بہار میں پورے سال چلے گا جشن بہار

Share Article

اشرف استھانوی
بہار میں حالاں کہ ابھی جشن منانے والی کوئی بات نہیں ہے۔ بہار اب بھی خزاں رسیدہ ہے اور بہار میں بَہار لانے کے لئے ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے، لیکن جب حکومت کو بے پناہ عوامی حمایت حاصل ہو اور وہ ریکارڈ توڑ اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئی ہو تو جشن منانے کا تو صرف بہانہ چاہئے۔ چنانچہ نتیش حکومت کو بھی ایک بہانہ مل گیا ہے اور وہ بہانہ یہ ہے کہ آئندہ سال 22 مارچ کو بہار کوبنگال سے الگ ہوئے 100 سال پورے ہونے جا رہے ہیں اس لئے اس سال 22 مارچ سے جشن صد سالہ شروع ہو جائے گا جو پورے ایک سال تک چلے گا۔ اس دوران بہار قانون ساز کونسل کی صد سالہ تقریب بھی منائی جائے گی جس میں صدر جمہوریہ محترمہ پرتبھا دیوی سنگھ پاٹل 22 مارچ 2011 کو آغاز کریں گی۔ جشن صد سالہ کے اختتام کے موقع پر آئندہ سال 18,19 فروری کو اہل بہار کی دوروزہ کانفرنس ہوگی جس میں ملک اور بیرون ملک میں کثیر تعداد میں آباد اہل بہار شریک ہوں گے۔
صد سالہ تقریب سے یہ غلط فہمی پیدا نہیں ہونی چاہئے کہ بہار کی تاریخ صرف 100 سال پر محیط ہے۔ بہار کی تاریخ دراصل صدیوں پرانی ہے۔ حالاں کہ بہار کب اور کیسے بنا یا بہار کا یہ نام کیسے پڑا اس بارے میں تصویر بہت زیادہ صاف نہیں ہے؟ خصوصاً بہار کی وجہ تسمیہ کے سلسلہ میں پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ چودہویں صدی عیسوی کے اوائل میں لکھی گئی کتاب طبقات ناصری میں پہلی بار لفظ بہار کا استعمال کسی قطعہ اراضی کے نام کے طور پر ملتا ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس وقت کے فارسی شعراء نے کسی خاص قطعہ اراضی کی مثالی آب و ہوا اور تقریباً ہر موسم میں وہاں پائی جانے والی بَہار کی کیفیت کے پیش نظر اس جگہ کو بہار کا نام دیا ہو اور بعد میں کثرت استعمال سے وہ بہار بن گیا ہو۔ ویسے اس قیاس میں زیادہ دم نہیں معلوم ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ خیال زیادہ قرین قیاس ہے کہ ہندستان میں بودھ مذہب کے فروغ کے بعد بودھوں کے ذریعہ جگہ جگہ بودھ ویہار قائم کرنے کی جو روایت عام ہوئی ہوگی اس کے نتیجہ میں ایک خاص علاقہ میںبودھ ویہاروں کی جو کثرت ہوئی ہوگی اس کے پیش نظر اس علاقہ کا نام ویہار یعنی ویہاروں والا علاقہ پڑ گیا ہو اور بعدمیں کثرت استعمال سے بہار بن گیا ہواور وہی علاقہ آج آزاد ہندستان کا صوبہ بہار ہو۔ حالاں کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گوتم بدھ کے تقریباً 1500 سال بعد تک ، بے شمار بودھ ویہار وں کی موجودگی کے باوجود، ہندستان کے کسی بھی حصہ کا نام بہار نہیں تھا۔
لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہندستان کا دیہی علاقہ بہار کے نام سے موسوم ہوا جہاں سے صوفی سنتوں کی عظیم روایت کو فروغ حاصل ہوا۔ ظاہر ہے کہ جہاں کثرت میں وحدت اور وحدت میں کثرت کے علم بردار صوفی سنت اور ان کی بے مثال انسان دوستی اور خیر سگالی کی گنگا جمنی دھارا بہہ رہی ہو وہاں تو بَہار ہر حال میں رہے گی اور اسے خزاں کا خوف تک نہیں ستائے گا۔ صوبہ بہار آج بھی بودھ، مہا ویراور حضرت مخدوم جہاں ؒ کا مسکن ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ بہار میں آج بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خیر سگالی کی مثالی فضا پائی جاتی ہے اور اس وقت بھی پائی جاتی تھی جب پڑوسی ریاست اتر پردیش سمیت سارا ہندستان فرقہ وارانہ منافرت کی آگ میں جل رہا تھا۔ آج ہم بھلے ہی اس کا کریڈٹ موجودہ حکومت کی عمدہ حکمرانی اور سیکولر پالیسیوں کو دے دیں ، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ اس کا اصلی کریڈٹ صوفی سنتوں کو جاتا ہے جنہوں نے بہار میں آپسی اتحاد اور بھائی چارہ کی گنگا بہائی اوریہ اسی کا اثر ہے کہ بہار کے لوگ فطری طور پر پر امن ہیں اور عام حالات میں اگر انہیں بھڑکانے کی کوئی منظم سازش نہ ہو تو وہ پریم اور بھائی چارہ کے ماحول میں مل جل کر رہنا پسند کرتے ہیں اور یہی چیز ہر دور میں یہاں کی حکومتوں کے کام کو آسان بناتی رہی ہے۔
بہر حال بعد میں بودھ مذہب کے پیرو کاروں اور بودھ مہا ویہاروں کا دبدبہ کم ہوتا گیا اور علاقائی ہندو راجہ بھی کمزور پڑ گئے اور پھر مسلم حکمرانوں کا دور شروع ہوا۔ مغلیہ عہد کے بعض حکمرانوں کے ذریعہ اس علاقہ کو نظر انداز کئے جانے اور بعض دوسری کمزوریوں کے سبب شیر شاہ سوری کو بہار میں سر اٹھانے کا موقع ملا۔ شیر شاہ نے سہسرام کو اپنا مرکز بناتے ہوئے اپنی طاقت میںاضافہ کیا اور 1536 میں اس نے مغل بادشاہ ہمایوں کو بکسر کے نزدیک چوسا میں پسپا کیااور اس کے ایک سال بعد بلگرام (قنوج) کی فیصلہ کن لڑائی میں اسے دوبارہ شکست دے کر خود کو دہلی کا بھی سلطان قرار دے دیا۔ بعد میں مغل بادشاہ اکبر نے شیر شاہ کو شکست دے کر مغلیہ دبدبہ بحال کیا۔ اس جھٹکے کے بعد اکبر نے بہار سمیت پورے شمالی ہند پر خاص دھیان دینا شروع کیا، لیکن بعد میں اکبر نے انتظامی مصلحت کے تحت بہار کو بنگال کا حصہ بنا دیا اور پھر وہیں سے شروع ہوا بہار کے استحصال اور اس کے ساتھ نا انصافی کا طویل سلسلہ جو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہے۔
مغلیہ حکومت کے زوال کے بعد انگریزوں کا 1764 میں بہار پر تسلط ہوا مگر انہوں نے بھی بہار کو بنگال سے الگ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور جس وقت بہار سمیت پورے ملک میں انگریزوں کو ملک بدر کرنے اور آزادی حاصل کرنے کی جدو جہد چل رہی تھی ملک کے اس حصہ میں جسے آج ہم بہار کہتے ہیں، بہار کو بنگال سے الگ کرنے کی بھی ایک متوازی تحریک ڈاکٹر سچیدا نند سنہا اور ڈاکٹر سید محمود جیسے جیالوں کی قیادت میں چل رہی تھی اور اسی کوشش کے نتیجہ میں 22 مارچ 1912 کو بہار بنگال سے الگ ہوا اور پھر 1936 میں اڑیسہ بہار سے الگ ہوا۔
ملک کی آزادی کے بعد بھی بہار کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ بہار اس وقت چوں کہ بے پناہ معدنی اور قدرتی وسائل سے مالا مال تھا اس لئے اس کی دولت پر تو نظر تھی مگر اس کی ترقی پر کسی کا کوئی دھیان نہیں تھا۔ بیسوی صدی کے ختم ہوتے ہوئے بہار پر ایک اور کاری سیاسی ضرب لگائی گئی اور بہار کی انتہائی غیر منصفانہ تقسیم کرکے اسے اس کے تمام تر معدنی اور قدرتی وسائل سے محروم کر دیا گیا۔ اس وقت جو لوگ بہار کی تقسیم کی وکالت کر رہے تھے یا جنہوں نے بہار کی تقسیم کا پلاٹ تیار کیا تھا انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ اس تقسیم سے بہار کو جو نقصان ہوگا اس کی تلافی کے لئے بہار کو خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔ اس وقت وہ مرکزی اقتدار پر قابض تھے اور خصوصی پیکیج دینے پر قادر تھے مگر انہوں نے وعدہ وفا نہیں کیا اور بہار کو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دلا سکے اور آج وہی بہار کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں اور بہار کو مرکز سے اس کا حق دلانے کے لئے لمبی لمبی باتیں کر رہے ہیں۔ مگر جب سب کچھ ان کے ہاتھ میں تھا تب انہوں نے بہار کے ساتھ انصاف کیوں نہیں کیا اس کا جواب ان سے ضرور طلب کیا جانا چاہئے۔
خلاصہ کلام یہ کہ صد سالہ جشن بہار کی طویل تاریخ کا نہیں ہے بلکہ بہار کے بنگال سے الگ ہونے کا جشن ہے جسے پورے سال ملک اور بیرون ملک میں منانے کی تیاری چل رہی ہے۔ بہار فائونڈیشن کے چیئر مین اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کے مطابق 18,19  فروری 2012 کو پٹنہ میں ایک عظیم الشان بین الاقوامی بہار ی کانفرنس ہوگی اور غیر مقیم بہاریوں کو اس تاریخی یاد گار کانفرنس میں شریک ہونے میں کوئی دشواری نہ ہو اس لئے بین الاقوامی کانفرنس کی تاریخ ایک سال پہلے طے کی گئی ہے۔ ان کے مطابق بہار فائونڈیشن کے تمام ملکی اور غیر ملکی چیپٹر اس سال 22 مارچ سے صدی تقریبات کا اہتمام پوری دھوم دھام سے کریں گے اور پورے سال تک اس سلسلہ کو کسی نہ کسی شکل میں جاری رکھیں گے۔ امریکہ کے نیو جرسی، کیلی فورنیا، دبئی ،بحرین، شمالی کوریا، آسٹریلیا اور قطر سمیت کئی ممالک میں قائم بہار فائونڈیشن کے غیر ملکی چیپٹر میں یہ جشن پورے اہتمام کے ساتھ منانے کے لئے کہا گیا ہے۔بھارت کے بنگلور، چنئی، ممبئی، نئی دہلی، کولکاتا، حیدر آباد،سورت، بھوپال، جے پور، ناگ پور، چنڈی گڑھ، گوہاٹی اور بھونیشور سمیت کئی شہروں اور ریاستوں میں بہاری کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ ان تمام مقامات سے بھی بہاری کو بہار اور صد سالہ جشن کا اہتمام اسی سال 22 مارچ سے شروع کردیں گے، جس میں ریاست کے وزراء اور بہار فائونڈیشن کے عہدیداران بھی شریک ہوں گے۔
یوم بہار مناکر بہاریت کے جذبہ کو فروغ دینے کی بات تو ٹھیک ہے، لیکن جشن کا موقع تو تبھی آئے گا یا جشن منانا اسی وقت زیب دے گا جب بہار کو اس کا حق دلانے میں کامیابی ملے گی۔ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ اور خصوصی پیکیج مل جائے گا۔ جب تک بہار یہ نشانہ حاصل نہیں کر لیتا ہے اور بہار پوری طرح خزاں کے اثر سے باہر نہیں آجاتا ، بہار میں جشن بہار منانے کا کوئی مطلب نہیں ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *