بہار میں لالو کا جادو پھر سر چڑھ کر بولے گا: رابڑی

Share Article

p-10بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی پر اپنے شوہر اور راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کو چارہ گھوٹالہ معاملے میں 5 سال قید کی سزا سنائے جانے اور ان کے جیل جانے کے بعد گھر اور پارٹی سنبھالنے کی دوہری ذمہ داری عائد ہو گئی ہے، جب کہ لوک سبھا انتخاب بالکل سر پر ہے اور بہار میں ان کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل سے لوگوں کو بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں۔ ایسے میں اشرف استھانوی نے ان سے پارٹی کے اندرونی حالات، انتخابی امکانات اور مختلف سیکولر پارٹیوں کے ساتھ انتخابی مفاہمت کے امکانات پر تفصیلی بات چیت کی، جس کا انہوں نے بہت صفائی اور اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔ پیش ہے ان کی بات چیت کے چنداہم اقتباسات……

آئندہ لوک سبھا انتخابات میں آپ کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل کی قیادت کون کرے گا اور ان انتخابات میں پارٹی کے کیا امکانات ہوں گے؟
آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ہمیشہ کی طرح راشٹریہ جنتا دل کی قیادت لالو جی کریں گے اور ان کی کرشماتی قیادت میں پارٹی ایک بار پھر فرقہ پرست پارٹی کو دھول چٹاتے ہوئے لوک سبھا کی بیشتر سیٹوں پر قبضہ کرے گی۔ لالو کا جادو پھر سر چڑھ کر بولے گا۔ پارٹی میں قیادت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پوری پارٹی لالوجی کی قیادت میں ایک جٹ اور متحد ہے۔
لالو جی کو چارہ معاملے میں سزا ہونے یا ان کے جیل جانے کا پارٹی کے انتخابی امکانات پر یا پارٹی کی ایکتا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ سننے میں آرہا ہے کہ پارٹی کے کئی سینئر رہنما لالو کی غیر موجودگی میں انہیں پارٹی کی کمان نہ سونپے جانے سے ناراض ہیں اور پارٹی بدلنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔
لالو جی کو تو سازش کرکے ٹھیک الیکشن کے وقت فرقہ پرست طاقتوں اور انہیں طاقت بخشنے والے نام نہاد نقلی سیکولر رہنمائوں نے پھنسایا ہے، تاکہ ان کا کام آسان ہو جائے اور وہ کھل کر فرقہ پرستی کا ننگا ناچ کر سکیں او رووٹروں کو گمراہ کرکے اپنا الو سیدھا کر سکیں، مگر انہیں معلوم نہیں کہ سچ کو زیادہ دنوں تک دباکر نہیں رکھا جا سکتا۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ آنا باقی ہے۔ ہمیں اس بات کا پورا بھروسہ ہے کہ لالو جی کو سپریم کورٹ سے انصاف ملے گا اور وہ بہت جلد پارٹی کی اور ہم سب کی رہنمائی کے لیے ہمارے درمیان موجودہوں گے اور پارٹی ان کی قیادت میں لوک سبھا انتخابات میں پہلے سے بہتر مظاہرہ کرے گی۔ یہ صحیح ہے کہ لالو جی کی غیر موجودگی سے خاندان پر اثر پڑتا ہے۔ ہم سب اہل خاندان اس صدمہ میں ہیں، لیکن اس سے پارٹی کی ایکتا یا اس کے انتخابی امکانات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔ اس کے بر عکس لوگوں کی ہمدردیاں حاصل ہوئی ہیں اور ہر فرقہ اور طبقہ کے لوگ مصیبت کی اس گھڑی میں ہمارے خاندان اور پارٹی کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، جس سے پارٹی اور مضبوط ہو گئی ہے۔ پارٹی کے رہنمائوں او رکارکنوں میں بھی ایک خاص قسم کا جوش پیدا ہو گیا ہے اور انہوں نے اس سازش کو ناکام بنانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ ایسے میں پارٹی میں ناراض سرگرمیوں کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔ پارٹی کے سبھی سینئر لیڈران ہر میٹنگ میں شریک ہو رہے ہیں اور لالو جی کی قیادت پر متحد او رمتفق ہیں، کہیں کوئی نہیں جا رہا ہے۔ یہ ہمارے مخالفین ہو ا بنا رہے ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ دوسری پارٹیوں سے ناطہ توڑ کر آر جے ڈی میں شامل ہو رہے ہیں۔ آر جے ڈی سے کوئی باہر نہیں جا رہا ہے۔
یہ دعویٰ آپ کس بنیاد پر کر رہی ہیں کہ آئندہ انتخابات میں آر جے ڈی پہلے سے بہتر مظاہرہ کرے گی، جب کہ اس بار سیکولر ووٹروں کے دعویدار نتیش کمار بھی ہوں گے، جنہوں نے بی جے پی سے ناطہ توڑ کر راتوں رات سیکولر ووٹروں کی نظر میں ہیرو کا درجہ حاصل کر لیا ہے؟ کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا ہے کہ بی جے پی اور جنتا دل یو کا اتحاد ٹوٹنے سے آر جے ڈی کا کام پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے؟
نتیش کما ر کیسے سیکولر ہو گئے۔ ساری زندگی تو انہوں نے بی جے پی کی گود میں بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹے۔ اپنا خون جگر پلا کر فرقہ پرستوں کو طاقت اور توانائی بخشی۔ 17 سال تک اس کو فروغ دینے اور اس کی سیاسی طاقت کو بڑھانے کا کام کرتے رہے۔ اب اچانک وہ سیاسی مصلحت کے تحت بی جے پی سے الگ ہونے اور سیکولر بننے کا ڈھونگ کر رہے ہیں۔ انہیں صرف نریندر مودی سے چڑ ہے، بی جے پی سے تو نہیں ہے۔ وہ تو آج بھی اڈوانی اور واجپئی کی حمایت کرتے رہتے ہیں اور کل پھر اگر اقتدار سنبھالنے کا موقع ملے گا، تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ دوبارہ بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گے اور مودی سے بھی کیا دوری ہے۔ جب ہماری حکومت ہوتی تھی، تب تو کسی مودی کو بہار میں انٹری نہیں ملتی تھی۔ آج تو جب چاہتے ہیں، چلے آتے ہیں۔ آر ایس ایس کے لوگ بھی پورے بہار میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ ہماری حکومت میں فرقہ پرستوں کے لیے کہیں کوئی جگہ نہیں تھی۔ نفرت پھیلانے والوں کو لالو جی ایئر پورٹ سے ہی واپس لوٹنے پر مجبور کر دیتے تھے اور وہ لالو جی ہی تھے، جنہوں نے اڈوانی کی نفرت انگیز یاترا کو بہار میں روک کر ان کے رتھ کا چکا جام کر دیا تھا۔ پورے ملک میں کسی کو ہمت نہیں تھی، جو اڈوانی کی رتھ یاترا کو روکتا۔ یہ کام لالو جی نے اسی بہار کی سرزمین پر انجام دیا تھا۔ آج نتیش کے دور میں ایسا محسوس ہوتا ہے، گویا فرقہ پرستوں کی لاٹری نکل آئی ہے۔ یہ چھوٹ فرقہ پرستوں کو کس نے دی ہے؟ پھر بھی سیکولر لوگ ہمارے مقابلے میں ہیں، انہیں ووٹ دیں گے۔ بہار کے لوگ بیوقوف نہیں ہیں۔ وہ سب دیکھ رہے ہیں کہ کون اصلی سیکولر ہے اور کون نقلی سیکولر ہے۔ کون فرقہ پرستوں کا راستہ روک رہا ہے اور کون انہیں پھلنے پھولنے کا موقع دے رہا ہے۔ ابھی ہماری پارٹی کاپورے بہار میں پروگرام چل رہا ہے۔ ہر اسمبلی حلقہ میں ہماری پریورتن ریلی ہو رہی ہے۔ ہم جہاں بھی جا رہے ہیں، لوگ ہمیں ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں۔ ہر مذہب، فرقہ او رطبقہ کے لوگ ہمیں ہمارے پروگراموں میں آکر تسلی دے رہے ہیں اور وعدہ کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنی غلطی سدھارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم سب آر جے ڈی کے ساتھ ہیں۔ وہی لوگ ہماری طاقت ہیں او رہم اسی بنیاد پر دعویٰ کر رہے ہیں کہ بہار کے سیکولر عوام ہمارے ساتھ ہیں۔
لیکن نتیش حکومت نے بھی مسلمانوں کے لیے کئی فلاحی کام کیے ہیں، جس سے مسلمانوں کا ایک بڑا گروپ نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یو کی طرف مائل اور متوجہ ہو رہا ہے ۔ کیا اس سے آپ کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا ہے؟
نتیش حکومت میں سب سے زیادہ مسلمان ہی ٹھگے گئے ہیں۔ مسلمان کیا بیوقوف ہیں کہ وہ ان کے ساتھ جائیں گے۔ نتیش سرکار نے مسلمانوں کے لیے کیا ہی کیا ہے؟ ہماری حکومت میں نصف درجن سے زائدمسلم وزراء ہوتے تھے، ابھی کیا حال ہے؟ مسلم افسران کی بھی ایک فوج نظر آتی تھی، ابھی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ اقلیتی کمیشن کا کیا حال ہے؟ ہماری حکومت میں کمیشن کا خوف افسران پر رہتا تھا۔ ابھی تو کمیشن کو کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔ مدرسہ بورڈ لوٹ کھسوٹ کا اڈہ بنا ہوا ہے۔ بہار اردو مشاورتی کمیٹی ہاتھی کا دانت بن گئی ہے۔ اردو کے فروغ اور نفاذ کا کام ٹھپ ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں اردو اساتذہ کی ویکنسیاں ہیں، جن پر بحالی نہیں ہو رہی ہے۔ اقلیتی فلاحی پروگراموں کی مانیٹرنگ نہیں ہوتی، اقلیتی طلباء کو وقت پر وظیفے نہیں ملتے۔ بہار کے مسلمان عدم تحفظ کے شکار ہیں۔ بے قصور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ بھاگلپور فساد متاثرین کا پنشن بڑھایا گیا ہے، مگر انصاف آج تک نہیں ملا ہے۔ نتیش کمار جب اقتدار میں آئے تھے، تو انہوں نے کمیشن قائم کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ 6 ماہ میں رپورٹ حاصل کرکے فسادکے اصلی گناہگاروں کو سزا دلائی جائے گی۔ آج 7 سال بعد بھی نہ کمیشن کی رپورٹ ہے اور نہ ہی کسی کو سزا مل رہی ہے اور نہ ہی کوئی نیا معاملہ سامنے آیا ہے۔ فاربس گنج میں غریب اور بے قصور مسلمانوں پر بی جے پی کے اشارے پر فائرنگ ہوئی، مگر کسی کو معاوضہ یا انصاف نہیں ملا۔ حکومت نے اس معاملے کو بھی ٹالنے کے لیے کمیشن کے حوالے کر دیا اور اس وقت بھی یہی دعویٰ کیا کہ 6 ماہ کے اندر رپورٹ حاصل کرکے قصور واروں کو سزا دلائی جائے گی۔ مگر کیا ہوا؟ آج ڈھائی سال کا عرصہ گزر گیا، مگر کوئی رپورٹ تک نہیں ہے۔ اس معاملے کو بھی بھاگلپور فساد کی طرح لٹکا کر رکھا جائے گا اور کسی کو کوئی انصاف نہیں ملے گا۔ معمولی معمولی بات پر یا حادثہ کا شکار ہونے پر حکومت اور ان کے لیے معاوضہ کی رقم لے کر بلا تاخیر متاثرین تک پہنچتی ہے، مگر فاربس گنج میں آج تک وزیر اعلیٰ تو کیا، کوئی وزیر تک نہیں گیا۔ معاوضہ کی تو امید ہی فضول ہے۔ مسلمان کیا نہیں دیکھ رہے ہیں کہ اس حکومت میں انہیں اور ان کے مسائل کو کس طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے؟
لوک سبھا انتخابات میں آپ کی پارٹی تنہا ہی انتخابات میں حصہ لے گی یا دوسری سیکولر پارٹیوں سے انتخابی معاہدہ کی کوئی صورت پیدا ہو رہی ہے؟ کانگریس کے ساتھ انتخابی مفاہمت کے کیا امکانات ہیں؟
اس معاملے میں ہماری پارٹی او رخود لالو جی کی پالیسی شروع سے ہی بالکل صاف ہے۔ ہمارا ایک ہی مقصد ہوتا ہے، بی جے پی اور دوسری فرقہ پرست طاقتوں کو روکنا اور سیکولر طاقتوں کو مضبوط کرنا۔ ہم ہمیشہ سیکولر طاقتوں کی حمایت کرتے آئے ہیں اور سیکولر اتحاد کے حق میں رہے ہیں۔ یو پی اے -II میں ہم بلا شرط کانگریس کو اگر حمایت دے رہے ہیں، تو وہ صرف اور صرف سیکولر ازم کی حفاظت کے لیے۔ آگے بھی ہم سیکولر طاقتوں کی ہی حمایت کریں گے۔ اس میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں تک کانگریس یا دوسری سیکولر پارٹیوں کے ساتھ انتخابی مفاہمت کی بات ہے، تو ہماری یہ کوشش رہے گی کہ اگلے عام انتخابات میں بھی ایک وسیع تر سیکولر اتحاد قائم ہو اور تمام سیکولر پارٹیاں مل کر بی جے پی امید وار کے خلاف مشترکہ امید وار اتاریں، تاکہ بی جے پی کے فرقہ وارانہ عزائم کو ناکام بنایا جا سکے اور نریندر مودی جیسے مسلمانوں کے قاتل اور ملک کی جمہوریت اور سیکورلر ازم کے لیے خطرہ بنے کو وزیر اعظم کے عہدہ پر فائزہونے سے روکا جا سکے۔

Share Article

One thought on “بہار میں لالو کا جادو پھر سر چڑھ کر بولے گا: رابڑی

  • December 24, 2013 at 4:36 pm
    Permalink

    اس میں تو کوئی شک نہیں کہ لالو میں فرقہ پراستو سے لوہا لینے کا ڈیم ہے – ہندوستان کا وہ واحد لیڈر ہے جس سے کانگریس اور بی جے پی کے فرقہ پرستوں میں خوف پیدا ہوتا ہے. مودی کی گرج لالو کی آواز میں دب جاتی ہے.انشا الله لالو ایک بار پھر دکھا دیں گے کہ ایک ظالموں سے پنجہ لادنے والا ابھی زندہ ہے جیل کی دیواریں اس کا حوصلہ نہیں ٹاڈ سکتیں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *