بھیما کوریگائوںتشدد: رانچی میں فادر اسٹین کے گھر مہاراشٹر پولیس کی چھاپہ ماری

Share Article
Father Stan Swamy, activist raided in Bhima Koregaon probe, irked govt with report on jailed tribals in Jharkhand

 

مہاراشٹر کے بھیما کوریگائوں تشدد معاملہ میں سوالات سے گھرے جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں رہ رہے انسانی حقوق کے کارکن فادر اسٹین سوامی پر قانونی شکنجہ کس گیا ہے۔ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے جھارکھنڈ پولیس کے تعاون سے بدھ کی صبح سات بجے سوامی کے نامبغیچہ ٹولی واقع رہائش گاہ پر دبش دی ہے۔

 

سال بھر کے اندر اندر دوسری بار مہاراشٹر پولیس نے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ ماری کی ہے۔ 28 اگست، 2018 کو فادر اسٹین کی رہائش گاہ سے لیپ ٹاپ،پین ڈرائیو، سی ڈی، موبائل فون سمیت اہم دستاویز قبضے میں لیے تھے۔ اس باراہم دستاویزات فادر کے گھر سے قبضے میں لیے گئے ہیں۔ بھیما کوریگائوں میں 1 جنوری، 2018 کو وسیع پیما نے پر تشدد ہوا تھا۔ اس کے بعد پونے کے وشرام باغ تھانے میں یلغار پریشد کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے بنائے گئے قانون کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

 

بھیما کوریگائوں میں یلغار کونسل 31 دسمبر، 2017 کو منعقد کی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں فادر اسٹین سوامی نے بھی حصہ لیا تھا۔ مہاراشٹر پولیس کئی بار کہہ چکی ہے کہ اسٹین سوامی سمیت دیگر سماجی کارکنوں کی تقریروں کی وجہ سے تشدد ہواتھا۔ بھیما ندی کے کنارے واقع یادگار کے قریب پتھراؤ اور آتش زنی سے بھاری نقصان ہوا۔ 80 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس پر تشدد واقعہ میں راہل فتانگلے کی موت ہو گئی تھی۔

 

فادر اسٹین سوامی تقریبا ًپانچ دہائی سے جھارکھنڈ میں سرگرم ہیں۔ وہ پہلے چائی باسا میں رہ کر قبائلی تنظیموں کے لئے کام کرتے تھے۔ 2004 میں وہاں سے رانچی آئے اور اس کے بعد سے نامکم میں رہ رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نکسلیوں کے نام پر جیل میں بند 3000 زیرالتواء لوگوں کے لئے انہوں نے ہائی کورٹ میں پی آئی ایل داخل کی ہے۔

 

بھیما کوریگائوں پیشواؤں کی قیادت والے مراٹھا سلطنت اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ہوئے جنگ کے لئے جانا جاتا ہے۔ ایک جنوری، 2018 کو اس جنگ کی 200 ویں سالگرہ تھی۔ مراٹھا فوج یہ جنگ ہار گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو مہار ریجمنٹ کے فوجیوں کی وجہ سے فتح حاصل ہوئی تھی۔ بھیم راؤ امبیڈکر کی وجہ سے اس جگہ کو پیشواؤں پر مہاروں یعنی دلتوں کی فتح کے یادگار کے طور پر شناخت ملی۔

 

اس جنگ کی سالگرہ کے موقع پر31 دسمبر، 2017 کو ‘ب بھیما کوریگائوں شوریہ دن پریرنا ابھیان’ کے بینر تلے کئی تنظیموں نے مل کر ریلی کی تھی۔ اسے یلغار کونسل کا نام دیا گیا تھا۔ اس کا افتتاح آنجہانیطالب علم روہت ویمولا کی ماں رادھیکا ویمولا نے کیا تھا۔ اس دوران پرکاش امبیڈکر، ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس بی جی کولسے پاٹل، گجرات سے اس وقت کے ایم ایل اے جگنیش میوانی ، جے این یو طالب علم عمر خالد، قبائلی کارکن سونی سوری وغیرہ موجود تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *