بیساکھی سنگ دہلی گئے شوبھن، تھام لیں گے بی جے پی کا دامن

Share Article
Sovan Chatterjee and Baisakhi Banerjee

کولکاتہ کے سابق میئر شوبھن چٹرجی اپنی خاتون دوست بیساکھی بنرجی کے ساتھ دہلی روانہ ہو گئے ہیں۔ خبر ہے کہ وہ بدھ کی شام تک بھارتیہ جنتا پارٹی کا دامن تھام لیں گے۔ بیہلا مشرق سے ممبر اسمبلی چٹرجی نے منگل کی شام کے وقت ہی خصوصی ایلچی کے ذریعے مغربی بنگال اسمبلی کے صدر ومان بنرجی کے پاس اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے صدر کے عہدے سے اپنا استعفیٰ بھیجا تھا۔ اس کے بعد یہ بحث تیز ہو گئی تھی کہ ان کا آگے کا قدم کیا ہوگا۔

نومبر 2018 میں ریاست کے فائر بریگیڈ وزیر اور کولکاتہ کے میئر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد سے انہوں نے گذشتہ 9 ماہ سے ترنمول کانگریس سے دوری بنا کر رکھی ہے۔ بیہلا مشرق سے ممبر اسمبلی شوبھن اورپرانی سمپنوکاس سمیتی(اسٹینڈنگ کمیٹی) کے صدر تھے لیکن استعفیٰ دینے کے بعد ایک بار بھی اسمبلی میں نہیں گئے تھے۔ اس دوران ان کے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کی کئی قیاس آرائی جاتی تھیں۔ اب ایک بار پھر جب وہ اپنی خاتون دوست کے ساتھ دہلی روانہ ہو گئے ہیں، تب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان تمام قیاس آرائی پر ان کے بی جے پی میں شامل ہونے کے ساتھ ہی بریک لگ سکتی ہے۔ اس سے قبل بھی وہ بیساکھی بنرجی کے ساتھ دہلی جا چکے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایگزیکٹو چیئرمین جے پی نڈڈا کے ساتھ ملاقات کر چکے ہیں۔

اس کا انکشاف ہونے کے بعد خود وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آگے بڑھ کر شوبھن چٹرجی کو بی جے پی میں جانے سے روکنے کے لئے اجلاس بلایا تھا لیکن وہ نہیں گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے سب سے قریبی معاونین میں سے ایک رتن مجومدار کو شوبھن چٹرجی کے گھر بھیجا تھا لیکن پھر بھی وہ نہ تو ممتا سے ملنے گئے اور نہ ہی ترنمول کانگریس میں سرگرم ہوئے۔ ترنمول کے سیکرٹری جنرل اور ریاست کے وزیر تعلیم پارتھ چٹرجی بھی ان کے گھر کئی بار جا چکے ہیں۔ انہیں سمجھایا بجھایا ہے تاکہ وہ ترنمول میں واپس آکر سرگرم لیڈر کے طور پر کام کریں لیکن شوبھن چٹرجی نے دو ٹوک الفاظ میں انکار کر دیا۔ موجودہ میئر فرحاد حکیم، پارٹی کے ریاستی صدر سبرت بخشی سمیت ترنمول کے دیگر اعلیٰ رہنماؤں نے بھی کوشش کی لیکن شوبھن اپنے موقف پر قائم رہے۔

اب جب ایک بار پھر وہ دہلی روانہ ہو گئے ہیں تو ترنمول کانگریس کے اندر بھی چرچہتیز ہو گئی ہے۔ دراصل، بیساکھی بنرجی کے ساتھ مبینہ تعلقات کو لے کر وہ سوالوں کے گھیرے میں رہتے تھے۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کابینہ کے اجلاس کرتی تھیں اور دوسری طرف وہ بیساکھی بنرجی کے ساتھ خریداری کرتے نظر آتے تھے۔ میونسپل کارپوریشن سے لے کر فائر بریگیڈ کی وزارت کے کاموں میں بھی ڈھیل دینے لگے تھے۔ یہاں تک کہ اسمبلی میںاپنی وزارت سے جڑے سوالوں کے جواب میں غلط اعداد و شمار بھی پیش کر رہے تھے۔ لہٰذا 20 نومبر 2018 کو ایسے ہی ایک جواب سے ناراض ہوکر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انہیں وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کو کہہ دیا تھا۔ اسی دن انہوں نے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ سی ایم کے کہنے پر تین دن کے بعد انہوں نے کولکاتہ کے میئر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا اور اس کے بعد ترنمول سے دوری بنا کر رکھی تھی۔

پھر 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ان کے اسمبلی حلقہ یعنی بیہلا علاقے میں ترنمول کانگریس کو کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو شاندار برتری ملی تھی۔ ترنمول کانگریس کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ اگر شوبھن چٹرجی ان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تو بیہلا جہاں سے وہ رکن اسمبلی ہیں، وہاں کی اسمبلی سیٹ پارٹی کے ہاتھ سے نکلنی طے ہے۔ اب جب وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب قدم بڑھا چکے ہیں تو یہ چرچہ اور تیز ہو گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *