بہار میں مجرمانہ شبیہ والے بے خوف ہیں

Share Article
سروج سنگھ
p-7لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر اور لالو کے کاروباری باہو بلی برج ناتھی سنگھ کوپٹنہ کی کچی درگاہ علاقے میں گولیوں سے بھون دیا گیا۔ انہیں اے کے 47 کی دس گولیاں ماری گئیں جس سے فوری ان کی موت ہوگئی۔ان کا بیٹا اور بیوی اور بھائی کی بیوی سنگین طور سے زخمی ہیں۔ اس معاملے میں راگھو پور (لالو پرساد ،رابڑی دیوی اور اب تیجسوی پرساد یادو کا اسمبلی حلقہ)کے ایک مجرم سرغنہ منا سنگھ سمیت دیگر لوگوں پر ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اب تک پولیس نے کئی گرفتاری کی ہے،لیکن حادثے کا اہم سرغنہ منا سنگھ کو ابھی تک پکڑا نہیں جاسکتا ہے۔
بہار میں جرائم پیشہ سرغناؤں نے نئے سرے سے ایک بار پھر دھڑلے سے اے کے 47 کا استعمال شروع کردیا ہے۔ اس سے پہلے دربھنگہ ضلع میں ایک کنسٹرکشن کمپنی کے دو انجینئروں کے قتل بھی دن دہاڑے اے کے 47 سے ہی کئے گئے تھے۔ کنسٹرکشن کمپنی سے رنگ داری کو لے کر مذکورہ دونوں انجینئروں کا قتل سرغنہ سنتوش جھا کے گروپ کے شوٹر مکیش پاٹھک اور اس کے ساتھیوں نے کیا تھا۔ سنتوش جھا تو جیل میں بند ہے ،لیکن مکیش پاٹھک اب بھی پولیس کی گرفتاری سے باہر ہے۔ اسی گروپ نے اس سے پہلے نئی سرکار کے بننے کے کوئی تین ہفتے کے اندر شیو ہر میں ایک کنسٹرکشن کمپنی کے سپر وائزر کی سرے بازار دن دہاڑے قتل کردیا تھا۔ اس میں بھی اے کے 47 کاہی استعمال کیا گیا تھا۔اس سے بھی پہلے سرکار کی حلف برداری کے ایک ہفتہ کے اندر مظفر پور کے ماڑی پور علاقے میں ایک کنسٹرکشن کمپنی کے آفیسر کے رہائشی دفتر پر اے کے 47 سے تابڑ توڑ گولیاں برسائی گئی تھیں۔ بہار میں گزشتہ برسوں میں اس انتہائی ہلاکت خیز ہتھیار کا استعمال کم ہو گیا تھا۔ کہیں کہیں اس کا اکاد استعمال ہوتا تھا۔ لیکن گزشتہ ہفتوں میں اس کا استعمال پھر تیزی سے کیا جانے لگا ہے۔ بہار میں مجرمانہ شبیہ رکھنے والے سرغناؤں کے پاس اے کے 47 ہونے کی پولیس کو کیا جانکاری ہے،یہ کبھی خلاصہ نہیں کیا گیا ،لیکن ایسا مانا جارہا ہے کہ صوبے میں اس مہلک ہتھیار کی کمی نہیں ہے۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ صوبے میں اے کے 47 ہی نہیں ،اے کے 56 بھی کافی ہیں۔ ایسے ہتھیاروں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہیں۔ سیوان ، مظفر پور، پٹنہ ،ویشالی، مشرقی چمپارن ، بیگو سرائے ، گیا وغیرہ ضلعوں میں سرگرم مجرم سرغنہ ایسے مہلک ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ جن لوگوں کے پاس یہ غیر قانونی ہتھیار ہونے کی غیر سرکاری جانکاری ہے ان میں کوئی ڈیڑھ درجن عوامی نمائندے بھی شامل ہیں۔ صوبے کے مجرم سرغنہ کے پاس اے کے 47 یا ایسے ہتھیار کا ہونا پولیس کے لئے سردرد ہے۔ حالانکہ یہ غیر قانونی ہے لیکن سرغناؤں ( باہو بلی عوامی نمائندے بھی کہئے) کے لئے یہ اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے۔ وہ اس کا دھڑلے سے استعمال کرتے ہیں۔یہاں تک کہ سرغنہ ان ہتھیاروں کو بھاڑے پر بھی دیتے ہیں، لیکن پولیس کے ہاتھ یہ شاید ہی آتے ہیں۔
صوبے میں مجرم سرغناؤں سے اقتدار کو نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور ان کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی پرساد یادو تو ہر موقع پر صوبے میں لاء اینڈ آرڈر پر کنٹرول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ کے ساتھ ساتھ راشٹریہ جنتا دل سپریمو لالو پرساد بھی سبھی عوامی اجلاس میں بہار کی صورت حال کو بہتر بتاتے ہوئے بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیوں پر صوبے میں ماحول بگاڑنے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔ بر سر اقتدار مہا گٹھ بندھن کے تیسرے اتحادی کانگریس کے لیڈر بھی ایسا ہی دعویٰ کرنے میں پیچھے نہیں رہتے۔ سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے تو جرائم کے واقعات میں اضافہ کو ذات برادری کا رنگ دینے تک کی کوشش کی ہے۔ صوبہ کے پولیس ڈائریکٹر جنرل پی کے ٹھاکر نے گزشتہ دنوں بیورو دے کر دعویٰ کیا کہ صوبے میں نئی سرکار بننے کے بعد سے جرائم کا گراف نیچے آیا ہے۔ لیکن مجرم گروہوں کو سرکاری سسٹم کی طرف سے اپنے طریقے سے جواب مل رہا ہے۔ گزشتہ ایک مہینہ کے واقعات اسے ثابت بھی کر رہے ہیں اور اب حالات یہ بنے ہیں کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور ان کے معاون نے اس سوال کو لے کر میڈیا کو بھی نشانے پر لینا شروع کردیا ہے۔ صوبے میں ایسے ماحول بننے کے کئی اسباب ہیں۔ پولیس سسٹم گزشتہ کئی سالوں سے جمود کی حالت میں ہے۔ اس کے پاس وسائل کی تو کمی ہے ہی،جوانوں،افسروں کی بھی کمی ہے۔لیکن سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ پولیس کا خفیہ سسٹم لگ بھگ ختم ہو گیا ہے۔ مجرم گروپوں کی سرگرمی کا پولیس کو پتہ ہی نہیں چلتا ۔ایسی بھی مثالیں ہیں کہ پولیس کئی اطلاعات کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ شیوہر میں کنسٹرکشن کمپنی کے سپر وائزر کا قتل ، دربھنگہ میں انجینئروں کا قتل، پٹنہ کے مین پورا علاقے میں جنوری میں گولڈ بزنس مین کا قتل ،کچی درگار میں برج ناتھی سنگھ کا قتل وغیرہ جیسے حادثات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ شیوہر میں سپر وائزر کو اور دربھنگہ میں کنسٹرکشن کمپنی کو رنگداری کے لئے دھمکی مل رہی تھی۔ پولیس کو جانکاری دی گئی تھی۔ پٹنہ کے گولڈ تاجر کو دھمکی مل رہی تھی، وہ رنگداری بھی دے رہا تھا۔ پولیس کو جانکاری ہو یا نہ ہو، علاقے کے لوگ جانتے تھے۔ برج ناتھی سنگھ کے قتل کا خطرہ بھی ظاہر کیا جارہا تھا ۔ برج ناتھی کے قتل کا حادثہ بتاتا ہے کہ بڑی تیاری کے ساتھ اسے انجام دیا گیا ۔ایسی مثالوں کی فہرست کافی لمبی ہے جہاں پولیس کے طریقہ کار کو حادثہ کے لئے ذمہ دا مانا جاسکتا ہے۔ ان جیسے حادثوں میں یا تو پولیس نے ذمہ داری سے کام نہیں کیا یا اس کا خفیہ سسٹم ناکارہ ثابت ہوا۔ دونوں صورت میں واردات کی جوابدہی تو پولیس کے کھاتے میں ہی جاتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں،حادثہ کے بعد کے حالات بھی اقتدار کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ گزشتہ مہینوں صوبے کے مجرم گروپوں کی جو بھی بڑی واردات ہوئی ہیں، کسی میں پولیس کے ہاتھ ایسا کچھ نہیں آیا ہے جس سے اس کے طریقہ کار پر اطمینان کا اظہار کیا جاسکے ۔ مظفرپور ،شیوہر ، دربھنگہ ، پٹنہ کے ان واقعات کے ساتھ ساتھ سیتامڑھی، چھپرا، مشرقی چمپارن ، گول گنج کے متعدد واقعات کے سرغناؤں کے گریبان تک پولیس کے ہاتھ نہیں پہنچے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ،ان واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں اور آلہ واردات اور دیگر ضروری اشیاء بھی پولیس کے ہاتھ نہیں آسکی ہیں۔ صوبے کے لوگ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ یہ کیسی تفتیش ہے کہ پولیس کے پاس کچھ بھی ضروری ثبوت نہیں ہے ؟پولیس سسٹم کی ایسی ناکامیاں مجرم سرغناؤں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور لاء اینڈ آرڈر کو کمزور کرتی ہیں۔ کسی جمہوری ملک کی بنیادی شرط عوامی اعتماد ہے۔کوئی سرکار بغیر عوامی اعتماد کے اقتدار میں نہیں بنی رہ سکتی ہے۔ اسی طرح سرکار کے اعتماد یا اس کی عوامی مقبولیت کو پختہ بنانے کے لئے پبلک پرسپشن بھی بنیادی ضرورت ہے۔ بہار میں مہا گٹھ بندھن کی سرکار لگ بھگ ڈھائی مہینے سے اقتدار میں ہے۔مگر اسے لے کر منفی تاثر نہ صرف بن رہا ہے بلکہ گہرا بھی ہوتا جارہا ہے۔ ریاستی سرکار کے کئی سینئر وزیر اور برسراقتدار کے حامی ماہرین پرائیویٹ بات چیت میں حالات کو سنگین ماننے لگے ہیں۔ انہیں بھی لگنے لگا ہے کہ صوبہ میں قانون و نظام کے حالات پکڑ سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ حالانکہ وہ مانتے ہیں کہ اب بھی صورت حال ویسی نہیں ے جیسا کچھ اپوزیشن لیڈر یا صوبے کے کچھ حلقوں میں اسے پھیلایا جارہا ہے ۔صوبہ کا برسراقتدار مہاگٹھ بندھن اس بات سے پراعتماد ہے کہ اسے فی الحال کسی سیاسی چیلنج کا خطرہ نہیں ہے۔ اسمبلی انتخاب میں اکثریت ملی ہے اور اس بنیاد پر اسے چیلنج دینے کا سیاسی حوصلہ اب بھی اپوزیشن کو نہیں ہے۔ یہ اعتماد عوام میں حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے لاء اینڈ آرڈر بنانے کے لئے سخت قدم کی امید پیدا کرتا ہے۔ لیکن یہ امید کس حد تک پوری ہورہی ہے ،یہ بہار کے عام حالات بیان کررہے ہیں۔ بیمہ بھارتی کے شوہر اودھیش منڈل پرکرن ہو یا اتری کی ایم ایل اے کونتی دیوی کے فرار بیٹے رنجیت کے ذریعہ ڈاکٹروں کی پٹائی کا معاملہ ہو یا کانگریسی ایم ایل اے سدھارتھ شرما سے جڑا واقعہ۔بہاری سماج کے دل میں کئی شک ہیں۔ ان واقعات سے جڑے کئی سوالوں کا خلاصہ سرکاری سطح پر تو نہیں دیا جا رہا ہے ،انتظامیہ کی سطح پر بھی نہیں۔ ایسے حادثات اور ان سے اٹھ رہے سوالات صوبے کے عام حالات کو متاثر کرتے ہی ہیں، اقتدار میں قائم رہنے کے دعوؤں کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ اس کا سیدھا اثر پبلک پرسپشن کی تعمیر پر پڑنے لگا ہے۔یہ صحیح ہے کہ لوگ اب بھی دیر رات تک سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ بچوں کو اسکول بھیج رہے ہیں لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ بہار میں رنگداری اور رنگداری کے لئے اغوا یا اغوا جیسے خطرناک واردات کا سلسلہ ان دنوں تیز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جو وسائل مجرموں کو جیلوں میں ساری سہولتیں فراہم کرا رہے ہیں، ان کا کارو بار خوب پھل پھول رہا ہے۔ جیلوں میں چھاپے ماری کے دوران برآمد موبائل ، سیم کارڈ اور دیگر الکٹرونک میٹیریل خود سچائی بیان کر رہے ہیں۔ صوبے میں عام حالات نظم و نسق کے نعرے کے برعکس ہوتے جارہے ہیں۔صوبے میں اقتدار کی مقبولیت نیچے جارہی ہے۔ ان حالات میں بدلاؤ بہاری سماج میں بھروسہ جگانے اور پبلک رسپشن کو مثبت بنانے کے لئے ضروری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *