کشمیر : ہرے رنگ میں رنگا بی جے پی کا بھگوا ر نگ، اشتہار میں مودی کی تصویر بھی شامل

Share Article

_jksafron-color-missing

بھگوا رنگ بھارتیہ جنتا پارٹی کی شناخت رہی ہے اور جب کبھی بھی اپوزیشن پارٹیوں کے کسی ریلی میں سبز رنگ دکھائی دیا بی جے پی نے اس کی حب الوطنی پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ جمعرات کو جب کانگریس صدر راہل گاندھی کیرالہ کے وائناڈ پہنچے تو انڈین مسلم لیگ کے پرچم پر بھی بی جے پی کو سخت اعتراض تھا، لیکن لوک سبھا انتخابات 2019 کے لئے مرکز کی حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کا کشمیر میں اخبارات میں شائع اشتہارات شہ سرخیوں میں ہے۔

ہرے رنگ پر ہمیشہ سے سوال کھڑے کرنے والی پارٹی بی جے پی کے کشمیر میں اشتہارات میں بھگوا غائب ہے اور اس کی جگہ سبز رنگ کا استعمال کیا گیا ہے،خاص بات یہ ہے کہ مقامی اخبارات میں شائع ان اشتہارات میں بھگوا رنگ برائے نام بھی استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ سبز رنگ اسلام اور پاکستان سے منسلک ہونے کی وجہ سے ہرارنگ کشمیر میں بہت لوگوں کو پسند آتاہے۔ وہیں، بہت سے لوگوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سبزرنگ پیغمبر اسلام کا سب سے پسندیدہ رنگ تھا۔

 

jksafron-color-missing-1

اخبارات میں جو اشتہارات چھپے ہیں، ان میں سرینگر سے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے خالد جہانگیر کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس اشتہار میں بڑے پیمانے پر سبز رنگ کا استعمال کیا گیا ہے۔ بی جے پی کا انتخابی علامت سفید رنگ میں دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر بھی نظر آرہی ہے۔ اشتہار میں اردو زبان میں نعرہ لکھا ہے جس کا مطلب ہے کہ جھوٹ چھوڑیں، سچ بولیں۔ اس کے علاوہ، اردو میں ہی بی جے پی کو ووٹ دینے کے لئے کہا گیا ہے۔

جب بی جے پی لیڈروں سے اخبارات میں شائع اشتہارات میں رنگ کے استعمال پر سوال گیا تو ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے جھنڈے میں ایک رنگ سبز بھی ہے۔ بی جے پی لیڈروں کی یہ دلیل ہے ایڈورٹائزنگ میں سبز رنگ کا استعمال صرف اس لئے کیا گیا ہے کیونکہ یہ امن اور ترقی کی علامت ہے۔ بھگوا رنگ غائب کیوں ہے، اس سوال پر انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کمل کی زمین پہلے سے ہے اور بی جے پی ہر رنگ کو بھی پیش کرنا چاہتی تھی۔

ادھر، نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ نے بھی بی جے پی کو نشانے پر لیا ہے۔ عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کا بھگوا اب سبز رنگ میں تبدیل ہو گیا ہے کہ کیونکہ کشمیر پہنچ چکا ہے۔ عبداللہ نے کہا، ’بھروسہ نہیں ہوتا کہ پارٹی کو واقعی ایسا لگتا ہے کہ یہ ووٹروں کو بیوقوف بنا سکتی ہے جبکہ وہ خود کو اس طرح سے بیوقوف ثابت کر رہی ہے۔‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *