سروج سنگھ
راشٹریہجنتا دل، جنتا دل یونائٹیڈ اور کانگریس کے بیچ قائم ہوئے اتحاد میں ان دنوں پردے کے پیچھے سے لیڈروں نے ایک دوسرے پر دبائو بنانے والے بیانوں کے تیروں کی بوچھار کر رکھی ہے۔ ان تیروں کا مقصد صرف p-5bبہار میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اپنی پارٹیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنا ہے۔ لیکن بد قسمتی ہے کہ ان تیروں کی لپیٹ میں کبھی کبھی ریاست کے وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی بھی آجاتے ہیں۔
غور طلب ہے کہ نریندر مودی کا ریاستوں کا’وجے ابھیان‘ جس طرح سے آگے بڑھ رہا ہے، اس سے اپوزیشن خیمے میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی اتحاد بنائے رکھنا نتیش کمار اور لالو پرساد کی مجبوری ہو گئی ہے۔ دونوں ہی لیڈر یہ محسوس کر چکے ہیں کہ اگر الگ ہوکر نریندر مودی کے سامنے گئے تو پریشانی ہونی طے ہے۔ دونوں لیڈر یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ اتحاد بنائے رکھنا بہت ہی مشکل کام ہے، کیونکہ سیٹوں کی تقسیم میں بہت ساری پیچیدگیاں ایسی ہیں، جنہیں سلجھا پانا بہت مشکل ہے۔
غور طلب ہے کہ ریاست کی 243 سیٹوں میں سے 70سیٹیں ایسی ہیں جن پر جنتا دل یو نے راشٹریہ جنتا دل امیدوار کو سیدھے مقابلے میں ہرایا ہے۔ ان سیٹوں کی تقسیم کیسے اور کس تناسب میں ہوگا، یہ حساب دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ ادھر رگھوونش بابو نے یہ کہہ کر اتحاد کو مزید الجھا دیا ہے کہ سیٹوں کی تقسیم کی بنیاد لوک سبھا انتخابات میںملے ووٹوں کو بنایا جائے گا۔مطلب یہ ہے کہ جن سیٹوں پر راشٹریہ جنتا دل نے زیاد ہ ووٹ حاصل کیا ہے، ان پر وہ اپنا دعویٰ پیش کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب پہلے والی بات نہیں ہے اور ریاست کی سیاسی حالات کافی بدل گئے ہیں۔ اس لئے راشٹریہ جنتا دل ہی بڑے بھائی کے کردار میں رہے گا۔ ظاہر ہے کہ ان باتوں سے جنتا دل یو میں اختلاف ہونا تھا اور ہوا بھی۔ ریاستی صدر نے میڈیا سے کہا بھی کہ ابھی ان باتوں کا وقت نہیں آیا ہے، اس لئے یہ معاملہ ہی بے وقت ہے۔
سیاسی جانکار بتاتے ہیں کہ جنتا دل یو نے لالو پرساد سے ایسی باتیں فوری طور پر روکنے کے لئے کہا۔ انہیں بتایا گیا کہ اس طرح کی بے موسمی بیان بازی اتحاد کی صحت کے لئے اچھی نہیں ہے۔ وزیر ورشن پٹیل کہتے ہیں کہ اتحاد تو شیشے کا محل ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی پتھر لگ گیا تو محل گر جائے گا۔

شرد یادو کو بھی یہ بات سمجھانے کی کوشش ہور ہی ہے کہ حالات اگر یہی بنے رہے ، تو پھر پارٹی کے لئے مشکل ہوگا۔ حال میں شرد یادو کے پٹنہ دورے کو اسی تناظر میں دیکھنا مناسب ہوگا۔ لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مہا دلت سماج کے وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کا کتنا خطرہ پارٹی اٹھانے کے لئے تیار ہے؟ جیتن رام بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ اپنے حساب سے حکومت چلا رہے ہیں۔ مہادلتوں کو متحد کرنے کی مہم جاری ہے۔ وہ بار بار زور دے رہے ہیں کہ اگر مہا دلت متحد ہو جائیں تو بہار کا اگلا وزیر اعلیٰ پھر اسی سماج سے ہو سکتا ہے۔ جیتن رام کی ان باتوں سے جنتا دل یو خیمے میں بے چینی ہے۔ نتیش حامیوں کو نہ نگلتے بن رہا ہے اور نہ اگلتے۔جتین رام مست ہیں کیونکہ ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ جن خطروں کا سامنا کرنا ہے وہ نتیش کمار اور ان کے خیمے کو کرنا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آخر نتیش کمار ان چیلنجز سے کیسے نکل پاتے ہیں؟

اس لئے بہت سنبھل سنبھل کر چلنے اور بولنے کی ضرورت ہے۔ جنتا دل یو کی طرف سے بنائے گئے دبائو کا اثر بھی ہوا اور راشٹریہ جنتا دل نے اپنی6 نمبر والی میٹنگ کو محض رسمی اور غیر سیاسی بتایا ۔جبکہ پہلے طے تھا کہ اس میٹنگ میں راشٹریہ جنتا دل کے 10بڑے لیڈر لاالو پرساد کے ساتھ دہلی میں اتحاد کے مستقبل پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔اس میں جھارکھنڈ میں اتحاد جاری رکھنے پر بھی غور ہونا تھا ،لیکن اس میٹنگ کو صرف رسمی بنا دیا گیا۔ اگلے ہی دن لالو پرساد کو ایک بیان جاری کرنا پڑا کہ اتحاد پر بیان دینے کے لئے سبھی لیڈر مجاز نہیں ہیں اور ہر حال میں اتحاد جاری رکھنا ہے ۔ لیڈر کون ہوگااور کتنی سیٹیں کس پارٹی کو ملیں گی یہ سب اہم باتیں ہیں۔سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ فرقہ وارانہ طاقتوں کو شکست دینا ہے اور غیر بی جے پی ووٹوں کو تقسیم نہیں ہونے دینا ہے۔ لالو پرساد کے اس بیان کے بعد امید کی جارہی ہے کہ فی الحال کچھ دنوں تک بیان بازی کا سلسلہ بند رہے گا لیکن یہ مستقل طور بند رہے گا ؟ اس کی گارنٹی کوئی لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ایک دوسرے پر دبائو بنانے کے لئے پھر بیان دیئے جائیں گے اور اس کے بعد پھر تردید آجائے گی۔ماہرین بتاتے ہیں کہ راشٹریہ جنتا دل نے اجمالی طور پر طے کر ل لیا کہ وہ 140 سے کم سیٹوں پر انتخاب نہیں لڑے گا۔ یہ ایسی تعداد ہے جو کہ جنتا دل یونائٹیڈ کو منظور نہیں ہو سکتی۔ جنتا دل یو کی ابھی ریاست میں سرکار ہے، اس لئے وہ کسی بھی قیمت پر اپنا چھوٹا کردار قبول کرنے کو تیار نہیں ہوگی ۔ ایسے میں اتحاد بنائے رکھنے کے حامی لیڈروں کی رائے ہے کہ جنتا دل یو اور راشٹریہ جنتا دل کے بیچ برابر برابر سیٹوں کی تقسیم ہو اور بقیہ سیٹیں کانگریس کو دے دی جائیں۔ ایک فارمولہ یہ بنایا جارہا ہے کہ 110-110 سیٹوں پر راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یو کے امیدوار انتخابی اکھاڑے میں اتریں اور باقی 23 سیٹیں کانگریس کو دے دی جائیں،لیکن راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس خیمے میں اس فارمولے کو لے کر کوئی جوش نہیں ہے۔ دونوں ہی پارٹی اسے غیر فطری بتا رہے ہیں۔
کانگریس اس انتخاب میں اپنی ٹھیک ٹھاک حصہ داری چاہتی ہے۔ اسے 50 سے کم سیٹیں دینے پر بات بننے والی نہیں ہے ۔ راشٹریہ جنتا دل 140 سے نیچے آنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ ایسے میں اتحاد بنائے رکھنے میں سب سے معاون نریندر مودی ہوسکتے ہیںجن کا ڈر دکھا کر یہ اتحاد زندہ رکھا جاسکتا ہے۔ ادھر جیتن رام مانجھی کو لے کر بھی جنتا دل یو کے اندر کھینچا تانی جاری ے۔ نتیش اور جیتن رام کے بیچ صحیح تال میل نہیں ہے۔ یہ بحث اب عام ہے، لیکن اس میں ایک نئی بات یہ ہوئی ہے کہ نتیش کمار کے قابل اعتماد کئی لیڈر اب پردے کے پیچھے سے جیتن رام کو ہٹانے اور نیتش کمار کو دوبارہ وزیر اعلیٰ بنانے کی مہم میں لگ گئے ہیں۔ جیتن رام کے دور حکومت پر نتیش کمار اور ان کے ساتھی اب بات کرنا زیادہ پسند نہیں کررہے ہیں۔نتیش کے پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ جیتن رام کے بیانوں اور طریقہ کار سے سرکار کی شبیہ متاثر ہوئی ہے۔ اس متاثر شبیہ کے ساتھ عوام کے بیچ انتخاب میں جانے سے جنتا دل یو کو بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔
شرد یادو کو بھی یہ بات سمجھانے کی کوشش ہور ہی ہے کہ حالات اگر یہی بنے رہے ، تو پھر پارٹی کے لئے مشکل ہوگا۔ حال میں شرد یادو کے پٹنہ دورے کو اسی تناظر میں دیکھنا مناسب ہوگا۔ لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مہا دلت سماج کے وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کا کتنا خطرہ پارٹی اٹھانے کے لئے تیار ہے؟ جیتن رام بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ اپنے حساب سے حکومت چلا رہے ہیں۔ مہادلتوں کو متحد کرنے کی مہم جاری ہے۔ وہ بار بار زور دے رہے ہیں کہ اگر مہا دلت متحد ہو جائیں تو بہار کا اگلا وزیر اعلیٰ پھر اسی سماج سے ہو سکتا ہے۔ جیتن رام کی ان باتوں سے جنتا دل یو خیمے میں بے چینی ہے۔ نتیش حامیوں کو نہ نگلتے بن رہا ہے اور نہ اگلتے۔جتین رام مست ہیں کیونکہ ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ جن خطروں کا سامنا کرنا ہے وہ نتیش کمار اور ان کے خیمے کو کرنا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آخر نتیش کمار ان چیلنجز سے کیسے نکل پاتے ہیں؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here