بہار اسمبلی انتخابات: کسوٹی پر مسلم رائے دہندگان

Share Article

اشرف استھانوی
بہارمیں اسمبلی انتخاب کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شروع ہو گیا ہے سیاسی پارٹیوں کے درمیان ووٹوں کی چھینا جھپٹی اور ان کو خوش کن نعروں اور وعدوں سے رجھانے کا سلسلہ۔ ہر سیاسی پارٹی یہاں تک کہ بی جے پی مسلم ووٹ بینک سے کچھ حصہ اڑانے کی تگ و دو میں ہے۔ اس کے لئے وہ طرح طرح کے سیاسی ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ ایسے میں مسلم رائے دہندگان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ سیاسی پارٹیو ں کی اس بھیڑ میں کس کے ساتھ جائیں ، کسے اپنا مسیحا سمجھیں  اور کس کے ساتھ آس کی ڈور باندھیں اور آئندہ 5 برسوں کے لئے کس پارٹی یا اتحاد کو اقتدار کی باگ ڈورسونپیں ۔ کیوں کہ بہار کے انتخابی دنگل میں ایک طرف لالو یادو کی قیادت والا راشٹریہ جنتا دل ہے جو مسلمانوں کی غیر مشروط حمایت کی بدولت بہار پر لگاتار 15 برسوں تک راج کرچکا ہے اور مسلمانوں کو مایوس کرنے کی پاداش میں گذشتہ 5 برسوں سے اقتدار سے باہر ہے۔ اس نے اس بار اپنی کل کی حریف اور آج کی حلیف لوک جن شکتی پارٹی کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری طرف نتیش کمار کی قیادت والا حکمراں قومی جمہوری اتحاد ہے جو 5 برسوں تک بہار پر راج کرنے کے باوجود مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مگر اسے امید ہے کہ لالو یادو اور ان کی پارٹی کو لگاتارتین مواقع فراہم کرنے والے مسلمان انہیں کم از کم ضرورایک موقع اور دیں گے اور تیسری طرف گذشتہ 20 برسوں سے بہار کے اقتدار سے محروم کانگریس پارٹی ہے جو لالو اور نتیش دونوں حکومتوں سے مایوس ہو چکے مسلم ووٹروں کو دوبارہ اپنی طرف راغب کرکے اقتدار میں لوٹنے کے لئے کوشاں ہے اور تمام سیاسی پارٹیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ ٹکٹ بھی دے رہی ہے۔ ایسے میں مسلم رائے دہندگان کی الجھن مزید بڑھ گئی ہے کہ وہ کس پر بھروسہ کریں اور کس کا ساتھ دیں۔ ان کی اسی الجھن کو دور کرنے کی غرض سے ہم نے مختلف مذہبی اور ملی رہنمائوں سے اس موضوع پر بات کی اور ان سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔

ہمارے سوال کے جواب میں امیر شریعت حضرت مولانا سید نظام الدین نے فرمایا کہ مسلمان سب سے پہلے اپنی صفوں میں عام انتشار کو دور کریں۔ کبھی بہار اسمبلی میں مسلم ارکان کی تعداد 46 ہو تی تھی مگر آج کم ہو کر14 رہ گئی ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ہمیں آپس میں اتفاق اور اتحاد پیدا کرنا ہوگا اور قانون سازیہ میں مسلم نمائندوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم برادری اور مسلک سے اوپر اٹھ کر بہار اسمبلی حلقہ میں خصوصاً ان حلقوں میں جہاں ہماری تعداد فیصلہ کن ہے ، متحد اور متفق ہو کر کسی ایک امید وار کے حق میں ووٹ دیں، کیوں کہ مختلف سیاسی پارٹیاں کم از کم مسلم اکثریتی حلقوں میں تو مسلم امید وار دے ہی دیتی ہیں مگر ہمارا انتشار ان حلقوں سے بھی مسلم امیدوار کو منتخب نہیں ہونے دیتا ہے۔ ہمیں اپنی اس کمزوری کو دور کرکے زیادہ سے زیادہ مسلم ایم ایل اے منتخب کرنے ہوں گے تاکہ ایک پریشر گروپ بن سکے اور ہم اپنی سیاسی حالت سے حکومت کو اپنے مسائل حل کرنے پر مجبور کر سکیں۔ عام طور پر سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے معاملے میں مخلص نہیں ہیں۔ ہم اگر منتشر رہیں گے تو ہمارے مسائل اسی طرح بڑھتے رہیں گے۔ ہمیں مسلم وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کی بحث میں نہیں پڑنا چاہئے۔ ہمیں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ ہماری افرادی طاقت بڑھ رہی ہے یا نہیں، کیوں کہ جمہوریت میں سر گنے جاتے ہیں۔ہماری طاقت زیادہ ہوگی تو ہماری بات سنی جائے گی۔ ہمارے نوجوان کو کام ملے گا۔ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔ موجودہ حکومت کے منفی فیصلوں کی نشاندہی کرتے ہوئے حضرت امیر شریعت نے کہا کہ خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دے کر ، سماج کو اعلیٰ اور ادنیٰ کے خانوں میں بانٹ کر اور ریاست میں شراب کی بھٹیوں اور دوکانوں کو فروغ دے کر حکومت نے معاشرے میں زبردست بگاڑ پیدا کیا ہے۔
مرکزی ادارہ شرعیہ بہار و اڑیسہ و جھارکھنڈ کے سربراہ مولانا غلام رسول بلیاوی کا کہنا تھا کہ لگاتار کوششوں کے باوجود مسلمانوں کے بیشتر مسائل اب بھی حل طلب ہیں اور مسلمانوں کو اب بھی انصاف نہیں مل سکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک اپنی سیاسی طاقت کا اظہار نہیں کر سکے ہیں۔ ہمارے ووٹوں کی قیمت ہے مگر انتخاب کے بعد ہماری قیمت نہیں رہ جاتی ہے کیوں کہ ہم انتخاب میں مجموعی طاقت کا اظہار نہیں کر پاتے۔ ہم خانوں میں منقسم ہو کر ووٹ دیتے ہیں جس سے ہماری فیصلہ کن پوزیشن ختم ہو جاتی ہے۔ ہم کسی پارٹی کو نہ سزا دے پاتے ہیں اور نہ کسی کارنامہ پر جزا دے پاتے ہیں۔ تو جب ہم اپنی ہی قیمت کو نہیں سمجھ پائیں گے تو دوسرے ہماری کیا قیمت لگائیں گے۔اس لئے ریاست کے مسلم رائے دہندگان کو چاہئے کہ وہ خواہ جزا دیں یا سزا دیں جو بھی کریں متحد ہو کر کریں تبھی ان کی قیمت رہے گی اور کوئی بھی حکومت ان کے مسائل حل کرنے پر مجبور ہوگی۔
خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سٹی کے سجادہ نشیں حضرت مولانا سید شمیم منعمی کا کہنا تھا کہ قانون ساز اداروں میں بتدریج گھٹتی ہوئی مسلم نمائندگی افسوسناک ہے۔ وقت آگیا ہے کہ مسلمان متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم پر کلمہ وحدت کی بناپر آجائیں کیوں کہ اتحاد کے بغیر مسلمان باعزت زندگی نہیں گذار سکتے ۔ اتحاد ہی میں طاقت ہے۔ دوسرے بھی آپ کو تبھی اہمیت دیں گے جب آپ کو متحد اور مضبوط پائیں گے۔ جمہوری نظام میں ووٹ کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کا صرف استعمال نہیں بلکہ دانشمندانہ استعمال ضروری ہے۔ مسلمانوں نے دانشمندی کا ثبوت نہیں دیا تو ان کا ووٹ ان کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔
آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کے صدر اور سابق ایم پی ڈاکٹر اعجاز علی کا کہنا تھا کہ سیاست میں ہمارا رول حاکمانہ ہو نا چاہئے۔ غلامانہ نہیں۔ مسلمان متحد ہو کر ہوش مندی کے ساتھ آگے بڑھیں اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیں۔ ورنہ ہمارا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کیوں کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ہمارے معاملے میں مخلص اور ایماندار نہیں ہے۔
مسلمانوں کو متحد کرکے ایک پلیٹ فارم پر لانے ، مسلم قیادت کو فروغ دینے اور قانون ساز اداروں میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کرنے کی مہم میں برسوں سے مصروف مسلم یونائٹیڈ فرنٹ کے صدر محمد ابو قیصر سیاسی پارٹیوں کے رویہ سے سخت ناراض اور غیر مطمئن ہیں اور مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سیاست دانوں کو سبق سکھانے، اقتدار میں اپنا حصہ حاصل کرنے اور اپنے مسائل حل کرنے کے لئے حکومت وقت کو مجبور کرنے کے لئے متحد ہوں ورنہ ان کی مدد کوئی نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ تمام اختلافات کو بھلا کر متحد ہو کر ووٹ دیں اور اپنے ووٹوں کو ٹکڑوں میں تقسیم ہونے سے بچائیں۔ مسلمانوں کو اپنی قوت کا احساس ہونا چاہئے۔ مسلمان متحد ہو کر اپنی قوت کا مظاہرہ کریں تبھی سیاسی جماعتوں کو بھی مسلمانوں کی قوت کا احساس ہوگا اور سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو مناسب حصہ داری دینے کے لئے مجبور ہوں گی۔ ورنہ یہ پارٹیاں مسلم آبادی کو صرف سبز باغ دکھاتی رہیں گی جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ یہی واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی طاقت کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
متحد ہو تو بدل دو گے نظام عالم
منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
ریاستی حج کمیٹی کے معزز رکن اور معروف ملی رہنما الحاج الیاس عرف سونو بابو نے بہار کے مسلمانوں کی بد حالی پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پونے دو کروڑ کی مسلم آبادی ہر شعبہ حیات میں پچھڑ گئی ہے آج اس قوم کا کوئی قائد نہیں ہے۔ ہم الگ الگ ڈفلی بجا رہے ہیں ہماری زبان تہذیب و تمدن پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ مسلمان ہوش و گوش سے کام لیں اور اپنے ووٹوں کی قیمت سمجھیں الیکشن کے موقع پر مسلمان سرگرم رول ادا کریں اور اپنے خیر خواہ اور بد خواہ کی شناخت کرکے متحد ہوکر کسی ایک امید وار کو کامیاب بنائیں۔
معروف دانشور انجینئر حسین کہتے ہیں کہ 15 سالہ لالو۔ رابڑی راج دیکھا اور 5 سالہ نتیش راج بھی دیکھا مگر مسلمانوں کے مسائل جوں کے توں رہے۔ ان میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ اس کی بڑی وجہ مسلم قیادت ہے۔ اور پریشر گروپ کا فقدان ہے۔ بہار میں اردو کی لازمیت ختم کردی گئی، اردوکی سینکڑوں اسامیاں خالی ہیں مگر کوئی پرسان حال نہیں۔ ہمیں مسلم قیادت کو فروغ دینا ہوگااور آپسی اتحاد کا ثبوت پیش کرتے ہوئے زمام قیادت اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *