرات اے ٹی ایس میں انسپکٹر تھے۔انھوں نے سی بی آئی کو بتایا کہ یہ سی ڈی فرضی ہے، گجرات میں بنی ہے اور اسے اے ٹی ایس کے اعلیٰ افسران کے کہنے پر بنایا گیاہے، جسے تقسیم کرنے میں وہ خود بھی شامل ہیں۔اس میں نریندر مودی کا اشارہ تھا یا امیت شاہ کا ، ابھی یہ انکشاف ہونا باقی ہے، لیکن سنجے جوشی کو برباد کرنے کے تار انہیںدونوں سے جڑے ہیں۔سنجے جوشی کی مدد ہرین پنڈیا اور گووردھن جھڑفیا کرتے تھے۔آر ایس ایس اورکے سدرشن سے لے کر موہن بھاگوت تک سنجے جوشی کی تنظیمی صلاحیت کے قائل او رسیاسی مہارت کے شیدائی تھے، لیکن اس فرضی سی ڈی نے انہیں مضحکہ خیز بنادیا۔ بعد میں یہ سی ڈی حیدر آباد کی فورینسک لیب میں فرضی ثابت ہوئی۔ جانچ میں پایا گیا کہ مبینہ سی ڈی میں سنجے کا چہرہ کسی اور کے جسم پر لگا یا گیا تھا۔ ایک نئی بات بی جے پی کی طرف سے یہ پھیلائی جارہی ہے کہ سنجے جوشی کی سی ڈی میں دکھائی دینے والی خاتون سہراب الدین کی اہلیہ کوثر بی جیسی ہے۔ سی بی آئی خاموش ہے کہ دو دن تک کوثربی گجرات اے ٹی ایس کے قبضے میں جس بنگلے میں تھی، وہاں کیا ہوا۔ شاید سی بی آئی کے پاس اس کا جواب ہے اور ہو سکتا ہے ۔ وہ عدالت میں اس کی وضاحت کرے۔ آج آر ایس ایس کے آنجہانی اور بقید حیات لیڈران شرم کے مارے اپنے آپ سے آنکھیں چرا رہے ہوںگے کہ یہ کیسی تنظیم ہے، جس کے سربراہ اپنے کارکنان کو سیکس کے فرضی جال میں پھانس رہے ہیں۔آر ایس ایس کے وفادار لوگ افسردہ ہیں اور وہ اپنی سادہ لوحی کو اب اپنی حماقت مان رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری تنظیم سادھو سنت کے کردار کے حامل لوگوں کی تنظیم ہے اور قوم کے لئے قربانی دینے کا جذبہ رکھتی ہے۔ ان کے سربراہوں کو شرم نہیں آتی، اور اگر انہیں کسی ایسے شخص نے کچھ کہا، جس پر وہ یقین کرتے آئے ہیں، تو اسے تسلیم کرلیتے ہیں۔ لال کرشن اڈوانی کو آر ایس ایس کے لوگ لال جی کے نام سے پکارتے ہیں۔ لال جی نے ہی سشما سوراج، وینکیا نائیڈو اور ارون جیٹلی کوآر ایس ایس  کی نظروں میں معزز بنایا۔ اب جب آر ایس ایس  حقیقت کا سامنا کررہا ہے تواس تذبذب میں ہے کہ پریوار کے سربراہ کو تکلیف کیسے پہنچائے۔ حالانکہ آر ایس ایس  کے سامنے اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ کس طرح آر ایس ایس  سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بی جے پی میں حاشیہ پر ڈالا گیاہے۔ یہاں تک کہ آر ایس ایس  کے لوگوں کو ٹکٹ نہیں دئے گئے اوراگر دئے بھی گئے تو ایسے حلقے  سے جہاں سے وہ جیت نہ سکیں۔
آر ایس ایس کے سامنے اب یہ بھی صاف ہوگیا ہے کہ ارون جیٹلی، وینکیانائڈو، جسونت سنگھ، سشما سوراج اور یشونت سنہا نہ کبھی نظریاتی لڑائی لڑ سکتے ہیں اور نہ نظریاتی  حملہ یا نظریاتی بچاؤ کرسکتے ہیںاور المیہ یہ ہے کہ یہی لوگ آج بی جے پی کی شناخت بنے ہوئے ہیں، اس لئے آر ایس ایس کو لگتا ہے کہ بی جے پی کامیاب جماعت کے طور پر اپنی پہچان کھو چکی ہے اور کانگریس کا دوسرا چہرہ بن گئی ہے۔ آج بی جے پی میں اڈوانی جی اور نریندر مودی کے علاوہ کوئی ووٹ کھینچنے والا باقی نہیں ہے۔ ملک کے عوام ان دونوں کے علاوہ گووند اچاریہ اور اوما بھارتی کو جانتے ہیں، لیکن جسونت سنگھ کو لینے میں جلدی دکھائی جاتی ہے اور گوونداچاریہ و اوما بھارتی کا نام تک بی جے پی میں نہیں لیا جاتا ہے۔ آر ایس ایس  کے نظریہ سازا یم جی ویدھ نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ جسونت سنگھ کوپارٹی میں شامل کیاتو ٹھیک کیا، نہ لیتے تو کوئی نقصان نہ ہوتا، لیکن گووند اچاریہ ، اوما بھارتی اور سنجے جوشی کی شمولیت سے پارٹی کو زیادہ فائدہ پہنچتا۔ بی جے پی کو چلانے والا گروہ اس کو ایم جی ویدھ کا پاگل پن کہتا ہے۔
سنگھ نے نتن گڈکری کو بی جے پی کا صدربنوا تو دیا، لیکن اب یہ امر واضح ہوگیا ہے کہ دہلی میں بیٹھے اننت کمار، سشما سوراج، وینکیا نائڈو، جیٹلی، راجناتھ سنگھ اور آخر میں اڈوانی انہیں کامیاب نہیں ہونے دیںگے۔ان لیڈروں کے مقابلے  میں گڈکری کی سیاسی عمر چھوٹی ہے، لیکن آر ایس ایس گڈکری کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ گڈکری نے آر ایس ایس کو بتایا ہے کہ جب بھی وہ کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں تو یہ لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ آر ایس ایس  اور گڈکری کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس صورت حال کا سامنا کیسے کریں۔ آر ایس ایس  کے ایک وفادار نے تو یہاں تک کہا کہ گڈکری اگر زیادہ کچھ کرنا چاہیں گے تو ایک سی ڈی ان کے خلاف بھی آجائے گی۔
دوسری جانب گووند اچاریہ اور سنجے جوشی سے آر ایس ایس  کے تعلقات ویسے ہی ہیں، جیسے پہلے تھے۔ آر ایس ایس  کے سات بڑے ہیں، موہن بھاگوت، بھیا جی جوشی، دتاتریہ ہوج ہلے، ایم جی ویدھ، سریش سونی، مدن داس دیوی اور اندریش جی۔ ان سب سے گووند اچاریہ اور سنجے جوشی کا ہر دوسرے دن کا میل ملاپ چل رہا ہے۔ موہن بھاگوت، بھیا جی جوشی اور مدن داس دیوی گووند اچاریہ کے خاص رابطے میں ہیں۔ ان دنوں آر ایس ایس کی جانب سے سریش سونی بی جے پی کو دیکھ رہے ہیں، لیکن مدن داس دیوی بی جے پی کو نہیں چھوڑ پا رہے ہیں۔آر ایس ایس  کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تنہا مدن داس دیوی ہیں جو ارون جیٹلی کو تحفظ دے رہے ہیں، حالانکہ باقی لوگ ارون جیٹلی اور ان کے ساتھیوں کی وجہ سے ہوئی بی جے پی کی حالت سے دکھی اور فکر مند ہیں۔
سبھی بی جے پی کو اعلیٰ اپوزیشن کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ آر ایس ایس  کے لوگ اس بات سے فکر مند ہیں کہ ان کی عزت صرف بچی ہوئی ہے، ساکھ ختم ہورہی ہے۔ اس کا اثرآر ایس ایس  پر بھی پڑا ہے۔ اب پرچارک صرف اپنی پروفائل بنا رہے ہیں اوراسے بی جے پی میں جانے اور چناؤ لڑ نے کے لئے راستہ ہموار کرنے کا وسیلہ اسے ہی مانتے ہیں، جو پرچارک براہ راست سیاست میں نہیں جاپاتے، وہ گاڈ فادر کا رول تلاش کرنے لگتے ہیں۔ بی جے پی کے ذریعہ آئے اس مرض سے آر ایس ایس  کے لوگ پریشان ہیں۔ آر ایس ایس  کے وفادار کارکنان ہی نہیں، بی جے پی کے قومی دفتر میں کام کرنے والے لوگ بھی اس صورت حال سے فکر مند ہیں اور بلا خوف وخطر کہتے ہیں کہ گووند اچاریہ ، سنجے جوشی ، اوما بھارتی، کلیان سنگھ اور بابو لال مرانڈی جیسے لوگوں کو فوراً بی جے پی میں واپس بلا لینا چاہئے۔ان کا ماننا ہے کہ کسی کو نکالنے یا سزا دینے کی بجائے اگر ان کوپارٹی میں واپس لایا جاتا ہے تو بی جے پی کی آئندہ عام انتخابات میں واپسی ہوجائے گی۔ آر ایس ایس  کے وفادار کارکن موہن بھاگوت اور بھیا جی جوشی کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب وہ نیند سے بیدار ہوتے ہیں اور زبان کھلتی ہے۔آر ایس ایس  کے ساتھ اپنی زندگی کے شب وروزگزار نے والے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ ارون جیٹلی، مودی اور اڈوانی کے بارے میں تومعلوم نہیں ، البتہ گووند اچاریہ اور سنجے جوشی کی لاشیں جھنڈے والان ضرور جائیں گی۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *