بہار کو چاہئے اسپیشل ٹریٹمنٹ

Share Article

اشرف استھانوی
ہر درد کی ایک ہی دوا تجویز کرنے کی مخالفت اور بہار کے لیے خصوصی درجہ کے پرشور مطالبہ کی حمایت کے بیچ بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ہوئی پلاننگ کمیشن کی دو روزہ علاقائی میٹنگ کے دوران یہ بات بالکل صاف ہو گئی ہے کہ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئر مین مونٹیک سنگھ اہلو والیہ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ہر ریاست پر ایک ہی فارمولہ لاگو نہیں ہو سکتا اور بہار جیسی ریاست کے ساتھ کچھ اسپیشل ٹریٹمنٹ اور خصوصی امداد ضروری ہے۔
پلاننگ کمیشن کی علاقائی میٹنگ بارہویں پنج سالہ منصوبہ کے لیے ایپروچ پیپر تیار کرنے اور اس سلسلہ میں متعلقہ ریاستوں کی ضرورتوں اور مطالبوں کا جائزہ لینے کے لیے طلب کی گئی تھی جس میں پلاننگ کمیشن کے مرکزی وزیر مملکت اشونی کمار، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک، جھارکھنڈ کے دونوں نائب وزرائے اعلیٰ سریش مہتو، اور ہیمنت سورین، مغربی بنگال کے وزیر منصوبہ بندی منیش گپتا اور چھتیس گڑھ کے منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین شیوراج سنگھ اور دیگر نمائندوں نے حصہ لیا۔
پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئر مین نے بہار کے لیے خصوصی درجہ کے مطالبہ کا دبائو کم کرنے کے لیے پٹنہ پہنچتے ہی یہ بات صاف کر دی تھی کہ اس میٹنگ کے دوران خصوصی درجہ کے مطالبہ یا تجویز کی کوئی بات نہیںہوگی اور نہ ہی اس میٹنگ کا یہ مقصد ہے۔ اس کے بعد مسٹر اہلو والیہ نے میٹنگ کے پہلے ہی سیشن میں یہ بھی کلیئر کر دیا کہ ہر ریاست میں ایک ہی فارمولہ نہیں لگایا جائے گا اور نہ ہی سب کے ساتھ ایک جیسا ٹریٹمنٹ ہوگا کیوں کہ ہر ریاست کی اپنی اپنی الگ ضرورتیں ہیں اس لیے منصوبہ بندی کے وقت مختلف ریاستوں کی حقیقی ضرورتوں کو دھیان میں لایا جائے گا۔ مسٹر اہلو والیہ کا کہنا تھا کہ بارہویں پنج سالہ منصوبہ کے تین فیکٹر ہیں: فاسٹر، مورانکلو سیو ڈیولپمنٹ اور سسٹیبل گروتھ۔ ریاستوں کا جو بھی مطالبہ سامنے آئے گا اسے انہی تین نکات پر پرکھا جائے گا اور اگلے پنج سالہ منصوبہ کا ایپروچ پیپر تیار کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھا جائے گا کہ ریاستوں کی کن کن ضروریات کی تکمیل کے لیے امداد مہیا کرائی جائے۔ بہار کے اپنے کچھ خاص مسائل ہیں اس لیے میرا یہ صاف ماننا ہے کہ بہار کے لیے الگ سے کچھ خاص کرنے کی ضرورت ہے۔بہار میں گذشتہ کچھ برسوں کے دوران کچھ نئی تبدیلیاں آئی ہیں اور کئی شعبوں میں سدھار کا بھی رجحان ہے۔ اس لیے اسے اضافی وسائل مہیا کرانے کی ضرورت ہے۔ اور ریاست کو جن سنگین مسائل کا سامنا ہے ان کے حل کے لیے طویل مدتی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔کئی دیگر مسائل بھی ہیں ان میں سیلاب ایک سنگین ترین مسئلہ ہے۔اس پر قابو پانے اور دھان کی بربادی کو روکنے کے لیے فوری اور دیر پا اقدام کی ضرورت ہے۔ بارہویں پنج سالہ منصوبہ کو قطعی شکل دیتے وقت ان سب باتوں کا دھیان رکھا جائے گا۔ مسٹر اہلو والیہ کے مطابق اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ بہار کو خصوصی امداد کس طرح مہیا کرائی جائے اور اس کے لیے کون سا فارمولہ اپنایا جائے۔ میرے خیال میں خصوصی مدد تکنیک اور دیگر وسائل کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے۔
بہار کو پہلے ایک ہزار کروڑ روپے کی سالانہ امداد دی جاتی تھی جسے بڑھا کر دوگنا یعنی دو ہزار کروڑ روپے سالانہ کیا گیا تھا اب بہار کا مطالبہ 4 ہزار کروڑ روپے سالانہ کا ہے، یعنی پورے پنج سالہ منصوبہ کے لیے 20 ہزار کروڑ روپے تو اس پر بھی غور کیا جائے گا۔ جہاں تک بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کی بات ہے تو یہ پلاننگ کمیشن کے دائرہ کا ر اور اختیار سے باہر ہے۔اس پر نیشنل ڈیولپمنٹ کونسل (این ڈی سی) ہی کوئی فیصلہ کر سکتاہے۔ اسی لیے میں نے پہلے ہی یہ کلیئر کر دیا تھا کہ ریاستیں اپنی بات رکھ سکتی ہیں لیکن یہ معاملہ علاقائی میٹنگ کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ اس لیے اس پر غور و خوض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ویسے بہار کا جس طرح کا مطالبہ ہے ویسے مطالبات کئی دوسری ریاستوں کے بھی ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ اس لیے این ڈی سی کو بھی یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کس ریاست کو خصوصی درجہ دیا جائے اور کیوں؟
پلاننگ کے مرکزی وزیر مملکت اشونی کمار کا کہنا تھا کہ بہار کے اپنے مطالبات اور اپنی ضرورتیں ہیں اور بے شک ان میں کچھ واجب اور قابل توجہ ہیں۔ اس لیے میں بہار کے عوام کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ مرکز سے بہار کو ہر ممکن امداد مہیا کرائی جائے گی۔ بلکہ زیادہ سے زیادہ مدد دی جائے گی لیکن اس کا بروقت اور صحیح استعمال ہو اس کی ذمہ داری ریاستی حکومت کو قبول کرنی ہوگی اور اس کے صد فی صد استعمال کی یقین دہانی کرنی ہوگی۔ فی الوقت 120 مرکزی منصوبوں میں سے صرف 20 میں 80 فیصد رقم خرچ کی جا سکی ہے جب کہ بقیہ میں صرف 20 فیصد رقم کا استعمال ہوا ہے۔ ایسی صورت میں مرکزی منصوبوں میں تخفیف لازمی ہے۔ ہم بہار کے تمام مطالبات پر غور کریں گے اور جو باتیں پلاننگ کمیشن کے دائرے سے باہر ہیں اُن پر بھی دہلی میں مناسب سطح پر غور کیا جائے گا۔ مرکز کی یو پی اے حکومت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ بہار جیسی پسماندہ ریاستوں کو زیادہ سہولیات اور وسائل مہیا کرائے جائیں۔ اور اسی کا ثبوت ہے کہ بہار کا پلان سائز 16 کروڑ سے بڑھا کر 24 ہزار کروڑ روپے کیا جا چکا ہے۔بہار کے لیے ضروری ہے کہ وہ زراعت کے فروغ کے ساتھ صنعت کاری پر خاص دھیان دے کیوں کہ صنعت کاری کے بغیر بہار کی فی کس آمدنی میں اضافہ ممکن نہیں ہے۔ بجلی، صحت، اور تعلیم پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے۔
بہار اور دیگر مشرقی ریاستوں کا موقف زوردار طریقے سے پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جہاں اپنے لیے نئے پنج سالہ منصوبہ میں سالانہ 4 کروڑ روپے کے حساب سے 20 ہزار کروڑ روپے کا مطالبہ کیا وہیں یہ بھی کہا کہ اب سبز انقلاب سے کام نہیں چلے گا بلکہ ست رنگے انقلاب کی ضرورت ہے۔ ایسی صورت میں مشرقی ریاستوں کے لیے 400 کروڑ کی رقم کافی ہے۔ نتیش نے پٹنہ میں میٹروریل چلانے اور غریبوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے سماجی فلاحی منصوبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت بتائی۔ نتیش کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر مرض کی ایک ہی دوا کا فارمولہ اب نہیں چل سکتا ہے۔ اس لیے علاقائی سطح پر جو ضرورتیں ہیں اور جو تجاویز پیش کیے جاتے ہیںان پر عمل کرتے ہوئے خصوصی حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے اور ریاستوں کو اپنے حساب سے منصوبہ تیار کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔ بی پی ایل کے معاملے میں مرکز اور ریاست کے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے نتیش نے کہا کہ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ اس کے لیے آزاد کمیشن کی تشکیل کی جائے اور وہی طے کرے کہ بی پی ایل کون ہے اور اے پی ایل کون؟ نتیش نے ایک تجویز ملک سے گداگری ختم کرنے کے لیے گداگری فری بھارت مشن قائم کرنے کی وکالت کی اور یہ بھی کہا کہ بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور اڑیسہ جیسی مشرقی ریاستیں جو سو سال قبل ایک ہی ریاست کا حصہ تھیں ان کے مسائل تقریباً ایک جیسے ہیں اور ان سبھی ریاستوں میں ترقی کے وسیع تر امکانات ہیں اس لیے مرکز کو ان ریاستوں کی مجموعی ترقی پر دھیان دینا چاہیے۔
میٹنگ میں اپنی بات رکھتے ہوئے اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے بھی اپنی ریاست کے لیے خصوصی درجہ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا یہ بہت پرانا مطالبہ ہے اور ہمارا یہ مطالبہ پورا ہونا چاہیے ہم اپنے وسائل کی بدولت آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن مرکز کو ہماری ضرورتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ جھارکھنڈ کے ایک نائب وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے بھی مرکزی منصوبوں میں لچیلاپن لانے اور ریاستوں کو ان کی اپنی ضرورت کے مطابق منصوبہ سازی کا اختیار دینے سے متعلق بہار کے مطالبہ کی حمایت کی تو دوسرے نائب وزیر اعلیٰ سُریش مہتو نے بنیادی ڈھانچہ کے معاملے میں اپنی ریاست کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ کا مناسب فروغ نہ ہونے کے سبب جھارکھنڈ کو صنعتی ترقی کا وہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکا۔ منصوبہ کی تکمیل میں تاخیر سے بھی ترقیات کی وہ آندھی نہیں چل سکی جو چل سکتی تھی۔ خلاصہ کلام یہ کہ بہار اور اڑیسہ نے خصوصی درجہ کا مطالبہ کیا تو جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ نے خصوصی امداد کا مطالبہ کیا۔ لیکن منصوبہ سازی کا اختیار ریاستوں کو دینے، مشرقی ریاستوں کو سیلاب سے نجات دلانے، سڑک اور بجلی کی حالت کو بہتر بنانے اور ترقی کے مواقع میں اضافہ کے لیے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے معاملے میں سب ہم خیال اور ہم زبان نظر آئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *