بنا اسٹنگ ہی پھنس گئے تیجپال

Share Article

ارون تیواری 
p-4bکبھی بی جے پی لیڈر بنگارو لکشمن کو استعفیٰ دینے کے لئے مجبور کرنے والے ترون تیج پال نے ایک ساتھ کام کرنے والی ساتھی کے ساتھ جنسی استحصال کا الزام لگنے کے بعد چھہ مہینے کے لئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔بنگارو کو گزشتہ سال چار برس کی سزا دے دی گئی۔ اب باری ترون کی ہے۔اسٹنگ آپریشن کر کے لک کی صحافت کو نئی اونچائی دینے والے تیج پال اب خود زوال کی طرف ہیں ۔جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ان پر الزامات بڑھتے جارہے ہیں۔ان پر چوطرفہ حملے ہو رہے ہیں ۔وہ بچائو کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ان کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔جو لوگ کبھی تیج پال کے اسٹنگ آپریشن میں پھنس گئے تھے اب وہ تیج پال کو آئینہ دکھانے کے لئے تیار ہیں۔
2001 میں تہلکہ نے اپنی سب سے بڑی اسٹنگ آپریشن ’ویسٹ اینڈ ‘ کیا۔ تہلکہ کے دو صحافیوں ،میتھیو سموئیل اور انیرودھ بہل نے وزارت دفاع کے افسروں کی اسٹنگ آپریشن کی۔ یہ دونوں آرم ڈیلر بن کر ان افسروں کے پاس گئے تھے اور افسروں کو رشوت دی،جسے افسروں نے قبول بھی کر لیا۔ اس اسٹنگ آپریشنمیں سینئر بی جے پی لیڈر بنگارو لکشمن بھی پھنسے تھے۔گزشتہ سال کورٹ نے انہیں اس معاملے میں سزا سنائی ہے۔ معاملے میں اس وقت سمتا پارٹی کی لیڈر جیا جیٹلی بھی پھنسی تھیں۔ انہیں بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اس وقت کے وزیر دفاع نے بھی اس معاملے میں استعفیٰ دیا تھا لیکن بعد میں انہیں پھر سے اس عہدے پر بحا ل کر دیا گیا تھا۔ پورے معاملے کو لے کر این ڈی اے کی اتحادی پارٹی ترنمول کانگریس نے سرکار سے حمایت واپس لے لی تھی۔ جس کی وجہ سے اٹل بہاری باجپئی کی سرکار مشکلوں میں پھنس گئی تھی۔ اس کے بعد اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد میں سرکار نے پارلیمنٹ میں اکثریت ثابت کردی تھی۔
اس کے بعد این ڈی اے سرکار نے تہلکہ فائننسر سمیت کئی رپورٹروں پر کارروائی بھی کی نیز تہلکہ کے آفس کی جانچ کی گئی۔ اسے لے کر نوبل ایوارڈ یافتہ وی ایس نائپال اس وقت کے نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی سے ملے تھے۔ ان سے ملنے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ تہلکہ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ افسوسناک ہے اور ملک کے لئے بھی تشویشناک ہے۔اس پورے معاملے کو لے کر صحافی مدھو تریہان نے 2009 میں ایک کتاببھی لکھی، جس کا نام تھا ’’ دی تہلکہ میٹافر‘‘۔
2007 میں تہلکہ نے کچھ اور ویڈیو فوٹیج جاری کیا جوسیاسی گلیاروں میں کافی زیر بحث رہا۔یہ ویڈیو فوٹیج 2002 گجرات فسادات کے وقت کے تھے جس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ کس طرح بی جے پی لیڈروں نے مل کرمسلمانوں کا قتل کروایا۔ ویڈیو میں بجرنگ دل کے لیڈر بابو بجرنگی کو دکھایا گیا تھا جن کی قیادت میں نرودا پاٹیا میں 91 مسلمانوں کو قتل کردیا گیا تھا۔
2009 میں جب منی پور کی پولیس نے اس بات کا اعلان کیا کہ اس نے ایک دہشت گرد کو مڈبھیڑ میں مار گرایا تب تہلکہ نے 12 فوٹو گرافس جاری کرکے لوگوں کے بیچ یہ خبر پہنچائی تھی کہ یہ ایک فرضی مڈبھیڑ تھی۔ ان فوٹو گرافس میں پولیس کو ایک آدمی فارمیسی کے اندر دھکیل کر لے جاتے دکھایا گیا تھا۔ بعد میں پولیس فار میسی سے اس آدمی کی لاش لے کر باہر نکلی۔ اس کے بعد منی پور میں کئی جگہوں پر مظاہرے ہوئے تھے۔ خاص طور پر یہ مظاہرے نیم فوجی دستوں کو خصوصی اختیار دینے والے قانون افسپا کے خلاف تھے۔ پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے تھے اور کئی علاقوں میں کرفیو لگا دیا گیا تھا۔
2010 میں تہلکہ نے دائیں بازو تنظیم رام سینا کے لیڈر پرمود متالک کا ویڈیو جاری کیا تھا۔ اس ویڈیو میں تہلکہ کے ایک رپورٹر کو تنظیم کے ایک فن نمائش پر حملہ کرنے کے لئے سرمایا لیتے ہوئے دکھایا گیا۔ اسے لے کر بھی کافی ہنگامہ ہوا تھا اور اسے سیاسی سرخیاں ملی تھیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ملک میں کیا لیڈر کیا نوکر شاہ ،سبھی کا پردہ فاش کرنے والے ترون تیج پال بناکسی اسٹنگ آپریشن کے ہی کیوں پھنس گئے؟ان پر جس طرح کا الزام لگا ہے وہ کسی بھی شکل میں ان الزاموں سے کمزور نہیں ہیں جس کے لئے وہ دوسروں کو اسٹنگ کرتے رہے ہیں۔
ان کے ساتھ کام کرنے والی ایک نوجوان ساتھی نے ان پر گوا میں تھینک فیسٹ کے دوران جنسی استحصال کا الزام لگایا۔وہ لڑکی ترون کی بیٹی ٹیا کی دوست بھی ہے۔ وہ تہلکہ میگزین میں کام کرتی تھی اور اس نے ترون پر الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔ کیا ایساہے کہ دوسروں کا بھنڈا پھوڑ کرنے والے ترون تیج پال کو اپنی ہی کمیاں دکھنا بند ہو گیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی جیسی ساتھی کا ایک بار نہیں بلکہ دو بار جنسی استحصال کیا۔ اس کے بعد خود سر کماندڑ کی طرح شرمندگی کے آنسو بہاتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ کیا تہلکہ کے عروج کا آخری وقت آگیا ہے؟اگر ایسا ہے تو اس کے لئے ذمہ دار صرف وہی ترون ہوںگے ،جنہوں نے اسے عروج تک پہنچایا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *