بہار میں سوشل میڈیا اشتہاری مہم کا ذریعہ بنا

Share Article

ششی ساگر
p-10تکنیک اور سیاست کا رشتہ ویسے تو بہت پرانا ہے لیکن انتخابی موسم میں اس کا بہتر استعمال کیسے ہو، اس کا ایک نمونہ نریندر مودی نے گجرات اسمبلی انتخابات کے موقع پر دکھایا تھا۔ تھری ڈی تکنیک کی بنیاد پر پورے ملک کے کروڑوں ووٹروں سے ایک ہی جگہ سے خطاب کے ذریعہ روبرو ہونے کا احساس نریندر مودی نے ملک کو کرایا تھا۔ اس کے علاوہ فیس بک اور ٹویٹر جیسی سوشل میڈیا کی سہولتوں کا استعمال لیڈروں نے اپنے ووٹروں تک پہنچنے کے لئے خوب زور و شور سے کرنا شروع کیا۔ عام آدمی پارٹی نے تو اس کا پورا فائدہ دہلی کے اسمبلی الیکشن میں اٹھایا۔بہار میں بھی ان دنوں تقریباً سبھی پارٹیوں نے سوشل میڈیا کو اپنی تشہیر کے لئے ایک مضبوط ہتھیار بنا لیا ہے اور کم سے کم وقت میں بغیر کوئی خاص خرچ کیے وہ اپنے ووٹروں تک پہنچنے میں لگے ہیں۔ بات بر سر اقتدار پارٹی جنتا دل یو سے ہی شروع کرتے ہیں۔
جنتا دل یو دفتر میں ادھر ادھر کی بات ہوتے ہوتے معاملہ فیس بک – ٹویٹر کی دنیا میں آجاتا ہے۔ اس بات کا اعتراف تمام کارکنان کرتے ہیں کہ جنتا دل یو کی بہ نسبت بی جے پی سوشل میڈیا پر کہیں زیادہ سرگرم ہے۔ہماری بات جنتا دل یو کی آفس کے سکریٹری ببلو سے ہوتی ہے۔ ببلو کے ہاتھ میں مہنگا انڈرائڈ فون ہوتا ہے اور رہ رہ کر اپنے فیس بک کے اپ ڈیٹ کو دیکھتے ہیں۔ بات چیت کے دوران ہی ہم ان سے کہتے ہیں کہ آپ لوگوں کو تو بی جے پی نے سوشل میڈیا پر شکست دے دی ہے۔ ببلو فوراً جواب دیتے ہیں کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ بہار بھی دہلی یا جاپان جیسا ہے جہاں سوشل میڈیا کا جادو چل جائے گا؟ ہمیں جہاں سرگرم رہنا چاہئے، ہم وہاں سرگرم ہیں۔ لوگ اپنے موبائل پر وزیر اعلیٰ کے پوسٹ پر عجیب عجیب تبصرہ کرتے ہیں،اپنا غصہ نکالتے ہیں ،یہاں تک کہ گالی گلوچ بھی لکھ دیتے ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ سرکار سے جن لوگوں کو ناراضگی ہوگی ، وہی لوگ ایسا کرتے ہوں گے؟ اس پر ببلو کہتے ہیں، ارے نہیں بھائی، بی جے پی نے کچھ لوگوں کو ہائر کیا ہے اپنے آئی ٹی سیل میں۔یہ سب انہی کا کام ہے۔یہ لوگ بی جے پی کو سوشل میڈیا پروموٹ کرتے ہیں اور سرکار کو بد نام کرتے ہیں۔

ٹرائی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بہار کی ٹیلی ڈینسیٹی 48.90 ہے، وہیں اس کی رورل ٹیلی ڈینسیٹی سب سے کم 27.5 ہے ۔وہیں انٹرنیٹ ایکسیس کرنے کے معاملے میں بہار ملک کی بارہویں ریاست ہے۔وہیں ایک جانکاری یہ بھی ملتی ہے کہ صرف راجدھانی پٹنہ میں گیارہ لاکھ لوگ فیس بک کا استعمال کرتے ہیں۔

بہر حال ببلو کی باتیں کتنی صحیح ہیں ،یہ الگ بحث کا موضوع ہے۔لیکن اتنا تو طے ہے کہ بہار کی سیاسی پارٹیاں اور یہاں کے لیڈر سوشل میڈیا کی طاقت کو پہچان چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ ساتھ بہار کے تقریباً سبھی بڑے لیڈر فیس بک – ٹویٹرپر سرگرم نظر آتے ہیں۔ ویسے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش ابھی حال تک سوشل میڈیا میں دوسرے لیڈروں کی تنقید کرتے رہے ہیں۔کسی بھی لیڈر کے ٹویٹر اپ ڈیٹ پر جب کوئی نتیش سے ان کی رائے جاننا چاہتا ہے تو وہ تنقید کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتے تھے۔ حال ہی میں ایک اخبار کے اجراء کے موقع پر انہوں نے بالواسطہ لالو پر نشانا لگاتے ہوئے کہا تھاکہ نئے لوگوں کی تو چھوڑیے، اب پرانے لوگ بھی شور مچانے لگے ہیں۔یہ بھی بتاتے چلیں کہ مذکورہ اجلاس سے کچھ دنوں پہلے ہی یہ خبر آئی تھی کہ لالو اب ٹویٹر پر نظر آئیں گے۔ ویسے اس کے کچھ دن بعد ہی نتیش خود بھی فیس بک پر نظر آنے لگے۔ نتیش فیس بک پر صرف اکائونٹ ہی نہیں کھولے ہوئے ہیں بلکہ وہ مسلسل اس پر موجود بھی رہتے ہیں۔ اپنی تمام سرگرمیوں کو اپ ڈیٹ بھی کرتے رہتے ہیں۔ فیس بک پر ان کے چاہنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ پچھلے دنوں نتیش نے اپنے پیج پر فیڈرل فرنٹ کے سائز اور اس سے جڑی باتوں کو فیس بک پر اپ ڈیٹ کیا۔ ملے جلے تبصرے بھی آئے۔ کچھ لوگوں نے تنقید کی تو زیادہ تر لوگوں نے نتیش کے اس قدم کو سراہا بھی۔ ذرائع کے مطابق نتیش کا یہ پیج ان کے ایک سکریٹری دیکھتے ہیں اور نتیش ہر روز ان پر آ ئے کومنٹس کا جائزہ لیتے ہیں۔جنتا دل یو کے ایک لیڈر کہتے ہیں کہ اب تو ہم لوگ لوک سبھا کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ عوام کے بیچ جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ابھی دھیان دینے کا وقت نہیں ہے۔لیکن ان کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ وقت رہتے ہوئے جنتا دل یو نے اس طرف دھیان نہیں دیا۔
بتاتے چلیں کہ جنتا دل یو میں فی الحال آئی ٹی سیل نہیں ہے۔ جنتا دل یو کا جو سرکاری ویب سائٹ ہے وہ دہلی سے آ پریٹ ہوتا ہے اور وہ بھی اپ ڈیٹ نہیں ہے۔ وہیں بہار جنتا دل یو کا الگ سے کوئی ویب سائٹ نہیں ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر ہی بہار جنتا دل یوکی پکڑ ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے جنتا دل یو کے ریاستی ترجمان نول شرما پارٹی کی سرگرمیوں کو بہتر طریقے سے سوشل میڈیا پر رکھنے کا کام کر رہے ہیں۔ ہم نول سے کہتے ہیں کہ آپ کو یہ کام کچھ اور پہلے سے شروع کر دینا چاہئے تھا تو نول کہتے ہیں کہ یہ کام ایک ترجمان کا نہیں ہے۔ ہم نے خود ہی آگے بڑھ کر اس کا ذمہ لیا ہے۔ ہمارا مقصد ہے نتیش کمار کے کام کو ہر ہر آدمی تک پہنچانا۔
بات اگر بی جے پی کی کریں تو ریاست کی تمام پارٹیوں میں وہ اس دوڑ میں سب سے آگے ہے۔ بی جے پی کا ریاستی دفتر شاندار ہے اور باقاعدہ وہاں آئی ٹی سیل اور میڈیا سیل قائم کیا گیا ہے۔بی جے پی کے تمام بڑے چھوٹے لیڈر سوشل میڈیا پر زبردست سرگرم نظر آتے ہیں ۔ بی جے پی کے ایک لیڈر ہیں اروند کمار سنگھ۔ وہ لوک سیوا آدھیکار منچ کے ریاستی صدر ہیں۔ وہ اپنے تمام لائیکس، فرینڈ اور فولور کو گناتے ہوئے کہتے ہیں کہ بتائیے اب اتنے سارے لوگ ہیں جو ہم سے جڑے ہوئے ہیں اور جن تک ہم اپنی بات پہنچا رہے ہیں ، کہیں نہ کہیں یہ سب بی جے پی کے لئے ہی تو ہے۔ سنگھ کی حمایت کرتے ہوئے سنجے میوکھ بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ میوکھ کہتے ہیں کہ پچھلے دنوں ہمارے یہاں اس بات کی بھی ٹریننگ دی گئی تھی کہ کیسے فیس بک کا استعمال لوک سبھا کو دھیان میں رکھ کر کیا جائے۔ نیشنل میڈیا میں کئی دفعہ یہ خبر آئی کہ بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار نریندر مودی اور کانگریس کے راہل گاندھی کی سوشل میڈیا پر برانڈنگ کے لئے پروفیشنل اور پی آر ایجنسی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ بہار میں بی جے پی کی سرگرمیوں کو سوشل میڈیا تک زور دار طریقے سے پہنچانے کے لئے یہاں بھی کچھ آئی ٹی پروفیشنل کو رکھا گیاہے۔ لیکن بی جے پی میڈیا سیل کے صدر سنجے چودھری اس بات کو قبول نہیں کرتے ہیں۔سنجے کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں آئی ٹی سیل ہے اور میڈیا سیل بھی ہے اور یہی دونوں مل کر سوشل میڈیا کا سارا کام دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں کچھ پروفیشنل تو ہیں لیکن ہم نے کسی کو ہائر نہیں کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو نمو سے لگائو ہے۔ انہیں کوئی تنخواہ یا بھتہ نہیں دیا جاتاہے۔یہ پارٹی کے لوگ ہیں اور نمو کو پی ایم بنانے کو لئے کام کر رہے ہیں۔ سنجے کہتے ہیں کہ یہ ایک دن میں نہیں ہوا ہے۔ ہم لوگ سوشل میڈیا کو لے کر بہت پہلے سے بیدار ہیں۔ نمو کی ہونکار ریلی سے پہلے پٹنہ میں بہار بی جے پی نے ایک ورک شاپ کا انعقاد کیا تھا۔ اس دوران بھی سابق نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی نے کہا تھا کہ بی جے پی کے سارے کارکنان کے پاس ای میل ہونا چاہئے ،ساتھ ہی انہوں نے صلاح دی تھی کہ سبھی لوگ اسمارٹ فون اور تھری جی کنکشن ضرور لیں۔ بی جے پی نئی ٹکنیک کا بخوبی استعمال بھی کر رہی ہے۔ حال ہی میں ٹیلی ویژن ٹکنالوجی کے ذریعہ پنچایت لیول کے کارکنوں سے ریاست کے افسران نے سیدھے بات چیت کی تھی۔ گاہے بگاہے پارٹی ویڈیو کانفرنسنگ کرواتی رہتی ہے۔ چائے کے دوران چرچا ہونا اسی کی ایک مثال ہے۔ بہار بی جے پی کے سشیل مودی، منگل پانڈے، نند کیشور یادو سمیت کئی لیڈر سوشل میڈیا فیس بک پر زوردار طریقے سے سرگرم نظر آتے ہیں۔ ہر روز ان کا فیس بک پیج اور اکائونٹ اپ ڈیٹ نظر آتا ہے۔
ویسے آر جے ڈی بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہے۔لیکن وہاں بھی پارٹی کے اندر آئی ٹی سیل جیسا کوئی نظام نہیں ہے۔ لالو کے دونوں لڑکے تیج پرتاپ اور تیجسو فیس بک پر کافی سرگرم نظر آتے ہیں۔ خود راشٹریہ جنتا دل سپریمو لالو پرساد بھی ٹویٹر پر آچکے ہیں۔ پچھلے دنوں فروری میں تیجسو نے فیس بک کے ساتھیوں کے ساتھ ایک چائے پارٹی کا انعقاد کیا تھا۔ اس پارٹی میں سو سے زیادہ لوگ اکٹھا ہوئے تھے۔ سوشل جسٹس سے سوشل میڈیا کی طرف بڑھ رہے اس قدم کو لوگ تیجسو کے دماغ کی اپج بتاتے ہیں۔ نشست کے دوران تیجسو نے سوشل میڈیا کی اہمیت کو قبول بھی کیا۔ تیجسو نے کہا کہ سماجی انصاف اور سیکو لرازم حاصل کرنے کے لئے سوشل میڈیا کارگر ہتھیار ہے۔ بہار ریاستی کانگریس بھی سوشل میڈیا پر سرگرم نظر آتی ہے۔ ریاستی کانگریس کا میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ اس سرگرمی کو دیکھتا ہے۔ ریاستی کانگریس کی اپنی ویب سائٹ ہے اور سوشل میڈیا پر اس کے پیج بھی ہیں۔ خود بہار کے ریاستی صدر اشوک چودھری اور ریاستی ترجمان پرمود چندر مشرا بھی فیس بک پر خوب نظر آتے ہیں۔ پرمود چندر مشرا کہتے ہیں کہ نوجوانوں پر پکڑ بنانے کے لئے یہ ایک بہتر ذریعہ ہے اور اس کی اہمیت کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے۔
ٹرائی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بہار کی ٹیلی ڈینسیٹی 48.90 ہے، وہیں اس کی رورل ٹیلی ڈینسیٹی سب سے کم 27.5 ہے ۔وہیں انٹرنیٹ ایکسیس کرنے کے معاملے میں بہار ملک کی بارہویں ریاست ہے۔وہیں ایک جانکاری یہ بھی ملتی ہے کہ صرف راجدھانی پٹنہ میں گیارہ لاکھ لوگ فیس بک کا استعمال کرتے ہیں۔ آج بہار کی تمام پارٹیوں اور چھوٹے بڑے لیڈر سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔ راجدھانی پٹنہ میں کئی ایسی پی آر ایجنسیاں بھی کام کر رہی ہیں جو کچھ لیڈروں کے پروفائل کو آپریٹ کرتی ہے۔آنے والے لوک سبھا انتخابات میں بہار میں بھی سوشل میڈیا کا اثر دکھے گا۔ بھلے تھوڑا کم ہی صحیح، ہماری بات کو سینئر صحافی اور سوشل میڈیا کے جانکار گنیشور بھی تائید کرتے ہیں۔ گنیشور کہتے ہیں کہ آج جو بھی سوشل میڈیا کی پہنچ کو مسترد کرے گا وہ پیچھے چھوٹ جائے گا۔وہ کہتے ہیںکہ لوگوں تک ا پنی بات پہنچانے کے لئے اس سے تیز ذریعہ کوئی اور ہے ہی نہیں۔ گنیشور کے مطابق، ملک کی 340 انتخابی حلقے ایسے ہیںجہاں سوشل میڈیا کا اثر دکھے گا ، بکسر ، آرا، پورنیہ ، کٹیہار، دربھنگہ، مظفر پور ، موتیہاری اور شیوہر ایسے ضلعے ہیں جہاں کے لوک سبھا انتخاب کو سوشل میڈیا بھی متاثر کرے گا۔ وہ کہتے ہیںکہ حال کے دنوں میں جتنے بھی بدلائو ہوئے ہیں ،اس میں سوشل میڈیا کے اہم رول ہیں۔ سروے سے آئی رپورٹ کو دیکھیں تو بہار میں بھی سوشل میڈیا اپنا اثر دکھائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *