برادری پر مبنی مردم شماری ہی بہتر ہے

Share Article

جب  پارلیمنٹ میں لالو یادو اور ملائم سنگھ یادو نے یہ مطالبہ کیا کہ قومی مردم شماری میں ذات برادری پر مبنی مردم شماری ہونی چاہئے تو ملک میں کچھ تشویش پیدا ہوئی۔ پارلیمنٹ میں بی جے سے جڑے اننت کمار نے تو لالو یادو پر حملہ ہی بول دیا اور انہیں غداروطن جیسا ثابت کی کوشش کی ۔ جو لوگ ملک میں برادری نظام کے خلاف ہیں  انہیں لگا کہ کہیں اس سے برادری نظام کو بڑھاوانہ ملے۔ مگر حکومت نے بعد میں فیصلہ لیا کہ برادری پر مبنی مردم شماری ہونی چاہئے۔
برادری پر مبنی مردم شماری میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو غیر آئینی یا غیر عملی ہو۔ ڈاکٹر لوہیا کہا کرتے تھے کہ برادری بری چیز ہے مگر برادری جیسی تلخ حقیقت دوسری نہیں ہے اور برادری تو ایک ایسا سچ ہے جس کی دنیا میں کہیں اور مثال ہی نہیں ملتی۔ ہم جب چاہیں تو اپنا مذہب بدل سکتے ہیں، ہندو سے مسلمان ، مسلمان سے ہندو یا پھرعیسائی سے سکھ بن سکتے ہیں۔ مگر ہم جتنا چاہیں، براہمن سے ٹھاکر، ویشہ سے شودر یا شودر سے ٹھاکر براہمن نہیں بن سکتے۔ برادری تو چھوڑ دیں ، چھوٹی برادری میں بھی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مذہب آسان ہے، برادری سخت ہے۔ہندو مذہب کی اس حقیقت نے اسلام کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ وہاں بھی شیخ سید نہیں ہو سکتا، صدیقی انصاری نہیں ہو سکتا۔ برابری کی بنیاد پر کھڑا اسلام برادری نظام کی وجہ سے غیر برابری کا شکار ہو گیا ہے۔ عرب ممالک میں تو سب مسلمان کے طور پر جاتے ہیں مگر جو لوگ پرانے ہندوستان سے گئے ہیں وہ سب اپنے ساتھ برادریاںلے گئے ہیں، ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش اس کی مثال ہیں۔
اس لئے جب یہاں مطالبہ اٹھتا ہے کہ برادری پر مبنی مردم شماری ہو تو اسے عزت دینی چاہئے۔ مردم شماری دراصل صحیح اعداد و شمار جاننے کا ایک ذریعہ ہے۔
ہمارے یہاں اسکیمیں غریبی، پسماندگی، دلت و بہت زیادہ غریب آدیواسیوں کی بنیاد پربنائی جاتی ہیں۔ ہندوستان میں روایتی طور پر جو دلت پسماندہ ہیں وہ اقتصادی طور پر بھی کمزور ہیں۔ بڑی ذاتوں میں بھی غربت ہے، اسی لیے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اقتصادی طور پر غریب طبقوں کو بھی ریزرویشن ملنا چاہیے۔ یہ موضوع بہت اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم موضوع یہ ہے کہ ہمیں کم سے کم یہ تو پتہ چلے کہ کس ذات کی کتنی تعداد ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ 27فیصد پسماندہ لوگ ہیں۔اگر مردم شماری میں پتہ چلتا ہے کہ پسماندہ ذاتوں کی تعداد 27فیصد سے کم ہے تو ان کا ریزرویشن فیصد کم کیا جاسکتا ہے اور اگر پتہ چلتا ہے کہ ان کی تعداد زیادہ ہے تو ان کا فیصد بڑھایا جاسکتا ہے۔ یہ باقی ذاتوں اور طبقوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
اس لیے اگر صحیح اسکیم بنانی ہے اور اس کا صحیح فائدہ مستحق لوگوں تک پہنچانا ہے تو ذات پر مبنی مردم شماری ضروری ہے۔ راجستھان میں گوجر دلت  ریزرویشن کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔ ایسا مطالبہ ملک کے کئی حصوں میں  دوسری ذاتیں بھی کر سکتی ہیں۔ یہ مطالبات بھی اس لیے ہو رہے ہیں کیوںکہ ایک طبقہ کو لگتا ہے کہ دوسرے طبقہ کو مخصوص ذات میں ہونے کا زیادہ فائدہ مل رہا ہے۔ اگر ذاتوں کی صحیح تعداد کاپتہ چلتا ہے تو ان کی اقتصادی حالت کا بھی پتہ چل جائے گا۔ سب سے بڑی بات یہ ہوگی کہ ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے کا پتہ چل جائے گا اور ہم آزادی کے بعد کی صحیح اسکیمیں بنانے کی شروعات کر سکیںگے۔یہاں پر سپریم کورٹ کی بات بھی کرنی چاہیے۔ ایک مطالبہ ہورہا تھا کہ عیسائی و مسلم قوم میں جولوگ وہی کام کر رہے ہیں جو  ہندؤوں میں دلت طبقہ کے لوگ کر رہے ہیں تو انہیں ویسی ہی سہولتیں کیوں نہیں مل رہی ہیں۔
سچائی یہ ہے کہ دلت ذاتوں سے عیسائی و مسلم مذہب اختیارکرنے کے باوجودیہ لوگ وہی کام کر رہے ہیں جو پہلے کیاکرتے تھے۔ سپریم کورٹ نے سرکار سے کہا ہے کہ وہ رنگ ناتھ مشرا کمیشن سے کہے کہ وہ عیسائی و مسلم سماج میں ایسے لوگوں کی پہچان کرے ۔ اب رنگ ناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ آ گئی ہے اور رنگ ناتھ مشرا نے کئی سفارشیں کی ہیں۔ ذات پر مبنی مردم شماری سے یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ عیسائی و مسلم سماج میں وہ ذاتیں کونسی ہیں جنہیں ریزرویشن یا دیگر سہولتیں ویسی ہی ملنی چاہئیں جیسی ہندو سماج کی ذاتوں کو ملتی ہیں۔
اس لیے بہت سے لوگ اس طرح کی مردم شماری کی مخالفت کر رہے ہیں، کیوںکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کے حصے کی سہولتیں بانٹنے کے لیے کئی اور لوگ آجائیںگے۔ جب کہ نظریہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم سب مل بانٹ کر کھائیںگے۔ حالانکہ آج وسائل کی کمی ہے لیکن اسے بڑھانے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے۔ اس کا بنیادی ڈھانچہ بھی ہمیں ذات پر مبنی مردم شماری سے مل جائے گا۔
ذات برادری ختم ہونی چاہیے، ملک کی سماجی تحریکیں کئی مرتبہ یہ مطالبہ کرچکی ہیں۔ بڑے سیاسی لیڈر بھی اس کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ ذات برادری کے نظام کو ملک کی ترقی کے لیے سماجی رکاوٹ بتانے والے بھی کم نہیں ہیں۔ ذات برادری کو اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کے لیے بھی بہت سے لوگ کوشش کرتے ہیں اور کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ اس کا پھر علاج کیا ہے؟ اس پر غور و فکر کرنے کی ابتدا کیوں نہیں ہوتی۔
اگر ذات برداری نظام ختم کرنا ہے تو ایسی ترقیاتی پالیسی بنانی ہوگی جو سب سے پہلے سماج کے نچلے آدمی کو فائدہ پہنچائے، پھر کمزور طبقوں کو، اگر ملک کی مکمل طورپر ترقی ہوتی ہے اور سب سے کمزور طبقوں، دلتوں، پسماندہ ذاتوں کو فائدہ ملتا ہے تو ممکنہ 20-25برسوں کے بعد ذات برادری نظام سے اوپر اٹھ کر سوچنے والوں کی تعداد شاید بڑھے۔ آج تو ذات پر مبنی سماج میں بھی ایسے لوگوں کی کمی ہو گئی ہے جو اپنی ذات کے غریبوں کے بارے میں سوچتے ہوں۔ہندوستان میں ذات اور طبقہ ایک دوسرے کے مترادف ہورہے ہیں۔ ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو ملک کے تمام طبقوں و ذاتوں کے بارے میں سوچے۔ یہ نہ سوچنے کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک میں جرم، چھینا جھپٹی و نکسلواد کی وارداتوں میںاضافہ ہورہا ہے اور اس کے بارے میں سوچنے کے لیے کسی سقراط یا تلسی داس کی بھی ضرورت نہیں ہے، آج کی سیاسی قیادت یہ کر سکتی ہے، بشرطیکہ وہ اس معاملہ میں سنجیدہ ہو۔ امید ہمیشہ بہتری کی ہی کرنی چاہیے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *