سنتوش بھارتیہ 
بہار میں ایک نیا سیاسی محاذ بن رہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے رام وِلاس پاسوان اور لالو پرساد یادو کی پارٹی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی تھی اور ان کا اتحاد تھا۔ لالو یادو کے جیل جانے کے بعد بھی رام وِلاس پاسوان لالو یادو کے ساتھ کھڑے رہے۔ جیل سے جو بھی لوگ لالو یادو سے مل کر لوٹتے تھے، وہ یہ بتاتے تھے کہ لالو یادو رام ولاس پاسوان کو لے کر بہت مطمئن نہیں ہیں۔ انہیں یہ لگتا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں رام ولاس کی سیٹوں کے بارے میں شاید پھر سوچنا پڑ سکتا ہے۔ دراصل، گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں مل پائی تھی، لیکن اس کے امیدواروں نے کچھ جگہوں پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔
لالو یادو خود کو شاید مصیبت میں گھرا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ اگلے گیارہ سال تک وہ خود الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ اور جس طرح کے اشارے ملک کے لوگ دے رہے ہیں، اس سے یہ لگتا ہے کہ خاندان کو بھی لوگ اب شاید زیادہ پسند نہ کریں۔ لالو یادو جی کی فیملی میں تین لوگ ہیں، جو لوک سبھا میں پہنچ کر لالو جی کی جگہ سنبھال سکتے ہیں۔ پہلی خود ان کی بیوی رابڑی دیوی، جو بہار کی وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر بھی رہیں۔ دوسرے ان کے بیٹے تیجسوی اور تیسری ان کی بڑی بیٹی میسا۔ خبریں نکل کے آتی ہیں کہ لالو کے دونوں بیٹوں – تیجسوی اور تیج پرتاپ میں کچھ مقابلہ آرائی ہے۔ راشٹریہ جنتا دَل میں یا کسی بھی پارٹی میں فیملی کے ممبر کے علاوہ کوئی بھی آدمی صدر نہیں بن سکتا۔ ماحول ایسا ہے کہ سب سے بڑے لیڈر کو ہمیشہ یہ ڈر بنا رہتا ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص پارٹی کا صدر بن گیا، تو وہ ان کی حکمت عملی پر روک لگا سکتا ہے۔ اپنی اسی پریشانی میں لالو یادو بہار میں خود کو دوبارہ مشتہر کرنا چاہتے ہیں۔ اس عمل میں وہ پارٹی کے ان لیڈروں سے اپنے جیل میں پورے قیام کے دوران بات چیت کرتے رہے۔ یہ بات چیت پوشیدہ نہیں رہ سکی اور رام ولاس پاسوان کے پاس یہ ساری خبریں پہنچنے لگیں۔ سب سے آخر میں رگھو وَنش پرساد سنگھ نے پریس کے سامنے یہ کہا کہ رام ولاس پاسوان کی سیٹیں تبھی طے ہوں گی، جب وہ اپنے امیدواروں کا نام بتائیں گے۔
ساری خبروں سے بوکھلائے رام ولاس پاسوان کو یہ سب سے ہتک آمیز لگا۔ یہیں سے انہوں نے بہار کے الیکشن میں راشٹریہ جنتا دل سے الگ ہو کر اکیلے جانے کا فیصلہ لیا۔ لالو یادو یہ بھول گئے کہ لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کا میل صرف سیٹوں کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ میل پچھڑے اور دلت کے اتحاد کا اشارہ بھی ہے۔ لالو یادو مکمل پچھڑے طبقہ کے لیڈر نہیں رہ گئے ہیں۔ نہایت پس ماندہ نتیش کمار کے ساتھ چلے گئے ہیں۔ اسی طرح رام ولاس پاسوان بھی مکمل دلتوں کے لیڈر نہیں رہ گئے ہیں۔ ان کے ساتھ رہا ایک بڑا طبقہ اب مہا دلت کے نام پر نتیش کمار کے ساتھ چلا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود پچھڑے لیڈروں میں سب سے بڑا قد لالو یادو کا ہے۔ اس کے بعد نتیش کمار سمیت تمام لیڈر آتے ہیں۔ دلتوں میں تو غیر متنازع طور پر رام ولاس پاسوان کا سب سے بڑا قد بہار میں ہی ہے۔ اس چیز پر بغیر دھیان دیے سیٹوں کو لے کر کھینچ تان کی وجہ سے لالو یادو نے اپنا اور رام ولاس پاسوان کا رشتہ، یعنی پچھڑوں اور دلتوں کا رشتہ توڑنے کی شروعات کر دی۔
یہیں پر نتیش کمار کی آنکھ کھلی اور انہوں نے رام ولاس پاسوان سے سیدھا رابطہ قائم کر لیا۔ انہوں نے رام ولاس پاسوان کے تئیں اپنی جلد بازی بالکل نہیں چھپائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر رام ولاس پاسوان ان کے ساتھ آتے ہیں، تو رام ولاس پاسوان کے ساتھ سیٹوں کے بٹوارے کا مسئلہ نہیں آئے گا۔ وہ رام ولاس کا ساتھ نظریاتی بنیاد پر بھی اور حکمت عملی کی بنیاد پر بھی لینا چاہتے تھے۔ رام ولاس پاسوان پر ایک طرف راجناتھ سنگھ، نریندر مودی اور بی جے پی کے تمام بڑے لیڈر ڈورے ڈال رہے تھے، دوسری طرف کانگریس کے لوگ رام ولاس پاسوان کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی بات کر رہے تھے۔ رام ولاس کا یہ کہنا تھا کہ ہم بدعنوانی کے خلاف لالو یادو کو ساتھ لے کر کیسے لڑ سکتے ہیں۔ اگر راہل گاندھی بدعنوانی کے خلاف آرڈی ننس، جو قانون بننے والا تھا، کی کاپی کھلے عام پھاڑ سکتے ہیں، تو پھر کانگریس لالو یادو کو لے کر ملک میں کیسے گھوم سکتی ہے۔ حالانکہ لالو یادو پر کوئی بھی بدعنوانی کا الزام ثابت نہیں ہوا ہے۔ نچلی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ ہمارے ملک میں جب تک سپریم کورٹ آخری فیصلہ نہ دے دے، فیصلہ نہیں مانا جاتا۔ کانگریس کے جو لوگ رام ولاس پاسوان سے ملتے تھے، ان میں کچھ صرف کانگریس اور رام ولاس پاسوان کے اتحاد کی بات کرتے تھے اور کچھ رام ولاس پاسوان، لالو یادو اور کانگریس کے اتحاد کی بات کرتے تھے۔ یہیں سے شاید رام ولاس پاسوان کو یہ لگا ہوگا کہ کانگریس میں خود ہی اتحاد نہیں ہے، تو یہ راستہ ویسا ہی گڑبڑ ہے، جیسا لالو یادو کے ساتھ جانے میں۔
رام ولاس پاسوان نے نتیش کمار سے نظریاتی مدعوں پر بھی بات چیت کرنے کی بات کی اور نتیش کمار نے فوری طور پر ان سوالوں کا مثبت جواب رام ولاس پاسوان کو دیا۔ رام ولاس پاسوان کو یہ ڈر تھا کہ نتیش کمار اور شرد یادو کے درمیان اگر کوئی اختلاف ہے، جس طرح کی خبریں جے ڈی یو کے لیڈر وقت وقت پر باہر نکالتے رہتے ہیں، تو ان کی یہ ساری کوشش ناکام ہو سکتی ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی طرف سے پہل کرکے شرد یادو سے بھی رابطہ قائم کیا اور اس ساری کارروائی کی شروعات میں جے ڈی یو کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی سامنے آئے، جنہوں نے ایک طرف نتیش کمار کو نئے محاذ کے امکانات کے لیے تیار کیا اور دوسری طرف شرد یادو کو انہوں نے اس اتحاد کے مستقبل کے فائدے سمجھائے۔ دراصل، کے سی تیاگی کا یہ ماننا ہے کہ رام ولاس پاسوان ملک میں دلتوں کا معصوم چہرہ ہے، جو حملہ آور بھی ہو سکتا ہے، لیکن رام ولاس پاسوان کا ایک چہرہ ایسا بھی ہے، جو دلتوں کے علاوہ غیر دلتوں کو بھی پسند آتا ہے اور رام ولاس پاسوان ان سے بات چیت میں کبھی بھی فینٹیسی ازم نہیں دکھاتے ہیں۔ اس لیے رام ولاس پاسوان مستقبل کے ایک بڑے ساتھی ہو سکتے ہیں۔
بہار میں رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار کے سامنے سب سے بڑی چنوتی ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی ہے، دوسری طرف لالو یادو ہیں اور تیسری طرف کانگریس ہے۔ کانگریس ابھی تک اس پس و پیش میں ہے کہ وہ بہار میں کرے تو کیا کرے۔ یہ کانگریس کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ وہ الیکشن سے پہلے کبھی نہیں سوچتی کہ اسے ریاستوں کی تنظیم کو چست درست بھی کرنا ہے یا تنظیم کو تیز رفتار بنانا ہے۔ جب الیکشن آتا ہے، تو کانگریس کی کاسمیٹک سرجری شروع ہوتی ہے اور کانگریس کی اس حکمت عملی نے یا کانگریس کی اس کاہلی نے کانگریس کے سارے کارکنوں کو مایوس کر دیا ہے۔ بہار میں لوک سبھا الیکشن میں ایک نئی چنوتی کھڑی ہو رہی ہے اور وہ نئی چنوتی عام آدمی پارٹی کی ہے۔ بہار میں عام آدمی پارٹی انا ہزارے کی پارٹی کہی جاتی ہے۔ بہار میں میں نے جتنے لوگوں سے فون پر بات کی، سب کا یہی ماننا ہے کہ دہلی میں انا کی سرکار بن گئی ہے۔ اس بھرم کے باوجود اروِند کجریوال کے تئیں پارٹیوں سے باہر کے لوگ ایک فطری کشش میں بندھ گئے ہیں اور یہ کشش جہاں بی جے پی اور کانگریس کے لیے پریشانی کا باعث ہے، وہیں لالو یادو، رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار کے لیے بھی فکر مندی کا باعث ہو سکتی ہے۔ بہار کو ٹیسٹ کیس اس لیے مان رہے ہیں، کیوں کہ ابھی ابھی بہار میں بی جے پی اور جے ڈی یو کا اتحاد ٹوٹا ہے۔ اس کے بعد نتیش کمار گھوم رہے ہیں، ریلیاں کر رہے ہیں۔ ان کی ریلیوں میں بھیڑ آ رہی ہے، لیکن وہ بھیڑ کتنی کنسولی ڈیٹ ہو رہی ہے، یہ ابھی نہیں کہا جاسکتا۔ ایسے وقت میں رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار کا ملنا بہار میں ایک طرح کا اشارہ ہے، تو دوسری طرح کا اشارہ وہاں پر عام آدمی پارٹی کے نام پر لڑنے والے لوگوں کا بھی ہے۔ لیکن عام آدمی پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ وہ کتنی جگہوں پر نئے لوگوں کو کھڑا کرے گی، یہ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ وہاں پر بی جے پی اور کانگریس کو چھوڑ کر آنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، بلکہ کہیں کہ ہر جگہ بڑھ رہی ہے اور وہ سب لوک سبھا کا الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ دہلی میں جیت کے پیچھے ایک سب سے بڑی وجہ خالی سلیٹ تھی۔ ایسے امیدوار لڑے، جن کی کوئی تاریخ نہیں رہی۔ لوگوں نے انہیں حمایت دی اور ایم ایل اے بنایا۔ لیکن جن کے بارے میں لوگ جانتے ہیں، اگر وہ اچھے لوگ نہیں ہیں، ساکھ والے لوگ نہیں ہیں، تو ایسے لوگوں کو کس طرح سے عوام کی حمایت ملے گی، ابھی نہیں کہہ سکتے۔ بہار شاید نئے محاذوں کی جانب بڑھنے والی پہلی ریاست بن رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here