بہار کا تاریخ ساز ہیرو

Share Article

سنتوش بھارتیہ
بہار میں نتیش کمار کی جیت ان کی اپنی ہے یا بہار کے عوام کی، یہ سوال بہت سے لوگوں کی زبان پر ہے۔اس کا جواب بہت صاف ہے، بہار میں عوام جیتی ہے اور اس نے نتیش کمار کی شکل میں ایک ایسا لیڈر منتخب کیا ہے جس پر بے شمار خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی ذمہ داری ہے۔بہار کے عوام نے وقتاً فوقتاً  بڑے تاریخی فیصلے کئے ہیں۔ یہ فیصلہ بھی ان میں سے ایک ہے۔
یاد کریں تو مہاتما بدھ یاد آتے ہیں، تیرتھ کر مہاویر یاد آتے ہیں، چانکیہ یاد آتے ہیں، ویشالی گنتنتر یاد آتے ہیں، نالندہ یونیورسٹی یاد آتی ہے ،گاندھی جی کی تحریک کی شروعات کا مرکز چمپارن یاد آتا ہے، ہندوستان کے پہلے صدر جمہوریہ راجندر پرساد یاد آتے ہیں اور یاد آتے ہیں لوک نائک جے پرکاش نارائن جنھوں نے ملک میں جمہوریت اور بنیادی تبدیلی کی لڑائی شروع کی۔ لوک نائک جے پرکاش کی تحریک سے نکلے بہت سے لوگ آج سیاست کے افق پر ہیں جن میں بہار کے لالو یادو، رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار اہم ہیں۔ بہار کے عوام نے اس مرتبہ ان تینوں میں صاف طور پر نتیش کمار کو اپنا لیڈر منتخب کیاہے۔
60کی دہائی کے آخری مرحلہ میں جب بہار میں بوتھ کیپچر کرنے کی شروعات ہوئی تو اس نے پندرہ سالوں میں اتنی خطرناک شکل اختیار کر لی کہ کبھی لگتا ہی نہیں تھا کہ اب صا ف شفاف انتخابات دیکھنے کو ملیں گے۔ملک بھر میں یہ تکنیک بہار سے گئی، بہار کا نام ملک میں بے حد بدنام ہوا۔پھر آیا لالو یادو کادور۔ بہار میں اقتدار میں وہ آئے جنہیں کبھی اقتدار میں حصہ داری ملی ہی نہیں تھی۔ پسماندہ، دلتوں کے گروپوں میں بہت سی امیدیں پیدا ہوئیں، مگر پندرہ سال میں بہت سی امیدیں چکنا چور ہو گئیں۔ایسا محسوس ہوا کہ اقتدار ہے ہی ایسا، جس کے پاس آتا ہے وہ ایک ہی کردار کا ہو جاتا ہے۔15سالوں میں ترقی تو ہوئی ہی نہیں، اقتدار میں حصہ داری نہ دبے کچلوں کو ملی اور نہ اقلیتوں کو۔ اس کے برعکس بہار میں جرائم میں اضافہ ہوا، پھروتی اوراغوا کاری کے دھندے کھڑے ہو گئے۔ تاجر سے لے کر رکشہ پلر تک غیر محفوط ہو گئے۔ مجرموں کے لئے کروڑ پتی اور پچاس روپے رکھنے والا صرف شکار بن گیا۔ خواتین شام کے بعد سڑکوں پر نکلتی ہی نہیں تھیں۔ کہا جانے لگا کہ شام کے بعد جتنی بڑی گاڑی نکلتی تھی اس میں اتنا ہی بڑا غنڈہ لیڈر کی پوشاک میں نکلتا تھا۔ ترقی کے نام پر بہار صفر تھا، ترقی کا پلا قدم سڑک غائب ہو گئی تھی۔ کہا جانے لگا تھا کہ بہار میں سڑکوں پر گڈھے نہیں ہیں، گڈھوں میں سڑک ہے۔ بہار میں کسی کو امید نہیں تھی کہ منظر بدلے گا۔ برادری کا اتنا گہرا اثر تھا کہ لوگ تسلیم کرنے لگے تھے کہ بہار ذات برادری کی قومی راجدھانی ہے۔ہر ذات یا لیڈر اپنی ذات کو اپنی جاگیر ماننے لگا تھا۔
پھر آیا 2004، حکومت نہیں بن پائی۔ آیا 2005جس میں عوام نے معمولی اکثریت سے نیا تجربہ کیا، اقتدار نتیش کمار کے ہاتھوں میں گیا اور اب آیا 24نومبر 2010جس میں بہار کے عوام نے تاریخی فیصلہ سنایا، نہ کوئی لاگ نہ لپیٹ،نہ کوئی شک۔ اتنی اکثریت نتیش کو دے دی کہ وہ جو چاہیں کریں، انہیں روکنے کی طاقت کسی کے پاس نہیں ہے، نہ لالو یادو اور نہ رام ولاس پاسوان کے پاس۔
یہ فیصلہ ملک کا سب سے بڑا سیاسی فیصلہ ہے جس میں بہار کے عوام نے ایک جھٹکے میں ذات برادری کا بندھن توڑ دیا اور مذہب پر مبنی سیاست کو بھی باندھ دیا۔ اس میں سبھی شامل رہے، یادو بھی، مسلمان بھی اوردلت بھی۔ بہار کا یہ فیصلہ منڈل کمیشن سے آگے جاتا ہے۔ بہار کے لوگوں نے ان لوگوںکو نکار دیا جو منڈل کمیشن سے نکلے سیاسی مفاد کو صرف پسماندگان کے مضبوط طبقوں تک ہی محدود رکھنا چاہتے تھے۔ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے کہ اب کمزور طبقہ میں بھی نئی قیادت ابھر سکتی ہے۔ انتہائی پسماندہ اور مہا دلتوں کے ساتھ خواتین بھی محروم رہی ہیں۔ نتیش کمار نے پنچایتوں میں خواتین کو50فیصد ریزرویشن دیا، اس سے ان میں پیغام گیا کہ اب انہیں بھی اقتدار میں حصہ داری مل سکتی ہے۔ اتناہی نہیں اسکولوں میں انہیں نوکری ملی، مقامی یونٹوں کے عہدوں پر بھی خواتین کی تقرریاں ہوئیں۔پرائمری ٹیچروں کی تقریباً 2لاکھ تقرریاں ہوئیں جس سے لوگوں میں مثبت پیغام گیا۔حالانکہ اس میں نالائق، سفارشی اورنا اہل لوگوں کی تقرریاں ہوئیں لیکن ایک شروعات ہوئی جس کا عام لوگوں نے خیر مقدم کیا۔ اسکولوں میں پوشاکیں تقسیم ہوئیں، لڑکیوں کو سائیکلیں ملیں۔ یہ بہار کے لئے نئی بات تھی۔ جھنڈ کے منڈ اسکولوں میں لڑکیوں کے جانے لگے۔ اسکولوں میں لڑکیوں کی بھرمار ہو گئی۔
یہ سب اتنی خاموشی سے ہوا کہ اس کی بھنک تک لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کو نہیں لگ پائی۔یہ اپنے کارکنان کی بات بھی نہیں سننا چاہتے تھے۔ حالانکہ کارکنان انہیں بتانا چاہتے تھے کہ زمینی حقیقت تبدیلی ہو رہی ہے۔ دونوں مانتے تھے کہ جب یہ مل جائیں گے تو بہار میں انہیں کا اقتدار ہوگا، کیونکہ دبنگ یادو اور مضبوط پاسوان کا جواب کمزور، انتہائی پسماندہ اور مہادلت کیا دیں گے۔ مسلمانوں کو تو یہ اپنی جیب کا چلر سمجھتے تھے کہ وہ انہیں چھوڑ کر کہاں جائیں گے۔
سال بھر پہلے ہوئے ضمنی انتخابات نے دونوں کو یہ یقین دہانی کرا دی تھی۔ جیت کے بعد لالو یادوکی پارٹی نے جس طرح جشن منایا اس سے بہار کے لوگ میں شک پیدا ہو گیا۔لالو یادو اور رام ولاس پاسوان انتخابات سے چھ ماہ قبل بہار میں سرگرم ہوئے۔ یہ حقیقتاً یقین کرتے تھے کہ یادو، پاسوان اور مسلمانوں کا تال میل ان کے ہاتھ میں اقتدار لانے والا ہے۔
اور نتیش کمار کا خاموشی سے بویا گیا بیچ با اثر طریقہ سے اپنا کام کرگیا، جس کا اثر یہ دونوں محسوس ہی نہیں کر پائے۔ان کے کارکنان اور لیڈر زمینی حقیقت جانتے تھے اس لئے ان سے ٹوٹ کر نتیش کی پارٹی میں شامل ہونے لگے۔ انہیں کوئی فکر نہیں ہوئی، پاسوان کی تو پوری اقلیتی یونٹ ہی نتیش کمار کے ساتھ چلی گئی۔ یہ دونوں لیڈر پندرہ سال پرانی حکمت عملی پر چل رہے تھے۔ اس بار لالو یادو کو لگا کہ وہ اپنے بیٹے کو انتخابات میں عوام کے سامنے لا کر اپنا جانشین قرار دیں گے۔ ان کا بیٹا تیجسوی اجلاس میں تقریر کرنے لگا اوراپنے والد کو اپنا کوچ بتانے لگا۔ ادھر رام ولاس پاسوان نے اپنے کنبہ کے 6افراد کو الیکشن میں کھڑا کر دیا جن میں ان کے دونوں بھائی بھی شامل تھے۔
لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کے پاس انتخابات جیتنے کا کوئی منصوبہ ہی نہیں تھا۔ لالو یادو کا منصوبہ بنانے والے ان کے شیوانند تیواری جیسے ساتھی انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور جو ساتھ تھے جابر حسین جیسے، وہ خاموش بیٹھ گئے۔انھوں نے نہ صرف اپنی پارٹی، بلکہ عوام کو بھی ٹیکن فار گرانٹیڈ لیا۔ خود کو وزیر اعلیٰ قرار دینا لالو یادو کے لئے زہر ہو گیا اور پشوپتی پارس کو نائب وزیر اعلیٰ قرار دینا پاسوان کے لئے ہار کا سبب بن گیا۔
اس فیصلہ نے بتایا کہ لالو یادو صرف یادئوں کے ہاتھ میں طاقت دینا چاہتے ہیں، جیسا انھوں نے اپنی پوری مہم میں کھلے عام کہا ۔اس سے بہار کے لوگوں کو لگا کہ لالو یادو کہیں بھی مجرموں پر لگا م لگانے کی بات نہیں کہہ رہے ہیں، بلکہ اقتدار ان کے ہاتھ میں دینے کی بات کر رہے ہیں جن کے ہاتھ میں ان دنوں نہیں ہے۔ لوگ کانپ گئے۔تیجسوی یادو کا اجلاس میں شامل ہونے سے محسوس کیا جانے لگا کہ مستقبل کا وزیر اعلیٰ یا پارٹی لیڈر اب ان کا بیٹا ہوگا۔ لالو یادو کی بیٹیاں اور داماد بھی سیاست میں آ سکتے ہیں، اس نے پارٹی میں بے اطمینانی پیدا کر دی۔یادو معاشرہ کو محسوس ہونے لگا کہ اب تک رنجن یادو جو کہتے رہے ہیں وہ حقیقت ہے کہ لالو یادو پورے یادو معاشرہ کا استعمال اپنے اور اپنے کنبہ کے لئے کر رہے ہیں۔رنجن یادئوں نے پاگل پن کی حد تک جا کر یادو معاشرہ کو بتایا کہ ان کا ہاتھ نتیش کمار کے ساتھ ہے،لالو یادو کے ساتھ نہیں۔لالو یادو کے ساتھ دبنگ یادو رہ گئے ہیں، اکثریت نتیش کے ساتھ چلی گئی۔رابڑی دیوی دونوں حلقوں سے ہار گئیں۔ جھا جھا میں 90ہزار یادو ہیں، وہاں لالو یادو کا امیدوار ہار گیا۔ نتیش جی کا جیت گیا۔ رادھو پور میں ایک لاکھ یادو ہیں ،وہاں نتیش کمار کا یادو امیدوار جیتا۔ یادو سماج نے لالویادو کو چھوڑ دیا۔
رام ولاس پاسوان جو ہمیشہ مسلمانوں کے مفادات کی بات کرتے آئے ہیں۔ مگر فیصلہ کا وقت آیا تو انھوں نے اپنے بھائی کو نائب وزیر اعلیٰ قرار دے دیا، کسی مسلمان کو نہیں۔ کاش وہ کسی مسلمان کا پہلے اعلان کر دیتے اور اپنے بھائی کو دوسرا نائب وزیر اعلیٰ قرار دے دیتے۔یہی ان کی سب سے بڑی بھول تھی۔ کنبہ کے افراد کو کھڑا کرنا بھی کارکنان کو ان کا لالو یادو کے راستہ پر جانے جیسالگا۔ پندرہ سال تک لالو یادو کا ساتھ دینے والے مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ لالو صرف وعدے کرتے ہیں اور پاسوان زبانی جمع خرچ کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور نتیش کے ساتھ بی جے پی کا ساتھ دے دیا۔ رام ولاس پاسوان کا الیکشن میں اپنے بیٹے کو گھمانا بھی ویسا ہی ماحول بنا گیا جیسا تیجسوی کے لئے بنا تھا۔ لوگ دیکھنے آتے تھے مگر دونوں کے والدین پر تنقید کرتے جاتے تھے۔
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے نتیش اور بی جے پی کا ساتھ بہت سوچ سمجھ کر دیا ہے۔ پندرہ سالوں تک انہیں کچھ نہیں ملا۔ اس بار جس طرح نتیش نے انتہائی پسماندہ، مہا دلتوں اور خواتین کو ریزرویشن دیا اور نوکریوں کے دروازے کھولے، اب ان کے لئے بھی کھلیں گے۔اس لئے انھوں نے نتیش کے ساتھ بی جے پی کو بھی جم کر ووٹ دیا ہے۔ یہ امید کتنی  پوری ہوگی، معلوم نہیں، لیکن اگر نتیش نے مسلمانوں کے لئے بھی ویسا ہی راستہ نکالا جیسا دوسرے محروم طبقوں کے لئے نکالا ہے تو ملک کے مسلمان نتیش کمار میںاپنا ایک نیا لیڈر دیکھنا شروع کر دیںگے۔
کانگریس کی حالت خراب اس لئے ہوئی کیونکہ کانگریس کبھی اپنے مقصد میں صاف رہ ہی نہیں پائی۔ایک سال سے زیادہ وقت تک رہے انل شرما نے بہار کانگریس میں جان پھونک دی تھی۔ مگر بعد میں کس کے کہنے سے تمام جماعتوں کے خارج میل کو کانگریس میں شامل کرنے کی مہم سی چلی۔بعد میں جگدیش ٹائٹلر کو بہار کا انچارج بنایا گیا۔ ان کا انل شرما سے جھگڑا نچلی ترین سطح پر چلاگیا۔ کانگریس کی مرکزی قیادت خاموش رہی۔اچانک چار ماہ پہلے ریاستی صدر کے عہدہ پر ایک مسلمان کوبٹھا دیا اور مکل واسنک کو انچارج بنا دیا جنہیں شمالی ہند کی سیاست کا  ’’ا، ب، ت ‘‘تک نہیں معلوم۔راہل گاندھی اپنے جوش میں نوجوانوں سے وعدہ کرتے رہے مگر ٹکٹ انہیں نہیں ملا۔ کانگریس نے تمام سیٹیں لڑیں اور سبھی میں شکست کھائی۔صرف چار لوگ اپنی بنیاد پر جیتے۔اب کانگریس کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے لالو یادو اور ر ام ولاس پاسوان کو بہار کی سیاست سے صاف کرنے کے لئے یہ حکمت عملی بنائی تھی، مگر لوگوں نے نتیش کے ایجنڈے کی حمایت کی ہے۔ کانگریس نے پڑوسی کو اپشگن کرنے کے لئے اپنی آنکھ پھوڑ لی، اس کہاوت کو ثابت کر دیا ہے۔ کانگریس نے بہار میں جان بوجھ کر راہل گاندھی کو فیل کیا یا وہ خود فیل ہو گئے، یہ کانگریس کو سوچنا ہے۔ کانگریس کو سمجھنا چاہئے کہ کسی مذہب یا برادری کے شخص کو صدر بنا دینے سے اس برادری یا مذہب کی حمایت نہیں مل جاتی۔ لیاقت بھی ہونی چاہئے۔
بی جے پی نے بہار میں ایک دانشمندی دکھائی کہ اس نے انتخابات میں نریندر مودی اور ورون گاندھی کو نہیں بلایا۔ اس سے مسلمانوں کو لگا کہ نتیش کمار میں طاقت ہے۔ ساتھ ہی سشیل مودی کا چہرہ بھی اور ان کی زبان بھی ڈرائونی نہیں ہے۔ دراصل سشیل مودی کو بہار میں مسلمانوں سمیت دوسرے طبقوں نے ترقی کا چہرہ مانا ہے۔ بی جے پی میں مستقبل قریب میں بحث ہو سکتی ہے کہ بی جے پی نریندر مودی کے راستہ پر چلے یا سشیل مودی کے۔ ان انتخابات نے سشیل مودی کی شکل میں بی جے پی کو ایک مہذب، نرم اور ملنسار قومی لیڈر دے دیا ہے۔ نتیش کمار کے ساتھ چیلنج ہی چیلنج ہیں۔ اگر دیکھیں تو گزشتہ پانچ سالوں میں نتیش کمار نے معمولی وزیر اعلیٰ کا اچھا کام کیا، مگر یہ دانشمندی کی دلیل ہے۔ بہار کے عوام نے نتیش کے کام کو غیر معمولی مانا۔ اسے محسوس ہوا کہ بہار میں انتظامی اندھیرا تھا، ترقی کا اندھیرا تھا، قانونی نظام کا اندھیرا تھا، اس میں نتیش نے ایک چراغ روشن کیا، اندھیر ے میں امید کی ایک کرن روشن کی، اب اسے لگا کہ چراغ روشن کرنے والا اندھیرے کو مٹانے والا روشنی بھی لا سکتا ہے۔ یہ بات نہ رام ولاس سمجھے اور نہ لالو یادو اور نہ ہی صحافی۔
نتیش نے اپنی طرز زندگی سے بھی بہار کے لوگوں کو متاثر کیا۔ ان کے رشتہ دار کبھی سامنے نہیں آئے،دہلی میں وہ کبھی چکاچوندھ میں نہیں رہے۔ کبھی صنعت کاروں اور دلالوں کے ساتھ نہیں نظر آئے۔ ایسے ممبران اسمبلی کو گھاس نہیں ڈالی جو ٹرانسفر پوسٹنگ کی صنعت چلاتے ہیں۔ اسے عوام نے بے حد پسند کیا۔
اتنا ہی نہیں ، نتیش کا مزاج بھی لوگوں نے پسند کیا۔ جارج فرنانڈیز نے نتیش کی مخالف کی، پارلیمنٹ کا انتخاب لڑا، نتیش کی پارٹی کے سامنے دوسروں کی حمایت کی، مگر ان کی طبیعت خراب تھی۔ نتیش نے انہیں بلا کر راجیہ سبھا میں بھیجا۔ دوسری مثال دگ وجے سنگھ کی بیوی کی ہے۔دگ وجے سنگھ اور نتیش میں دوریاں مخالفت کی حد تک بڑھ گئی تھیں۔ دگ وجے سنگھ کا لندن میں انتقال ہو گیا،ان کی بیوی پتل سنگھ کی حمایت نتیش کمار نے لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں بغیر کسی شرط کے کی۔ وہ بھاری ووٹوں سے جیت گئیں۔آج کل ایسی مثال سیاست میں نظر نہیںآتی۔
لیکن چیلنج ہیں، ترقی کا پہلا امتحان بڑی تعداد میں سڑکوں کا بننا ہے۔ گھر گھر بجلی پہنچانے کا وعدہ پورا کرنا ہے۔ پچاس لاکھ ایکڑ زمین بیس لاکھ پریواروں میں تقسیم کرنی ہے۔ زمینی اصلاحات کو نافذ کرنا ہے۔ بڑے تعلیمی ادارے بنوانے ہیں۔ روزگار کے مواقع کیسے بڑھیں، جس کے لئے انفراسٹرکچر مہیا کرانا ہے تاکہ ریاست میں سرمایہ کاری ہو سکے۔قانونی نظام مزید بہتر کرنا ہے۔ مسلمانوں کے لئے ویسا ہی منصوبہ بنانا ہے جیسا انتہائی پسماندگان کے لئے بنا ہے۔ اپوزیشن تو نہیں ہے اس لئے شکایات پر زیادہ توجہ دینی ہے۔جرائم پیشائوں کو قابو میں رکھنا ہے۔ نتیش کمار کو پتہ نہیں ہوگا کہ کوسی کے سیلاب میں جان بچانے کے لئے پورے بہار سے کشتیاں آئی تھیں۔ ملاحوں نے جان پر کھیل لوگوں کو بچایا تھا۔ نصف سے زیادہ کشتیاں واپس نہیںلوٹیں۔ ملاحوں کو نہ مزدوری ملی اور نہ کھوئی ہوئی کشتیوں کا معائوضہ۔ یہ غریب نتیش کی جانب آج بھی نظر یں جمائے  ہوئے ہیں۔
ان انتخابات میں نتیش کو خواتین، انتہائی پسماندہ اور مہا دلتوں نے منظم ہو کر ووٹ دیا ہے اور سب سے زیادہ مسلمانوں کو نتیش کے قریب لانے میں علی انور نے جو ساتھ دیا ہے، وہ بھی قابل تحسین ہے۔ انہیں پہلی بار ان کی طاقت کا احساس ہوا اور انھوں نے پہلی بار ہی دبنگ یادئوں اور مضبوط پاسوان سماج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور جان پر کھیل کر اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔ اس کے ساتھ ہی یہ حمایت اتنی طاقتور ہوگی اور نتیش کمار کو تاریخ کا ہیرو بنا دے گی، یہ خود نتیش کمار کو بھی معلوم نہیں ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *