بہار:اردو کے ساتھ نا انصافی حکومت سے قانون سازیہ تک

Share Article

اشرف استھانوی

بہار میں اردو کو گذشتہ 30 برسوں سے دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، لیکن اس کی یہ حیثیت صرف کاغذی ہے۔ کیوں کہ اس کا عملی نفاذ آج تک ممکن نہیں ہو سکا۔ اور اب تو اسے سرکاری سطح پر بھی زندہ در گور کر دینے کی سازش شروع ہو گئی ہے جس کے خلاف محبان اردو اب سڑکوں پر اترنے لگے ہیں اور لگاتار دھرنوں، مظاہروں اور جلوسوں کا انعقاد کرکے اس سازش کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے لگے ہیں۔
ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ 1980 میں کانگریسی عہد میں ملا اور اس کے عملی نفاذ کی بنیاد بھی کانگریسی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا نے ڈالی، اس لئے اس کا کریڈٹ بہر حال کانگریس کو جائے گا۔ لیکن کانگریس کے بعد ریاست میں اقتدار سنبھالنے والی حکومتیں اس کے عملی نفاذ کو یقینی بنا کر کانگریس کے ساتھ کریڈٹ شیئر کرتیں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ صرف اردو کے نام پر سیاست کا دور چلتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو اردو پہلے ریاست میں ہر جگہ رائج اور دخیل تھی آج صرف اردو داں تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ سرکاری محکموں اور دفتروں سے تو اسے بہت پہلے نکالا جا چکا ہے۔ شروع میں اردو کے نفاذ کے لئے محکمہ راج بھاشا کے تحت 1000اردو ٹرانسلیٹر، اسسٹنٹ ٹرانسلیٹراور اردو ٹائپسٹ کے عہدوں پر جو اردو ملازمین بحال کئے گئے تھے ان سے آج اردو سے متعلق کام چھوڑ کر باقی سارے کام لئے جاتے ہیں، لیکن انہیں آج تک پرموشن نہیں ملا کیوں کہ وہ کام بھلے ہی ہر قسم کے کرتے ہوں، لیکن ان کا نام اردو ملازمین کی فہرست میں ہے، اس لئے ان کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور کچھ خاص عہدیداران حکومت اور محکموں کے سربراہوں کو چھوڑ کر عام طور پر سرکاری محکموں اور عہدیداروں کے سائن بورڈ اورنیم پلیٹ تک اردو میں دکھائی نہیں دیتے۔ نئے اردو ملازمین کی بحالی کی پھر ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی ہے، جو پرانے ملازمین بچ رہے ہیں ان سے اردو کا کام ہی نہیں لیا جاتا ہے، اس لئے اردو میں کوئی کام سرکاری سطح پر نہیں ہو رہا ہے۔نتیجہ کے طور پر اردو کے نفاذ کا کام صفر میں چلا گیا ہے۔
اسکولوں میں آج بھی اردو تعلیم کا مکمل نظم نہیں ہو سکا ہے۔ ریاست میں صرف پرائمری اور مڈل اسکولوں کی تعداد 67 ہزار ہے۔ اور ہر اسکول میں اگر ایک اردو ٹیچر کی لازمی بحالی ہوتی جیسا کہ سابقہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا تو کم از کم 67 ہزار اردو ٹیچر تو ہوتے ہی ۔ اس کے علاوہ ہائی اسکولوں میں بھی ہوتے مگر بعد میں اسی حکومت نے یہ شرط لگا دی کہ جن اسکولوں میں کم از کم دس اردو اسٹوڈنٹس ہوں گے وہیں اردو ٹیچرس دئے جائیں گے۔ اس طرح معاملہ پھنس گیا یا پھنسا دیا گیا، مگر یہ نہیں سوچا گیا کہ جب اردو ٹیچر ہوں گے ہی نہیں تو کوئی اردو پڑھنا کیسے چاہے گا؟ اور جب پرائمری اور مڈل کی سطح پر اردو کی پڑھائی کا نظم نہیں ہوگا تو ہائی اسکولوں اور کالجوں میں اردو طلبا کہاں سے آئیں گے۔
رابڑی دیوی کی حکومت نے 2003 میں ایک سرکاری سروے کرایا تھا، جس سے ظاہر ہوا تھا کہ صرف 25 ہزار اردو ٹیچرس کی ہی اسامیاں ہیں، اس کے لئے حکومت نے 88 کروڑ روپے بھی منظور کئے تھے، مگر اس کے بعد آگے کوئی کارروائی نہیں ہو سکی۔ یہاں تک کہ 2005 کا اسمبلی الیکشن آگیا تو وہ حکومت اقتدار سے محروم ہو گئی ۔ پھر آئی نتیش کی حکومت، اس نے لا اینڈ آرڈر کے بعد صحت، تعلیم اور سڑک پر توجہ تو دی مگر اساتذہ کی بحالی کا کام کنٹریٹ کی بنیاد پر کرنے کا نیا سلسلہ شروع کیا اورسارا اختیار مکھیااور پنچایتی اداروں کے نمائندوں کو سونپ دیا، جس سے بڑے پیمانے پر رشوت خوری کا راستہ کھلا اور ایک لاکھ 10 ہزار اساتذہ کنٹریکٹ پر بحال کئے گئے، مگر اردو ٹیچرس کے سلسلہ میں چوں کہ کوئی سرکاری ہدایت نہیں تھی اس لئے اردو ٹیچرس مطلوبہ تعداد میں بحال نہیں ہو سکے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ 10 ہزار اردو ٹیچرس بحال کئے گئے ہیں مگر کوئی کاغذی ثبوت نہیں ہے۔ یہ تعداد اگر صحیح مان بھی لی جائے تو بھی نشانہ سے کافی کم ہے۔ 8 اکتوبر 2009 کو نتیش کی حکومت نے باضابطہ اعلان کیا کہ ہر اسکول میں ایک اردو ٹیچر لازمی طور پر بحال ہوگا اور اس شرط کو بھی ختم کرنے کا اعلان کیا کہ پہلے سے 10 اردو اسٹوڈنٹس ہوں گے تبھی اردو ٹیچر ملے گا، مگر اس پر آگے کی کارروائی شروع تک نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ اسمبلی انتخاب کا وقت آگیا اور اب جب کہ انتخابی ضابطہ ٔاخلاق نافذ ہونے کو ہے تب حکومت نے 27 ہزار اردو ٹیچرس بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اب اس پر عمل در آمد ممکن نہیں ہے۔ اس اعلان میں بھی اردو اور اہل اردو کے ساتھ نا انصافی کا اظہار ہوا ہے۔ کیوں کہ اس کے ساتھ ہی حکومت نے 20 ہزار سنسکرت کے اساتذہ کی بحالی کا بھی اعلان کیا ہے۔ سنسکرت ایک اختیاری مضمون ہے، جو ہندی امید وار پڑھتے ہیں ۔ اردو امید واروں کا اختیاری مضمون فارسی ہوتا ہے ،مگر فارسی کا ایک بھی ٹیچر بحال کرنے کا ارادہ حکومت نہیں رکھتی ہے،جب کہ بنگلہ زبان کے 250 ٹیچرس وہ بحال کرنے جا رہی ہے۔
اسی دوران سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آیا ہے، جس میں ریاستی حکومت کو 34540 ٹرینڈ ٹیچرس کی فی الفور بحالی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ سابقہ حکومت کے زمانہ کا ہے جو ابھی تک قانونی پیچ میں پھنسا ہوا تھا۔ اس میں 12862 اردو ٹرینڈ ٹیچر س کا بھی حصہ ہے، لیکن عدالت کے حکم کے مطابق جب اس کی بحالی کا عمل شروع ہوا اور اشتہارات شائع ہوئے تو اس میں بھی اردو کے ساتھ امتیازی سلوک ابھر کر سامنے آیا۔ وہ اس طرح کے دوسرے مضامین کے لئے جہاں صرف ٹرینڈ ہونے کی شرط رکھی گئی اردو کے لئے دو سالہ ٹریننگ کی شرط رکھ دی گئی، تاکہ بی ایڈ امید وار نہ بن سکیں اور اردو کی جگہ خالی رہ جائے تو ضابطہ کے مطابق اس پر غیر اردو ٹیچرس بحال کر لئے جائیں۔ اس کے علاوہ ایک اور شرط یہ رکھی گئی کہ انٹر کی سطح پر 200 نمبر کی اردو پڑھی ہو۔ جب کہ ہندی والوں کے لئے صرف 50 نمبر کی ہندی لازمی قرار دی گئی۔ اس پر جب اردو تنظیموں نے احتجاج کیا تو ایک غلطی سدھار لی گئی یعنی بی ایڈ امید واروں کو بھی درخواست پیش کرنے کی اجازت دے دی گئی مگر انٹر میں 200 نمبرکی اردو کی شرط برقرار رکھی گئی۔ جب کہ اسی بحالی کے سلسلہ میں 2003 میں جب پہلی بار اشتہار شائع ہوا تھا تو اس میں 50 نمبر کی اردو کا ہی مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایسا قصداً اس خیال سے کیا گیا ہے تاکہ 12862 اردو ٹیچرس میں کم سے کم بحال ہو سکیںاور جو سیٹ خالی رہ جائیں وہ دوسرے مضامین کے اساتذہ سے پُر کر لی جائیں۔اردو کو زندہ رکھنے اور اسے فروغ دینے کا ایک بڑا ذریعہ بہار کے مدارس اسلامیہ ہیں ،مگر انہیں بھی حکومت نے دباکر رکھا ہے۔ ان کی جدید کاری تو دور رہی ان میں اپنی خدمات پیش کرنے والے اساتذہ اور ملازمین کو مناسب تنخواہ بھی نہیں ملتی۔ ریاست کے دوسرے ملازمین جہاں چھٹی تنخواہ پا رہے ہیں انہیں تیسری تنخواہ مل رہی ہے، جو آج کے دور میں چپراسی کی تنخواہ سے بھی کم ہے۔ انہیں پنشن اور گریچویٹی کی سہولت بھی حاصل نہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کے اسی اردو مخالف رویہ کو بے نقاب کرنے کے لئے اہل اردو سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور اتنی شدت کے ساتھ احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔
حکومت اور انتظامیہ کے علاوہ قانون سازیہ کی سطح پر اردو کے ساتھ نا انصافی بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔ بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے 15 سال بعد اردو قانون سازیہ کی زبان بنی تو اردو کا شعبہ قائم ہوا۔ کارروائی رپورٹ اردو میں تیار ہونے اورمنظر عام پر آنے لگی ۔ قانون ساز کونسل کے اندر کارروائی رپورٹ تیار کرنے کے لئے ہندی رپورٹرس کے مقابلے میں 3 اردو رپورٹرس بحال کئے گئے۔ بعد میں ان میں سے ایک اکبر علی استعفیٰ دے کر دوسری ملازمت میں چلے گئے تو ان کی جگہ خالی ہی چھوڑ دی گئی ، جو دو رپورٹر بچے تھے ان میں سے ایک محمد شکیل انصاری کو ان کے سابقہ عہدے پر واپس کر دیا گیا اور دوسرے سید جاوید حسن کو اپریل 2010 سے ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ قانون ساز کونسل کے اردو شعبہ سے جو خبر نامہ اور روداد اردو میں شائع ہو رہا تھا اس کی بھی اشاعت نومبر 2009 سے بند کر دی گئی۔غرض یہ کہ ہر سطح پر اردو کو دبانے اور اس کا گلا گھونٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔ پہلے حکومت اور انتطامیہ کی سطح پر اردو کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی تھی تو اردو نواز اور حق پسند عوامی نمائندے قانون سازیہ میں صدائے احتجاج بلند کرتے تھے اور وہاں سے حکومت کو نا انصافی دور کرنے کی ہدایت جاری ہوتی تھی،لیکن اب تو قانون سازیہ کی سطح پر ہی اردو کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ ایسے میں اہل اردو کہاں جائیں گے اور جب کسی سطح پر ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہوگا تو وہ اردو کو کیسے بچا پائیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج بہار میں ہزاروں کی زبان پر ہے، مگر اس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *