اشرف استھانوی
بہار میں 15 ویں اسمبلی کے انتخاب کی سرگرمیاںبتدریج زور پکڑتی جا رہی ہیں ۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنما امیدواری اور نامزدگی کے مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے عوام سے ووٹ مانگنے کے لئے ان کے دروازے پر پہنچنے لگے ہیں۔ اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالوپرساد اور لوک جن شکتی پارٹی کے رام ولاس پاسوان کے بعد اب وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی انتخابی مہم میں کود پڑے ہیں۔ حالاں کہ ان کی حلیف بی جے پی کے رہنما اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی پہلے سے ہی انتخابی مہم میں سرگرم ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی 5 سالہ حکومت کے دوران مختلف مواقع پر عوامی رابطہ کے سلسلہ میں جو اسفار کئے تھے انہیں یاترا کا نام دیا تھا۔ کبھی نیائے یاترا کی تو کبھی وکاس یاترا اور کبھی وشواس یاترا پر نکلے۔ اس بار چوں کہ وہ عوام سے دوبارہ حکمرانی کا پروانہ حاصل کرنے کے لئے سفر پر نکلے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے اس سفر کو جنا دیش یاترا کا نام دیا ہے۔ یعنی وہ سفر جس کے دوران وہ ریاست کے عوام سے جنا دیش حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
نتیش کمار نے اقتدار میں آنے کے بعد لگاتار عوامی جلسوں اور اپنی مختلف یاترائوں کے دوران یہ کہا تھا کہ وہ عوام سے جو وعدہ کرکے اقتدار میں آئے ہیں انہیں پورا کرنے کی پوری کوشش کریں گے اور اپنا کام پورا کرنے کے بعد ہی دوبارہ ووٹ مانگنے کے لئے عوام کے پاس جائیں گے اور اگر انہیں یہ محسوس ہوا کہ وہ عوام سے اپنا وعدہ وفا نہیں کر سکے ہیں یا عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے ہیں تو وہ دوبارہ عوام کو منہ نہیں دکھائیں گے اور ان کے پاس ووٹ مانگنے نہیں جائیں گے ، لیکن اب جب کہ جنا دیش یاترا پر نکل چکے ہیںتو یہ بات تو بالکل صاف ہو گئی ہے کہ وہ اپنے کام سے مطمئن ہیں اور انہیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ عوام انہیں دوبارہ اقتدار ضرور سونپیں گے۔ اسی امید پر وہ نکلے ہیں۔اپنی اس امید کا اظہار انہوںنے اپنی وشواس یاترا کے دوران بھی کیا تھا، لیکن یہ تو ان کی اپنی سوچ ہے۔ عوام سیاسی رہنمائوں کی امید کے مطابق ہمیشہ اپنا فیصلہ نہیں سناتے ہیں۔ اس لئے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ عوام اس وقت کیا سوچ رہے ہیں۔
مختلف اسمبلی حلقوں میں مختلف فرقوں اور طبقوں کے ووٹروں سے ان کا عندیہ جاننے کے بعد جو اشارے مل رہے ہیں ان کے مطابق نتیش کمار کی 5 سالہ حکومت سے ریاست کے عوام اس حد تک مطمئن نہیں ہیں جس حد تک خود وزیر اعلیٰ مطمئن ہیں۔ شروع کے دو سالوں میں انہیں ایسا ضرور لگا تھا کہ شاید ان کے خواب پورے ہو جائیں گے اور وہ تمام مسائل جو اب تک حل نہیں ہوئے ہیں نتیش حکومت میں پورے ہو جائیں گے مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مایوسی بڑھتی گئی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ رہی کہ لوگوں نے حکومت سے توقعات زیادہ وابستہ کرلیں اور خود حکومت نے بھی انہیں خواب کچھ زیادہ ہی دکھا دئیے اور ظاہر ہے کہ 5 سال کے اندر اتنے سارے خوابوں کو تعبیر دینا ممکن نہیں تھا۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہوئی کہ وقت کے ساتھ نتیش کمار کا رویہ بدلتا چلا گیا۔ ان میں آمریت آتی چلی گئی اور افسرشاہی ان پر غالب آنے لگی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی کے مخلص رہنما اور کارکنوں سے وہ دور ہوتے چلے گئے اور بد عنوان افسروں کے چنگل میں پھنستے چلے گئے۔ پارٹی کے لوگوں نے انہیں ہوشیار کرنے کی کوشش بھی کی تو ان کی بات پر دھیان نہ دے کر الٹا انہیں معتوب کر دیا۔ جس کے نتیجہ میں پارٹی کے ریاستی صدر للن سنگھ، سابق ریاستی وزیر جمشید اشرف، جنتا دل یو اقلیتی سیل کے سابق ریاستی صدر مولانا ابو طالب رحمانی جیسے لوگ پارٹی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ ادھر بد عنوان افسران کی من مانی چلتی رہی اور ترقیاتی سرگرمیاں خصوصاً اقلیتی فلاحی پروگرام نظر انداز ہوتے چلے گئے۔ جس سے نہ صرف عوام بلکہ پارٹی کے حقیقت پسند اور زمین سے جڑے کارکنوں میں بد دلی اور مایوسی بڑھتی چلی گئی۔ اقلیتی عوام کو بھی حکومت نے قابو میں نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار خود اپنی سیکولر شبیہ بنائے رکھنے کے لئے نریندر مودی کا ایشو اٹھاتے رہے مگر اقلیتوں کو عملاً نظر انداز کرتے رہے۔ ان کی حکومت کے 10 نکاتی اقلیتی پروگرام بھی 90 فیصد تک ناکام ہو گئے۔ انہوں نے نیائے کے ساتھ وکاس یعنی انصاف کے ساتھ ترقی کا نعرہ لگایا مگر اقلیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے، جس کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر اقلیتی رہنما پارٹی چھوڑ نے پر مجبور ہو گئے اور آج یہ صورت حال ہے کہ مسلمان عام طور پر اس خیال کا اظہار کرتے نظر آرہے ہیں کہ اقلیتوں کے معاملے میں لالو۔ رابڑی حکومت ہی بہتر تھی۔ وہاں مسلمانوں کو اقتدار میں شراکت داری بھی اچھی ملتی تھی اور اقلیتی مسائل بھی ترجیحی فہرست میں رہتے تھے۔ یہاں یہ بات ذہن نشیں ہونی چاہئے کہ مسلمانوں کا جھکائو این ڈی اے کی طرف بہت ہلکا سا ہوا تھا تو آر جے ڈی حکومت اقتدار سے محروم ہو گئی تھی اور نتیش حکومت اقتدار میں آگئی تھی۔ اب اگر وہی ووٹر آر جے ڈی کی طر ف لوٹ گئے جیسا کہ اشارہ مل رہا ہے تو نتیجہ اس کے بر عکس ہو سکتا ہے۔ اس بار رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی بھی پوری مضبوطی کے ساتھ سمجھوتہ کرکے انتخاب لڑ رہی ہے۔ اس لئے آر جے ڈی۔ ایل جے پی اتحاد کے روایتی ووٹ بینک کے ٹوٹنے اور بکھرنے کا بھی اندیشہ نہیں ہے۔ اجودھیا معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے نے بھی بہار کے ووٹروں کو متاثر کیا ہے۔ وہ اس معاملے کے لئے اگر کانگریس کو ذمہ دار مانتے ہیںتو بی جے پی اور اس کے حلیفوں کو بھی برابر کا حصہ دار مانتے ہیں۔ فیصلہ آنے کے بعد مسلمانوں کا حقیقی رد عمل جانے بغیر اور 3 ماہ کی مدت ختم ہوئے بغیر جس طرح بی جے پی رہنمائوں نے رام مندر کی تعمیر کے حق میں قلا بازی والے بیانات دئیے ہیں اس نے بھی این ڈی اے کی طرف سے مسلمانوں کے جھکائو کو کم کیا ہے اور آر جے ڈی ۔ ایل جے پی اتحاد کے حق میں کر دیا ہے۔
اس اتحاد کو کانگریس پارٹی کی طرف سے سخت چیلنج کا سامنا ہو سکتاتھا اگر انتخابات سے قبل ہی اجودھیا کا فیصلہ نہیں آتا۔ کہنے کو تو کانگریس تنہا ہی پوری 243 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے اور اس نے ہر فرقہ اور طبقہ کو ان کی آبادی کے تناسب میں ٹکٹ دئیے ہیںاور مسلمانوں کو بھی تمام پارٹیوں کے مقابلے میں زیادہ اور آبادی کے تناسب سے بھی بڑھ کر ٹکٹ دئیے ہیں، مگر اجودھیا اس کا کھیل بگاڑنے پر آمادہ ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی کی کمزور قیادت بھی پارٹی کے امکانات کو کم کر رہی ہے۔ بڑی پارٹی ہونے کے ناطے یہاں ٹکٹوں کے دعویدار بھی زیادہ تھے۔ اس لئے ناراض عناصر بھی بہت ہیں۔ پارٹی کے ریاستی صدر محبوب علی قیصر چوں کہ خود انتخاب لڑ رہے ہیں اس لئے قیادت کا کام ڈھیلا ہے۔ پوری پارٹی مرکزی رہنمائوں خصوصاً سونیا گاندھی او رراہل کے بھروسے چل رہی ہے اور وہاں دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں انتشار بہت زیادہ ہے۔ اس لئے کانگریس اس بار بھی کوئی بڑا کارنامہ انجام دے پائے گی اس کے امکانات کافی کم نظر آرہے ہیں اور لے دے کر مقابلہ حکمراں این ڈی اے اور اپوزیشن آر جے ڈی۔ ایل جے پی اتحاد کے درمیان ہوتا نظر آرہا ہے۔ اس میں تیسرا زاویہ بایاں محاذ بنانے کی کوشش کرے گا جس نے اس بار آپسی تال میل کے ساتھ اسمبلی کی تمام سیٹوں پر امید وار اتارے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فیصلہ کن کردار ایک بار پھر مسلمان ہی نبھائیں گے۔ جس پارٹی یا اتحاد کی طرف ان کا جھکا ئوہوگا وہی پارٹی اقتدار میں آئے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here