ہاتھی کا دانت نہ بن جائے بہار ما مائناریٹی ویلفیئر ڈائریکٹوریٹ

Share Article

اشرف استھانوی
بہار کی این ڈی اے۔۲ حکومت کی مدت کار جیسے جیسے آگے بڑھتی جا رہی ہے ریاست کے مسلم عوام کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔مسلمانوں نے جوش میں آکر نتیش کمار کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد کو گذشتہ سال کے اسمبلی انتخاب میں ووٹ تو جم کر دے دیا مگر اب ان کو یہ خوف ستانے لگا ہے کہ اگر این ڈی اے۔۱ کی طرح این ڈی اے۔۲ حکومت میں بھی مسلمانوں کی بد حالی کو دور کرنے کے لئے ٹھوس قدم نہیں اٹھائے گئے تو ان کا کیا ہوگا۔ ان کی حالت پہلے ہی دلتوں سے بدتر ہو چکی ہے اور اگر پورے ٹرم کے دوران بھی نتیش حکومت نے ان کے لئے کچھ نہیں کیا تو کیا ان کا تعلیمی اور اقتصادی گراف اور بھی نیچے چلا جائے گا۔
مسلمانوں کی یہ تشویش اور بے چینی بے سبب نہیں ہے۔ 2011 کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق موجودہ بہار کی آبادی 10 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد 2کروڑ یعنی تقریباً 20 فیصد ہے۔ نتیش حکومت میں بہار کی ترقی کا ڈنکا پورے ملک میں بج رہا ہے۔ اور بہار سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام کی منشا کے مطابق 2015 تک ترقی یافتہ ریاست بننے کی طرف گامزن بتایا جا رہا ہے۔ مگر کیا 2 کروڑ یعنی 20 فیصد آبادی کو نظر انداز کرکے کوئی ریاست ترقی یافتہ بن سکتی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس نے عوام و خاص سب کو پریشان کر رکھا ہے۔ مگر نتیش حکومت کو شاید کوئی پریشانی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری مدت میں بھی ہوائی باتیں ہی مسلمانوں کے سلسلہ میں زیادہ ہو رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار مسلمانوںکی بد حالی دور کرنے کے لئے اپنی حکومت کی فکر مندی کا زبانی اظہار تو خوب کرتے ہیں مگر عملی اقدام اس سطح پر جاکر نہیں کر پاتے ہیں یا جو فیصلے ہوتے ہیں ان کے نفاذ اور مانیٹرنگ کا نظم نہیں کرپاتے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تمام اقلیتی فلاحی منصوبے ناکام ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ سال کے آخر میں دوسری بار ریکارڈ توڑ اکثریت کے ساتھ اقتدار کی باگ ڈور دوسری بار سنبھالنے کے بعد انہوں نے مائنا ریٹی ویلفیئر ڈائریکٹوریٹ بنانے کا ایک نیا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ کی تشکیل کی کارروائی تیز ی کے ساتھ چل رہی ہے اور اس کی تشکیل کے بعد بہار کی اقلیتوں کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ان کی فلاح کے لئے چلائے جانے والے موجودہ اور آئندہ تمام فلاحی منصوبے تیزی کے ساتھ نافذ ہو سکیں گے۔ اور ان کا فائدہ اقلیتوں کو حاصل ہو سکے گا۔ ڈائریکٹوریٹ کے قیام کا اعلان پوری شان و شوکت کے ساتھ کیا جائے گا۔ اور اسے اقلیتی فلاح کے محاذ پر نتیش حکومت کے ایک مثالی اور قابل تقلید کارنامے کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ ڈائریکٹوریٹ کانظام حکومت کے دعوے کے مطابق ایسا ہوگا کہ اقلیتوں کو نظر انداز کرنا یا ان کے فلاحی منصوبوں کے نفاذ کی طرف سے عدم دلچسپی کا اظہار کسی بھی نوکر شاہ یا افسر شاہ کے لئے ممکن نہ ہوگا۔ مگر ریاست کے اقلیتی عوام کے علاوہ دانشور حضرات بھی اس دعوے پر یقین کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اقلیتی فلاحی ڈائریکٹو ریٹ بھی اقلیتی کمیشن، ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن اور ریاستی اردو ڈائریکٹوریٹ کی طرح ہاتھی کا نمائشی دانت بن کر رہ جائے گا۔ ویسے بھی جب اقلیتی کمیشن اقلیتوں کو انصاف دلانے میں ناکام ہے تو ڈائریکٹوریٹ کیا کرے گا۔ نام بدل دینے یا ادارہ قائم کر دینے سے حکومت اور انتظامیہ کے ارکان کی سوچ تو نہیں بدل سکتی۔ یا ورک کلچر میں تو تبدیلی نہیں آسکتی ہے۔ اگر حکومت کی پالیسی کلیر کٹ نہیں ہے اور وہ اقلیتی فلاحی منصوبوں کے نفاذ کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے ، نگرانی کا کوئی پختہ اور موثر نظام نہیں ہے تو نتیجہ میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ نتیش حکومت آئے دن نئے نئے کالجوں اور یونیورسٹیوںکے قیام کا جو اعلان کرتی رہتی ہے اس کے سلسلہ میں بھی عوامی رد عمل یہی ہے کہ وہ نئے ادارے قائم نہ کرکے پرانے اداروں کو ہی چست درست کرنے اور ان کی موجودہ کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دے تو وہ زیادہ نتیجہ خیز اور ثمر آور ہوگا۔
مگر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی اپنی سوچ ہے وہ اپنے ہی انداز سے کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ عوام ان کی سوچ تو نہیں بدل سکتے ہیں۔ لیکن اگر حکومت کے فیصلے سے ان کو فائدہ نہیں پہنچتا ہے یا سرکاری کارروائی نتیجہ خیز نہیں ہوتی ہے تو دیر یا سویر وہ اپنی سوچ بدلنے پر یقینا مجبور ہو جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ وزیر اعلیٰ اس دن کا انتظار نہیں کرنا چاہیں گے اور اپنے فیصلوں کو درست اور نتیجہ خیزبنانے کی کوشش کریں گے۔ اب کہنے کو تو وزیر اعلیٰ یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ وہ اقلیتی فلاح کے معاملے میں مرکز کا منہ نہیں دیکھیں گے اور اپنے ہی وسائل سے مطلوبہ فنڈ مہیا کرائیں گے۔
اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کو ہر طرح چست اور درست بنائیں گے اور فلاحی منصوبوں کا فائدہ اقلیتوں تک پہنچے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ریاست کے ہر ضلع میں مائنا ریٹی ویلفیئر افسر مقرر کئے جائیں گے۔ اور اس مقصد کے لئے ریاست کے اقلیتی بجٹ میں زبردست اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ مگر بات پھر وہی حکومت و انتظامیہ کے اخلاص، سنجیدگی اور فلاحی پروگراموں کی عمل آوری کی نگرانی پر آکر رک جاتی ہے جس کی طرف مختلف سماجی ، فلاحی، مذہبی اور لسانی تنظیمیں لگاتار عرضداشت پیش کرکے وزیر اعلیٰ کی توجہ مبذول کرا رہی ہیں۔
مثال کے طور پر گزشتہ مالی سال 2010-11 میںوزیر اعلیٰ شرم شکتی منصوبے کے تحت 3 کروڑ روپے دئیے گئے مگر خرچ ایک فی صد رقم بھی نہیں ہو سکی۔ مطلقہ خواتین کی فلاح کے لئے ایک کروڑ روپے کی رقم بھی خرچ نہیں ہو سکی۔ اس رقم سے اقلیتی مطلقہ خواتین کو فی کس 10 ہزار روپے کے حساب سے مالی امداد کی جانی تھی۔ اقلیتی ہاسٹلوں کی تعمیر کے لئے ہر ضلع کے ڈی ایم کو ڈیڑھ کروڑ روپے مہیا کرائے گئے تھے مگر ان کا استعمال نہیں ہو سکا اور گذشتہ 5 برسوں کے دوران ایک بھی ہاسٹل نہیں بن سکا۔ میٹرک( ہائی اسکول) امتحان اول درجہ میں پاس کرنے والے اقلیتی طلبا کو یک مشت 10 ہزار روپے حوصلہ افزائی کے لئے دینے کی اسکیم 2007 سے لاگو کی گئی مگر 5 ہزار مستحقین میں سے صرف 22 سو کو ہی حوصلہ افزائی وظیفہ ملا۔ اس کے بعد لگاتار اچھے نتائج سامنے آتے گئے اور فرسٹ ڈویزن لانے والوں کی تعداد بڑھتی گئی مگر کسی بھی سال میں 60 فیصد مستحقین کو بھی وظیفہ نہیں دیا جا سکا۔2009 کے مستحقین کو وظیفہ فراہم کرنے کے لئے اگست 2010 میں متعلقہ ضلع مجسٹریٹ کو رقم مہیا کرائی گئی مگر وہ یا ان کے ویلفیئر افسر اسے مستحقین تک نہیں پہنچا سکے۔ کئی اضلاع کے ڈی ایم نے چیک کی ویلیڈیٹی ختم ہونے کے بعد چیک محکمہ اقلیتی فلاح کو لوٹا دئیے۔ ایسے ہزاروں چیک آج بھی محکمہ میں پڑے ہیں مگر ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
مرکز کی طرف سے پری میٹرک ، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینس اسکالر شپ کا نظم ہے۔ ان میں سے پہلے دو وظائف میں 75 فیصد مرکز اور 25 فیصد ریاست کو دینا ہوتا ہے۔ ریاستی حکومت اپنا حصہ بر وقت مہیا نہیں کراتی اس لئے یہ وظائف مقررہ وقت پر مستحق طلبا و طالبات کو نہیں مل پاتے۔ صرف میرٹ کم مینس اسکالر شپ ہی مل پاتی ہے کیوں کہ یہ تکنیکی طلباء کو دی جاتی ہے۔اور صدفی صد رقم مرکز مہیا کراتا ہے۔ اسی طرح مرکز بہار کے 7 اقلیتی اکثریت والے اضلاع MSDP کے تحت 3 ارب روپے مہیا کرچکا ہے مگر متعلقہ اضلاع کے ڈی ایم 30 فیصد رقم بھی خرچ نہیں کر پائے ۔ جس سے اقلیتی عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ریاستی حکومت فنڈ مہیا کرانے میں بھی تساہلی سے کام لیتی ہے۔ اور مرکزی منصوبوں کے نفاذ میں بھی دلچسپی نہیں لیتی ہے۔اندرا آواس ، بی پی ایل ،منریگا،پی ڈی ایس، انا پورنا، انتودیہ منصوبہ، ضعیف العمری پنشن اور لال کارڈ ، آنگن باڑی سیویکا اور سہائیکاجیسے فلاحی پروگراموں سے بھی اقلیتی عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ اور حکومت کا انصاف کے ساتھ ترقی کا نعرہ صدا بہ صحرا ثابت ہو رہا ہے۔ ایسے میں نئے کمیشن یا ڈائریکٹوریٹ کے قیام سے کیا ہو جائے گا۔ جب حکومت اور انتظامیہ اقلیتی فلاحی منصوبوں کے نفاذ کے معاملے میں مخلص اور سنجیدہ نہیں ہے۔
لوگ تو اب یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ نتیش حکومت اپنے پارٹنر بی جے پی کے دبائو میں اقلیتی فلاحی منصوبوں کو نظر انداز کر رہی ہے جو اس بار پہلے سے زیادہ سیٹیں جیت کر زیادہ طاقتور بن گئی ہے۔ حکومت سیکولر ہونے کا دعویٰ تو کرتی ہے اور دکھاوے کے لئے کچھ فیصلے بھی کرتی ہے مگر ان کے نفاذ کی طرف سے چشم پوشی کرکے بی جے پی کے خفیہ ایجنڈے پر عمل کرتی ہے۔ افسر شاہوں پربھی بی جے پی کا اثر ہے۔ اس لئے وہ حکومت کے فیصلوں کے نفاذ پر عمل میں دلچسپی نہیں لیتے۔ نتیش کا افسر شاہوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور یہی چیز ان کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *