بایو ڈائیورسٹی قانون کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت

Share Article

کانچی کوہلی
دوجون 2010کو ہندوستان کا گرین ٹریبیونل قانون وجود میں آگیا۔ 1992 میں رییو میں ہوئی گلوبل یونائیٹڈ نیشنز کانفرنس آن انوائرمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ کے فیصلے کو قبول کرنے کے بعد سے ہی ملک میں اس قانون کی ضرورت تھی۔ اس کے علاوہ پلاننگ کمیشن کو بھی اس کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی،حالانکہ گرین ٹریبیونل کی تشکیل کے سلسلہ میں پارلیمنٹ میں کئی طرح کے سوال اٹھائے گئے، آخر کار اس کی ضرورت کے پیش نظر اسے منظوری مل ہی گئی۔ اس قانون میں نیشنل گرین ٹریبیونل نامی ایک نئی یونٹ کی تشکیل کا بندو بست ہے، جو ماحولیات سے متعلق تمام معاملوں پر نظر رکھے گی۔ اس سے یہ واضح ہے کہ ٹریبیونل ملک میں نافذ ماحولیات، پانی، جنگل اور بایو ڈائیورسٹی کے تمام قوانین سے جڑا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر نئے قانون کا ایک حصہ ایسا ہے، جو پوری طرح بایو ڈائیورسٹی قانون 2002(بی ڈی ایکٹ 2002) سے متعلق ہے۔ اس کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بی ڈی ایکٹ اور نو تشکیل ٹریبیونل وزارت ماحولیات اور جنگلات کے ماتحت کام کریںگے۔
بایو ڈائیورسٹی قانون کنونشن آن بایو لوجیکل ڈائیورسٹی(سی بی ڈی) کے تئیں ہندوستان کی شرائط کو ذہن میں رکھ کر بنایا گیا ہے۔ سی بی ڈی 1992میں وجود میں آیا تھا اور 193ممالک نے اس پر اپنے دستخط کیے ہیں۔ سی بی ڈی کی تجاویز کے مدنظر ہندوستان کے بایوڈائیورسٹی قانون کے تین خاص مقاصد ہیں۔ بایو ڈائیورسٹی کا تحفظ، اس کا ایسا استعمال جس سے یہ لمبے عرصہ تک دستیاب رہے اور ملک کے بایولوجیکل وسائل کے استعمال سے ہونے والے فائدے کی برابر سپلائی تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے بایو ڈائیورسٹی قانون میں سہ رخی تشکیل کابند و بست ہے ،یعنی قومی سطح پر ایک نیشنل بایو ڈائیورسٹی اتھارٹی(این بی اے)، ریاستوں میں اسٹیٹ بایو ڈائیورسٹی بورڈ (ایس بی بی) اور مقامی سطح پر بایو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیاں۔ نوتشکیل گرین ٹریبیونل کو این بی اے اور ایس بی بی کے فیصلوں پر اپیل کا حق حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ این بی اے اور ایس بی بی کے فیصلوں کے خلاف گرین ٹریبیونل میں اپیل کی جاسکتی ہے۔ نیشنل گرین ٹریبیونل قانون کے مطابق بایو ڈائیورسٹی قانون میں بھی تبدیلی کی جارہی ہے۔
بایوڈائیورسٹی قانون میں ملک کے بایولوجیکل وسائل اور روایتی علوم کا استعمال کرنے والوں کے لیے واضح بندو بست کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت اگر کوئی شخص پیٹنٹ حقوق حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ این بی اے کو درخواست دے سکتا ہے۔ اسی طرح کسی نئی  تحقیق کے نتائج کسی تیسرے فریق کو منتقل کرنے پر روک لگانے کے لیے بھی این بی اے حکم دے سکتا ہے۔ ایس بی بی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہر ایسی سرگرمی پر روک لگائے، جس سے بایو ڈائیورسٹی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ ایس بی بی اپنے اختیار والی ریاست کے کسی خاص علاقہ کو بایو ڈائیورسٹی ہیریٹیج سائٹ بھی ڈکلیئر کرسکتا ہے۔ کسی بھی دیگر قانون کی طرح بایو ڈائیورسٹی قانون میں بھی اس کی خلاف ورزی یا اس کی غلط تشریح اور اس کے فیصلوں کے خلاف بے اطمینانی کے معاملوں میں متاثرہ فریق کو راحت دستیاب کرانے کا بندو بست ہے۔ مثال کے طور پر اگر این بی اے نے کسی طبی کام میں استعمال کیے گئے پودے یا کسی جانور کے اعضا کے استعمال کی اجازت دینے میں مناسب عمل کی تعمیل نہیں کی ہے تو متاثرہ فریق ہائی  کورٹ میں بھی اپیل کرسکتا ہے۔
جہاں تک فوائد کی تقسیم کی بات ہے تو فائدہ حاصل کرنے والے جو کہ کسان ہو سکتے ہیں یا پھرماہی گیر، چرواہے، جنگلوں میں رہنے والے لوگ یا مقامی لوگ، فائدوں کی تقسیم کے این بی اے کے ذریعہ طے کیے گئے نظام کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرسکتے ہیں۔ یہ اپیل 30دنوں کے اندر دائر کی جاسکتی ہے، حالانکہ یہ مدت 60دنوں تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ بایو ڈائیورسٹی قانون میں فائدہ کی تقسیم کے لیے 6طریقے ہیں، جنہیں بایو وسائل یا ان سے متعلقہ روایتی علوم کے استعمال کی اجازت دینے کے معاملوں میں این بی اے اپنے حکم کے ذریعہ ضروری شرط کی شکل میں متعین کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر فائدہ کی تقسیم کے لیے این بی اے کوئی خاص رقم متعین کرتا ہے، لیکن فائدہ اٹھانے والوں کی شکل میں کوئی مقامی طبقہ یا غیرملکی کمپنی اس سے اذیت محسوس کرتی ہے تو وہ نیشنل گرین ٹریبیونل میں اپیل کرسکتی ہے۔
گرین ٹریبیونل کی تشکیل کے بعد تبدیلی یہ آئی ہے کہ بایو ڈائیورسٹی قانون کے تحت ہائی کورٹ میں کوئی اپیل نہیں کی جاسکتی۔ اس کے لیے اس قانون کی دفعہ 52کو ختم کردیا گیا ہے اور اس کی جگہ دفعہ 52-اے کا بند و بست کیا گیا ہے۔ نئے نظام میں این بی اے یا ایس بی بی سے متاثرہ فریق کے لیے نیشنل گرین ٹریبیونل میں جانا ضروری ہے۔ ٹریبیونل کی تشکیل سے پہلے یہ اپیل ہائی کورٹ میں دائر کی جاسکتی تھی، لیکن اب ایسی تمام اپیلیں اور عرضیاں گرین ٹریبیونل میں ہی دائر کی جاسکتی ہیں۔ اس نئے نظام کے لیے پارلیمنٹ نے بایو ڈائیورسٹی قانون میں ضروری ترمیم کو منظوری دے دی ہے۔
یہاں کچھ ایسی چیزیں ہیں، جن پر توجہ دینی ضروری ہے۔ بایو ڈائیورسٹی قانون کی اپیل کی سہولت کا پہلے کم ہی استعمال ہوا ہے، پھر بھی جب یہ قانون وجود میں آیا تو اس پر چہار جانب سے تنقید ہوئی تھی۔ تنقید کے پیچھے دلیل یہ دی گئی تھی کہ بایو وسائل کے استعمال کی اجازت سے متاثر ہونے والے مقامی طبقوں کا اعلیٰ عدالتوں تک پہنچ پانا مشکل ہوتا ہے۔ اب اس کے لیے ہائی کورٹ میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیوںکہ اپیلیں گرین ٹریبیونل کے سامنے دائر کی جاسکتی ہیں۔ ٹریبیونل کا ہیڈکوارٹر مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں بنایا جارہا ہے۔اس کے علاوہ ریاستوں میں بھی علاقائی ٹریبیونل کی تشکیل کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ پہلے سے ہی کام کے بوجھ تلے دبی عدالتوں کی بجائے ٹریبیونل کے سامنے اپیل کے اس نئے طریقیکے بعد یہ امید کی جانی چاہیے کہ بایو ڈائیورسٹی سے متعلق معاملوں کا خاتمہ تیزی سے ہوگا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ گرین ٹریبیونل کی تشکیل صرف بایو ڈائیورسٹی قانون کے تحت شکایتوں کے خاتمے کے لیے ہی کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے ٹریبیونل کے ممبران کا اسپیشلائزیشن کافی اہم ہوسکتاہے۔ فوائد کے تقسیم کا معاملہ قانونی پہلوؤں تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس کے ساتھ کئی اور فریق جڑے ہیں، جن کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔ وسائل کے استعمال اور فوائد کی تقسیم  کا معاملہ صرف عدالتی یا رد عمل کے ایشوز تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس کے ساتھ حالات، ماحولیات اور سماجی سرو کار کے ایشو بھی جڑے ہیں۔ سماج یہی امید کرتا ہے کہ عدالتوں کے رسمی کام کاج کے سسٹم کے بجائے ٹریبیونل کے غیررسمی ماحول میں بایو ڈائیورسٹی سے متعلق معاملوں میں حقیقی پہلوؤں کو ذہن میں رکھا جائے گا۔
شکایتوں کے خاتمہ کے لیے بنا کوئی بھی ادارہ تبھی کارگر ہوسکتا ہے، جب عام لوگ اس کے ساتھ جڑ سکیں اور اس تک رسائی بنا سکیں۔ پہلی نظر میں دیکھیں تو یہ نیانظام اس عمل کو آسان بناتا نظر نہیں آتا ہے۔ وجود میں آنے کے بعد یہ گرین ٹریبیونل کیسے کام کرتا ہے، یہ مستقبل کے بطن میں پوشیدہ ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ بایو ڈائیورسٹی کے معاملوں میں ٹریبیونل کے احکام کو عدالتوں کی رسائی سے دور کردیا گیا ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ چیزیں بدل رہی ہیں اور بایو ڈائیورسٹی قانون کے تحت این بی اے اور ایس بی بی کے خلاف متاثرہ فریق کو انصاف کے لیے اب عدالتوں کی پناہ میں نہیں جانا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *