بی جے پی اور آر ایس ایس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کیلئے سرگرم:مولانا سید ارشد مدنی

Share Article
maulana-arshad-madani
جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ بی جے پی اورآرایس ایس کی تنظیموں کا نظریہ سیکولرازم کا نہیں ہندو راشٹر کا ہے اور جس دن ملک آزاد ہوا اسی دن سے ہندو راشٹر کی یہ تحریک شروع ہے، ان کی سوچ ہے کہ ہندوستان ہندوؤ ں کا ملک ہے اور اقلیتوں بالخصوص مسلم اور عیسائی اقلیتوں کوان کے مذہبی تشخص کے ساتھ زندہ نہ رہنے دیا جائے۔
مولانا ارشد مدنی نے مقامی اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم بار بار یہ بات دہرارہے ہیں کہ ملک کا دستور خطرے میں ہے اور یہاں پر نفرت کا ماحول مسلسل پیدا کیاجارہا ہے ۔ اس وقت جو صورت حال ہے وہ ایسی ہے ، مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کی کوششیں ہورہی ہیں ، یوپی میں حج ہاؤس اور مدارس نشانہ پر ہیں ، حج سبسڈی ختم کردی گئی اور اس طرح کے بہت سے مسائل ہیں جو یہ سرکار لے کر چل رہی ہے،ان کا مقصد ہندو اکثریت کو یہ باور کرانا ہے کہ اس ملک میں صرف یہی لوگ ہیں بی جے پی اور آرایس ایس ، یہ لوگ سیکولرازم کو ختم کرکے ملک کو ہندو راشٹر میں بھی تبدیل کرسکتے ہیں اس لئے ہم کوہی کامیابی دلاؤ اس لئے وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگلے الیکشن میں ہمارا مشن 380سیٹوں پر کامیاب ہونے کا ہے اور اس کی اصل بنیاد خدانخواستہ ملک کے دستور میں تبدیلی کی طاقت حاصل کرنا ہے ۔
انہو ں نے کہا کہ اس وقت مسلمانو ں کو خاموشی کے ساتھ ہوش کے دامن کو پکڑکر جذبات سے دور رہ کر موجودہ حالات کا مقابلہ کرناچاہئے ۔ انہو ں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کو ساتھ لے کر پیار ومحبت، اخوت وہمدردی اور انسانیت کی بنیاد پر رشتوں کو مضبوط کرنا چاہئے ۔ ہندوستان کی تہذیب تو برادریوں پر کافی حد تک منحصر ہے۔ لیکن ہماری مذہبی معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ،مسلمان کو انسان کے ساتھ انسانیت کی بنیاد پر اخوت ومحبت کا پیغام پہنچانا ضروری اور لازمی ہے اور یہ اسلام کی بنیادی پالیسی ہے کیوں کہ ہندوستان کا مسلمان اس ماحول میں پلابڑھا ہے، اس لئے اس نے اسلام مذہب کی اس بنیادی پالیسی کو کسی حدتک چھوڑ کر اس ملک کے روایتی رواج کو اپنایا ہے اور کسی حد تک ذات اور برادری سے خود کو وابستہ کیا ہے جس سے اسلام کی تصویر مسخ ہوتی ہے ، اسلام میں ہر خیر کی بنیاد انسان کا عقیدہ اور عمل صالح ہے ، مسلمان ہر طبقے کے ساتھ پیار ومحبت کامعاملہ کرے تو زندہ جاوید رہے گا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *