سروج سنگھ
p-5bصوبہ بہار کے کسان ان دنوں اپنی قسمت کو کم اور دھان پر ہو رہی سیاست کو زیادہ کوس رہے ہیں۔یہ پہلا سال نہیں ہے جب کسان اپنی رات و دن کی محنت سے پیدا ہوئی دھان کی فصل کو اونے پونے دام پر بیچنے کے لئے مجبور ہو گئے ہیں۔ سرکاری وعدے کچھ تھے اور زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ حد تو تب ہو گئی جب سابق ممبر پارلیمنٹ جگدانند سنگھ نے بھی کہہ دیا کہ اپنی دھان کی فصل کو انہیں بھی اونے پونے دام پر بیچنا پڑا۔ سرکار کی چکنی چپٹری باتیں اور دھان خریدنے والے مافیا کے چنگل میں پھنس کر دھان پیدا کرنے والے کسان خون کے آنسو رو رہے ہیں اوربرسراقتدار اور اپوزیشن آنسو پوچھنے کے بجائے صرف ایک دوسرے پر الزام لگا کر سیاست میں لگے ہوئے ہیں۔
صوبہ بہار میں دھان کا کٹورا کہا جانے والا مشہور علاقہ شاہ آباد خاص طور پر روہتاس کے کسانوں کی بیکسی اب سیاسی آنچ پر روٹی کی طرح سینکی جانے لگی ہے۔ کھلیان میں پڑی فصل کی رکھوالی ،سرد ترین رات میں کسان شب بیداری کرکے گزار رہے ہیں ،وہیں سڑک پر اترا اپوزیشن اس بہانے سرکار کو گھیرنے کی سیاست کر رہا ہے۔ سرکار کے وعدے کورے کاغذ کی کتاب کی طرح روز بروز ایک ایک کر کے کھلتے جارہے ہیں اور کسان اب بچولیوں کی راہ دیکھنے میں اپنی آنکھیں بچھائے ہوئے ہیں۔ اس سال فی ہیکئر ریکارڈ پیداوار کے ساتھ روہتاس کے کسانوں نے 2 لاکھ ہیکٹئر سے زیادہ زمین پر فصل پیدا کی تھی جس کی صحیح قیمت کی بات کون کرے ۔اب ایک ہزار روپے فی کونٹل پر بھی آفت آپڑی ہے۔ دوسری آفت یہ ہے کہ اس فصل کی خریداری کرے تو کون؟ ۔سرکار نے سپورٹنگ پرائس کا جو معیار مقرر کر رکھا ہے ،اس بنیاد پر پیکس بھی کسانوں کے دھان خریدنے سے گھبرانے لگے ہیں۔ سرکاری پرچیز سینٹر پر خبر لکھے جانے تک خریداری کا کام شروع نہیں ہونا ریاستی سرکار کی منفی ذہنیت کی طرف اشارہ ہے جسے دوسرے لفظوں میں فنڈ کی عدم دستیابی کی کڑی بھی کہی جاسکتی ۔ حالانکہ روہتاس کلکٹر انیمیش پراسر نے آنے کے ساتھ ہی جس طرح سے کئی دور کی میٹنگ میں یہ اشارہ دیا تھا کہ ہر حال میں دھان خریداری میں شفافیت برتی جائے گی،وہ تو تب ممکن ہوتا جب خریداری شروع ہو پاتی۔ ادھر بی جے پی نے دھان خریداری کے سوال پر دینارا اسمبلی کے سابق امیدوار راجندر سنگھ کے ذریعہ دینارا سے ایک آندولن کی شروعات کی۔ جس اسٹیج پر ممبر پارلیمنٹ اشوینی چوبے، ریاستی سرکار کے سابق وزیر رام دھنی سنگھ سمیت کئی سینئر نے ایک بڑی تحریک کا خاکہ کھینچا۔ ضلع دفتر میں ہجوم کے سامنے دھان جلا کر کئے گئے احتجاج اور دھرنا کے ذریعہ سے اپوزیشن نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش ضرور کی کہ ہم کسانوں کے بہتے آنسو کو پوچھنے کے لئے اٹھ کھرے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ بھی دیگر عام مسئلوں کی طرح آئی گئی ہو کر رہ گیا ۔ آخر یہ سیاسی پارٹیاں اور اس کے نمائندے فصل پکنے کے ساتھ سرکار پر دباﺅ بنانے کا کام کیوں نہیں کرتے۔ کیوں کسانوں کے ہاتھوں سے بچولیوں کے ہاتھوں میں فصل پہنچنے کے بعد ان کے آنسو پونچھتے آتے ہیں اور سڑکوں پر کھڑے ہوکر دھرنا اور احتجاج شروع کردیتے ہیں۔
یہ رونا یہاں کے تمام کسانوں کا بھی ہے جو فی الحال فی ایکڑ 30 کونٹل سے زیادہ دھان کا ریکارڈ پیدا کرکے اپنی فصل کی کھلیان میں رکھوالی کر رہے ہیں۔ فی کونٹل ملنے والے 3سو روپے بونس کی بات کون کرے ۔ اب مقررہ قیمت پر بھی آفت ہے۔ جس کے لئے کسان پل پل مر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اب تک روہتاس میں کسانوں کے ذریعہ خود کشی کئے جانے کی خبر نہیں ملی۔ لیکن کھلیانوں میں فصل کی رکھوالی کرتے وقت سردی سے موت ہونے کی نصف درجن خبر تو روہتاس انتظامیہ کے پاس بھی ہے جو اس بات کا بڑا ثبوت ہے کہ اپنی فصل کو گلے لگائے یہ کسان اسی کے ساتھ شہید ہو جانا بہتر مانتے ہیں۔
کسی طرح سے قرض لے ک ربیع فصل کی بوائی، پھر سینچائی اور کھاد چھڑکاﺅ کی فکر کے ساتھ ٹوٹ چکے روہتاس کے کسانوں کے پاس اپنی دھان فصل کے لئے فی کونٹل8 سو روپے کی قیمت بھی نہیں۔ جبکہ سرکاری دعوے میں 16 سو سے زیادہ دینے کی بات کہی جا چکی ہے۔ 15 دسمبر تک گیہوں لگانے کا مقررہ وقت نکل گیا۔ دھان کی فصل کھلیانوں میں پڑی ہے۔ پیکسوں کی خریداری کمیٹی کی سطح پر ہوئی ہے۔ اسٹیٹ فوڈ کارپوریشن اب تک ایک چھٹاک خریداری نہیں کی ہے۔یہ حالات دھان کے کٹورا سے مشہور روہتاس میں موجود سینکڑوں چاول ملوں کے بند ہونے کے اشارے دے رہے ہیں۔ ایک مل والے ونود پانڈے کے مطابق بہار چاول کی صحیح قیمت نہیںملنے کی وجہ سے دھان خریدنے کی ہمت نہیں کرپا رہے ہیں۔ دوسرے صوبوں کے اب تک ایک بھی بڑے خریدار یہاں نہیں پہنچے۔ سرکار خریداری میں ڈھیلی پڑی ہے اور مرکزی سرکار کی طرف سے اب تک بہار میں دھان خریداری کے سوال پر ٹھوس فیصلے نہیں آئے۔ جس کی وجہ سے یہاں کسانوں کے چہرے پر فکر کی لکیروں کو اور گہرا کرتی ہے۔ کسان مہا سنگھ کے کنوینر رام شنکر سرکار کہتے ہیں کہ بہار سرکار شروع سے ہی دھان خریداری کے نام پر ڈرامہ کرتی رہی ہے۔ اتنے سالوں حکومت میں نتیش سرکار اب تک پاک صاف دھان خریداری کا ایک سال بھی نہیں گنا سکی۔ کسانوں کے دھان کا سپورٹ پرائس تو ملا نہیں ۔ بونس کی بات کون کرے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ ریاستی سرکار کی پرچیز ایجنسی، اسٹیٹ فوڈ کارپوریشن کسانوں کو لوٹنے والی ایجنسی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ جس پر پورے طور پر پابندی لگانی چاہئے۔
ادھر رالوسپا کے ایم ایل اے للن پاسوان نے ایک خط وزیر اعلیٰ کے نام لکھ کر روہتاس میں دھان خریداری نہیں ہونے پر گہری ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وقت رہتے مناسب قدم سرکار نے نہیں اٹھایا تو کسان دھان کی بوریوں کے ساتھ نیشنل ہائی وے اور ریلوے ٹریک جام کریں گے۔ ضرورت پڑی تو چوک چوراہوں پر فصل جلا کر احتجاج کیا جائے گا۔ اسمبلی کے سامنے بھی دھان لدے ٹریکٹروں کی بھیڑ لگے گی۔ حالانکہ یہ سب کہنے والی بات ہے۔ فی الحال روہتاس ضلع میں مقررہ ڈھائی لاکھ میٹرک ٹن خریداری کا دس فیصد بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ 50 فیصد کسانوں کی فصل بچولیوں کے ہاتھوں میں جا چکی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر منگل پانڈے کہتے ہیں کہ ریاست میں دھان خرید اری کے نام پر کروڑوں روپے کی لوٹ کا بلو پرنٹ پھر تیار ہے۔ تین برسوں میں دھان خرید اری میں گڑ بڑی اور تقریباً پچاس کروڑ روپے کی ہیرا پھیری کا معاملہ سامنے آچکا ہے۔ 31مارچ تک 30لاکھ ٹن دھان کی بھی خرید اری نہیں ہوئی ہے۔ ایسی صورت میں تین ماہ کے اندر 30 لاکھ میٹرک دھان کی خریداری کا ہدف نا ممکن ہے۔ ایسے میں اس 600کروڑ روپے کا کیا حشر ہوگا جسے ضلعوں اور پیکسوں کو بھیجا گیا ہے؟پیکسوں اور کارو بار بلاک کو 27 لاکھ میٹرک ٹن اور اسٹیٹ فوڈ کارپوریشن کو 3لاکھ میٹرک ٹن دھان خریداری کا ہدف دیا گیا ہے۔ جب دھان خریدیداری کا ہدف پورا نہیں ہوگا تو رقم بد عنوانی کے بھینٹ چڑھنا طے ہے۔ تین برسوں میں تقریبا 1100 پیکسوں کے نام دھان کی کاغذ پر خریداری اور رقم کی ہیرا پھیری میں اجاگر ہوئے ہیں۔ ایف آئی آر درج کرنے کی تیاری ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے بلیک لسٹ پیکسوں کے ذریعہ دھان کی خرید اری نہیں ہوگی تو ہدف کیسے پورا ہوگا؟
منگل پانڈے نے کہا ہے کہ بی جے پی دھان خریداری اور کسانوں کو بونس کی ادائیگی کی مانگ کو لے کر گاﺅں گاﺅں میں آندولن تیز کرے گی ۔اسی سلسلے میں ا ریاست کے سبھی بلاک اور دفتروں میں دھرنا دیا گیا ہے۔
سابق نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو راشٹریہ جنتا دل لیڈر ڈاکٹر رگھو ونش پرساد سنگھ کے اٹھائے سوالوں کا جواب دینا چاہئے۔ ڈاکٹر سنگھ کا صاف کہنا ہے کہ سرکا ر نے بہار کو خشکی کا علاقہ اعلان نہیں کیا۔ جس سے ریاست کو مرکزی امداد سے محروم ہونا پڑا۔ یہاں کے افسروں کا کام اطمینان بخش نہیں ہے۔ نتیش سرکار ہر مورچے پر پوری طرح فیل ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے سرکار کے کام کاج پر سوال کھڑ اکرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکار کی کامیابیوں کی کتاب کا ہر صفحہ خالی ہے۔ ایسے میں وہ سرکار کو پاس نمبر بھی نہیں دے سکتے ۔چار دن پہلے جرائم کے بڑھتے گراف کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلی ٰنتیش کمار سے جواب مانگنے والے سنگھ نے ایک بار پھر سرکار کو سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کردیا ہے۔ سومو نے کہا کہ نتیش میں ہمت ہے تو اس کا جواب دیں۔ ڈاکٹر سنگھ کا الزام ہے کہ ریاستی سرکار نے بہار کو خشکی کا علاقہ ہونے کا اعلان کرکے مرکز کو رپورٹ نہیں دی۔ اس لئے بہار امدادی فنڈ سے محروم ہو گیا۔ ان الزامات کے جواب میں جنتا دل یو کے چیف ترجمان سنجے سنگھ کہتے ہیں کہ بی جے پی لیڈر سشیل مودی دماغ پر زور ڈال کر لوک سبھا انتخاب میں بہار کے کسانوں سے کئے گئے وعدوں کو یاد کریں۔ نریندر مودی نے فصل کی لاگت سے ڈیڑھ گنا زیادہ سپورٹنگ پرائس دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن بڑھے صرف پچاس روپے، سومو کی سفارش پر رادھا موہن اگریکلچر منسٹر بنائے گئے جب بہار سرکار کی طرف سے یہ کہا گیا کہ بہار خشکی کا علاقہ ہے تو کیا مرکزی ٹیم اس کی جانچ کرنے آئی؟کیا بہار کے ساتھ دھوکہ نہیں؟سومو کو شاید پتہ نہیں ہے کہ بہار سوکھا اور سیلاب جیسے دوہرے حادثے کو جھیلتا ہے،لیکن مرکز سے کوئی تعاون نہیں ملا۔ بہار کو ملنے والی رقم مہاراشٹر کو دے دی گئی کیونکہ وہاں بی جے پی سرکار ہے۔ دیکھا جائے تو فی الحال انہی الزام تراشیوں میں دھان کی فصل اونے پونے قیمت میں فروخت ہورہی ہے اور کسان بے سہارا ہوکر سرکار کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here